(نقطۂ نظر) تزکیۂ نفس - ابو موسیٰ

10 /

تزکیۂ نفس


ابو موسیٰ

جب کوئی بچہ مسلمان گھرانے میں آنکھ کھولتا ہے یا کوئی غیر مسلم کلمۂ طیبہ اور کلمۂ شہادت پڑھتا ہے اور اعلانیہ طور پر دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتا ہے تو کچھ ضوابط اور قوانین کی پابندی اُس پر خود بخود لازم ہو جاتی ہے جسے اسلامی شریعت کہا جاتا ہے۔ اب وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلاں ضابطے اور قانون کو اُس کا دل یا دماغ تسلیم نہیں کرتا۔ گویا مکمل سرنڈر مطلوب ہے۔ ہاں خالصتاً امور دنیا کی بات الگ ہے جن سے کسی طرح بھی اور کسی انداز میں بھی شریعت سے کسی نوع کا تصادم نہ ہو رہا ہو۔ یعنی ایک مسلمان کا طرزِ زندگی سر تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے کی عملی مثال ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ اصلاً مسلمان کو اللہ کی رضا مطلوب ہے۔ اللہ راضی تو دنیا کی کسی قوت اور طاقت کی کوئی حیثیت نہیں، سب ہیچ ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کی رضا کیسے حاصل کی جائے فوری طور پر سمجھ آنے والی بات یہ ہے کہ مسلمان ہونے پر جو فرائض خود بخود لاگو ہو جاتے ہیں مثلاً نماز، روزہ کی پابندی، صاحبِ نصاب ہونے پر زکوٰۃ کی ادائیگی اور زادِراہ ہونے پر حج کا فریضہ ادا کرنا پھر یہ کہ حقوق العباد کی ادائیگی کی کم از کم قانونی طور پر ادائیگی مثلاً دھوکہ، فریب، جھوٹ، ناحق کو حق بنا لینا یا کسی نوع کا ایسا تجاوز جس سے کوئی دوسرا بھائی متاثر نہ بھی ہو یعنی صرف اپنی حد سے آگے بڑھنا۔ اِن سب سے اجتناب تو شرعی فریضہ ہے، اِن سے آگے بڑھ کر اخلاقی سطح پر حقوق اللہ اور حقوق العباد کی منازل طے کرتے ہوئے انسانی اور اسلامی تقاضوں کے حصول کو اپنا ہدف بنا لینا مثلاً نفلی نمازوں اور روزوں کا اپنا معمول بنا لینا، گویا اِس حوالے سے اپنی جان اور جسم کو مشغول رکھنا، فریضۂ زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد بھی خیرات اور عوامی بہبود کے امور سرانجام دینا اور اِن امور کی ادائیگی میں جان اور مال کا دلی آمادگی سے استعمال کرنا، سنت ِرسولؐ کو دانتوں سے پکڑ لینا اور اس سے انحراف کاتصور بھی نہ رکھنا، اِسے اصطلاحی طور پر تزکیۂ نفس کہا جاتا ہے۔ بالفاظ دیگر خود اپنے اعمال کی صفائی اور دھلائی میں ہر دم مشغول رہے اِس حوالے سے مکمل طور پر اپنی ذات کو غوروفکر کا محور بنائے۔ ظاہری اور باطنی معاملات کے حوالے سے اپنا جائزہ لے اور خود کو اپنی ہی تنقید کی زد میں رکھے۔ دوسروں کے معاملات پر بھی غور کرے تو اُس سے اپنی بہتری اور اصلاح کا راستہ ڈھونڈے۔ دوسروں کو مارجن دے اور حُسنِ ظن رکھے۔
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ کرکے کیا اُس نے تمام دینی تقاضے پورے کر دئیے بلکہ اِس سے بھی آگے بڑھ کر اُس نے عام لوگوں کو نیک اعمال کی ادائیگی اور بُرے کاموں سے بچنے کی تلقین کر دی اور ایک اچھے واعظ کا رول ادا کر دیا۔ اب اُس کی طرف سے تو حق ادا ہوگیا اور وہ اب ما علینا الا البلاغ کہہ کر مکمل طور پر فارغ ہوگیا۔ اب دنیا جانے اور دنیا والے جانیں۔ اُس سے ذاتی سطح پر جو ہو سکا اُس نے کر دیا، اُس کی ذمہ داری ختم ہوگئی۔ اگر کسی مسلمان سے ظلم اور زیادتی ہو رہی ہے یہ کوئی فرد، معاشرہ یا ریاست کر رہی ہے تو وہ زاہد و عابد کسی کو ظلم و ستم سے کیسے بچائے۔ اُس کے پاس تو طاقت نہیں ہے، وہ زیادہ سے زیادہ اظہارِ افسوس کر سکتا ہے۔ اپنے شہری کو ظلم و ستم سے بچانا فرد کا نہیں ریاست کا کام ہے۔ لیکن اگر خود ریاست ظلم و ستم ڈھا رہی ہے تو مظلوم کہاں جائے؟
اِس سوال کا جواب اُس زاہد و عابد اور تزکیۂ نفس کی منازل طے کرنے والے کے پاس ہرگز نہیں ہے اُس کا مؤقف ہوگا کہ ریاست اگر ایسا کر رہی ہے تو اُس کا واحد حل اللہ سے دعا ہے کہ وہ اُسے اِس ظلم و ستم سے نجات دے انفرادی کارگزاری کی حدود یہاں ختم ہو جاتی ہیں۔ لیکن اور یہ بہت بڑا لیکن ہے وہ یہ کہ عدل کو دین اسلام کا کیچ ورڈ کہا جاتا ہے اگر دین ِ اسلام سے عدل نکال دیا جائے تو کچھ باقی نہیں بچتا۔ لیکن یہ انتہائی نیک اور پارسا فرد بھی تلملانے کے سوا کچھ نہیں کرسکتا۔ درحقیقت ماضی میں اسلامی ریاست کے وجود نے یہ تصور دیا تھا کہ تمام اجتماعی معاملات چونکہ ریاست نے سنبھال لیے ہیں، ریاست اپنے فرائض ادا کر رہی ہے اور جزا و سزا کا سلسلہ برحق چل رہا ہے تو فرد کی ضرورت صرف یہ رہ جاتی ہے کہ وہ شب و روز اللہ کے حضور انہماک سے رکوع و سجود میں رہے یہاں تک کہ اپنی ذات سے بھی بے پرواہ ہو جائے اور یوں ذاتی تزکیہ کے حصول میں کوشاں رہے ظاہری طور پر بات تو بالکل درست ہے لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ خلفائے راشدین کے دور کے بعد عوامی نکتہ نظر سے چند زریں اور سنہرے ادوارچھوڑ کر عوام عدل سے محروم رہے۔ حکومت کا ناقد ریاست کا باغی سمجھا جاتا تھا اور بدترین سزا کا حقدار سمجھا جاتا تھا۔
راقم کہنا یہ چاہتا ہے کہ خود کو محض ذاتی تزکیہ تک محدود کر لینا کبھی بھی بحیثیت مجموعی معاشرے میں مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر سکتا۔ اِس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ذات کا تزکیہ ثمر آور نہیں، ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ معاشرے میں حصولِ نتائج کے حوالے سے نامکمل اور ادھورا ہے۔ لہٰذا فرد، گروہ یا ریاست ظلم کدہ بن چکی ہے تو اُس عادلانہ نظام کے لیے لسانی، قلمی اور بالاخر عملی طور پر میدان میں نکل کر اگر کوئی بندہ خدا یا بندگانِ خدا پر مشتمل ایک جماعت خالصتاً اللہ کے دین کو قرآن و حدیث کی تعلیمات کو بنیاد بنا کر جدوجہد کرتی ہے اور ریاست میں عدلِ اجتماعی کے قیام کے لیے جان و مال کی قربانی دیتی ہے تو یہ اجتماعی تزکیہ کی بہترین مثال ہوگی۔ ظاہر ہے کہ یہ جماعت اور اُن سے منسلک افراد ذاتی سطح پر شرعی تقاضوں کی ادائیگی کا عملی نمونہ نظر آنے چاہیے۔ یہاں اِس بات کی وضاحت بھی ازحد ضروری ہے کہ انسان خطا کا پتلا ہے یہ ذاتی تزکیہ کے حصول میں بھی سامنے آ سکتی ہیں اور اجتماعی جدوجہد میں بھی ناممکن نہیں۔ انہیں سمجھنا اور اِن سے بچنا اور لوٹ کر صراطِ مستقیم پر گامزن ہو جانا یہ نفس کے تزکیہ کا حصہ ہے۔ خود معاشرہ اور ریاست کو عدلِ اجتماعی پر قائم دائم رکھنے کے لیے ہر آن جدوجہد کرنا یہی تزکیہ کی بنیاد ہے۔ آخری اور حتمی بات یہ ہے کہ ذاتی اور اجتماعی تزکیہ ایک کُل کے دو جز ہیں یہ ایک پیکیج ہے، ایک یونٹ ہے جنہیں اگر جدا کر دیا جائے تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے اور انسانیت کسی صورت فلاح نہیں پا سکے گی۔ یہاں اُس حدیث قدسی کا حوالہ یقیناً مفید رہے گا جس کا مفہوم یہ ہے کہ بنی اسرائیل کا ایک بزرگ طویل مدت تک رات کا راہب بنا رہا یعنی عبادت میں مشغول رہا لیکن اُس کی بستی کے لوگ بدترین گناہوں میں ملوث تھے لیکن وہ اُن کے خلاف کوئی عملی قدم کرنے کو تیار نہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اُس بستی کو تباہ کرنے کا حکم دیا جب فرشتہ نے اللہ رب العزت سے اُس عابد شخص کا ذکر کیا کہ وہ بھی اِس بستی کا باشندہ ہے تو اللہ نے حکم دیا کہ الٹا دو اِس بستی کو پہلے اُس پر پھر بستی کے دوسرے لوگوں پر کہ میری معصیت میں اس شخص کے چہرے کا رنگ بھی نہیں بدلتا۔ (واضح رہے یہ حدیث کا متن نہیں مفہوم ہے) علاوہ ازیں ایک بڑا اہم اور غور طلب سوال یہ ہے کہ اصحابِ صفہ جو شب و روز عبادت کرتے تھے اور حضور کے دربار میں حاضر رہتے تھے اُن میں سے کوئی بھی عشرہ مبشرہ میں شامل نہیں۔ معلوم ہوا کہ اللہ کی رضا اُنہیں نصیب ہوتی ہے جو رات کے راہب اور دن کے شہسوار ہوتے ہیں۔ گویا شب گزاری اور اللہ کے دین کے نفاذ کے لیے جان و مال کی قربانی نفس کے تزکیہ کے ناگزیر تقاضے ہیں۔