(اداریہ) گلوبل صمود فلوٹیلا 3 - محمد رفیق چودھری

10 /

اہل غزہ کی نسل کشی رکوانے میں جب اقوام متحدہ ناکام ہو گئی،

انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مسلم ریاستیں بھی خاموش ہوگئیں

تو گلوبل صمود فلوٹیلا کی صورت میں عام شہری غزہ کو بچانے

نکلے ہیں کیونکہ غزہ کو بچانا انسانیت کو بچانا ہے،

ہر قسم کے خطرات موجود ہیں لیکن اس سب کے باوجود ہم اہلِ غزہ

تک امدادی سامان پہنچانے کی کوشش کریں گے ، ان شاء اللہ !

گلوبل صمود فلوٹیلا میں مسلمانوں کا حصّہ 5 فیصد بھی نہیں ہے،

روزِ محشر نبی اکرم ﷺ کو کیا منہ دکھائیں گے ؟

گلوبل صمود فلوٹیلا 3 کے موضوع پر

پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں سابق سینیٹر مشتاق احمد کا اظہار خیال

میز بان : وسیم احمد

مرتب : محمد رفیق چودھری

سوال: غزہ کی جانب رواں دواں گلوبل صمود فلوٹیلامیں کتنے ممالک کے افراد شامل ہیں، اس قافلے کو کتنی حکومتوں کی سرپرستی حاصل ہے اور فلوٹیلا کے اہداف کیا ہیں؟
ڈاکٹر مشتاق احمد:سب سے پہلے تو تنظیم اسلامی کا بے حد مشکور ہوں کہ مجھے پروگرام زمانہ گواہ ہے میں موقع دیا ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ میرے مربی اور اُستاذ بھی تھے ۔ انہوں نےمسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے کے لیےاور صہیونی مظالم اور مسلمانوں کی نسل کشی کو بے نقاب کرنے کے لیے غیر معمولی کام کیا اور مسجد اقصیٰ کی حرمت اور تحفظ کے لیے اُمت کو جگانے کی بے حد کوشش کی ۔ آج ہم جو بھی کوشش کررہے ہیں یہ انہی کی جدوجہد کا تسلسل ہے ۔ یوں سمجھئے کہ فلوٹیلا اقوام متحدہ کا عوامی متبادل ہے ۔ جب اقوام متحدہ ناکام ہوگئی ، ریاستیں اورمسلم حکومتیں ناکام ہو گئیں ، جنرل خاموش ہوگئے تو پھر عام لوگ اہلِ غزہ کی حمایت میں اُٹھے اور انہوں نے انسانیت کی بقا اور دفاع کے لیے غزہ کا رُخ کیا ۔ اس لیے کہ غزہ کو بچانا انسانیت کو بچانا ہے۔فلوٹیلا ایک عوامی تحریک ہے جس میں 95 فیصد مغربی ممالک کے شہری شامل ہیں ۔ بدقسمتی سے عالم اسلام کی جانب سے انسانیت کو بچانے کی اس کوشش میں کوئی خاص حصہ نظر نہیں آرہا ، نہ مسلم سیاسی اور سماجی تنظیمیں نظر آئیں اور نہ ہی عام مسلمان شہری نظر آئے ۔ اس دفعہ کوشش ہے کہ فلوٹیلا میں 100 سے زائد ممالک کے1000 شہری شرکت کریں ۔ یہ تمام وہ لوگ ہیں جو بنیادی انسانی حقوق کے لیے کام کرتے ہیں ۔ ان کا مقصد بنیادی غزہ کے محصور شہریوں کو انسانی امداد پہنچانا ، انسانی ناکہ بندی کو ختم کرنا ،جنگ زدہ یا آفت زدہ علاقوں میں گزرگاہیں قائم کرنا ، نسل کشی کو روکنا شامل ہیں ۔ ظالم صہیونی ریاست نے 11ہزار فلسطینی قیدیوں کے لیے پھانسی کا قانون منظور کیا ہے ۔ اس کو روکنا بھی فلوٹیلا کے مقاصد میں شامل ہے ۔ اس کے علاوہ مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھنا ، مغربی کنارے میں  یہودی آبادکاری کو روکنا اور صہیونی حکومت اور اس کی پشت پناہی اور خفیہ مدد کرنے والے مسلم حکمرانوں کو بے نقاب کرنا بھی گلوبل صمود فلو ٹیلا کا مقصد ہے ۔ اسی طرح مغربی ممالک کی جو منافقت ، ریاکاری اور دہرا معیار ہے، اس کو بھی ہم دنیا کے سامنے لائیں گے ان شاء اللہ ۔ یوکرین کے لیے ان کی پالیسی کچھ اور ہے ، جنوبی سوڈان یا مشرقی تیمور کے لیے ان کی پالیسی کچھ اور ہے ،لیکن اڑھائی سال سے غزہ میں جو سرعام نسل کشی ہو رہی ہے ، اس کے حوالے سے ان کی پالیسی کچھ اور ہے۔وہ نہ صرف اس نسل کشی پر خاموش ہیں بلکہ درپردہ صہیونی حکومت اس کے لیے فنڈز، اسلحہ اور بارود بھی دے رہے ہیں ۔ یعنی اسرائیل کا جو سسٹم آف کنٹرول ہے فلوٹیلا اس کے خلاف ایک براہِ راست اور بغاوت کا نام ہے ۔
سوال: ناجائزصہیونی ریاست اسرائیل اس وقت بلا روک ٹوک مسجد اقصیٰ، غزہ، مغربی کنارے، لبنان اور ایران پر پے درپے حملے کر رہی ہے۔ اگر خدانخواستہ فلوٹیلا پر بھی حملہ کر دیتی ہے تو آپ کا پلان بی کیا ہوگا؟
ڈاکٹر مشتاق احمد: ہمارااوّلین منصوبہ غزہ کو آزاد کروانا ہے ۔ اس کے لیے ہم ہر خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہیں ۔تقریباً روزانہ کی بنیاد پر اسرائیلی ڈرونز ہمارے قافلے پر منڈلاتے رہتے ہیں ۔ کئی دفعہ ہم پر ڈرون حملے بھی ہوئے ہیں ۔ہر قسم کے خطرات موجود ہیںلیکن اس سب کے باوجود ہم اہلِ غزہ تک امدادی سامان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے ۔ ان شاء اللہ ! غزہ کے معصوم بچوں ، عوام اور مسجد اقصیٰ کی پکار پر ہر صورت لبیک کہیں گے ۔ اس راستے میں جو بھی قربانی دینا پڑی دیں  گے ان شاء اللہ ۔ سب لوگ پُر عزم ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہیں ۔ اس میں اُمت مسلمہ کے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ 95 فیصدغیر مسلم مغربی شہری اس قافلے میں شامل ہیںجبکہ مسلمانوں کا حصہ 5 فیصد بھی نہیں ہے ، روزِمحشر ہم کس منہ سے نبی اکرمﷺ کا سامنا کریں گے؟
سوال: مسلم ممالک کے سربراہان کو فلوٹیلا کی حفاظت اور عملی مدد کے لیے آپ کیا پیغام دیں گے؟
ڈاکٹر مشتاق احمد: فلوٹیلا کو کسی ریاست یا کسی حکومت کی سپورٹ حاصل نہیں ہے۔کسی بھی ملک کی جانب سے سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی ۔ ہم صرف اللہ کے سہارے جارہے ہیں ۔ ہم نے اپنی جانوں کو اس راہ میں قربان کردینے کا تہیہ کرلیا ہے ۔ پوری دنیا دیکھ رہی ہے ۔ مسلم ممالک کے حکمرانوں اور جرنیلوں کے لیے یہ پیغام ہے کہ وہ آج سوچ لیں کہ کل روزقیامت جب غزہ کے مظلوم شہداء اورمعصوم بچےاللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حضور دعویٰ دائر کریں گے کہ اِن حکمرانوں کے پاس قوت ، دولت ، اختیار اور حکومت سب کچھ تھا مگر اس کے باجود ظالم صہیونی حکومت کے سامنے خاموش حمایتی بنے رہے تو پھر ان کے پاس کیا جواب ہوگا ۔ اگر یہ لوگ خاموشی اختیار نہ کرتے تو نیتن یاہو اور صہیونی حکومت کو کبھی ہمت نہ ہوتی کہ وہ مظلوم فلسطینیوں کی سرعام نسل کشی کرتا ۔ لہٰذا یہ اپنی مجرمانہ خاموشی کی وجہ سے تمام تر اسرائیلی مظالم میں شریک ہیں ۔ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی یہ اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز نہیں اُٹھاتے ، اپنی فضائی حدود اور سمندری راستے اس کے لیے بند نہیں کرتے ، اپنی سرحدیں اُس کے لیے بند نہیں کرتے ، یہاں تک کہ اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی ختم نہیں کیا بلکہ فلسطین کے خاتمے کا جو صہیونی منصوبہ ہے اس کو یہ تسلیم کرتے ہیں ۔ وہ ٹرمپ جو اسرائیل کو مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے اسلحہ بارود ، فنڈز سمیت تمام سازو سامان فراہم کر رہا ہے اُس کو یہ امن کا پیامبر کہتے ہیں اور اس کی قیادت میں اسرائیلی مجرموں کے ساتھ ایک ٹیبل شیئر کرتے ہیں۔ہم ان سے کہتے ہیں کہ اللہ کے حضور، اللہ کے پیغمبر ﷺ کے حضور اپنا جواب سوچ لیں۔ مسلم حکمران اگر اُٹھیں، اپنا کردار ادا کریں تو ان کے پاس اتنا کچھ ہے کہ یہ بغیر جنگ کے اسرائیل کو زیر کر سکتے ہیں۔ آج بھی اگر اسرائیل کےپڑوسی مسلم ممالک اپنی فضائی حدود اس کے لیے بند کردیں تو اسرائیل کی اکانومی شدید بحران کا شکار ہو جائے گی ۔ لیکن اسرائیل کےجنگی اور انسانی جرائم کے باوجود یہ اس کے لیے راستے بند نہیں کرتےلہٰذا یہ سب اسرائیل کے ہاتھوں مسلمانوں کی نسل کشی میں برابر کے شریک ہیںاور روزِ محشر ان کو اپنے ان مظالم کا حساب دینا ہوگا ۔