(منبرو محراب) زوالِ اُمّت کی حقیقی وجہ :جہاد سے دوری - ابو ابراہیم

10 /

زوالِ اُمّت کی حقیقی وجہ :جہاد سے دوری


(قرآن و حدیث کی روشنی میں)

مسجدجامع القرآن ، قرآن اکیڈمی ماڈل ٹاؤن لاہور میںامیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ   حفظ اللہ کےیکم مئی 2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص

خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
آج ہم ان شاء اللہ سورۃ التوبہ کی آیت 24 کا مطالعہ کریں گے ۔ اس کے علاوہ یوم مزدور اور گلوبل صمود فلوٹیلا کے حوالے سے بھی کچھ گزارشات پیش کرنا مقصود ہیں ۔ الدین النصیحۃ کے نبوی ارشاد کے تحت اہل اقتدار کو کچھ نصیحت کرنا بھی مقصود ہے کیونکہ منبر رسول ﷺ سے حکمرانوں کو نصیحت کرنا ہمارے اسلاف کا بھی طرزِعمل رہا ہے ۔ قرآن مجید بھی ہم سے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا تقاضا کرتاہے ۔ سورۃ التوبہ کی آیت 24 میں فرمایا :
{قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوْہَا  وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖط}  ’’ (اے نبی ﷺ ! ان سے)کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ ‘تمہارے بیٹے‘ تمہارے بھائی‘تمہاری بیویاں (اور بیویوں کے لیے شوہر) ‘تمہارے رشتہ دار اور وہ مال جو تم نے بہت محنت سے کمائے ہیں ‘اور وہ تجارت جس کے مندے کا تمہیں خطرہ رہتا ہے ‘اور وہ مکانات جو تمہیں بہت پسند ہیں ‘( اگر یہ سب چیزیں) تمہیں محبوب تر ہیں اللہ‘اُس کے رسول اور اس کے راستے میں جہاد سے ‘تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ سنا دے۔‘‘
قرآن مجید کا یہ مقام دلوں کو دہلا دینے والا ہے بشرطیکہ اس کی تلاوت بندہ سمجھ کر کرے اور دل میں ہدایت کی تڑپ اور طلب بھی ہو ۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِیْمَانًا وَّعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ (2)}(الانفال) ’’حقیقی مؤمن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل لرز جاتے ہیں اورجب انہیں اُس کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں توان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے‘ اور وہ اپنے رب ہی پر توکل کرتے ہیں۔‘‘
پھر دوسری جگہ فرمایا : 
{لَــوْ اَنْزَلْنَا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْـتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ ط}(الحشر :21) ’’اگر ہم اس قرآن کو اُتار دیتے کسی پہاڑ پر تو تم دیکھتے کہ وہ دب جاتا اور پھٹ جاتا اللہ کے خوف سے۔‘‘
آج ہمیں غور کرنا چاہیے کہ قرآن مجید کی آیات کا ہمارے دلوں پر کچھ اثرہوتا ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو پھر ہم کیسے مسلمان ہیں اور کیسا دعویٰ ایمان ہے ؟ سورۃ التوبہ کی زیر مطالعہ آیت کے متعلق ڈاکٹر اسراراحمدؒ فرمایا کرتے تھے کہ یہ ایک ترازو ہے جس میں بندہ اپنے دعویٰ ایمان کو تول سکتاہے ۔ اس ترازو کے ایکپلڑے پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت و محبت اور اللہ کی راہ میں جہاد کی خواہش کو رکھے اور دوسرے میں اپنے بیوی بچوں ، والدین ، بھائی بہنوں ، رشتہ داروں ، تجارت ، مال ودولت ، مکانات و جائیداد کی محبت رکھے اور دیکھے کہ کونسا پلڑا بھاری ہے ۔ اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت و محبت اور اللہ کی راہ میں جہاد سے یہ سب چیزیں زیادہ عزیز ہیں تو پھر ہمیں اللہ کے فیصلے سے ڈرنا چاہیے کہ دنیا میں ہی کوئی مصیبت اور ذلت و رسوائی آنہ پکڑے ۔ 
یہاں پیشن گوئی نہیں کی جارہی بلکہ واضح طور پر رب کی طرف سے وارننگ ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت اور اللہ کی  راہ میں جہاد نہیں کررہے تو پھر ہم پر ذلت و رسوائی آنی ہی آنی ہے ۔ اللہ کا یہ فیصلہ آخرت میں تو صادر ہوگا ہی لیکن دنیا میں بھی ایک عذاب کی صورت میں نازل ہو سکتاہے ۔
زیر مطالعہ آیت فتح مکہ سے قبل نازل ہوئی اور اس میں اہل ایمان کو مکہ کے کفار و مشرکین کے خلاف جہاد کی ترغیب دی گئی۔ اہل ایمان اسلام قبول کرنے کے بعد مدینہ ہجرت کر گئے لیکن مکہ مکرمہ میں اب بھی کسی کا والد موجود تھا ، کسی کا بھائی ، کسی کا کوئی اور قریبی رشتہ دار ۔ اسی طرح زمین و جائیداداور کاروبار و تجارت کے معاملات بھی تھے ۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کی جانب سے واضح فیصلہ آگیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم ہر چیز سے بالاتر رہے گا اوراللہ کی راہ میں جہاد میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بننی چاہیے ، یہاں تک کہ ماں باپ ، بیوی بچوں اور قریبی رشتہ داروں کی محبت بھی نہیں۔ یہ بہت بڑا امتحان تھا جس میں صحابہ کرام ؓ کامیاب ہوئے ۔ 
یہ امتحان تمام اہلِ ایمان کے لیے بھی ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی راہ میں جہاد کرنے میں دنیا کی کسی بھی چیز کی محبت رکاوٹ نہ بنے ۔ یعنی اللہ کے رسول ﷺ کا مشن ہی زندگی کا اوّلین مقصد ہو اور اس مشن کی محبت بیوی بچوں اور والدین سمیت ہر چیز سے بالا تر ہو ۔ آج ہم بھی ہم اپنے دل میں یہ ترازو لگا کر دیکھیں کہ کیا ہم اس معیار پرپورا اُتر رہے ہیں ؟ آج ہماری ترجیحات کیا ہیں ؟ کسی کے ماتھے پر نہیں لکھا ہوتا کہ وہ اللہ اور اُس کے رسول ﷺ سے محبت کرتاہے اور نہ ہی کوئی سرٹیفیکیٹ کسی کے پاس ہوتاہے ۔ یہ تو قلبی معاملہ ہے اور اس کا اظہار عمل میں ہوتاہے ۔ 
جہاد کا لفظ کبھی کبھی قتال کے معنی میں بھی آتا ہے لیکن ہمیشہ اِس کے معنی قتال نہیں ہوا کرتے ۔ جہاد ایک وسیع اصطلاح ہے جس کا اصل مفہوم اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنا ہے ۔  اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا گیا : یارسول اللہ ﷺ ! سب سے افضل جہاد کونسا ہے ؟ فرمایا : 
((ان تجاھد نفسک فی طاعۃ اللہ))’’اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس کے خلاف جہاد کرنا ۔ ‘‘
یعنی اپنے نفس کو اللہ کے احکامات کا تابع بنانا ۔ یہ اولین کام ہے۔ اگر اپنے نفس اور اپنی خواہشات کو ہی اللہ کے تابع نہیں کرسکا تو پھر اللہ کی راہ میں کسی اور کے خلاف جہاد کیا کرے گا ؟ اگر ہمارا ایمان ہمیں فجر کی نماز کے لیے کھڑا نہیں کررہا تو باطل کے خلاف کیسے ہم کھڑے ہوں گے ؟ اسی طرح نفس بندے کو اُکساتاہے کہ رشوت لو ،  تھوڑا حرام کما لو ، اچھا گھر بنا اور اچھی گاڑی لے لو ، بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے ، بچیوں کے اعلیٰ رشتوں کے لیے تھوڑا سٹیٹس بڑھا لو اس کے بعد حج بھی کرلینا ، عمرے بھی کرلینا اور حرام چھوڑ دینا ۔ اسی دوران اگر موت آگئی تو بندہ آخرت میں اللہ کو کیا جواب دے گا کہ زندگی کس چیز کی محبت میں گزاری اور کس کی محبت میں اللہ اور اُس کے رسول ﷺ سےباغیانہ روش اختیار کی؟لہٰذا عمل بتائے گا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت دل میں ہے یا نہیں ۔ اگر دنیا و مافیہا کی محبت پر اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی اطاعت غالب ہے تو یہی جہاد ہے ۔ یعنی اللہ کی بندگی ہی جہاد ہے اور یہ جہاد پوری زندگی میں مطلوب ہے ۔ 
  ختم نبوت کے بعد اللہ کی بندگی والے نظام کو قائم  کرنے کی جدوجہد کرنا اس اُمّت کی ذِمّہ داری ہے اور یہ اللہ کے دین کا تقاضا ہے ۔ اس جدوجہد میں کہیں قتال کا مرحلہ بھی آسکتاہے ۔تاہم اس کی بھی شرائط ہیں ۔ جہاں مقابلہ کلمہ گو مسلمانوں سے ہوگا تو وہاں جان لینے کی بات نہیں کی جائے گی بلکہ جان دینے کی بات کی جائے گی۔ لیکن جہاں مقابلہ کفار اور مشرکین سے ہوگا تو وہاں قتال کے دوران اگر مقابلے میں بھائی یا باپ بھی ہوگا تو اس کی محبت اللہ کی راہ میں جہاد پر حاوی نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی دنیا کی کوئی اور محبت اللہ کی راہ میں جہاد میں  رکاوٹ بنے ، نہ کاروبار اور تجارت رکاوٹ بنے۔ دنیا کی یہ ساری محبتیں بھی امتحان ہیں ، جن کے پاس زیادہ ہے ان کے لیے زیادہ بڑا امتحان ہے ، جن کے پاس کم ہے ، ان کے لیے کم امتحان ہے ۔ ایک اور مقام پر فرمایا : 
{وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّـلّٰہِ ط}(البقرہ:165) ’’اور جو لوگ واقعتاًصاحب ِایمان ہوتے ہیں ان کی   شدید ترین محبت اللہ کے ساتھ ہوتی ہے۔‘‘ 
        ہمارا خالق و مالک، ہمارا رازق اللہ ہے ،70 ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے، اُس کی رحمت کے 100 حصّے ہیں ، 99 حصّے اپنے پاس رکھے ہیں جبکہ 1 حصّہ مخلوق کو دیا ہے ۔ ساری مخلوقات میں جتنی شفقت، محبت، مودت، رحمت، نرمی وغیرہ دکھائی دے رہی ہے ، یہ اُسی ایک حصّے کا ظہور ہے ،اندازہ کیجئے کہ اللہ کی رحمت کا عالم کیا ہوگا ؟فرمایا : 
{فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ(18)}‘(الرحمٰن)  ’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘
بندہ اللہ تعالیٰ کی نوازشوں اور نعمتوں کو شمار کرنا چاہے تو ہرگز شمار نہ کرپائے گا ۔ اسی لیے سب سے زیادہ محبت اللہ سے ہونی چاہیے ۔ قرآن مجید میں حضرت نوح ؑ کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: {مَا لَکُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰہِ وَقَارًا (13)}(نوح) ’’تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کے امیدوار نہیںہو؟‘‘
آج حکومت کہتی ہے کہ ہماری ایک ریڈ لائن ہے ، ادارے کہتے ہیں کہ ہماری ایک ریڈ لائن ہے ، سیاسی جماعتیں بھی یہی کہتی ہیں کہ ہماری فلاں ریڈ لائن ہے ، سب کو اپنی ریڈ لائن کی فکر ہے ، کیا اللہ کی ریڈ لائن کی بھی کسی کو فکر ہے ؟دنیا میں ہم جس سے محبت کرتے ہیں ، اُس کے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھاتے ہیں ، جان تک قربان کرنے کی باتیں ہوتی ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ سب سے بڑھ کر محبت اللہ سے ہونی چاہیے اور اس محبت کا تقاضا ہے کہ بندہ اپنا سب کچھ اللہ کے لیے وقف کردے :
{قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (162)}(الانعام )’’ آپؐ کہیے میری نماز‘ میری قربانی‘ میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘
تمام تر محنت اور جدوجہد اللہ کے لیے ہونی چاہیے ۔ مطلوبِ اوّل اور مقصودِ اوّل اللہ کی ذات ہونی چاہیے ۔ اللہ کے لیے سب کچھ کھپا دینے کی تڑپ ہونی چاہیے ۔  حضرت سعد بن ابی وقاصؓنے جب اسلام قبول کیا تواُن کی والدہ نے بھوک ہڑتال کردی ۔ کہا اگر محمد (ﷺ)  کا دین نہیں چھوڑے گا تو میں تادم مرگ کچھ نہیں  کھاؤں گی ۔ فرمایا : ماں ! اگر تیری سو جانیں ہوں اور ایک ایک کرکے سب نکل جائیں تب بھی میں محمد ﷺ کا  دین نہیں چھوڑوں گا۔ اللہ کے بعد اللہ کے رسول ﷺ کی محبت بھی ہر چیز پر غالب ہونی چاہیے ۔ قرآن میں فرمایا :{اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ} (الاحزاب6) ’’یقینا ًنبیؐ کاحق مؤمنوں پر خود اُن کی جانوں سے بھی زیادہ ہے‘‘
  ایک ترجمانی یہ بھی ہے کہ ایک مسلمان کا اپنے وجود پر جتنا اختیار ہے ، اس سے بڑھ کر اختیار رسول اللہ ﷺ کا ہے، آپ ﷺ کے حکم پر اپنی زندگی کھپا دینا ، اپنی جان قربان کر دینا ایمان کا حصہ ہے ۔ صحابہ کرام ؇ایسے ہی نہیں کہتے تھے : یا رسول اللہ ﷺ! آپؐ پر ہمارے ماں باپ قربان ۔ اُنہوں نے عملی طور پر یہ ثابت کرکے دکھایا ۔ اپنی جان ، اپنے والدین ، اپنی ہرمحبت سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ سے محبت کی ۔آپ ﷺ نے  حضرت عمر ؄سے فرمایا : اے عمر! جب تک تمہارے نزدیک میں تمہاری جان سے بڑھ کر محترم ، عزیز ، مقدم اور محبوب نہ ہو جاؤں تب تک تمہارا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا ۔ کس کو اللہ اور اُس کے رسول ﷺ سے کتنی محبت ہے ؟ اس کا پتا جہاد سے چلے گا ۔ اگر کوئی واقعی اللہ اور اُس کے رسولﷺ  سے محبت کرتا ہے تو وہ اپنی جان ، مال ، اولاد ، ماں باپ ، کاروبار ، رشتہ دار ہر چیز پر اللہ کی راہ میں جہاد کو ترجیح دے گا ۔ فرمایا : {وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ(102)} (آل عمران) ’’اور تمہیں ہرگز موت نہ آنے پائے مگر فرمانبرداری کی حالت میں۔‘‘ 
مرتے دم تک جو اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کا فرمانبردار رہے گا وہی اِس امتحان میں کامیاب ہوگا ۔   جامع ترمذی کی روایت ہے کہ مومن وہ ہے جسے دیکھ کر اللہ یاد آئے ، اسی طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ اُمتی وہ ہے جس کو دیکھ کر رسول اللہ ﷺ یاد آئیں ۔ آج ہم سب اپنا جائزہ لیں کہ کیا ہمیں دیکھ کر کسی کو رسول اللہ ﷺ یاد آتے ہیں؟ کیا ہمارے اعمال اور ہمارے طرزِعمل کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرنے والے ہیں ؟ جہاد کا عمل ایک ایسا عمل ہے جس سے پتا چلے گا کہ ہم اللہ اور اُس کے رسول ﷺ سے کتنی محبت کرتے ہیں ۔ جہاد ایک جامع اصطلاح ہے ۔ ڈاکٹر اسرار احمد ؒ  کے اِس موضع پر بہت سے خطابات بھی ہیں ، کتابچے بھی ہیں ۔ انہوں نے کچھ مغالطوں کو دور بھی کیا ہے ۔ جیسا کہ عام طور پر جنگ اور جہاد کو برابر سمجھ لیا جاتاہے ، حالانکہ ایسا نہیں ہے ، جہاد اللہ کے دین کے لیے جدوجہد کا نام ہے ، اس کا آغاز اپنے نفس سے ہوتاہے ، پھر دوسروں کو دین کی دعوت دینا ، اقامت دین کی جدوجہد میں شامل ہونا بھی جہاد ہے۔ اس جہاد کا اصل مقصد اللہ کے رسول ﷺ کے مشن میں حصّہ لینا ہے جو کہ یہ تھا کہ : 
{لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ}(الصف:9)
’’ تاکہ غالب کر دے اس کو پورے نظامِ زندگی پر۔‘‘
اِس مشن میں ہمارا کتنا حصّہ ہے ، اِس سے پتا چلے گا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے ہمیں کتنی محبت ہے ۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اللہ فرماتاہے کہ : 
{فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖط} ’’ تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ سنا دے۔‘‘
جہا د میں اللہ کے رسول ﷺ کا خون تک طائف کی گلیوں میں بہا ہے ، اُحد میں 70 پیارے صحابہ؇ کی جانیں گئی ہیں ۔ آج ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ ہماری زندگی میں جہاد فی سبیل اللہ کا رُخ نظر آتاہے ؟ آگے فرمایا : 
{وَاللّٰہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ (24)}’’اور اللہ ایسے فاسقوں کو راہ یاب نہیں کرتا۔‘‘
      قرآن میں جا بجا ذکر ہے کہ ہدایت کن لوگوں کو ملتی ہے ۔  سورۃ العنکبوت کی آخری آیت میںفرمایا : {وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَاط} (العنکبوت:69) ’’اور جو لوگ ہماری راہ میں ِجدوجہدکریں گے، ہم لازماً ان کی راہنمائی کریں گے اپنے راستوں کی طرف۔‘‘
ہم جنت میں داخلے تک ہدایت کے محتاج ہیںلیکن یہ تب ملے گی جب ہم جہاد میں حصّہ لیں گے ۔ وسیع تر معنی میں اللہ کی بندگی کرنا ، اللہ کی بندگی کی دعوت دینا اور اللہ کی بندگی پر مبنی نظام کے قیام کی جدوجہد کرنا  جہا دہے ۔ تنظیم اسلامی بھی اسی بات کی دعوت دیتی ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو زندگی کے تمام انفرادی اور اجتماعی گوشوں میں اپنا نفاذ چاہتا ہے ۔اپنی ذات پر اللہ کے دین کو نافذ کرنا ، پھر دوسروں کو اس کی دعوت دینا اور پھر اجتماعی سطح پر دین کو نافذ کرنے کی جدوجہد کرنا ہمارا مشن ہے ۔ یہی اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی کا مشن تھا ۔ فرمایا : {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ}(الاحزاب:21) ’’(اے مسلمانو!) تمہارے لیے اللہ کے رسول ؐمیں ایک بہترین نمونہ ہے۔ ‘‘
آپ ﷺ کی 23 برس کی مسلسل محنت اور جدوجہد اسی مشن کے لیے تھی ۔ آج ہم نے آپ ﷺ کی اس سب سے بڑی سنت کو چھوڑ دیا ہے ، اسی وجہ سے ذلت و رسوائی کا شکار ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی معنوں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فرمانبردار بننے کی توفیق عطافرمائے ۔ 
یوم مزدور 
یکم مئی کی چھٹی برسوں سے منائی جا رہی ہے۔  یورپ میں جب معیشت سرمایہ داروں کی مٹھی میں آگئی تو اُنہوں نے مزدوروں کا استحصال کرنا شروع کیا ۔ اس ظلم کے خلاف مزدور کھڑے ہوئے ، یکم مئی 1886ءکو شگاگو میںاُن پر گولیاں چلائی گئیں ، بہت سے مزدور وں کا خون بہایا گیا ۔ اسی دن کی یاد میں چھٹی منائی جاتی ہے ۔ لیکن مزدور بے چارا اس دن بھی استحصال کا شکار ہوتا ہے۔ وہ تو دہاڑی لگا کر رات کو گھروالوں کے لیے روٹی روزی مہیا کرتاہے لیکن یکم مئی کو اسی مزدور کے نام پر فیکٹریاں ، کارخانے بند ہو جاتے ہیں اور مزدور بے چارا اس دن اپنی دہاڑی سے محروم ہو جاتاہے۔ یہ مغرب سے ہماری مرعوبیت کا عالم ہے۔ اسی طرح ہمارے ہاں سردیاں  جنوری میں شدت اختیار کرتی ہیں لیکن ہم مغرب سے مرعوب ہو کر دسمبر کے آخر میں بچوں کو سکول کی چھٹیاں  دیتے ہیں ۔ کیونکہ یہ سلسلہ انگریزی دور سے چلا آیا ہے ۔ یکم مئی کی چھٹی بھی مغرب کی نقالی میں منائی جاتی ہے اور اس دن مزدور اپنی دہاڑی سے محروم ہو تاہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے کہ مزدور کو اُس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دینی چاہیے ۔ یہاں تین تین چار چار مہینے تنخواہیں لیٹ کردی جاتی ہیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے محنت کش کے ہاتھوں کو چوما تھا اور فرمایا تھا : ((الکاسب حبیب اللہ )) ’’محنت کش اللہ کا دوست ہے ۔‘‘  اللہ کے رسول ﷺ رحمت للعالمین تھے ۔ قرآن میں فرمایا : {وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ(107)} (الانبیاء) ’’اور (اے نبیﷺ!) ہم نے نہیں بھیجا ہے آپؐ کو مگر تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر۔‘‘ 
آپﷺ نے مزدوروں اور محنت کشوں کے لیے بھی تعلیم فرمائی۔ ایک شخص آپ ﷺکے پاس سوال کرنے آیا ۔ آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے کلہاڑی میں دستہ لگا کر دیا اور فرمایا : جاؤ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاؤ اور بیچو ۔ اس طرح وہ شخص اپنا باعزت روزگار کمانے لگا ۔ آپ ﷺ نے محنت کشوں کے حقوق کے حوالے سے خاص تلقین فرمائی ۔ا سی طرح آپ ﷺ نے جانوروں کے حقوق کا بھی خیال رکھنے کی تاکید فرمائی ۔ صحیح حدیث ہے کہ ایک اونٹ اپنی گردن زمین پر رکھے ہوئے تھا ، آپ ﷺ نے اُس کے مالک کو بلاکر فرمایا کہ اِس پر اتنا بوجھ نہ ڈالو جس کا تم قیامت کے دن جواب نہ دے سکو ۔ 
اسلام اللہ کا دیا ہوا عادلانہ نظام ہے ۔ اگر انسان نظام بنائے گا تو وہ کسی نہ کسی کا استحصال کرے گا ، سرمایہ دار نظام بنائے گاتو وہ مزدور کا استحصال کرے گا ، مزدور نظام بنائے گا تو سرمایہ کار کا استحصال کرے گا ۔ اللہ تعالیٰ جو سب کا خالق و مالک ہے ، اُس کے بنائے ہوئے نظام میں ہر ایک کو انصاف ملتا ہے۔ اگر انسان اللہ کے نظام کو مانیں  گے اور اس کو قائم کریں گے تو ہر طبقے کو انصاف ملے گا ۔ قائداعظم نے فرمایا تھا کہ مغرب کے معاشی نظام نے دنیا کو لاینحل مسائل سے دوچار کر دیا ہے ، ہمارا فرض ہے کہ اسلام کے معاشی اصولوں کی روشنی میں ایک عادلانہ معاشی نظام قائم کرکے دنیا کے سامنے نمونہ پیش کریں ۔ خلیفہ دوم حضرت عمر ؄نے ایک بوڑھے اور نابینا یہودی کو بھیک مانگتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : تم اب اپنے گھر میں بیٹھو ، جب تک تم جوان تھے کما کر ریاست کو جزیہ دیتے تھے ، اب ریاست کی ذِمّہ داری ہے کہ وہ تمہاری کفالت کرے۔ یہ اسلامی نظام کی عمدہ مثالیں ہیں جن کو آج بھی مغرب فالو کر رہا ہے ، اسکینڈے نیوین ممالک میں آج بھی عمر لاء کے نام سے فلاحی قوانین نافذ ہیں ۔ مگر ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اس مثالی نظام کو چھوڑ کر مغرب کے استحصالی سرمایہ دارانہ نظام سے مرعوب ہوئے بیٹھے ہیں جس میں مزدور کے  نام پر سرمایہ دار چھٹی مناتے ہیں اور مزدور بے چارا اُس دن اپنی دہاڑی سے بھی جاتا ہے ۔ 
گلوبل صمود فلوٹیلا 
صہیونی اپنے گریٹر اسرائیل کے منصوبے پر دھڑلے کے ساتھ عمل پیرا ہیں ۔ ٹرمپ اس منصوبے میں صہیونیوں کا سہولت کار بنا ہوا ہے۔کئی مسلم ممالک بورڈ آف پیس سائن کرکے بیٹھے ہوئے ہیں اور کئی ابراہم اکارڈ معاہدے کے تحت اسرائیل کو تسلیم کیے بیٹھے ہیں ۔ دوسری طرف صہیونی ریاست محصور اہلِ غزہ کی نسل کشی میں مصروف ہے ۔ اہلِ غزہ کے پاس نہ گھر بچے ہیں، نہ ہسپتال اور نہ ہی کھانے پینے کا سامان بچا ہے ۔ ان حالات میں گلوبل صمود فلوٹیلا 3 کے نام سے 100 سے زائد کشتیاں امدادی سامان لے کر غزہ کی طرف رواں  ہیں ۔ ان میں 70ممالک کے تقریباً 2500 سماجی کارکن شامل ہیں ۔ لیکن اسرائیل نے تمام تر بین الاقوامی قوانین کو پاؤں تلے روندتے ہوئے یونان کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں اُن پر دھاوا بول دیا ہے ۔ مسلم ممالک کو کب غیرت آئے گی ۔ اگر نیٹو کا اتحاد بن سکتاہے تو مسلم ممالک کا عسکری اتحاد کیوں نہیں بن سکتا ۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلم ممالک کو جاگنے اور متحد ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !