(اداریہ) جنگ کا منتظم یاہو ہی ہے! - رضا ء الحق

10 /

اداریہ


رضاء الحق


جنگ کا منتظم یاہو ہی ہے!


امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل نہایت نازک مگر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔ بظاہر دونوں اطراف سے کشیدگی اور مفاہمت کے متضاد عناصر بیک وقت کارفرما تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کو ’’مثبت‘‘ قرار دیا اور اکثر دانشور حضرات و خواتین کی جیسے باچھیں ہی کُھل گئیں۔ البتہ امریکی اور اُس سے بڑھ کر اسرائیلی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے کہتے رہے کہ یہ محض نظر کا دھوکہ ہے اور فریقین کے درمیان بداعتمادی کی خلیج بدستور موجود ہے اور ہو بھی کیوں نہ؟ کم و بیش ایک صدی قبل جب یورپ کے امیر اور طاقتور ترین صہیونی خاندان یورپ کی پُر تعیش زندگی کو خیرآباد کہہ کر عرب (فلسطین) کے ریگزار میں تل ابیب کا شہر بسانے آئے تھے اور اپنے ’’روحانی‘‘ اور ’’تاریخی‘‘ مشن کی بنیاد رکھی تھی تو یہ ایک بہت بڑی ’’قربانی‘‘ تھی۔ گزشتہ ایک صدی کے دوران صہیونیوں نے جس قدر قربانیاں دی ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب وہ اپنا ’’خدائی‘‘ مشن ترک کر دیں گے؟ بہرحال ایران کی جانب سے پاکستان کے توسط سے پیش کردہ چودہ نکاتی منصوبہ دراصل ایک جامع فریم ورک ہے، جس کا مقصد عارضی جنگ بندی کو ایک پائیدار امن میں تبدیل کرنا ہے۔ اس منصوبے میں مرحلہ وار اقدامات کے ذریعے آبنائے ہرمز کی بحالی، امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، محدود سطح پر یورینیم افزودگی کی اجازت، اور بتدریج پابندیوں میں نرمی جیسے نکات شامل ہیں، جبکہ طویل المدتی سطح پر ایک وسیع علاقائی سکیورٹی نظام جس میں عرب ممالک بھی شامل ہوں گے، کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کے تحت آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں کو نکالنے کا اعلان کر کے طاقت کے استعمال کا عندیہ دیتے ہوئے سیڑھی کے پہلے ہی قدم پر روایتی دجل کا مظاہرہ کیا ہے۔ جس کے جواب میں ایران نے نہ صرف آبنائے ہرمز میں امریکی جہازوں کو نشانہ بنایا بلکہ متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ پر حملہ کرکے تیل کی ترسیل کے متبادل راستوں و منصوبوں کو ایک zero sum game کھیل کر خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایران کا یہ بھی دوٹوک مؤقف ہے کہ وہ اپنے جوہری ڈھانچے کو ختم نہیں کرے گا، اس تنازع کے بنیادی اختلاف کو نمایاں کرتا ہے، جبکہ امریکی قیادت کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارے صورت حال کی نزاکت کو مزید بڑھاتے ہیں۔ ایرانی قیادت نے بھی واضح کیا ہے کہ امریکہ کے سامنے اب دو ہی راستے ہیں: یا تو ایک مشکل اور غیر یقینی جنگ، یا ایک ایسا معاہدہ جو شاید اس کی تمام شرائط پر پورا نہ اترے۔ اس تمام تناظر میں پاکستان کا ثالثی کردار قابلِ ذکر ہے، جس نے فریقین کے درمیان رابطے کو ممکن بنایا، اگرچہ ایران کی جانب سے امریکی نیت پر شکوک و شبہات اس عمل کی پیچیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ صورت حال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ اگرچہ امن کے لیے ایک قابلِ عمل خاکہ موجود ہے، تاہم اس کے عملی نفاذ کا انحصار فریقین کی سیاسی بصیرت، باہمی اعتماد کی بحالی، حقیقی معنوں میں مفاہمت پر آمادگی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکہ کے آقا اسرائیل کے رضامند ہونے پر ہے، جو ہمارے نزدیک ممکن نہیں۔ اسرائیل تو پوری دنیا میں آگ اور خون کا کھیل کھیلنا چاہتا ہے۔ اُس کی تالمودی تعلیمات یہی ہیں!
ایران کی حکمت عملی کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جائے تو پہلا نمایاں پہلو یہ سامنے آتا ہے کہ وہ’’عارضی جنگ بندی‘‘ کے بجائے اس کے ’’ مکمل خاتمے‘‘ پر زور دیتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ امریکہ اور اسرائیل دونوں سے عدم جارحیت کی ضمانت چاہتا ہے، جبکہ خود بھی حملے روکنے کی پیشکش کرتا ہے۔ ساتھ ہی آبنائے ہرمز کی بحالی، امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، اور خطے سے امریکی افواج کی واپسی جیسے مطالبات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران محض دفاعی نہیں بلکہ اسٹرٹیجک برتری کو مستحکم کرنا چاہتا ہے۔
دوسرے مرحلے میں ایران نے نہایت محتاط توازن اختیار کیا ہے: وہ محدود سطح (3.6 فیصد) تک یورینیم افزودگی جاری رکھنے کا حق برقرار رکھنا چاہتا ہے، مگر ساتھ ہی پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی واپسی اور اقتصادی بحالی کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اس معاہدے کو صرف سکیورٹی نہیں بلکہ اقتصادی نجات کے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ تاہم یہی نکتہ امریکہ کے لیے سب سے بڑا اختلافی پہلو ہے، کیونکہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر محدود یا ختم کرنا چاہتا ہے۔
تیسرے مرحلے میں ایران کا وژن مزید وسیع ہو جاتا ہے، جہاں وہ عرب ممالک کے ساتھ ایک نئے علاقائی سکیورٹی نظام کی تشکیل کی بات کرتا ہے۔ یہ دراصل مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو ازسرنو ترتیب دینے کی کوشش ہے، جس میں ایران خود کو ایک مرکزی اور جائز فریق کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ (یعنی یاہو کا غلام) اس منصوبے کو قبول کرے گا؟ شواہد اِس کے برعکس اشارہ دیتے ہیں۔ ٹرمپ نے نہ صرف اِس منصوبے پر شکوک کا اظہار کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ وہ اِسے ’’قابلِ قبول تصور نہیں کرتا،‘‘ خصوصاً اس لیے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے دستبرداری پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ مزید برآں، امریکہ کی بنیادی ترجیح آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور ایران کی جوہری صلاحیت کا خاتمہ ہے، جبکہ ایران ان دونوں معاملات میں پسپائی کے لیے تیار نہیں۔ اس تناظر میں یہ کہنا زیادہ قرینِ قیاس ہے کہ کسی پائیدار امن کا معاہدہ ہونے کا امکان تقریباً صفر ہے۔
اگر فرض کیا جائے کہ کسی حد تک یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو اسرائیل کا ردعمل غالباً سخت اور تشویش پر مبنی ہوگا۔ اسرائیل کی سکیورٹی پالیسی کی بنیاد ہی ایران کو ایک وجودی خطرہ تصور کرنے پر قائم ہے۔ ایسے میں اگر ایران کو جوہری پروگرام جاری رکھنے، پابندیوں سے نجات حاصل کرنے، اور علاقائی سطح پر بطور طاقت تسلیم کیے جانے کا موقع ملتا ہے، تو یہ اسرائیل کے لیے اسٹریٹجک دھچکا ہوگا۔ اسرائیل ممکنہ طور پر یا تو امریکہ پر مزید دباؤ ڈالے گا، یا خود یکطرفہ کارروائیوں کا راستہ اختیار کر سکتا ہے کیونکہ صہیونیوں کے لیے گریٹر اسرائیل کا منصوبہ اِس قدر عزیز ہے کہ وہ اِس کی تکمیل کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، امریکہ کی کیاحیثیت!
یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ایران بہانہ اور پاکستان اصل نشانہ ہے لہٰذا اسرائیل کو جنگ بندی اور امن معاہدوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ امریکہ، اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نے فلسطین، غزہ اور مسجدِ اقصیٰ کے معاملے کو خبروں میں پیچھے دھکیل دیا ہے جبکہ حقیقت میں آئے روز صہیونی آباد کار سرکاری سرپرستی میں مسجدِاقصیٰ پر دھاوا بولتے ہیں اور اب تو یہ خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ مسجدِاقصیٰ کے نیچے ’’کھدائی‘‘ کا کام کافی حد تک مکمل ہو چکا ہے جو عالمِ اسلام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسجدِاقصیٰ ہمارے ایمان، تاریخ اور اجتماعی شناخت کا اہم ستون ہے۔ لہٰذا مسجدِاقصیٰ کے نیچے کھدائی کی مصدقہ اطلاعات کا اثر محض عمارت کے نقصان (خدانخواستہ) تک محدود نہیں رہتا بلکہ صہیونیوں کی یہ مذموم حرکت پوری امتِ مسلمہ کی جذباتی اور روحانی فضا کو متاثر کرتی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ لمحہ غفلت کا نہیں، بلکہ اِس ابلیسی منصوبے کو روکنے کے لیے منظم عملی ذِمّہ داری کا ہے۔ہمیں مسجدِ اقصیٰ کے تحفظ کے ساتھ محض جذباتی وابستگی ہی نہیں منظم عملی طرزِعمل اپنانا ہوگا جس میں وقت آنے پر ظالموں کے خلاف قتال بھی شامل ہوگا۔ ان شاء اللہ!
مملکت ِخداداد پاکستان کا حق و باطل کی اِس کشاکش میں انتہائی اہم کردار ہے، آج بھی اور مستقبل کے خراسان میں بھی۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ مملکت کے ذِمّہ داران کو اِس معاملے کی اہمیت کا صحیح ادراک عطا فرمائے اور مسلمانانِ پاکستان کو ’’حزب اللہ‘‘ (اللہ کی پارٹی) میں شامل فرمائے۔ آمین!