(الہدیٰ) قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے والوں کا انعام اور نہ کرنے والوں کا انجام - ادارہ

10 /
الہدیٰ 
 
قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے والوں کا انعام اور نہ کرنے والوں کا انجام 
 
آیت 7 {وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِ اٰیٰتُنَا وَلّٰی مُسْتَکْبِرًا} ’’جب اسے سنائی جاتی ہیں ہماری آیات تو وہ پیٹھ موڑ کر چل دیتا ہے استکبار 
            کرتے ہوئے‘‘
{کَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْہَا کَاَنَّ فِیْٓ اُذُنَیْہِ وَقْرًاج}’’جیسے کہ اُس نے انہیں سنا ہی نہیں‘ گویا اُس کے کانوں میں بوجھ ہے۔‘‘
گویا وہ بہرا ہے اور جو کچھ اللہ کے رسولﷺ نے اُسے سنایا ہے اُس نے وہ سنا ہی نہیں۔
{فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ (7)} ’’تو (ا ے نبیﷺ!) آپ اُس شخص کو دردناک عذاب کی بشارت دے دیجیے ۔‘‘
تاویل خاص کے اعتبار سے دونوں آیات مذکورہ شخص نضر بن حارث جو رُئوسائے کفار میں سے تھا، کے بارے میں ہیں اور ان میں عذاب کے حوالے سے اسی کا ذکر ہے۔(اس نے مسلمانوں کو دین سے گمراہ کرنے کے لیے ایک گانے اور ناچنے والی لونڈی خریدی تھی۔)
آیت 8 {اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِ (8)} ’’یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے  
            نیک اعمال کیے اُن کے لیے نعمتوں بھرے باغات ہیں۔‘‘
آیت 9 {خٰلِدِیْنَ فِیْہَاط وَعْدَ اللّٰہِ حَقًّاط وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (9)} ’’وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو سچا 
           ہے۔اور وہ زبردست ہے حکمت والا۔‘‘ 
 
درس حدیث
 
حلال روزی کمانا فرائض میں سے ہے
 
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ  قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ : ((طَلَبُ کَسْبِ الْحَلَالِ فَرِیْضَۃٌ بَعْدَ الْفَرِیْضَۃِ)) (روا ہ البیہقی فی شعب الایمان)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’حلال روزی حاصل کرنے کی فکر و کوشش(دیگر) فرض کے بعدفریضہ ہے۔ ‘‘
تشریح : اکثر شارحین نے حدیث کا مطلب یہ بیان کیا ہے، نماز، روزہ اور زکوٰۃ وغیرہ اسلام کے اولین اور بنیادی ارکان و فرائض ہیں۔ ان کی ادائیگی پر بندہ اجر و ثواب کا مستحق ہے۔البتہ درجہ اور مرتبہ میں ان کے بعد حلال روزی حاصل کرنے کی فکر اور کوشش بھی ایک اسلامی فریضہ ہے۔ اور اس میں مشغول ہونا عین عبادت اور موجب ِثواب ہے۔