معرکۂ حق کا اصل پیغام
ڈاکٹر ضمیراخترخان
مئی 2025ء میں پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے جوشاندارفتح عطافرمائی تھی اُس کی یادمیں اس سال 9، 10مئی کو ملکی وملی سطح پرتقریبات کاانعقادکیا گیا۔ پوری ملت ِاسلامیہ خوشی سے سرشارہے۔ ہم بھی ملت کے ساتھ خوشی میں شریک ہیں ۔ البتہ خیرخواہی کے جذبے کے تحت چندگزارشات اپنی سیاسی وعسکری قیادت کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ اصل ہدف نظروں سے اوجھل نہ ہونے پائے۔
معرکۂ حق صرف ہندوستان کوزیرکرنے کانام نہیں ہے یہ کفرواسلام کی اُس جنگ کااستعارہ ہے جس کوعلامہ اقبال نے یوں تعبیرکیا ہے:
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی سے شرارِبُولہبی
اس کا اصل مقصد دنیامیں نظامِ حق کا بول بالاکرنا اورنظامِ باطل کوسرنگوں کرناہوتاہے۔ اسلام کی جنگ کابنیادی نظریہ ہی یہ ہے کہ جونظام زندگی اللہ نے اپنے نبی محمدﷺکو دے کربھیجا ہے اُسے تمام نظاموں پرغالب کیا جائے۔ اللہ کاعطاکردہ نظام زندگی دوسرے کسی نظام زندگی کاتابع بن کر نہیں رہ سکتا بلکہ وہ ہرحال میں غلبہ چاہتا ہے۔ اگر کوئی دوسرا نظامِ زندگی دنیا میں رہے بھی تو اُسے خدائی نظام کی بخشی ہوئی گنجائشوں میں سمٹ کر رہنا چاہیے جیسا کہ جزیہ ادا کرنے کی صورت میں ذمیوں کا نظامِ زندگی رہتا ہے۔یہ معرکہ اُس وقت تک جاری رہے گاجب تک اللہ کادین دنیامیں غالب نہیں ہوجاتا۔ گویامعرکہ حق صرف میدانِ جنگ میں وقتی فتح حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایمان، یقین، عدل، اتحاد اور اللہ تعالیٰ کی نصرت پر غیر متزلزل اعتماد کا عملی اعلان ہوتا ہے۔ تاریخ ِاسلام گواہ ہے کہ جب بھی اہل ِ ایمان نے اپنے رب پر بھروسا کیا، باطل کی بڑی سے بڑی طاقت بھی اُن کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ حالیہ حالات اور پاکستان کے گرد رونما ہونے والے واقعات بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور اُس کے وفادار بندوں کی مدد فرماتا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو ’’معرکۂ حق‘‘ امتِ مسلمہ کو دے رہا ہے۔
1۔ اللہ کی نصرت پر کامل یقین: معرکۂ حق کا پہلا پیغام یہ ہے کہ مسلمان اپنی کامیابی کو صرف ظاہری اسباب کا نتیجہ نہ سمجھیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت پر یقین کو مزید مضبوط کریں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:{وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللہِ الْعَزِ یْزِ الْحَکِیْمِ(126)} (آل عمران) ’’ورنہ مدد تو ہونی ہی اللہ کی طرف سے ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔‘‘
یعنی کامیابی صرف اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ جب قومیں اللہ پر بھروسہ کرتی ہیں تو محدود وسائل بھی عظیم قوت بن جاتے ہیں۔ حالیہ حالات میں پاکستان کی غیر متوقع کامیابیاں اسی حقیقت کا اظہار معلوم ہوتی ہیں۔
2۔ دشمنانِ اسلام کے لیے تنبیہ: معرکۂ حق باطل قوتوں کو واضح پیغام دیتا ہے کہ اگر وہ ظلم، جارحیت اور سازشوں سے باز نہ آئے تو اُنہیں پہلے سے زیادہ سخت جواب ملے گا۔ قرآن مجید کا اعلان ہے:{عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَکُمْ ج وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا م}(بنی اسرائیل: 8) ’’ہو سکتا ہے کہ اب تمہارا رب تم پر رحم کرے ‘اور اگر تم نے وہی روش اختیار کی تو ہم بھی وہی کچھ کریں گے۔‘‘
یعنی اگر تم دوبارہ وہی روش اختیار کرو گے تو ہم بھی تمہیں دوبارہ سزا دیں گے۔ یہ آیت اہلِ باطل کے لیے ایک کھلی تنبیہ ہے کہ ظلم کا انجام ہمیشہ تباہی ہے۔
3۔ اصل قوت اللہ کی قوت ہے: اللہ تعالیٰ غزوۂ بدر کے حوالے سے فرماتا ہے:{وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰـکِنَّ اللہَ رَمٰی ج }(الانفال: 17) ’’اور جب آپؐ نے (اُن پر کنکریاں) پھینکی تھیں تو وہ آپؐ نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں۔‘‘
یہ آیت بتاتی ہے کہ اہلِ ایمان کی اصل طاقت اُن کے ہتھیار نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی تائید ہوتی ہے۔ جب مسلمان اللہ کے حکم کے مطابق کھڑے ہوجاتے ہیں تو اُن کی معمولی کوشش بھی غیر معمولی اثر پیدا کرتی ہے۔
4۔ فتح و شکست کا حقیقی مالک اللہ: اسی طرح قرآن فرماتا ہے:
{فَلَمْ تَقْتُلُوْہُمْ وَلٰـکِنَّ اللہَ قَتَلَہُمْ ص} (الانفال: 17)’’پس (اے مسلمانو!) تم نے انہیں قتل نہیں کیا‘ بلکہ انہیں اللہ نے قتل کیا۔‘‘
یہ پیغام واضح کرتا ہے کہ میدانِ حق میں اصل فیصلہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اگر مسلمان ایمان، اخلاص اور تقویٰ کے ساتھ کھڑے ہوں تو اللہ تعالیٰ اُن کے لیے ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔
5۔ مکمل اسلام میں داخل ہونے کی دعوت: معرکۂ حق کا ایک اہم پیغام یہ بھی ہے کہ مسلمان صرف جذباتی نعروں تک محدود نہ رہیں بلکہ اسلام کو اپنی پوری زندگی میں نافذ کریں۔ قرآن کا حکم ہے:
{یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص}(البقرہ: 208) ’’اے اہل ِایمان! اسلام میں داخل ہو جائو پورے کے پورے۔‘‘
اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ سیاست، معیشت، معاشرت اور عدالت سمیت زندگی کے ہر شعبے کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کی اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب یہاں قرآن و سنت کا عادلانہ نظام نافذ ہوگا۔
6۔ عدل و انصاف کے علمبردار بنو: اللہ تعالیٰ اہل ِایمان کو حکم دیتا ہے:{ کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَآئَ لِلہِ} (النساء: 135)’’ کھڑے ہوجائو پوری قوت کے ساتھ عدل کو قائم کرنے کے لیے اللہ کے گواہ بن کر۔‘‘
معرکۂ حق کا تقاضا ہے کہ قوم عدل و انصاف کو اپنی بنیاد بنائے۔ جب تک قانون سب کے لیے برابر نہیں ہوگا، رشوت، سفارش اور ظلم ختم نہیں ہوں گے، اس وقت تک حقیقی ترقی ممکن نہیں۔ ایک مضبوط اور باوقار پاکستان کی بنیاد عدل پر ہی قائم ہوسکتی ہے۔
7۔ دنیا میں قیامِ عدل کی جدوجہد: اسلام صرف ایک قوم یا خطے کی بھلائی کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے رحمت ہے۔ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دنیا میں عدل، امن اور انسانیت کے محافظ بن کر کھڑے ہوں۔ پاکستان کی حالیہ سفارت کاری کواسی تناظرمیں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ آج دنیا ظلم، استحصال اور طاقت کی سیاست سے تنگ آچکی ہے اور اسے ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو حقیقی انصاف فراہم کرسکے، اور وہ نظام اسلام ہے۔
8۔ اُمّت ِمسلمہ کی عالمی قیادت: علامہ اقبالؒ نے فرمایا:
سبق پھرپڑھ صداقت کا،عدالت کاشجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
یہ شعر مسلمانوں کو اُن کی اصل ذِمّہ داری یاد دلاتا ہے۔ پاکستان اگر اپنے نظریۂ اسلام سے وابستہ ہوجائے، اخلاقی بنیادیں مضبوط کرے، دیانت و امانت کو فروغ دے اور قرآن کے نظام کو اختیار کرے تو وہ اُمّتِ مسلمہ کی قیادت کا کردار ادا کرسکتا ہے۔
9۔ پاکستان اور عالمِ اسلام کا تعلق: اقبالؒ کا یہ شعر:
میرِ عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے
یہ احساس دلاتا ہے کہ پاکستان صرف جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی امیدوں کا مرکز ہے۔ پاکستان کی قوت دراصل عالمِ اسلام کی قوت ہے۔ اگر یہ ملک اپنے حقیقی اسلامی تشخص کو اپنالے تو اُمّت کے اتحاد اور عالمی امن کا محور بن سکتا ہے۔
10۔ فتح پرجشن نہیں بلکہ شکرالٰہی،فخروتکبرنہیںبلکہ عجزوانکساری: یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے کہ پاکستان کو اتنی بڑی کامیابی ملی۔ ہمیں اس تاریخی کامیابی پر سجدہ ریز ہو کر رب کے حضور شکرانے کے نوافل ادا کرنا چاہیں نہ کہ ’’موذی‘‘ کی طرح اپنی قابلیت،صلاحیت اور کامیاب حکمتِ عملی پر غرور و تکبر کےشادیانے بجائیں۔ بطورِ شکرانہ ملک میں نافذ تمام ایسے قوانین اور احکامات جو قرآن و سنت سے متصادم ہیں اُنہیں ختم کرنے کا اعلان کرنا چاہیے۔وہ ذاتِ باری تعالیٰ جس نے ہمیں 78 سال تک ہر مشکل سے نکالا،قائم رکھا، ہماری نالائقیوں،نااہلیوں کے باوجود ہمیں اقوامِ عالم میں ممتاز کیا،ظالم دشمن کے خلاف سرخرو کیا وہی ہمارے معاشی مسائل دور کرے گی۔ہمیں چاہیے کہ ہم استقامت سے خود کو احکاماتِ خداوندی کے تابع کریں نہ کہ وہ اقدامات کریں جو اللہ کے غضب کو دعوت دیں۔ 50سال تک شراب پر لگی پابندی اُٹھا کر درآمد کی اجازت دینا کیا اللہ تعالیٰ سے سراسر َمکر نہیں! جبکہ حکومت کہتی ہے کہ یہ شراب اپنے لیے نہیں بلکہ بیرونِ مما لک زرمبادلہ کے لیےدرآمد کی جائے گی۔ بعینی ’’یومِ سبت‘‘ پر جب ربِ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو مچھلی کے شکار کی ممانعت کی تو نافرمانوں نے گھروں میں دریا سے نالیاں بنا لیں اور کہا کہ ہم شکار نہیں کرتے یہ تو خود آجاتی ہیں۔ اگر اُس دور کی اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ قوم معتوب ٹھہری تو ہم یعنی اِس دور کی اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ اُمّت کیسے اُس کے غضب سے بچ پائیں گے؟ ہمیں ربِ کریم کے احسانات ماننے اور عاجزی دکھانے کی ضرورت ہے۔لا الٰہ الا اللہ کے نام پر لیے گئے پاک وطن کی معیشت کبھی سود یا حرام آمدن سے ٹھیک نہیں ہوگی! پاکستان 1947ءمیں ادھورے انقلاب سے بالآخر اب تکمیل کی جانب گامزن ہوا ہے۔ اسے غیر اسلامی اقدامات اٹھا کر منزل سے نہ بھٹکائیں وگرنہ ہر باطل نظام نے تو بالآخر مٹ جانا ہی ہے:
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
لُبِّ لُباب
معرکۂ حق کا اصل پیغام یہی ہے کہ مسلمان مایوسی ترک کریں، اللہ کی نصرت پر یقین رکھیں، اسلام کو مکمل نظامِ حیات کے طور پر اپنائیں اور عدل و انصاف کے قیام کے لیے کھڑے ہوجائیں۔ آج پاکستان جس مقام پر کھڑا ہے، وہ محض سیاسی یا عسکری کامیابی نہیں بلکہ ایک بڑی ذِمّہ داری کی یاد دہانی ہے۔ اگر قوم قرآن و سنت سے مضبوط تعلق قائم کرلے، اخلاقی و عملی اصلاح کو اپنا شعار بنالے اور اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کے نفاذ کی جدوجہد کرے تو اِن شاء اللہ پاکستان نہ صرف اپنے مسائل پر قابو پالے گا بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے امید، قیادت اور عزت کا مینار بن جائے گا۔