قربانی: حضرت ابراہیم ؑ کی عظیم سنت
ڈاکٹر اسرار احمد ؒ
حضرات! آپ کے علم میں ہے کہ حج اور عیدالاضحی کا سارا معاملہ حضرت ابراہیم ؑکی شخصیت اور سیرت کے گرد گھومتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کی تین نسبتیں ہیں جو بہت بلند ہیں۔ ایک یہ کہ آپؑ امام الناس ہیں، اور امام الناس کا یہ منصب آپ کو شدید امتحانات میں سے کامیابی سے گزر کر حاصل ہوا ہے۔ دوسرے یہ کہ آپؑ ابوالانبیاء ہیں۔ سینکڑوں نبی آپؑ کی نسل میں آئے ہیں۔ آپؑ کی تین بیویوں سے تین نسلیں چلیں اور تینوں کے اندر انبیاء آتے رہے۔ حضرت سارہg کی اولاد میں سے حضرت اسحاق ؑ کی طرف سے نبوت کا سلسلہ جاری رہا۔ حضرت ہاجرہ ؑ کی اولاد میں سے حضرت اسمٰعیلؑ اور پھر نبی اکرم ﷺ ، اور اسی طرح قطورہg میں سے بھی حضرت شعیبؑ۔ اور تیسری نسبت یہ کہ آپ خلیل اللہ ہیں۔
قرآن کے نزدیک ہم دنیا میں جو زندگی بسر کر رہے ہیں یہ ہماری کل زندگی نہیں ہے۔ یہ زندگی تو امتحانی وقفہ ہے۔ اصل زندگی تو موت کے بعد شروع ہو گی ؎
تو اسے پیمانۂ امروز و فرداسے نہ ناپ
جاوداں پیہم دواں ہر دم جواں ہے زندگی
یہ موت و حیات کا سلسلہ اللہ نے ایک لمبی زندگی میں سے ایک حصے کے طور پر ہمیں عطا کیا ہے، مقصد کیا ہے، یہ کہ اللہ انسان کو آزمائے کہ کون ہے جو اچھے عمل کرنے والا ہے۔ فرمایا:
{الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ط} (الملک:2)
’’اُسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے۔‘‘
اب یہ امتحانات اور آزمائشیں ہر شخص کو درپیش ہوتے ہیں۔ لیکن ان امتحانات کا ایک مکمل نقشہ حضرت ابراہیم ؑ کی شخصیت میں نظر آتا ہے۔ دیکھئے، سب سے پہلا امتحان ہر انسان کا یہ ہے کہ اپنے رب کو پہچانے۔ انسان خود بخود نہیں آیا، کسی کا بھیجا ہوا ہے، خود بخود پیدا نہیں ہوگیا کسی کا پیدا کردہ ہے، لیکن یہاں آکر اُس پر مادی پردے طاری ہو جاتے ہیں، جو اللہ کی معرفت میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ تو انسان کا پہلا امتحان یہ ہے کہ اگر اُس کی عقل سلیم ہے، فطرت صحیح ہے تو اللہ کو پہچانے۔ حضرت ابراہیم ؑ بھی اِس امتحان سے دو چار کیے گئے۔ اُس زمانے میں تین قسم کے شرک تھے، ایک بت پرستی ، دوسرا ستارہ پرستی اور تیسرا سیاسی شرک تھا۔سیاسی شرک کا مظہر نمرود کا دعویٰ خدائی تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ کی فطرت سلیمہ اور عقل سلیم ان میں سے ہر ایک کی نفی کرتی چلی گئی، اس کے اندر بھی الوہیت نہیں ہو سکتی، اس میں بھی نہیں ہو سکتی، ان تمام منزلوں کو طے کر کے بالآخر و ہ پہنچ گئے :
{اِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَـآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنِo} (الانعام:79)
’’میں نے سب سے یکسو ہو کر اپنے تئیں اسی ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میںمشرکوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘
گویا میں نے تو تمام ان باطل معبودوں سے صرف نظر کر کے اور اپنی نگاہ جمالی ہے اُس ذات پر جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ میرے نزدیک چاند ، سورج اور ستارے ہرگزالٰہ نہیں ہو سکتے، کہ یہ ڈوب جانی والی چیزیں ہیں۔ ان کے لیے دوام نہیں ہے۔ میرا معبود وہ اللہ تعالیٰ ہے، جس کے لیے دوام اور ہمیشگی ہے۔ شرک کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں حضرت ابراہیم ؑ نے توحید کو پہچانا، یہ اُن کی پہلی کامیابی تھی۔
اب اس کے بعد امتحان شروع ہوتا ہے استقامت کا۔ ہدایت تو مل گئی، لیکن ہدایت پر قائم رہنا یہ ایک دوسرا مسئلہ ہے، کیونکہ اب تکالیف آئیں گی، مصائب آئیں گے، اندازہ کیجئے جب حضرت ابراہیم ؑ نے بت خانے میں داخل ہو کر بتوں کو توڑا ہو گا تو کیا قیامت ِصغریٰ برپا ہوئی ہو گی۔ اگر آج بنارس (ہندوستان) میں کوئی شخص بت خانے میں داخل ہو کر ان کے بتوں کو توڑ دے تو کیا ہو گا۔ آپؑ نے تمام بت توڑ دیئے سوائے ایک بڑے بت کے اور تیشہ اس بت کے کندھے پر رکھ دیا۔ جب لوگوں نے ٹوٹے ہوئے بتوں سے متعلق حضرت ابراہیمؑ سے پوچھا تو آپؑ نے کہہ دیا کہ اِس سے پوچھو۔ واقعاتی شہادت تو یہ ہے کہ بتوں کو اِس نے توڑا ہو گا۔ کیونکہ باقی سارے ٹوٹ گئے اور یہ کھڑا ہے۔ قوم کے لوگ کہنے لگے، ابراہیمؑ تم جانتے ہو کہ یہ بات نہیں کر سکتا۔ اب آپؑ نے فرمایا، تف ہے تمہارے اوپر، تم ایسی ہستیوں کو پوجتے ہو جو بات نہیں کر سکتیں، جو اب نہیں دے سکتیں۔ اس کے لیے جو ہمت درکار ہے اس کا آپ اندازہ نہیں کر سکتے۔
اب آپؑ کو بادشاہ کے دربار میں پیش کیا گیا۔ بادشاہ نے کہا، میں ہوں خدا، حضرت ابراہیمؑ کہنے لگے کہ میں تو اُس خدا کو مانتا ہوں جو زندہ رکھتا ہے اور مارتا ہے۔ بادشاہ کٹ حجتی پر آ گیا۔ کہنے لگا، یہ تو میں بھی کرتا ہوں۔ چنانچہ اُس نے قید خانے سے دو قیدی منگوائے، ایک کی گردن اُڑا دی اور ایک کو چھوڑ دیااور کہنے لگا، دیکھو میں نے اپنے اختیار سے ایک شخص کو بچا لیا اور ایک کو مار دیا۔ اب اُسے مسکت جواب کی ضرورت تھی۔ چنانچہ آپؑ نے فرمایا، میرا رب وہ ہے جو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، اگر تو ربوبیت کا مدعی ہے تو اُسے مغرب سے نکال کر دکھا۔ اِس پر بادشاہ مبہوت ہو کر رہ گیا۔ اب اس کے بعد ایک اور امتحان آیا۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ ایک بہت بڑا آلائو بنائو اور اِس نوجوان کو اُس کے اندر جھونک دو۔ چنانچہ ایک بڑا الائو بنایا گیا۔ اس میں آگ دہکائی گئی۔ اوپر مکان بنایا گیا، وہاں سے پھینکنا تھا۔ بادشاہ اور اُس کے مصاحبوں کا خیال تھا کہ جوان خون ہے،لہٰذا یہ نوجوان ابھی بڑھ چڑھ کے بول رہا ہے، لیکن جب اسے آگ کا آلائو دکھائی دے گا اور موت نظر آئے گی تو اِس کی ہمت جواب دے جائے گی۔ یہ دراصل ان لوگوں نے تو ایک چال چلی تھی کہ کسی طریقے سے حضرت ابراہیمؑ کو ڈرا کر اس موقف سے واپس لایا جائے، لیکن وہ ناکام ہوئے، حضرت ابراہیم ؑ کا معاملہ کیا ہوا؟ علامہ اقبال کہتے ہیں ؎
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
وہ دل جو اللہ کی محبت سے سرشار تھا، اُس نے ایک لحظہ کے لیے بھی کوئی ہچکچاہٹ نہیں کی، بلکہ بے خطر اس آگ کے اندر کود پڑا۔ لیکن آگ نے آپ ؑکو نہیں جلایا، کیونکہ اللہ نے آگ کو گل و گلزار بنا دیا۔
رسولوں کے باب میں اللہ کا یہ قاعدہ رہا ہے کہ جب کوئی قوم اپنے رسول کے قتل پر آمادہ ہو جاتی ہے، تو رسول کو حکم ہوتا ہے کہ وہاں سے ہجرت کر جائو، اس کے بعد اُس قوم پر عذاب آتا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کی قوم پر کوئی عذاب آیا یا نہیں، اِس کا ذکر قرآن میں نہیں ہے۔ لیکن عمومی قاعدہ یہی ہے۔ تو حضرت ابراہیمؑ نے اس واقعے کے بعد طے کیا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں، میں کہیں اور چلا جائوں گا۔ اب میں یہاں نہیں رہوں گا۔ اور ساتھ ہی یہ دُعا کی اے اللہ! مجھے نیک اولاد عطا فرما۔ اس کے بعد حضرت ابراہیمؑ کی زندگی کا بڑا حصہ مہاجرت میں گزرا۔ آپؑ عراق میں پیدا ہوئے تھے، اور عراق سے ہجرت کر کے شام گئے۔ شام سے فلسطین پہنچے۔ فلسطین سے مصر گئے۔ اور اس کے بعد مصر سے آکر پھر مستقل ڈیرہ فلسطین میں لگا لیا، لیکن وہاں سے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے ایک بیٹے اور بیوی حضرت ہاجرہg کو لے جا کر حجاز کی وادی میں آ گئے، جہاں گھاس تک نہیں اُگتی۔ اب جیسے جیسے بیٹا جوان ہو رہا تھا، یوں سمجھئے کہ بوڑھے باپ کی رگوں کے اندر توانائی آ رہی تھی۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ میرا بیٹا میرے ساتھ، میرے مشن کے اندر شریک بنے گا، جو کام میرے ذمے اللہ نے لگایا تھا، وہ میرے بعد میرا بیٹا جاری رکھے گا، لیکن یہ کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک سب سے بڑا امتحان ابھی آنا ہے، جس سے بڑے امتحان کا تصور ممکن نہیں، وہ امتحان کیا ہے، اُس کے بارے میں فرمایا:
{فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْٓ اَرٰی فِی الْمَنَامِ اَنِّیْٓ اَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰی ط} (الصٰفٰت:102) ’’جب وہ اُن کے ساتھ دوڑنے (کی عمر) کو پہنچا تو ابراہیم نے کہا کہ بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ (گویا) تم کو ذبح کر رہا ہوں تو تم سوچو کہ تمہارا کیا خیال ہے۔‘‘
یہ خواب دیکھ کر آپؑ حیران ہوئے، دوسری رات پھر یہ خواب دیکھا، تیسری رات پھر دیکھا۔ نبی کا خواب بھی وحی ہوتا ہے، غلط نہیں ہوتا۔ اب بیٹے سے بات کی اے بیٹے! میں پے بہ پے خواب میں دیکھ رہا ہوں، بار بار دیکھ رہا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، تو اب بتائو تمہاری کیا رائے ہے۔ بیٹا جو بڑا حلیم الطبع اور بردبار تھا، جس کی عمر اُس وقت 13 برس تھی بولا: {قَالَ یٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُزسَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ (102)} (الصٰفٰت) ’’انہوں نے کہا کہ ابا جو آپؑ کو حکم ہوا ہے وہی کیجئے۔ اللہ نے چاہا تو آپؑ مجھے صابروں میں پائیں گے‘‘
پھر کیا ہوا؟
{فَلَمَّآ اَسْلَمَا وَتَلَّہٗ لِلْجَبِیْنِ(103)} (الصٰفٰت) ’’ جب دونوں نے حکم مان لیااور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹا دیا۔‘‘
جب ان دونوں نے اللہ کی مرضی کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا۔ ’’اَسْلَمَا‘‘ باب افعال سے تثنیہ مذکر غائب کا صیغہ ہے۔ اس سے اس کا مصدر اسلام آتا ہے۔ اسلام کے معنیٰ کیا ہیں۔ اللہ کی مرضی کے سامنے اپنی مرضی کو بچھا دینا، گرا دینا، سرنڈر کر دینا۔ یہی اسلام ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے یہ نہ سوچا کہ اکلوتا بیٹا ہے، 87 برس کی عمر میں ہوا ہے، اس سے بڑی اُمیدیں وابستہ ہیں۔ اِسے کیسے ذبح کروں بلکہ یہ خیال کیا کہ یہ اللہ کا حکم ہے، جسے مجھے بہرصورت پورا کرنا ہے۔ لہٰذا بیٹے کو زمین پر پیشانی کے بل لٹا دیا۔ پیشانی کے بل لٹانے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ اپنے اندر کوئی کمی تھی، یا بیٹے کی طرف سے کسی مزاحمت کا کوئی اندیشہ تھا بلکہ ایسا اس لیے کیا کہ کہیں محبت پدری جوش مار جائے اور عین وقت پر کہیں ہاتھ ڈگمگا نہ جائیں۔ آپؑ نے چھری چلائی مگر اُس نے گلا نہیں کاٹا۔ اور اسی وقت ندا آ گئی:
{وَنَادَیْنٰہُ اَنْ یّٰٓا ِبْرٰہِیْمُ (104) قَدْ صَدَّقْتَ الرُّئْ یَا ج اِنَّا کَذٰ لِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ (105) اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الْبَلٰٓؤُاالْمُبِیْنُ (106)} (الصٰفٰت)
’’تو ہم نے ان کو پکارا کہ اے ابراہیمؑ تم نے خواب کو سچا کر دکھایا۔ ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔ ‘‘
اِس آزمائش میں بھی آپؑ سرخرو ہو کر نکلے۔
{وَفَدَیْنٰـہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ (107) وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ(108) سَلٰمٌ عَلٰٓی اِبْرٰہِیْمَ (109)} (الصٰفٰت)
’’اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا اور پیچھے آنے والوں میں ابراہیم کا (ذکر خیر باقی) چھوڑ دیا۔‘‘
اب اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اسی وقت جنت سے ایک مینڈھا آیا جو حضرت اسمعٰیلؑ کی جگہ پر ذبح ہوا، اور دوسری تعبیر یہ ہے، کہ آپ ؑکی یہ سنت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جاری کر دی گئی ہے۔ ہم جو قربانی کرتے ہیں یہ اُسی قربانی کا تسلسل ہے۔ صحابہ کرام ؓ نے نبی اکرمﷺ سے پوچھا: اے اللہ کے رسولؐ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپؐ نے جوابًا ارشاد فرمایا: ’’یہ تمہارے باپ ابراہیم ؑ کی سنت ہے‘‘ البتہ ہمارے لیے جو لمحہ فکریہ ہے وہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ تو بیٹے کو ذبح کرنے پر آمادہ ہو گئے، کیا ہماری یہ قربانی کہیں اس درجے میں ہے؟ظاہر ہے کہ یہ ایک نشانی ہے، شعائر اللہ میں سے ہے اور یہ شعائر اللہ بھی اہم ہوتی ہیں۔ شعائر اللہ علامات ہوتی ہیں۔ مثلاً خانۂ کعبہ بھی شعائر اللہ میں سے ہے۔ صفا اور مروہ شعائر اللہ ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قربانی کے جانوروں کوبھی شعائر بنا دیا ہے۔ اس کے ذریعے سے شعور حاصل کرو کہ زندگی کا مقصد کیا ہے۔
حضرات! اگر آپ کا کسی درجے میں بھی حضرت ابراہیم ؑ کے اتباع کا ارادہ ہے، تو آج ہی یہ طے کر لیجئے کہ اپنی اولاد کو دنیا کے لیے نہیں بلکہ دین کے لیے تیار کرنا ہے۔ اگر آپ یہ طے کر لیتے ہیں تو پھر اپنی وہ اُمنگیں جو اولاد سے وابستہ ہیں اُن کو ذبح کریں، اور خلوص دل سے یہ دعا کریں اے اللہ میرے اس بیٹے کو، میری اس اولاد کو اپنے دین کے لیے قبول کر لے۔ اگر ہماری نیت یہ ہو جائے تو کسی نہ کسی درجے میں ہماری قربانی کی بھی کچھ نہ کچھ مناسبت حضرت ابراہیمؑ کی اس قربانی کے ساتھ ہو جائے گی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی رضا کے لیے اپنے جذبات کو قربان کریں، اپنے مفادات کو قربان کریں۔ جب آپ بکرے کی گردن پر چھری پھیریں تو اس وقت یہ خیال کیجئے کہ اے اللہ میں اپنے جذبات و خواہشات پر بھی یہ چھری پھیر رہا ہوں، اے اللہ میری اس چھری کو صرف اس بکرے کے اعتبار سے نہیں میرے جذبات و خواہشات کے اعتبار سے بھی قبول فرما۔ دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری اور آپ کی قربانیوں کو قبول فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!