اہلِ جنت کا اہلِ جہنم سے مکالمہ
(قرآن و حدیث کی روشنی میں )
مسجدجامع القرآن ، قرآن اکیڈمی ڈیفنس کراچی میں امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے8 مئی 2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص
مرتب: ابو ابراہیم
خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
قرآن حکیم میںاللہ تعالیٰ نے سورۃ المدثر کی آخری آیات میںاہل ِ جنت اور اہل ِ جہنم کا مکالمہ نقل کیا ہے ۔ اس میں ہم سب کے لیے ایک یاددہانی ہے جسے آج پیش کرنا مقصود ہے ۔ قرآن حکیم اللہ کا کلام ہےاور رہتی دنیا تک کے لیے ہدایت ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ بات کو سمجھانے کے لیے مختلف پیرایوں میں بیان کرتاہے ۔ کبھی سابق قوموں کے واقعات کا تذکرہ کرتاہے ، کبھی مثالوں اور تمثیلات کے ذریعے سمجھاتا ہے ، کبھی انبیاء ؑ، حکماء اور شہداءکے احوال اور اقوال نقل کرتاہے ۔ اِسی طرح اللہ تعالیٰ مستقبل کے حالات و واقعات بھی بیان فرماتا ہے۔ اہل ِجنت کی خوشیوں اور اہلِ جہنم کی حسرتوں کا بھی ذکر کرتاہے ۔
یہ سارا اہتمام اللہ تعالیٰ انسانوں کے لیے کرتاہے تاکہ وہ قرآن سے ہدایت حاصل کریں ۔اللہ خود فرماتاہے : {اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَہْدِیْ لِلَّتِیْ ہِیَ اَقْوَمُ}(بنی اسرائیل:9) ’’یقیناً یہ قرآن راہنمائی کرتا ہے اُس راہ کی طرف جو سب سے سیدھی ہے۔‘‘
{لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِلا بِـاِذْنِ رَبِّہِمْ} (ابراہیم:1) ’’ تا کہ آپ نکالیں لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف‘اُن کے رب کے اذن سے۔‘‘
زیرِ مطالعہ آیات میں اہلِ جنت اور اہلِ جہنم کے درمیان ہونے والا جو مکالمہ نقل ہوا ہے اس میں بھی ہمارے لیے بہت بڑی رہنمائی اور سبق ہے تاکہ ہم اپنے انجام کی فکر کریں ، جہنم کے دردناک اور حسرتناک عذاب سے بچنے کی تیاری کریں اور اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے مطابق گزار کر جنت کی حقیقی خوشیوں اور راحتوں کا مستحق بننے کی تیاری کریں ۔ ہم اِس دنیا میں رہتے ہوئے جنت اور جہنم کی وسعتوں کا تصور نہیں کرسکتے ۔ سورۃ ق ٓ میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جہنم سے پوچھے گا :
{ہَلِ امْتَلَئْتِ وَتَقُوْلُ ہَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ (30)} ’’کیا تُو بھر گئی؟اور وہ کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے؟‘‘
یعنی مجرموں کو عذاب دینے کے لیے جہنم کی وسعتوں میں کوئی کمی نہیں ہے ۔ اسی طرح جنت کی وسعتوں میں بھی کوئی کمی نہیں ہے ۔ مسلم شریف کی حدیث ہے کہ آخری شخص جس کو جہنم سے نکال کر جنت میں ڈالا جائے گا ، اُس کی جنت ہماری اِس دنیا سے 10 گنا بڑی ہوگی ۔ اوّلین اور مقربین ، یعنی انبیاء ، صدیقین ، شہداء اور صالحین کی جنتوں کی وسعتوں کا کیا عالم ہوگا ؟آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے ، ایسا بالکل ہوکر رہنا ہے۔ اللہ کا کلام سچا ہے۔ سورۃ النساء میں دو مرتبہ فرمایا:
{وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ حَدِیْثًا(87)} ’’اور اللہ سے بڑھ کر اپنی بات میں سچا کون ہو گا؟‘‘
{وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ قِیْلًا (122)} ’’ اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنی بات میں سچا ہو سکتا ہے؟‘‘
حدیث میں ہم پڑھتے ہیں:((فان خیر الحدیث کتاب اللہ)) بہترین بات تو اللہ کی کتاب کی بات ہے۔ہمارا علم محدود ہے ۔لہٰذااللہ تعالیٰ نے روز آخرت کی منظر کشی کرکے ہمارے لیے جس ہدایت اور رہنمائی کا اہتمام کیا ہے، ہمیں اُس کو اپنے لیے حرزِجاں بنانا چاہیے ۔ زیر ِمطالعہ آیات میں نقل ہوا ہے کہ جنت والے مجرمین یعنی اہلِ جہنم سے پوچھیں گے :
{مَا سَلَکَکُمْ فِیْ سَقَرَ(42)} ’’ تم لوگوں کو کس چیز نے جہنم میں ڈالا؟‘‘
بخاری شریف میںروایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : جہنم کی آگ اس دنیا کی آگ سے 69 گنا زیادہ شدید ہے۔ اگر دنیا کی آگ کا ایک سیکنڈ ہم برداشت نہیں کر سکتے تو جہنم کی آگ میں رہنا کس قدر دردناک ہوگا ؟اللہ ہم سب کو اُس عذاب ِعلیم سے محفوظ رکھے ۔ آج ہم جہنم کے عذاب کو بڑا ہلکا لے رہے ہیں ، اسی لیے ہمیں ان کاموں ، گناہوں یا نافرمانیوں میں ملوث ہونے میں کوئی ہچکچاہٹ تک محسوس نہیں ہورہی جو جہنم میں لے جانے والے ہیں ۔ جہنم کا عذاب سہنے والے کہیں گے :
{قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ (43)}’’وہ کہیں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیںتھے۔‘‘
کافروں سے نماز کا مطالبہ نہیں ہے، کافروں سے پہلا مطالبہ ایمان لانے کا ہے ۔ایمان لانے کے بعد نماز کا مطالبہ ہے۔ یعنی وہ شخص جو اللہ کو ماننے کا دعوی دار ہے، اللہ کے رسول ﷺ پر ایمان لانے کا دعویدار ہے ، اللہ کی کتابوں پر ایمان کا دعویٰ رکھتا ہے ، اُس سے دین کا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ وہ نماز ادا کرے ۔ ہر چند گھنٹوں بعد جب اذان ہوتی ہے تو ایمان کے اِس دعوے کا امتحان ہوتا ہے۔ زیر ِمطالعہ آیت اعلان کر رہی ہے کہ اگر ایمان کا دعویٰ رکھنے والا اذان کے بعد نماز کے لیے کھڑا نہیں ہوتا تو خدشہ ہے کہ اُس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا ۔ آج ہم نماز کو بھی ہلکا لے رہے ہیں ، ایمان کا دعویٰ ہم سب رکھتے ہیں لیکن نماز کے لیے ہم میں سے کتنے لوگ کھڑے ہوتے ہیں ؟ فجر کی باجماعت نماز میں کتنے لوگ ہوتے ہیں ؟ یہ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ ہم اپنے ہی انجام سے کس قدر غافل ہیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ نےفرمایا کہ بندے کے اسلام اور کفر کے درمیان نماز کا فرق ہے ۔ یعنی اگر نماز ادا کر رہا ہے تواسلام کی طرف گامزن ہے ورنہ کفر کی طرف جارہا ہے ۔ سلف صالحین کے نزدیک یہ معاملہ اِس قدر اہم تھا کہ اُمت کے چار بڑے آئمہ میں سے تین کا فتویٰ ہے کہ بے نمازی کافر ہے اور اس کی سزا قتل ہے ۔ امام ابوحنیفہؒ قتل کے برعکس بے نمازی کو قید کرکے جیل میں رکھنے کے قائل تھے یہاں تک کہ وہ نمازکا پابند ہوجائے۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ تو یہاں تک فرماتے تھے کہ بے نمازی کا اتنا بھی حق نہیں ہے کہ اُس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ آج عجیب دور آگیا ہے ، ساری نمازیں ضائع کرکے بھی ہم مطمئن ہیں کہ ہم مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے، لہٰذا بخشے جائیں گے ۔حالانکہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں منافقین بھی جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ، اُنہیں معلوم تھا کہ اگر ایسا نہیں کریں گے تو انہیں کافر سمجھا جائے گا ۔ روز قیامت پہلا سوال جو مسلمان سے ہوگا وہ نماز کے بارے میں ہی ہوگا ۔ طبرانی شریف کی روایت میں ہے کہ اگر مسلمان کی نماز ٹھیک ہے تو باقی معاملات بھی ٹھیک ہو جائیں گے ۔ اگر نماز میں بگاڑ ہے تو باقی معاملات میں بھی بگاڑ ہوگا ۔
یہاں ایک اور بات بھی ذہن نشین رہے کہ پانچ نمازیں فرض ہیں تو پنج وقتہ نماز ادا کرنا ضروری ہے ۔ یہ نہیں کہ دو ، تین ادا کیں باقی چھوڑ دیں ، فجر میں دل کیا تو اُٹھے نہیں تو ضائع کردی ۔ یہ طرزِعمل ایمان کے منافی ہے۔ اِس سے ثابت ہوگا کہ آپ اللہ کا حکم نہیں مان رہے بلکہ اپنے نفس کا حکم مان رہے ہیں ۔ نماز کے وقت نماز سے بڑھ کر کوئی اور کام اہم نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ خانہ کعبہ کا طواف کرتے وقت بھی جب فرض نماز کے لیے اذان ہو جائے تو طواف روک دیا جاتاہے جبکہ باقی کسی وجہ سے طواف نہیں روکا جاتا ۔ اندازہ کیجئے کہ اللہ کے گھر کے طواف سے اہم اور کونسا کام ہوگا ؟
نماز صرف دو قسم کے لوگ نہیں پڑھتے ؛ ایک مردہ اور دوسرا کافر ۔ مسلمان اگر زندہ ہے تو اُس کے لیے ممکن ہی نہیں کہ وہ نماز چھوڑ دے ۔ فکری اور نظریاتی فتنوں میں سے ایک بڑا فتنہ یہ تصور بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حقوق معاف کردے گا ، اس کا کوئی مسئلہ نہیں بس بندوں کے حقوق کی فکر کرنی چاہیے ۔ حالانکہ بندوں کے حقوق کی ادائیگی بھی ضروری ہے لیکن اللہ کے حقوق ہر چیز پر مقدم ہیں ۔ جیسا کہ زیر ِمطالعہ آیت میں اہل ِجہنم کا جواب نقل ہوا کہ ان کے جہنم میں جانے کی پہلی وجہ ترکِ نماز تھی ۔ معلوم ہوا کہ صرف بندوں کے حقوق ادا کرنے سے حقوق اللہ سے رخصت نہیں مل جاتی ۔ اللہ تعالیٰ حقوق العباد کے بارے میں بھی پوچھے گا کیونکہ اس کا حکم بھی اللہ نے ہی دیا ہے لیکن حقوق اللہ کے بارے میں بھی لازماً پوچھا جائے گا ۔ لہٰذا ایسے باطل تصورات کہ بندوں کے حقوق ضروری ہیں ، اللہ کے حقوق ضروری نہیں ہیں ، محض شریعت سے بھاگنے کا بہانہ ہیں مگر اس کا انجام جہنم کی آگ ہے جیسا کہ زیر مطالعہ آیت میں بتا دیا گیا ۔ نماز ادا کرنے کے بارے میں تو شریعت یہاں تک بھی کہتی ہے کہ اگر تم کسی بیماری یا معذوری کی وجہ سے کھڑے نہیں ہوسکتے تو بیٹھ کر نماز پڑھو ، اگر بیٹھ نہیں سکتے تو لیٹ کر پڑھو اور اس قابل بھی نہیں ہو تو اپنے تصور(اشاروں سے) میں نماز پڑھو۔ ظالم صہیونیوں کی قید میں اِس وقت فلسطین کے جو مسلمان ہیں ، ان کے بارے میں فقہی سوال آیا کہ اگر اُن کے ہاتھ پیر بندھے ہوئے ہوں تو وہ کیسے نماز ادا کریں ۔ مسئلہ بتایا گیا کہ اگر وہ اِس قدر جکڑے ہوئے ہیں کہ نہ رکوع کر سکتے ہیں ، نہ سجدہ کر سکتے ہیں تو آنکھ کی پلکوں کے اشارے سے رکوع بھی کریں اور آنکھ بند کرکے تصور میں سجدہ بھی کریں ۔ معلوم ہو اکہ مسلمان اگر باشعور ہے تو اُس کے لیے شریعت میں نماز سے رخصت کسی صورت موجود نہیں ۔ دل میں نیت ہونی چاہیے ۔ جو اللہ کا نہیں ہو سکتا وہ کسی کا بھی نہیں ہوسکتا ۔ جو اللہ کے حقوق ادا نہیں کر سکتا وہ بندوں کے حقوق کیا ادا کرے گا ۔ غزوہ بنو نظیر کا واقعہ ہے ، منافقین نے یہود کے ساتھ خفیہ سازباز کی اور ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمادیا :اگر یہ لوگ اتنے ہی سچے ہوتے تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات کیوں نہ مانتے ۔ بالآخر یہود کو شکست ہوئی اور منافقین نے بھی اُن کا ساتھ نہ دیا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نمازوں کی پابندی کرنے والا بنادے ۔ آمین ! جہنم میں جانے کی دوسری وجہ جہنمی یہ بتائیں گے :
{وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ(44)} ’’اور نہ ہم مسکین کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘
مسکین کی فقہی تعریف یہ ہے کہ وہ بندہ جو کچھ کماتا بھی ہے لیکن اتنا نہیں کما سکتا کہ اس کی ضروریات ِ زندگی پوری ہو سکیں ۔ اس فقہی تعریف کے مطابق مساکین کو زکوٰۃ بھی دی جاسکتی ہے۔ آج ہماری آبادی کی بہت بڑی تعداد ایسےہی حالات میں زندگی گزار رہی ہے ۔ ایسے لوگوں کی مدد کرنا ، انہیں دو وقت کی روٹی مہیا کرناریاست اور اہل ثروت کی ذمہ داری ہے ۔ ایک شخص کو اللہ نے مال ودولت دے رکھا ہے ، وہ فضول خرچیوں میں تو لگا ہوا ہے لیکن پاس ہی کوئی مسکین شخص بھوکا سوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے مسکین کی مدد نہ کرنے کے حوالے سے پوچھے گا اور یہ ایسا بڑا گناہ ہے جو انسان کو جہنم میں لے جائے گا ۔
جہنم میں جانے کی پہلی وجہ اللہ کا حق یعنی نماز ادا نہ کرنا بیان ہوئی اور دوسری وجہ بندوں کے حقوق سے متعلق ہے یعنی مساکین کو کھانا نہ کھلانا ۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ جس طرح اپنے حقوق کا مطالبہ کرتاہے اسی بندوں کے حقوق کا بھی مطالبہ کرتاہے ۔ قرآن میں اکثر مقامات پر حقوق اللہ اور حقوق العباد کا ذکر ساتھ ساتھ آتاہے ۔ حدیث قدسی ہے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے میرے بندے ! میں بھوکا تھا تو نے مجھے کھلایا نہیں ، میں پیاسا تھا تو نے مجھے پلایا نہیں ،میں بے لباس تھا تو نے مجھے لباس نہ دیا ،میں بیمار تھا تو نے مجھے دوا نہ دی۔ بندہ کہے گا: اللہ! تو رب العالمین ہے، ہر حاجت سے پاک ہے، تجھے بھوک، پیاس، لباس اوربیماری سے کیا واسطہ؟اللہ فرمائے گا :میرا فلاں بندہ بھوکا تھا اگر تونے اسے کھلایا ہوتا، فلاں بندہ پیاسا تھا اگر تونے اُسے پلایا ہوتا، فلاں بے لباس تھا اگر تو نے اُسے لباس پہنایا ہوتا، فلاں بیمار تھااگر تونے اُس کی تیمارداری کی ہوتی تو آج مجھے تُو پالیتا ۔
آج ہم مغرب کی نقالی میں انسانی حقوق اور خدمت خلق کے تصورات بھی مغرب سے لیتے ہیں۔ اسلام کے سنہری اصولوں اور تعلیمات کو نظر انداز کرتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ نتائج سامنے نہیں آرہے جو اسلامی نظام کے دور میں ہوا کرتے تھے کہ کوئی زکوٰۃ لینے والا نہ ملتا تھا۔ آج خدمت خلق کے بڑے دعوے ہیں لیکن اکثریت مسلم ممالک میں عوام اپنے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں۔ وجہ صرف یہی ہے کہ ہم نے اسلام کی تعلیمات کو بھلا دیا ہے۔ جیسا کہ زیر مطالعہ آیت میں ہم نے پڑھا کہ اگر وسائل ہوتے ہوئے بھی مساکین کو کھانا نہیں کھلا سکتے تو یہ عمل بھی جہنم میں لے جا سکتا ہے ۔
صرف سال میں ایک بار زکوٰۃ ادا کرنے سے مساکین کے حقوق ادا نہیں ہو جائیں گے بلکہ اس کے علاوہ بھی مساکین کا حق ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :
(( ان فی المال حق سوی الزکوۃ )) بے شک مال میں زکوۃ کے علاوہ بھی حصّہ مقرر ہے۔اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ، اللہ کا شکر ادا کرنے کے مترادف ہے ۔ آج ہماری آبادی کی بہت بڑی تعداد خط ِ غربت سے نیچے زندگی بس کر رہی ہے ، اِن حالات میں جن کو اللہ نے مال و دولت عطا کیا ہوا ہے ، وہ اللہ کا شکر ادا کریں اور مساکین کی مدد کریں ۔ قارون کو بھی اللہ نے کہاتھا:{وَاَحْسِنْ کَمَآ اَحْسَنَ اللہُ اِلَیْکَ} (القصص:77) ’’اور لوگوں کے ساتھ احسان کرو ‘جیسے اللہ نے تمہارے ساتھ احسان کیا ہے‘‘
اللہ کا شکر ادا کرنا یہ بھی ہے کہ اللہ نے جو نعمت عطا کی ہے، وہ نعمت دوسروں تک بھی پہنچانے کی کوشش کی جائے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین ! آگے فرمایا :
{وَکُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآئِضِیْنَ(45)}’’اور ہم کٹ حجتیاں کرنے والوں کے ساتھ مل کر کٹ حجتیاں کیا کرتے تھے۔‘‘
جہنم والوں نے جہنم میں جانے کی تیسری وجہ یہ بتائی کہ وہ اللہ کے دین کی مخالفت میں بحث کیا کرتے تھے ، اللہ کے دین کا مذاق اُڑایا کرتے تھے ، اللہ اور اس کے رسولوںؑ اور اللہ کے دین کو ماننے والوں کے خلاف باتیں کیا کرتے تھے ۔ مومن کے پاس تو فضول بحثوں کا وقت ہی نہیں ہوتا ، اُس کے علم میں ہوتاہے کہ جو زندگی وہ گزاررہا ہے اُس کے متعلق روزِ محشر اُس نے جواب دینا ہے لہٰذا وہ اللہ کی فرمانبرداری کے کاموں میں وقت لگاتاہے۔ فضول کاموں میں وقت ضائع نہیں کرتا ۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ مومنین کی اسی صفت کا ذکر کرتاہے :
{وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ (3)} (المومنون) ’’اورجو لغو باتوں سے اعراض کرنے والے ہیں۔‘‘
ایسے کام جن میں دنیا کا کوئی جائز فائدہ نہ ہو اور نہ ہی آخرت کا کوئی فائدہ ہو ،اُن کاموں سے دور رہنا ہی مومن کا شیوا ہے ۔ آج ہم دیکھ لیں کہ ہمارا کتنا وقت سوشل میڈیا پرگزرتاہے اور وہاں کس طرح کی غیر شرعی اور ایمان و اخلاقیات کے منافی چیزیں ہوتی ہیں ۔ روزِ محشر اس وقت کا بھی ہم نے حساب دینا ہے اور جو کچھ ہم کر رہے ہیں اس کا بھی جواب دینا ہے ۔ یہی احساس مومن کو فضول باتوں سے دور رکھتا ہے ۔ لیکن کفار و مشرکین اور منافقین کا کام اللہ کے دین اور اس پر چلنے والوں کو نشانہ بنانا ہے ۔ یہ معاملہ ماضی میں بھی ہوتا رہا اور آج بھی ہورہا ہے ۔ آج بھی دینداروں کا مذاق اُڑانے کے لیے ، ان کو نشانہ بنانے کے لیے باقاعدہ مہمات چلائی جاتی ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر طبقہ میں اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں بُرے بھی ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ ڈاکٹروں میں بعض انسانیت کا درد رکھنے والے ہوتے ہیں لیکن اکثر فیس کے نام پر مریضوں کی کھال اُتارنے والے ہوتے ہیں۔ اسی طرح دیندار طبقہ میں دونوں طرح کے لوگ ہوتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ چند بُرے لوگوں کی وجہ سے پورے دینی طبقہ کو بدنام کرنا شروع کر دیا جائے ۔ یہ بھی کٹ حجتی میں شمار ہوتاہے ۔
پھر ایک طبقہ وہ ہے جو سیکولر اور لبرل نظریات کے تحت مغربی ایجنڈے اور تہذیب کو ہمارے معاشرے پر مسلط کررہا ہے ، خلافِ شریعت قانون سازیاں کرتاہے ، نکاح کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتاہے اور زنا ، فحاشی اور بے حیائی کے لیے راستہ ہموار کرتاہے ۔ جو کوئی اسلامی تہذیب اور معاشرت کے تحفظ کی بات کرے تو اس کے خلاف محاذ کھڑا کرتاہے ۔ حالیہ دنوں میں ایک معروف صحافی نے حکومت کو مشورہ دیا کہ اسلام آباد کے جم خانہ میں مردوں اور عورتوں کو الگ الگ وقت دیا جائے یا دونوں کے درمیان پردہ کیا جائے ۔ اس کے بعد اس صحافی کے خلاف طوفانِ بدتمیزی برپا کر دیا گیا ۔ یہ بھی کٹ حجتی کی ایک شکل ہے ۔ اللہ کے دین کی بات کرنے والوں کے خلاف ہمیشہ یہی طرزِ عمل اپنایا گیا ہے ۔ حضرت نوحؑ ، لوطؑ ، ابراہیم ؑاور حضرت محمد ﷺ سمیت تمام پیغمبروں نے مخالفین کی کٹ حجتیوں کا سامنا کیا ہے ۔ یہ بھی جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں محفوظ فرمائے ۔ آمین ! آگے فرمایا :
{وَکُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِ (46) حَتّٰیٓ اَتٰىنَا الْیَقِیْنُ (47)}’’اور(سب سے بڑھ کر یہ کہ) ہم جزاء وسزا کے دن کا انکار کرتے رہے۔یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔‘‘
مومن ہر نماز میں بدلے کے دن یعنی قیامت کا اقرار کرتاہے :
{مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ0}’’جزا و سزا کے دن کا مالک و مختار ہے۔‘‘
اس کے برعکس کفار ، مشرکین اور منافقین اسی دن کا انکار کرتے ہیں ۔ اُس دن کو جھٹلاتے ہیں ۔ جھٹلانا دو اعتبار سے ہوتا ہے۔ ایک جھٹلانا کفار کا ہے جو سرے سے ہی اس بات کے انکاری ہیں کہ جو کچھ وہ کر رہےہیں اس کا بدلہ انہیں عذاب ِجہنم کی صورت میں مل سکتاہے ۔ ایک آخرت کو ماننے کے باوجود اس کو جھٹلانا ہے ۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
{یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰـکُمْ مِّنْ قَـبْلِ اَنْ یَّـاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْہِ وَلَا خُلَّـۃٌ وَّلَا شَفَاعَۃٌ ط }’’اے اہل ایمان! خرچ کرو اُس میں سے جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اس سے پہلے کہ وہ دن آدھمکے جس میں نہ کوئی خرید و فروخت ہو گی‘ نہ کوئی دوستی کام آئے گی اور نہ کوئی شفاعت مفید ہو گی۔‘ (البقرہ :254)
اس کے بعد فرمایا : {وَالْکٰفِرُوْنَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ(254)}’’اور جو انکار کرنے والے ہیں وہی تو ظالم‘ہیں۔‘‘
اب دیکھئے یہاں خطاب اہل ِایمان سے ہے لیکن جو انکار کرنے والے ہیں ان کے لیے الکافرون کا لفظ آیا ۔ اس کا مطلب ہے کہ ایمان لانے کے باوجود بھی ایمان کے تقاضوں پر عمل نہ کرناایک نوعیت کے کفر کے زمرے میں آتاہے ۔ قرآن میں دیگر کئی مقامات پر بھی یہی اسلوب استعمال ہوا ہے ۔سورۃ آل عمران میں فرمایا :
{وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْـبَـیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَـیْہِ سَبِیْلًاط وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ(97)}’’اور اللہ کا حق ہے لوگوں پر کہ وہ حج کریں اُس کے گھر کا‘ جو بھی استطاعت رکھتا ہو اس کے سفر کی۔اور جس نے کفر کیا تو (وہ جان لے کہ) اللہ بے نیاز ہے تمام جہان والوں سے۔‘‘
اسی طرح احادیث میں بھی یہ اسلوب آیا ہے ۔ جیسا کہ جامع ترمذی میں روایت ہے کہ ((من ترک صلوٰۃ متعمدا فقد کفر )) جس نے جان بوجھ کر نماز ترک کر دی وہ کفر کر چکا۔اِس لحاظ سے آخرت پر ایمان لانے کے باوجود آخرت کی تیاری نہ کرنا بھی ایک نوع کا کفر ہے۔ آج ہم اپنا جائزہ لیں کہ کیا ہم مرنے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہمارے معاملات اللہ کے ساتھ اور بندوں کے ساتھ ٹھیک ہیں ۔ اگر ہاں تو پھر ہم آخرت کے لیے تیارہیں ، اگر نہیں تو پھر ہمیں اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو باعمل مسلمان بننے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین !