(الہدیٰ) آسمان و زمین کی تخلیق میں عظمت ِ الٰہی کی نشانیاں - ادارہ

7 /
الہدیٰ

 

 
آسمان و زمین کی تخلیق میں عظمت ِ الٰہی کی نشانیاں
 
آیت 10 {خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَہَا} ’’اُس نے آسمانوں کو تخلیق کیا بغیر ایسے ستونوں کے کہ جنہیں تم دیکھ سکو ‘‘
{وَاَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِکُمْ} ’’اور اُس نے زمین میں لنگر ڈال دئیے تا کہ وہ تمہیں لے کر ایک طرف لڑھک نہ جائے‘‘
یعنی زمین کا توازن (isostasy)برقرار رکھنے کے لیے اس میں پہاڑ گاڑ دئیے۔
{وَبَثَّ فِیْہَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍط} ’’اور اس میں ہر طرح کے جانور پھیلا دئیے۔‘‘
{وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَنْبَتْنَا فِیْہَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍ کَرِیْمٍ(10)} ’’اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا‘ پھر اُگائے اس میں ہر طرح کے (نباتات کے) خوبصورت جوڑ ے۔‘‘ 
آج کی سائنس ’’نباتات کے جوڑوں‘‘ کی بہتر طور پر تشریح کر سکتی ہے۔ بہر حال دوسرے جانداروں کی طرح پودوں اور نباتات میں بھی  نر اور مادہ کا نظام کار فرماہے اور ان کے ہاں باقاعدہ خاندانوںاور قبیلوں کی پہچان اور تقسیم بھی پائی جاتی ہے۔
آیت 11{ہٰذَا خَلْقُ اللّٰہِ فَاَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ ط} ’’یہ تو ہے اللہ کی تخلیق‘ اب تم مجھے دکھائو کہ انہوں نے کیا پیدا کیا ہے جو اُس کے سوا (تمہارے معبود) ہیں!‘‘
قرآن میں مشرکین کے اس عقیدے کا بار بار ذکر ہوا ہے کہ وہ اللہ کو اس کائنات اور اس میں موجود ہر شے کا خالق مانتے تھے۔چنانچہ یہاں ان سے یہ سوال ان کے اسی عقیدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
{بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(11)} ’’بلکہ یہ ظالم کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔‘‘ 
دراصل اس دلیل کا اُن کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ عقیدے کے اعتبار سے اگرچہ وہ لوگ اپنے جھوٹے معبود وں کو کسی چیز کا خالق نہیں مانتے تھے‘ لیکن وہ گمراہی میں اتنے دور جا چکے تھے کہ ایسی باتوں کی طرف کبھی متوجہ ہی نہیں ہوتے تھے۔
 
درس حدیث
 
قربانی کی حقیقت
 
 
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ؓ  قَالَ: قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ، مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟ قَالَ:(( سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ)) قَالُوا: فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ:(( بِكُلِّ شَعَرَةٍ حَسَنَةٌ)) قَالُوا: فَالصُّوفُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ:(( بِكُلِّ شَعَرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ))(سنن ابن ماجہ)
حضرت زید بن ارقم ؓ  کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکے صحابہؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسولؐ! ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’تمہارے والد ابراہیم ؓ کی سنت ہے‘‘، لوگوں نے عرض کیا: تو ہم کو اس میں کیا ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی‘‘ لوگوں نے عرض کیا: اور بھیڑ میں، اللہ کے رسولؐ! آپ ﷺ نے فرمایا: ’’بھیڑ میں (بھی) ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔‘‘