حج کا اوّلین سبق : اخلاص وللّٰہیت
ڈاکٹر رخسانہ جبین
لبیک اللہم لبیک کا ورد کر تے ہو ئے قا فلے دنیا کے کو نے کو نے سے ایک حر م ،ایک قبلے کی طرف کھینچے چلے آتے ہیں ۔دن بدن حجاج کرا م کی تعداد بڑ ھتی جا رہی ہے ۔ تقر یبا ً ایک لاکھ صحا بہ کرام j نے نبی اکرم کے ساتھ حجتہ الو داع ادا کیااور آج 15سو سال بعد یہ تعداد 35 لا کھ سے تجا وز کر چکی ہے ۔ ایام حج میں حر مین شر یفین کے ارد گرد ہر جا نب سر ہی سر نظر آتے ہیں ۔ یہ سب انسان اللہ و رسول کی محبت میں عبادت وریا ضت کے ذریعے اللہ کو را ضی کر نے، آتش دو زخ سے بچنے اور جنت کے حصول کی تڑپ و خو اہش لیے آتے ہیں۔گو یا سب نیکی کے طلب گار ہیں،رب کی رضا جوئی ہی ان کا مقصد ہے پھر کیا وجہ ہے کہ اتنے کثیر تعدادمیں نیک لو گوں کی مو جو دگی کے باوجوداُمّت ِمسلمہ ابتلا وآزما ئش میں مبتلا ہے ؟ اُمّت پر ذلت ونکبت طاری ہے ،مسلما ن دنیابھر میں مظلوم اور معتوب ہیں؟ یہ سوالا ت ہر ذی شعور حا جی کو پر یشان کر تے ہیں ۔
کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس حج سے مسلمان کوئی ایسی تر بیت لے کر جا ئیں ،ایسا عالمگیر پیغام لے کر جا ئیں ، ایسا مشتر ک لا ئحہ عمل لے کر جا ئیں کہ اُمّت کی سر بلندی کے لیے دنیا بھر میں بیک وقت محنت شروع ہو جا ئے! یہ درست ہے کہ اسلام میں ہر عمل کا اصل مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہے ،ہر عبادت اللہ کاحق ہے ۔اس کی عظمت ، حا کمیت ،خلاقیت اوراس کی ربو بیت کا تقا ضا ہے یعنی کہ انسا ن اس کے آگے نما ز میں سر بسجود بھی ہو،اس کے خا طر روزے کی مشقتیں بھی بر داشت کر ے اور ما ل بھی اس کی رضا جو ئی کے لیے ہی خر چ کر ے۔اسلام کی تمام عبادات ایک نظام تر بیت کا حصہ ہیں اور ہر عبادت کے پس پر دہ بے شمار تر بیتی مقا صد پو شیدہ ہیں ۔ حج ایک ایسی جا مع تر بیت گاہ ہے کہ اگر حجاج کی اکثر یت اس تر بیت گاہ سے پورے شعور کے ساتھ گزر جائے تو شاید اُمّت کی محکو میت چند سالوں میں غلبہ اسلام سے بد ل جائے لیکن بد نصیبی سے اس وقت عبادات ،عادات بن چکی ہیں ،جسم با قی ہے، رو ح نکل چکی ہے یا روح ہے تو جزوی اور بیمار حا لت میں ۔ وا ضح رہے یہ مضمون کوئی علمی مو شگا فی نہیں نہ عا لمانہ بحث ہے،یہ ایک تذکیرہے اور ان جا نفروشوں کی نذر ہے جو اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کے غلبے کے لیے کو شاں ہیں اور اُمّت ِمسلمہ کی سر بلندی کے لیے جدو جہد جن کی زند گی کا مشن ہے ۔ حج کا اولین سبق للہیت ہے ، ارشاد ربانی ہے ’’ اور حج اور عمرہ اللہ کی خو شنودی کے لیے پورا کرو۔ ‘‘ (البقرہ196 ) ایک اور جگہ ارشاد ہوا ’’’’لو گوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت ر کھتا ہو وہ اس کا حج کر ے اور جو کوئی اس حکم کی پیروی سے انکار کر ے تو اُسے معلوم ہو جا نا چا ہیے کہ اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔ ‘‘(آل عمران:97 )
سفرِحج کا مقصد سیر و سیا حت نہیں ، ریا اور دکھا وا نہیں ، تجارت نہیں ،صرف اللہ وحدہ لا شر یک کی عبادت اوراُس کی رضا جوئی ہے۔ گو یا اخلاصِ نیت پہلا تقا ضا اور للہیت پہلا سبق ہے ۔ کوئی عبادت ،کوئی نیک عمل اُس وقت تک قبول نہیں ہو تا جب تک اس کے اندر خا لص اللہ کی رضا مقصود نہ ہو ،تما م عبادات بے روح ہیں اگر ان میں رجو ع الی اللہ کی تڑپ نہیں اور انسا نی زند گی کی تمام نیکیاں اُس وقت تک نتیجہ خیز نہیں ہو سکتیں جب تک ان کی تہہ میں’’ اللہ کے لیے ‘‘کا جذبہ نہیں ہو گا ۔ ’’للہیت‘‘ اور ’’ا للہ کے لیے‘‘ وہ جذبہ ہے جو ہر نیک عمل کو نفسا نی خواہش ، ذاتی مفاد اور ریا و نما ئش سے پا ک کر تا ہے ۔جو تکمیل ایمان کی نشانی ہے۔
نبی کریمﷺ کے مطابق’’جس نےا ﷲ کے لیے محبت رکھی، اﷲ کے لیے دشمنی کی،ا ﷲ کے لیے دیا اورا ﷲ کے لیے روکا تواس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا۔‘‘(ابوداؤد، ترمذی)
حج کا پہلا اور ابتدا ئی سبق بھی یہی ہے کہ مسلما نوں کا ہر ہر عمل صرف اور صرف اللہ کے لیے خا لص ہو جائے ، ان کا سفر ،ان کی محبت ، ان کا ما ل خر چ کر نا ،ان کی زند گیوں اور معا ملا ت کا رخ سب کا سب اللہ کی طرف ہو ،اللہ کے لیے ہو ۔کوئی طا غوت ،کو ئی طا غو تی طا قت اُن کا مقصود نہ ہو ۔ دنیا ان کا مطلوب و مقصود نہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے فر ما یا: ’’آپؐ کہیے میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘( الانعام : 162) ا س کلمہ پرمثالی عمل حضرت ابراہیمؑ نے کر کے دکھایا ۔ وہ حضرت ابراہیم ؑ جن کی پیروی میں آج حج کی عبادت ادا کی جا تی ہے ۔ ابراہیم خلیل اللہ جنہیں ’’ ابراہیم حنیف ‘‘ کے نام سے اللہ تعالیٰ خو دیا د کرتا ہے جنہوں نے خاندان ،قبیلہ ،وطن ،جاہ و دولت ،دنیا کی محبتیں ، اولا د ہر چیز اللہ پر قر با ن کر دی ۔بت پر ستوں کے گھرپرورش پاکر ہر طرح کے شر ک سے پا ک ر ہے ۔
ایک اللہ کی خا طر اُنہوں نے پورے نظام سے بغاوت کی ،مصا ئب کے پہا ڑ عبور کئے، ہر طرح کی آسائشوں اور مادیت پر ستی کولا ت مار کر اللہ کی راہ میں ہجرت کی ۔ اللہ کے کلمے کو بلند کر نے کے لیے اپنی زند گی اور آل اولاد کو وقف کیا۔ گویا جس وقت جو قر با نی اللہ نے مانگی، اقا مت ِدین کی جد وجہد نے ما نگی بغیر کسی حیل و حجت کے پیش کر دی ،جو حکم اللہ نے دیا اُس پر بلا چوں و چرا ں سرِ تسلیم خم کردیااور اللہ نے اُن کی تعر یف اس طرح فر مائی کہ ’’ جب بھی کہا اُس سے اُس کے پروردگار نے کہ مطیع فرمان ہو جا تو اُس نے کہا میں مطیع فرمان ہوں، تمام جہانوں کے پروردگار کا۔‘‘( البقرہ:131 )حتیٰ کہ اللہ نے ان کی سخت تر ین آزما ئش کا فیصلہ کیا کہ اپنی بڑھا پے کی اولاد کو بھی اللہ کی محبت میں قربا نی کے لیے پیش کر دیں اور وہ ابراہیم حنیفؑ اس آزمائش میں بھی پورے اترے ۔یہ تصویر تھی مکمل ’’للہیت‘ ‘ کی ،مکمل سپر دگی کی ،کیا عشق تھا، کیا محبت تھی ، کیا ایمان کا مل تھا اور کتنے سچے جذ بے تھے اور انہی کی بدولت وہ پوری دنیا کے پیشوا اور امام قرار دیئے گئے۔
ان کی امامت یعنی دنیا بھر کےلیے ان کی صلب سے انبیا ء کا سلسلہ چلا ،ان کی جدو جہد ،ان کا اخلاص ،ان کی قر بانی اللہ کو اتنی پسند آئی کہ اللہ نے اس کو قیا مت تک کے لیے دہرا نے کا حکم دے دیا۔ اور اِسی کا نام حج قرار دیا اس حج کا مر کز خا نہ کعبہ قرار پا یا جس کا انتخا ب خو د اللہ تعا لیٰ نے کیا ۔یہ وہ مقام ہے جہاں ابرا ہیمؑ نے اللہ کے حکم پر ،اللہ کی محبت پر دنیا کی سب سے قیمتی متا ع ،اولا د اور اس کی محبت بھی قر بان کر دینے کا مظا ہرہ کیا ۔گو یااتنی بڑی قربانی اور اللہ کی محبت کا اتنا بڑا ثبوت جس جگہ پیش کیا گیا اِسی کو اللہ نے دنیا والوں کے لیے ’’ مر کز ‘ ‘قرار دے دیا ۔ اِسی کو بیت اللہ کا مقام قرار دے دیا۔ اسی کو مقام امن اور حر م بنا دیا ۔ یہ مر کز محض محبت کا مر کز ہی نہیں بلکہ اس عا لمگیر تحر یک کا مرکز بھی بنا جس کی ابتدا حضرت ابرا ہیمؑنے کی اور جس کی تکمیل حضرت محمد ﷺنے کی ۔
گو یا اللہ سے محبت ،ا للہ کے لیے محبت کا ثبوت اس در جے کی محنت اور قر با نی سے مشرو ط ہے ،جس کے نتیجے میں اللہ کا دین غا لب آجائے اور اُمّت کا بھٹکا ہو اآہو پھر سے سوئے حر م آجائے ۔کا ش اُمّت حج کے اس ابتدائی سبق کو سمجھ لے اور حکمرانوں اور عوام حقیقی قبلے کی طرف اپنا رخ کرلیںجس کی طرف سفر کا قصدہر سال لا کھوں افراد کر تے ہیں۔کاش یہ افراد عہد کر کے لو ٹیں کہ’’ اللہ با قی زند گی کے تمام اعمال کا منبع و مقصود بھی تو ہی رہے گا‘‘ لیکن ابھی شاید مسلمانوںمیں اسی جذ بے کی سب سے زیادہ کمی ہے۔ اسی لیے نہ دلوں کے جڑ نے کی وہ کیفیت ہے کہ بنیان مر صو ص بن سکیں ،نہ اللہ کی طرف سے وہ نصرت ہے کہ 100 ، دو سو پر ہی غا لب آسکیں،نہ قر با نی کا وہ جذبہ ہے نہ محبت کا ،جو اس راہ میں کا میا بی کی اولین ضرورت ہے ۔
اس لیے حجاج کرام ! ذرا حج پر جانے سے قبل اپنی زند گی کے تمام معا ملات پر ایک نظر ضرور ڈال لیں ۔ کیاکیا اللہ کے لیے خالص ہے اور کہاں کہاں کوئی اور مقا صد در آئے ہیں ۔ کیا اسوہ ٔ ابر ا ہیمی نظر میں ہے ؟ کیا سنت ِ امام الا نبیاءﷺ کی پیروی کا جذبہ دل میں مو جزن ہے ؟ پھر سفر حج کی تیاری میں ایک اور ہی لذت ہوگی ،ایک شو ق ہی نہ ہو گا ، ایک محبوب مقصد بھی ہم سفر ہو گا اور زند گی بھر کے لیے اخلا ص نیت بھی ہم رکاب ہو گا ۔ نیت کے بعد سفر حج کی تیاری شروع ہو گئی ۔حج اللہ کی طرف جا نے والا سفر ہے ۔اللہ خو د ہی بتا تا ہے اس کے لیے کیا زادِراہ لو ’’اور زادِ راہ ساتھ لے لیا کرو، یقیناً بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے اور میرا ہی تقویٰ اختیار کرنے والے ہوش مندو۔‘‘( البقر ہ: 197 )
اس آیت پر غور فر مائیے، حج کا سا مان ِسفر تقویٰ ہے یعنی اللہ کی نا فرمانی سے بچنے کا عزم، اللہ کا وہ خوف جو سفر و حضر ، تنہا ئی و محفل ہر جگہ گناہ سے ر و ک دے ۔حج وہ عبادت ہے جس میں انسان کا وا سطہ عام طور پر دوسر ے انسانوں کے جم غفیر سے رہتا ہے اور با ہمی معا ملات میں اگر اللہ کا خوف اور صبر کا جذبہ نہ ہو تو لڑا ئی جھگڑا اور فساد بر پا ہوسکتاہے ۔ قر آن کر یم میں جہاں کہیں بھی با ہمی معاملات سے متعلق بیان آیا ہے وہاں تقویٰ کی تا کید ضرور آئی ہے ۔ مثلا ً سورۃ البقرہ میں جہاں عا ئلی قوا نین کا ذکر آتا ہے تقر یبا ً ہر آیت کا اختتام ’’تقویٰ ‘‘ کی تا کید پر ہو تا ہے ۔ سورۃ النسا ء جس میں ورا ثت ،نکاح و دیگر قوا نین بیان کئے گئے ہیں اس کا آغا زہی تقویٰ کی تا کید سے ہو تا ہے ۔
آج کی انسا نیت ، عدم بر دا شت کی وجہ سے جس فساد ،معا شر تی انتشار اور بڑھتے ہوئے گھر یلو اور معا شر تی لڑا ئی جھگڑوں سے دو چار ہے، اس کی بڑی وجہ خشیتِ الٰہی کا اُٹھ جا نا ہے ۔اگر ہر انسان اپنے اپنے مقا م پر اللہ سے ڈر کر دوسروں سے معا ملہ کر نے والا ہو تو گھر اور معا شرہ دو نوں انتشار سے بچ کر ، اتحاد اور امن کی راہ پر آسکتے ہیں ۔ ’’تقویٰ ‘‘ اسلامی قو انین کی قوت نا فذہ ہے اور ’’احسان‘‘ اسلامی معا شرے کا حسن ہے۔ اس لیے حج جیسی اجتماعی عبادت میں بہتر ین زادِ راہ تقویٰ کو قرار دیا اس لیے بھی کہ حج کا حسن اس میں ہے کہ دوران حج فسق و نا فر مانی او ر با ہمی جنگ و جدل اور لڑا ئی جھگڑے سے بچنے کے لیے ’’تقویٰ ‘‘ کا ہو نا ضروری ہے ۔ اب یہ تقویٰ کہاں سے ملے گا ؟ اس کی دکان کو نسی ہے ؟ خشیت الٰہی کہاں سے ملتی ہے ؟ اللہ فر ماتا ہے:’’علم ر کھنے والے اللہ سے ڈرتے ہیں ‘‘ لہٰذا تقویٰ کا حصول علم سے ممکن ہے ۔قرآن ،حدیث لٹر یچر سے حج کی تفصیلا ت جا ننا ۔
حج ایسی عبادت ہے جو روزروزممکن نہیں،زند گی میں ایک دو مر تبہ موقع ملتا ہے چنانچہ سفر حج کے آغا ز سے لے کر طوافِ وداع تک !اس مقصد کے لیے حج پر جانے سے کئی ماہ قبل یہ تیاری شروع ہوجانی چاہیے ۔ قرآن و حدیث کے ان منتخب حصوں کا مطا لعہ جو حصولِ تقویٰ میں معاون ہوں ، نمازوں میں خشوع (جویوں بھی ہر وقت مطلوب ہے ) کے لیے سنجیدہ عملی کو شش کر نا ،دعائیں یاد کرنا کیو نکہ دوران حج ’’ذکر‘ ‘کی تا کید بار بار کی گئی ہے ۔ حج کی عبادت کی اہمیت ،للہیت اور اللہ کے در پر حا ضری کا استخصار تا کہ صحیح معنوں میں اس حاضری کو محسوس کر کے وہ جذبہ بیدار کیا جا سکے جو وہاں مطلوب ہے ۔
اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو جاننا بہت ضروری ہے کہ عبادات میں تقویٰ کیا ہے ۔لباس میں تقویٰ کیا ہے (خصوصا ً خواتین کے لیے) معاملات میں تقویٰ کیا ہے ؟ مسجد میںحاضری اور مسجد کے آداب میں تقویٰ کیا ہے ؟ نبی کر یمﷺ کے روضہ مبار ک اور آپؐ کے در پر حا ضری میں تقویٰ کے تقا ضے کیا ہیں ؟ یہ بہت ضروری ہے کیو نکہ اللہ جو بہت کر یم ہے اس نے حج کے احکامات میں بار بار تقویٰ کی تعلیم دی ہے ۔’’ اور ذکر کرو اللہ کا گنتی کے چنددنوں میں تو جو کوئی دو دن ہی میں جلدی سے واپس آجائے تو اُس پر کوئی گناہ نہیں اور جو پیچھے رہے تو اُس پر بھی کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ وہ تقویٰ اختیار کرے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور خوب جان رکھو کہ یقیناً تمہیں اُسی کی جانب جمع کر دیا جائے گا۔‘‘ ( البقرہ: 203 )
لہٰذا اللہ کے غضب سے بچنے کے لیے حج پر جانے سے قبل ذہنی اور علمی تیاری ضروری ہے لیکن اگر سارے مناسک حج ادا کر لیے ، نہ دل کی کیفیت بد لی ،نہ خشیت الٰہی پیدا ہوئی ،نہ حج سے آکر افعال بد لے (نہ تو بہ و انا بت کی کیفیت پیدا ہوئی ) تو گو یا صرف جسمانی حج کیا، عملاً کوئی تربیت حا صل نہ کی ۔ پھریہ عبادت نہیں بلکہ عا دت کی تکمیل ہے ۔ایسے حجاج بھی نظر آتے ہیں جو ہر سال حج کر تے ہیں لیکن نہ حرام ذرائع آمدن چھوڑتے ہیں نہ دیگر قبیح افعال،نہ عورتیں حج سے آکر لباس و عادات میں تبد یلی کر تی ہیں ، نہ زند گی کے معاملات میں ! لہٰذا یہ صرف بد نی حج ہے، یہ عبادت کی بجائے عادت ہے عملا ًتو اس تر بیت گاہ سے کچھ بھی سیکھ کر نہ نکلے ۔نا لا ئق طا لب علموں کی طرح بس کلاس میں حا ضری لگوائی سبق نہ دل سے پڑھا نہ سیکھا ! سفر حج وہ مبار ک سفر ہے جس کا آغا ز بہت شوق اور محبت سے ہو تا ہے ۔
آنکھوں میں بیت اللہ اور حرم نبوی کے دیدار کی پیاس ،دل میں شوقِ ملاقات کا ولولہ اور عمر بھر کے گناہ معاف کر انے کی تڑپ مو جزن ہو تی ہے لیکن یہ سفر پُر مشقت سفر ہے ۔اس لیے حج کا ثواب بھی اسی وقت شروع ہو جا تا ہے جب حا جی اپنے گھر سے سفر کا آغا ز کر تا ہے ۔ پیارے نبی کے فر مان کے مطا بق’’ جو شخص حج یا عمرہ یا جہاد کے ارادے سے نکلے اور اُسے راستے میں ہی مو ت آجائے تو اللہ تعالیٰ اُسے غا زی ،حا جی یا عمرہ کر نے والے کا ثواب عطا فر ما تا ہے۔ ‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح ،کتاب المنا سک) حج کا پورا سفر ایک طویل انتظار اور تھکن سے بھر پور ہوتا ہے اور یہ بھی حج کے تر بیتی پہلو کاایک جُز ہے۔صبر و بر داشت کی تر بیت کا آغا ز گھر سے نکلتے ہی ہو جا تا ہے، گھنٹوں قطاروںمیں لگنا ، بسوں میں بیٹھے رہنا ،سردی ہو یا گر می ، بھو ک پیا س برداشت کر نا ،یہ سب اللہ تعالیٰ کی منشا ہے ۔
اب تو سفر بھی آسان ہیں اور حج کے سفر کا دورا نیہ بھی کم ہے، آج سے صرف70،80 سال قبل بھی حج اتنا آسان نہ تھا ،ہمارے بزرگ حج پر جا تے اور 6 ما ہ بعد لو ٹتے تھے۔ارض مقدس تک بحری جہازوں سے سفر اور مکہ اور مد ینہ کے درمیان اونٹوں پر اور پیدل سفر ہو تا تھا اور یہ سب حج کا جُز تھا ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جو مسلمان اس سال حج کا ارادہ رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ سب کو حج کی بہترین تیاری اور زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کی توفیق دے۔ اللہ تعالیٰ ان کو مقبول حج کا ثواب عطا کرے اور اُن کی بقیہ زندگی پر حج کے پُر نور اثرات ظاہر کرے۔ امین یا رب العالمین!