اخبارِ اسلامغزہ، اصل صور تِ حال کیا ہے؟ (بشکریہ: فرینڈز آف فلسطین)
تحقیق: خالد نجیب خان (معاون مرکزی شعبہ نشرو اشاعت)
l غزہ گزشتہ 700 سےزائد دنوں سے ایک بند شہر کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے،جہاں لاکھوں لوگ اپنی چھت، اپنی پناہ اور اپنی محفوظ زندگی کھو چکے ہیں اور بغیر راستوں کے، بغیر آزادی کے زندگی گزاررہے ہیں جو ایک بحران سے بڑھ کر بنیادی انسانی حقوق ،آزادیِ نقل و حرکت اور باوقار زندگی کے حق کا سوال بن چکا ہے ۔ اِن حالات میں جب کہ بچوں کے پاس دودھ نہ ہو اور بھوک اُن کی روزمرہ حقیقت بن جائے،تو یہ بحران سے بڑھ کر پوری انسانیت کے ضمیر کا امتحان بن جاتا ہے۔غزہ میں اس وقت ننھی جانیں بنیادی غذائیت سے محروم ہیں، جہاں ایک گلاس دودھ بھی خواب بن چکا ہے۔یہاں علاج کے مراکز بھی غیر محفوظ ہیں،حقیقت یہ ہے کہ غزہ میں صحت کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے،اور گزرتا ہوا ہردن مریضوں اور زخمیوں کے لیے خطرات بڑھا رہا ہے۔وہ بچے، جن کے ہاتھوں میں کتابیں ہونا چاہیے تھیں، آج خوف، بھوک اور بے یقینی کا سامنا کر رہے ہیں۔صاف پانی تک رسائی روز بروز مشکل ہوتی جا رہی ہے، چند قطروں کے حصول کےلیے لوگ گھنٹوں انتظار کرتے ہیں کیونکہ کنویں تباہ اور پانی کے ذرائع برباد کئے جاچکے ہیں ۔ امداد پہنچانے والے بھی محفوظ نہیں، ریسکیو اہلکار، ایمبولینس ٹیمیں اور شہری دفاع کے کارکن ہر روز جانیں خطرے میں ڈال کر دوسروں کو بچا رہے ہیں۔ صہیونیوں، جو انسانیت کے نام پر دھبہ ہیں، نے خوراک کو ہتھیار بنا لیا ہے اور امداد کے تمام راستے بند کئے جاچکے ہیں۔ قطاع غزہ میں بنیادی ضروریات تک رسائی محدود ہونا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ انسانی حقوق محض الفاظ نہیںبلکہ عملی ذِمـہ داری ہیں۔ یہ حالات پوری دنیا سے سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ دیکھ نہیں رہی ؟ بے شک یہ پوری انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہے۔ انسانیت کے ساتھ کھڑا ہونا جانبداری نہیں بلکہ سب کی ذِمـہ داری ہے۔
l عبرانی ذرائع کے مطابق شمالی مقبوضہ فلسطین میں ڈرون حملے کے نتیجے میں قابض اسرائیل کا ایک فوجی ہلاک ہو گیا ۔جبکہ حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اُس نے لبنان اور مقبوضہ فلسطین کی سرحد پر واقع جل العلام کے مقام پر قابض اسرائیلی فوجیوں کے ایک اجتماع کو خودکش ڈرون کے ذریعے کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔
l لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق 2 مارچ 2024ء سے جاری قابض اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت کے نتیجے میں شہداء کی کل تعداد 2618 ہو گئی ہے جبکہ 8094 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ قابض اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان پرسفاکیت میں اضافہ کرتے ہوئے50سے زائد فضائی حملے کیے ہیں۔ قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے مختلف علاقوں کو نشانہ بنانا جاری رکھا ہوا ہے جس میں زوطر الشرقیہ، زوطر الغربیہ اور نہر کے راستے پر17 غاریں شامل ہیں۔ ایک حملہ میں حماس کے مرکزی رہنما خلیل الحیہ کے چوتھے بیٹے کو بھی شہید کر دیا گیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون! اسی طرح نبطیہ گورنری کے قصبے حبوش پر ہونے والی بمباری میں 6 فلسطینی و لبنانی شہری شہید اور 8 زخمی ہوئے ۔
l ترکیہ کے شہر استنبول میں سینکڑوں سماجی کارکنوں نے غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ بحری محاصرے کو توڑنے کے لیے کوشاںگلوبل صمود فلوٹیلا کی حمایت میںبڑی سائیکل اور بائیک ریلیاں نکالیں،جن کا اہتمام ترکیہ کی سول سوسائٹی کی تنظیموں نے کیا ۔ شرکاء بشکتاش کے علاقے میں جمع ہوئے اور ترکیہ اور فلسطین کے جھنڈے لہراتے ہوئے مختلف اہم شاہراہوں پر گشت کرتے رہے۔
مسلم دنیا سے متعلق دیگر ممالک کی اہم خبریں
l اسرائیل: ایران کے لیے جاسوسی الزامات پر فرد جرم: اسرائیلی حکام نے ایران کے لیے مبینہ جاسوسی کے الزام میں تین اسرائیلی فوجیوں اور ایک آبادکار کے خلاف فردِجرم عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی خفیہ اداروں کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر ایرانی رابطہ کاروں کی ہدایات پر فوجی تنصیبات، ریلوے اسٹیشنز اور دیگر حساس مقامات کی معلومات اور تصاویر فراہم کرتے رہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے میں ایران سے منسلک آن لائن نیٹ ورکس کے ذریعے رابطوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب ایران نے بھی حالیہ کشیدگی کے دوران متعدد مشتبہ اسرائیلی جاسوسوں کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔
l ایران:دوبارہ حملے کا جواب حیران کُن ہوگا: ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو’’حیران کن طریقوں سے‘‘ جواب دیا جائے گا۔ ان کے مطابق وہ ممالک جو ایران پر امریکی پابندیوں کی پیروی کریں گے، انہیں آبنائے ہرمز سے جہاز گزارنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اِسی تسلسل میں پاسدارانِ انقلاب نے بھی متنبہ کیا ہے کہ اگر ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اور جنگی جہاز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ پارلیمانی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی کا کہنا ہے کہ نئے امریکی و اسرائیلی حملے کی صورت میں ایران کے ممکنہ آپشنز میں سے ایک یورینیئم کی 90 فیصد افزودگی بھی ہو سکتا ہے۔ آئی آر جی سی کے مطابق، ایران کے میزائل اور جدید ڈرون کسی بھی جارحیت کا فوری جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے زور دیا ہے کہ امریکا سے مذاکرات کا مطلب ہتھیار ڈالنا نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مکمل عزم کے ساتھ کھڑا ہے اور کسی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔ اس سب کے ساتھ ساتھ چاہ بہار بندرگاہ میں زوردار دھماکوں کی آوازوں نے عوام میں سنسنی پھیلا دی، ایرانی میڈیا کے مطابق یہ دھماکے ناکارہ گولہ بارود تلف کرنے کے عمل کے دوران ہوئے۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب قطر کے ساحل کے نزدیک تجارتی جہاز پر مبینہ ڈرون حملے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ نشانہ بننے والا جہاز امریکی پرچم تلے سفر کر رہا تھا۔ قطری وزارتِ دفاع نے بھی حملے اور آگ لگنے کی تصدیق کی ہے۔
l سعودی عرب: جعلی حج پرمٹ نیٹ ورک بے نقاب:مکہ مکرمہ میں جعلی حج پرمٹ تیار کرنے اور استعمال کرنے والے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 18افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سعودی پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے جعلی دستاویزات بھی برآمد ہوئی ہیں۔ تمام ملزمان کو قانونی کارروائی کے لیے پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
l بنگلہ دیش: منشیات کی روک تھام کے لیے پاکستان سے تاریخی معاہدہ : دارالحکومت ڈھاکا میں پاکستان اور بنگلہ دیش نے منشیات کی روک تھام کے لیے پاکستان سے تاریخی معاہدہ پر دستخط کیے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور بنگلہ دیشی وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے انسدادِ منشیات اور سیکیورٹی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا ۔ طے پایا کہ دونوں ممالک منشیات سمگلروں کے بارے میں بروقت معلومات کا تبادلہ کریں گے اور سیف سٹی پراجیکٹس میں تعاون بڑھایا جائے گا۔