امیرتنظیم اسلامی کا حلقہ کراچی جنوبی کا تنظیمی و دعوتی دورہ
امیر محترم شجاع الدین شیخ s نے8 مئی اور اتوار 10 مئی 2026ء کو حلقہ کراچی جنوبی کا تنظیمی و دعوتی دورہ فرمایا۔ مختلف آراء، تجربات اور نظمِ بالا سے رہنمائی حاصل کرنے کے بعد دورے کے شیڈیول کو حتمی شکل دی گئی۔
یوتھ میٹ اپ پروگرام
8 مئی 2026ء کو قرآن اکیڈمی ڈیفنس کراچی میںیوتھ میٹ اپ کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں نوجوانوں کو دین کے حوالے سے اہمیت اور ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔
مقامی تنظیم قرآن اکیڈمی میں یہ پروگرام گزشتہ سال سے جاری ہے، جس میں تنظیم کے سینئر مدرسین کو مدعو کر کے مختلف نشستیں منعقد کی جاتی رہی ہیں۔ پروگرام کی نظامت محترم عارف عرفان اللہ (نقیب قرآن اکیڈمی تنظیم) انجام دیتے رہے ہیں۔رفیق قرآن اکیڈمی محترم حارث اعجاز یزوانی کی تلاوت سے پروگرام کا آغاز ہوا ۔ تلاوت کےبعد امیر محترم نے 10 اہم نکات بیان کیے ۔ان نکات میںامت والا کام کرنے، اعلیٰ ترین مشن اختیار کرنے، لغویات سے اجتناب ، دین پر استقامت، نوجوانوں کے کردار کی اہمیت، ان کے اخلاقی و فکری ترقی کی ضرورت، اور اسلامی معاشرتی اقدار کو مضبوط کرنے کی بات کی گئی۔
بعد ازاں سوال و جواب کی نشست میں نوجوانوں نے مختلف موضوعات پر سوالات کیے۔ امیر محترم نے تفصیل سے نوجوانوں کے سوالات کا جواب دے کر ان کی فکری رہنمائی کی۔
پروگرام میں نائب ناظم اعلیٰ جنوبی پاکستان زون 2، محترم عارف جمال فیاضی امیر حلقہ کراچی جنوبی محترم محمد عابد خان ،ناظم نشر و اشاعت حلقہ کراچی جنوبی محترم سرفرازا حمد نے بھی شرکت کی ۔ مجموعی طور پر تین سو سے زائد رفقاء و احباب نے شرکت کی۔
امیر تنظیم اسلامی کی حلقہ کے ذمہ داران سے ملاقات
10 مئی 2026ء کو قرآن اکیڈمی ڈیفنس کراچی کے لیکچر ہال میں حلقہ کراچی جنوبی کے تمام ذمہ داران کے ساتھ امیرِ محترم کی خصوصی نشست منعقد ہوئی۔اس موقع پر نائب ناظمِ اعلیٰ جنوبی پاکستان (زون 2) محترم عارف جمال فیاضی بھی امیرِ محترم کے ہمراہ موجود تھے۔
مجلس کا آغاز تنظیم کورنگی شرقی کے رفیق محترم حافظ ریان بن نعمان کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ ابتدائی کلمات محترم عارف جمال فیاضی نے ادا کیے۔
راقم (معتمد حلقہ ) نے کراچی جنوبی حلقہ کا تعارف پیش کیا،بعد ازاں مقامی امراء نے اپنے اپنے نظم کے حوالے سے شامل علاقوں، رفقاء کی تعداد، نقباء اور معاونین کا تعارف کروایا ، جس سے امیرِ محترم کو حلقہ کی مجموعی تنظیمی صورتِ حال سے آگاہی حاصل ہوئی۔
سوال و جواب کی نشست
رفقاء نے امیرِ محترم سے مختلف موضوعات پر سوالات کیے، جن میں افغانستان کے حوالے سے ہمارا مؤقف، مطالعہ لٹریچر میں کمی، نوجوانوں کو دعوت کیسے دیں، ہماری جدوجہد کے ثمرات نظر کیوں نہیں آ رہے، علم دین حاصل کرنا، فکری انحراف کا شکار ہونے والوں کےساتھ ہمارا رویہ ، حالاتِ حاضرہ اور ملکی و عالمی منظرنامہ، انتخابی جماعتوں کے حوالے سے تنظیم کی پالیسی سے متعلق تھے۔ امیرِ محترم نے تمام سوالات کے نہایت جامع، مدلل اور تسلی بخش جوابات دئیے۔اس نشست میں تقریباً 90 ذِمّہ داران شریک ہوئے اور یہ بامقصد ملاقات دو گھنٹے تک جاری رہی۔نصف گھنٹے کے چائے کے وقفے کے دوران حلقہ کے رفقاء کوباہمی ملاقات اور ربط کا موقع ملا۔
وقفے کے بعد امیرِ محترم نے رفقاء کو اہم اور عملی نصیحتیں فرمائیں جو دعوت، تربیت اور تزکیۂ نفس کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی تھیں۔ اُنہوں نے واضح انداز میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ ہماری دعوت کا اصل مرکز و محور قرآنِ مجید ہے، اور یہی وہ سرچشمۂ ہدایت ہے جس سے فرد، خاندان ،معاشرہ اور ریاست سب کی اصلاح ممکن ہے۔ اگر بندہ اپنے رب سے مضبوط تعلق قائم رکھے، عبادات میں باقاعدگی اختیار کرے، اخلاص کو مقدم رکھے اور اپنی نیتوں کی مسلسل اصلاح کرتا رہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی کوششوں میں برکت عطا فرماتا ہے اور اس کی دعوت کو قبولیت کا شرف بخشتا ہے۔
آخر میں بیعتِ مسنونہ کا اہتمام کیا گیا، امیر ِمحترم کی دعا پر یہ بابرکت محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔
امیرِ محترم کی عیادت و تعزیت کے لیے مختلف رفقاء سے ملاقاتیں
امیر ِمحترم نے اتوار 10 مئی 2026ء کو مختلف رفقاء سے ان کی رہائش گاہوں پر ملاقاتیں کیں۔ اس سلسلے میں محترم شاہد منیر (نقیب اسرہ قرآن اکیڈمی) کی عیادت کے لیے ان کی رہائش پر تشریف لے گئے، موصوف کا حال ہی میں کمر کا آپریشن ہوا ہے۔ امیرمحترم نے ان کی جلد مکمل صحت یابی کے لیے دعا کی۔
اسی طرح محترم فیصل منصوری (مرکزی ناظم مالیات) کی عیادت کے لیے بھی ان کے گھر تشریف گئے اور اُن کی صحت یابی کے لیے دعا کی ۔
محترم عبدالصمد ماجد (سینئر منفرد رفیق) سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور حال ہی میں ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت اور دعائے مغفرت کی۔
خطاب عام پروگرام، نسیم حمید اسپورٹس اکیڈمی، کورنگی نمبر 5
کورنگی نمبر 5 میں واقع نسیم حمید اسپورٹس اکیڈمی میں نماز عشاء کے بعد امیر محترم کا خطاب عام بعنوان’’ ابلیسی منصوبے، اُمّت ِمسلمہ اور دین اسلام کا مستقبل‘‘ رکھا گیا تھا۔ ناظم ِپروگرام مقامی امیر کورنگی شرقی محترم نعمان نسیم تھے۔پروگرام کی تشہیر بینرز ، ہینڈبل، سوشل میڈیا ، دعوت نامے ، پیڈسٹرین بریج پر بینرز کے ذریعہ بھر کی گئی تھی۔ رفقاء شام 4.30 بجے جمع ہوئے ۔ دعوتی ملاقات کے آداب محترم حافظ ریان بن نعمان نے بیان کیے۔ بعد ازاں ناظم دعوت حلقہ محترم سعید الرحمان نے دعوتی ٹیمیں تشکیل دیں۔ عصر تا مغرب رفقاء نے علاقے میں ہینڈبل تقسیم کیے اور احباب کو پروگرام میں شرکت کی دعوت دی۔ نماز عشاء کے بعد پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ مشیر خصوصی محترم عامر خان نے اسٹیج سیکریٹری کے فرائض انجام دئیے۔مجلس کا آغاز قاری محترم امداد اللہ عزیز کی خوبصورت تلاوت سے ہوا ۔ بذریعہ ویڈیو کلام ’’ اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے‘‘ سنوایا گیا۔ اِس کے بعد امیر محترم نے’’ ابلیسی منصوبے، اُمّت مسلمہ اور دین اسلام کا مستقبل‘‘ کے عنوان پر خطاب فرمایا ۔
امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ ؒ نے خطاب فرماتے ہوئے کہا کہ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 208 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ طاِنَّہٗ لَـکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(208)}’’ اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو، کیوں کہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ایمان والوں سے مطالبہ ہے ۔وہ دین میں مکمل طور پر داخل ہوں اور زندگی کے ہر شعبے کو اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی ہدایت کے تابع کریں۔ نبی اکرم ﷺ کی ختمِ نبوت کے بعد امتِ مسلمہ کی ذِمّہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ خود بھی دین پر عمل کرے، دوسروں کو بھی اس کی دعوت دے، اور آپ ﷺ کے لائے ہوئے عادلانہ نظامِ زندگی کے قیام کے لیے جدوجہد کرے۔ان دینی فرائض کی ادائیگی میں انسان کا سب سے بڑا دشمن شیطان ہے، جو ہمیشہ اہلِ ایمان کو دین سے دور کرنے، امت کو تقسیم کرنے اور باطل قوتوں کے ذریعے اللہ کے دین کے غلبے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
شیطان، جس کا نام عزازیل بیان کیا جاتا ہے، نے سب سے پہلے حضرت آدمؑ سے حسد کیا، تکبر کیا اور ابلیس بن گیا۔ اسی طرح آخری نبی حضرت محمد ﷺ سے حسد کرنے والی قومِ یہود اللہ تعالیٰ کے غضب کی مستحق قرار پائی۔ آج یہی یہود انسانیت کے بدترین دشمن اور شیطانی ایجنڈے کے آلۂ کار بن چکے ہیں ۔کبھی جو فرعون بچوں کو قتل کرواتا تھا، آج یہ نیتن یاہو ہے جو ہزاروں بچوں کو غزہ میں شہید کروا چکا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں بارہا شیطان کا ذکر فرما کر ہمیں اس کی چالوں سے خبردار کیا ہے۔ شیطان کی نمایاں بُری خصلتوں میں تکبر، حسد، ناشکری، حبِ جاہ، غلطی پر اصرار، صراطِ مستقیم سے روکنا، بے حیائی کا حکم دینا، میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالنا، الحاد کو فروغ دینا، قرآن و سنت کے واضح احکامات میں شکوک پیدا کرنا، مسلمانوں میں فرقہ واریت کو ہوا دینا، اور انسان کو فطرتِ سلیمہ سے دور کرنا شامل ہیں۔شیطان اکیلا نہیں ہے اس کے کارندے جنات میں بھی ہیں اور انسانوں میں بھی۔ یہی انسانی کارندے کبھی عوام کی حاکمیت ،کبھی عورت کی آزادی، کبھی نکاح کے انکار، اور کبھی ڈراموں، فحش و بے ہودہ فلموں کے ذریعے معاشرے کو گمراہی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حقیقی معنوں میں اُمّت بنیں، اور اُمّت اُس ہم مقصد گروہ کو کہا جاتا ہے جس کا نصب العین ایک ہو۔ ہم سب کا مشترکہ ہدف یہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ عادلانہ نظام عملاً نافذ ہو جائے۔ ہمارے پاس ایٹمی صلاحیت اور میزائل ٹیکنالوجی بھی ہے، بہترین افواج بھی موجود ہیں، وسائل اور سرمایہ کی بھی کمی نہیں، جدید ڈرون ٹیکنالوجی بھی مسلمانوں کے پاس ہے، اور بے شمار باصلاحیت افراد دنیا کے اعلیٰ ترین شعبوں میں اپنی صلاحیتیں صرف کر رہے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود آج فیصلے ہمارے بارے میں دوسرے کرتے ہیں۔پاکستان کو حقیقی معنوں میں ’’بنیانٌ مرصوص‘‘ بننے کی ضرورت ہے۔ جس طرح جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ضروری ہے، اسی طرح نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی ناگزیر ہے۔ افسوس کہ آج ہم معاذ اللہ سودی نظام میں براہِ راست ملوث ہو کر اللہ تعالیٰ سے اعلانِ جنگ کی کیفیت میں کھڑے ہیں۔
کرنے کے کاموں میں اس وقت سب سے اہم یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان باہمی اتحاد کی کوشش کی جائے۔ نیٹو کی طرز پر مسلم ممالک کا مضبوط اتحاد قائم کیا جائے۔ مسلمانوں میں حقیقی ایمان کی تحریک برپا کی جائے، ایسا ایمان جو انسان کو باطل کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ دے۔قرآنِ مجید کو سمجھ کر، ہدایت کی طلب کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کی جائے، اور رسول اللہ ﷺ کے مشن کو اپنی زندگی کا مشن بنایا جائے۔ آج بہت سے لوگ ڈاکٹر اسرار احمدؒ سے محبت کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں، جو یقیناً لائقِ تحسین ہے۔ لیکن اکثر لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے دو عظیم ادارے بھی قائم کیے تھے۔ ایک انجمن خدام القرآن اور دوسرا تنظیم اسلامی۔ اگر ڈاکٹر اسرار احمدؒ سے واقعی اور سچی محبت ہے تو آئیں، ان اداروں کا حصّہ بنیں اور اس مشن کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
تنظیم اسلامی کی دعوت بھی یہی ہے۔ تنظیم اسلامی کا پیغام، خلافت راشدہ کا نظام۔ ہم نہ ووٹ مانگتے ہیں نہ نوٹ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ آپ سب کو اس مبارک جدوجہد میں ہمارا ممدو معاون بننے کی دعوت دیتے ہیں۔قرآن و حدیث میں واضح خبریں موجود ہیں کہ قیامت سے قبل کل روئے ارضی پر اللہ کا دین قائم و نافذ ہو کر رہے گا ۔ ان شاء اللہ!ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اس اہم ترین ذِمّہ داری یعنی اقامت دین کی جدوجہد کو ادا کرنے میں ہم کیا کردار ادا کرتے ہیں اور اسی سے متعلق قیامت کے دن ہم سے سوال کیا جائے گا۔اللہ ہمیں اس کی تیاری کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین!
تقریباً 700 حضرات و 200 خواتین نے اس بابرکت محفل میں شرکت کی۔اس خطاب کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی گئی اور لائیو بھی نشر کیا گیا۔
امیر محترم دورہ کے موقع پر پانچ پروگرامز ترتیب دئیے گئے تھے۔ سب کے سب الحمد للہ خیرو عافیت کے ساتھ تکمیل پائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں مزید آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ تمام امراء و معاونین رفقاء و رفیقات کی کاوشوں کو قبول و منظور فرمائے۔ کمی کوتاہیوں سے درگزر فرمائے۔ دنیا و آخرت میں بہترین اجر سے نوازے۔جذبوں کو تروتازہ رکھے۔ آمین (رپورٹ:محمد سہیل ، معتمد حلقہ کراچی جنوبی)