مطالعہ کی اہمیت
مرکزی شعبہ تعلیم و تربیت، تنظیم اسلامی
اسلام نے علم اور مطالعہ کو نہایت بلند مقام دیا ہے۔ قرآن مجید کی پہلی وحی کا آغاز ہی اقرأ یعنی پڑھنے کے حکم سے ہوا۔ یہ اِس بات کی دلیل ہے کہ مطالعہ اور علم اسلام میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح قرآن حکیم بار بار غور وفکر اور تدبر کی تاکید کرتا ہے یہ کہتے ہوئے۔
{اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا(24)} (سورۃمحمد )’’کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟ یا اِن کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں؟‘‘
نبی اکرم ﷺ نے بھی علم کے حصول کو ہر مسلمان پر فرض قرار دیا۔
آپؐ نے فرمایا: ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔‘‘( سنن ابن ماجہ )
انسان جب اِس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو وہ محض ایک جسم نہیں ہوتا ،بلکہ ایک امانتِ الٰہی(یعنی روح) کا حامل بھی ہوتا ہے۔اُس کی ذمہ داری ہے کہ جیسے ہی اُسے شعور حاصل ہو، وہ جسم و جان کی تمام صلاحیتوں کو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی مرضی کے مطابق استعمال کرے۔ وہ اپنےہاتھ، پاؤں ، کان اور اپنی آنکھوں سےصرف وہی کام لے جو کام کرنےکا اُسے حکم دیا گیا ہے۔
اسی کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اُس کے دل کے اندر ایمان کی شمع بھی رکھ دی ہے۔اس کے روحانی وجود میں اللہ تعالیٰ کی معرفت اور حق کی جستجو بھی موجود ہے۔ دل کے اندر ودیعت شدہ معرفت کے ذریعے ایمان کی شمع کو روشن کرنا اور اُسے فروزاں رکھنا، انسان کی ذِمّہ داری ہے۔ مگر یہ شمع اُسی وقت تک فروزاں رہتی ہے ، جب تک اُسے مسلسل علم کے تیل سے تقویت دی جاتی رہے۔ علم کا سب سے بڑاسرچشمہ قرآن وحدیث ہے اور انہیں سمجھنے کے لیے اکابر علماء کے لیکچرز، خطابات ، درسِ قرآن کی محفلیں اور کتب ہیں۔
ایک زندہ اُمّت کی سب سے بڑی نشانی فکری بیداری ہے،اگر اُمّت سوتی رہ گئی تو اس کا خاتمہ یقینی ہے ۔ لیکن اللہ سبحانہٗ وتعالی کا صدہا شکر ہے کہ وہ مسلسل چند نفوس ایسے بھیجتا رہتا ہے جو ’’جاگو اور جگاؤ‘‘ کا نعرہ لگا کر سوتے ہوئے لوگوں کو جگانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
علامہ اقبالؒ پوری زندگی اپنے کلام کے ذریعہ اُمّت کو جگانے کی کوشش کرتے رہے۔ اُن سے پہلے شاہ ولی اللہ ؒ ، مولاناابوالکلام آزادؒ، مولانا ابو الاعلیٰ مودودیؒ مرحوم جیسے اکابرین نے یہی کام حجۃ اللہ البالغہ، ترجمان القرآن ،تفہیم القرآن اور دیگر کتب و جرائد سے کیا ۔ لیکن صرف چند نفوس کےجاگنے سے اُمّت ترقی نہیں کرسکتی ۔ اِس کے لیے ضروری ہے کہ معتد بہ تعداد میں اُمّت کے لوگ’’جاگو اور جگاؤ‘‘ کا کام کرنے میں مشغول ہوں۔ تبھی اُمّت دنیا و آخرت میں سرخرو ہوسکتی ہے۔ دنیا میں بھی وہ شَر کا قلع قمع کرنے کا کام کرے گی، معروف کو رواج دینے کی کوشش کرے گی اور اُخروی کامیابی بھی حاصل کرے گی۔ اس فکر کی بیداری کا دروازہ مطالعہ سے کھلتا ہے۔ مطالعہ کرنا محض معلومات جمع کرنا یا ذہنی عیاشی نہیں، بلکہ شعور کی تعمیر، کردار کی تشکیل اور مقصد ِحیات کے ادراک کا ذریعہ ہے۔ مطالعہ کرنے سے انسا ن کا ذہن کھلتا ہے۔ اسے نہ صرف اپنے زمانہ کے فتنوں کا شعور حاصل ہوتا ہے۔ بلکہ وہ آئندہ آنے والے فتنوں کے قدموں کی آواز بھی سُن لیتا ہے اور یوں اپنی گھر والوں کو اصلاح بھی کر لیتا ہے اور آنے والی نسل کو بھی اُن فتنوں سے پہلے سے ہی خبردار کردیتا ہے۔
مطالعہ انسان کے اندر نہ صرف احساسِ ذِمّہ داری پیدا کرتا ہے بلکہ اُسے اصلاحِ معاشرہ کا داعی بھی بنا دیتا ہے۔ علم اور عمل لازم و ملزوم ہیں۔ وہ علم جو کردار سازی نہ کرے، وہ علم جس سے نہ دنیا کا فائدہ ہو نہ دین کا ، محض ذہنی عیاشی ہے۔ ایسا مطالعہ وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ مطالعہ وہی کا رآمد ہےجو ہمیں علمی زندگی سے جوڑے۔
مطالعہ ایک مسلمان کی فکری اور روحانی زندگی کی روح ہے۔ یہ وہ زینہ ہے جس کے بغیر علم کی بلندیوں تک رسائی ممکن نہیں ۔ اگر ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو سنوارنا چاہتے ہیں تو ہمیں کتاب کو اپنا رفیق بنا نا ہوگا۔
امام بخاری ؒ سے پوچھا گیا حافظہ بہتر کرنے کی دّوا کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا :’’ کثرت سے کتابوں کا مطالعہ کرنا۔‘‘(جامع بیان العلم وفضلہ،امام ابن عبدالبر)
عبداللہ بن عبد العزیز کا بیان ہے کہ میں نے قبر سے زیادہ واعظ ، کتاب سے زیادہ دلچسپ دوست اور تنہائی سے زیادہ بے ضرر ساتھی کسی کونہیں دیکھا۔
(جامع بیان العلم وفضلہ،امام ابن عبدالبر)
جب تک ہمارے گھروں میں کتاب کی خوشبو نہیں پھیلے گی، ہماری ذہنوں میں روشنی نہیں آئے گی اور جب تک ذہن روشن نہیں ہوں گے، اُمّت کی تقدیر نہیں بدلے گی۔
اگر انسان مطالعہ نہیں کرتا تو اس کا خیر و شر کا علم ناقص رہتا ہے۔ ا گر ایک فرد مطالعہ نہیں کرتا تو وہ بلا سوچے سمجھے زمانہ کے دھارے میں بہتا چلا جاتا ہے۔ وہ امت جو مطالعہ نہیں کرتی ، وہ بھیڑوں کے اُس ریوڑ کی طرح ہوتی ہے جسے کوئی بھی شخص لاٹھی سے جدھرچاہتا ہے، ہانک لیتا ہے۔ اس قوم کے خیالات دوسروں کے تابع ہوتے ہیں۔ ان کی اپنی کوئی رائے نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس جو شخص مطالعہ کرتا ہے، وہ اپنے گردو پیش کا تنقیدی جائزہ لیتا ہے، حق و باطل میں امتیاز پیدا کرتا ہے اور زندگی کے مسائل کو گہرائی سے سمجھنے کی صلاحیت حاصل کرلیتا ہے۔
مطالعہ نہ کرنے کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ انسان دوسروں کے بہکاوےمیں آجاتا ہے وہ بغیر تحقیق کے سنی سنائی باتوں کو قبول کرلیتا ہے۔ جو شخص کتابوں کا رفیق ہو، وہ حالات کا اسیر نہیں رہتا بلکہ حالات کا تجزیہ کرنے والا بن جاتا ہے۔
مطالعہ انسان کو وسعت ِفکر دیتا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کر کے اقوا م کے عروج و زوال کے اسباب اس کی سمجھ میں آتے ہیں۔ فلسفہ پڑھ کر وہ مغرب کی سازشوں کے تانے بانے اور اُن کےعزائم کو سمجھتا ہے۔ دین کا مطالعہ کر کے اپنی زندگی کو ہدایت الٰہی کے مطابق ڈھالتا ہے۔
کسی بھی نظریاتی تحریک کی بقا او ر ارتقا کا انحصار اُس کے کارکنان کی فکری پختگی پر ہوتا ہے۔ محض جذباتی وابستگی ، وقتی جوش یا خطیبانہ مہارت کسی تحریک کو دیرپا بنیاد فراہم نہیں کرسکتی۔ فکری بنیاد صرف اور صرف منظّم اور مسلسل مطالعہ سے ہی استوار ہوتی ہے۔ اِسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے تنظیم اسلامی نے اپنے قیام کے آغاز سے ہی مطالعہ کو تربیت کا مرکزی ستون قرار دیا ہے۔ بانیٔ تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمد ؒ نے ہمیشہ اِس امَر پر زور دیا کہ دعوتی اور انقلابی جدوجہد کے لیے قرآن فہمی اور فکری پختگی ناگزیر ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم صرف جذباتی وابستگی پر اکتفا نہ کریں بلکہ فکری پختگی بھی حاصل کریں تاکہ ہم دلائل کے ساتھ لوگوں کو دعوت دینے کے قابل ہو سکیں، ہماری باتوں میں وزن ہو۔ علاوہ ازیں مطالعہ سے ہمیں اپنی فکر پر استقامت حاصل ہوگی اور باطل نظریات پھیلانے والوں سے یا وقتی طور پر واقعات کی گھن گرج سے متاثر نہیں ہوں گے۔ مطالعہ کے ضمن میں ہمیں درج ذیل امور پر خاص توجہ دینی چاہیے۔
قرآن مجید کی فکری وعملی راہنمائی:
تنظیم اسلامی کی دعوت کا مرکز و محور قرآن مجید ہے۔ ہر رفیق کو چاہیے کہ وہ قرآن مجید کی باقاعدہ روزانہ صحیح تجوید کے ساتھ تلاوت کرے، ترجمہ وتفسیر کا بغور مطالعہ کرے ۔ اس سے نہ صرف ایمان مضبوط ہوتا ہے بلکہ دعوتی بصیرت بھی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے لیے درج ذیل نصاب تجویز کیا جاتا ہے۔
ظ بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒ کا بیان القرآن
ظ فکری و عملی رہنمائی کے لیے قرآن مجید کا منتخب نصاب
ظ مبتدی رفقاء کے لیے تربیتی نصاب
ظ ملتزم رفقاء کے لیے تربیتی نصاب
ظ تربیتی نصاب برائے ذِمّہ داران تنظیم اسلامی
ظ تربیتی نصاب برائے مدرسین تنظیم اسلامی
علاوہ ازیں رفقاء کے لیے تنظیم اسلامی کے تمام لٹریچر سے گزرنا بھی بہت مفید ثابت ہوگا۔
آئیے! مطالعہ کو عادت نہیں، عبادت سمجھ کر اپنائیں۔ کیونکہ یہی شعور کی بیداری اور امت کی سربلندی کا راستہ ہے۔