(دعوت فکر) آئیے الٰہی نظام الاوقات پرعمل کریں ! - ڈاکٹر ضمیر اختر خان

9 /

آئیے الٰہی نظام الاوقات پرعمل کریں !

ڈاکٹر ضمیراختر خان

حکومت ِپاکستان کی جانب سے رات 8 بجے مارکیٹیں اور کاروبار بند کرنے کا حالیہ فیصلہ ایک دانشمندانہ اور بروقت اقدام کے طور پر سامنے آیا ہے، جو نہ صرف معاشی ضروریات کو پورا کرتا ہے بلکہ معاشرتی، اخلاقی اور دینی اقدار سے بھی ہم آہنگ ہے۔ اگر اس فیصلے کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ دراصل اس فطری نظام کی طرف واپسی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے مقرر فرمایا ہے، جہاں دن کو محنت، تجارت اور معاش کے لیے جبکہ رات کو سکون، آرام اور عبادت کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی کے لیے ایک متوازن نظام الاوقات قائم فرمایا ہے جس میں دن اور رات دونوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے۔ دن کو معاش، محنت اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ رات کو سکون، آرام اور عبادت کے لیے بنایا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر دن اور رات کا تقابل بیان کر کے ان کی الگ الگ حکمتیں اور فائدے واضح کیے گئے ہیں۔ چند اہم مقامات درج ذیل ہیں:
1۔ ’’اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا، پھر رات کی نشانی کو مٹا دیا اور دن کی نشانی کو روشن بنا دیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرو…۔‘‘( سورۃ بنی اسرائیل : 12)
اس آیت میں دن کو معاش، کمائی اور سرگرمی کے لیے اور رات کو سکون کے لیے قرار دیا گیا۔
2۔ ’’اور ہم نے رات کو پردہ بنایا، اور دن کو معاش (روزی کمانے کا وقت) بنایا۔‘‘( سورۃ النبا ٔ:10، 11)
یہاں رات کو ڈھانپنے اور آرام کا ذریعہ جبکہ دن کو محنت و روزگار کا وقت بتایا گیا ہے۔
3۔’’اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو لباس بنایا اور نیند کو آرام اور دن کو اٹھ کھڑے ہونے کا وقت بنایا۔‘‘            
( سورۃ الفرقان: 47) 
رات لباس یعنی ڈھانپنے اور سکون کے لیے اور دن بیداری اور عمل کے لیے۔
4۔ ’’وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا…‘‘(سورۃ یونس:67)
یعنی رات سکون و آرام کے لیے اوردن روشنی اور سرگرمی کے لیے۔
5۔  ’’اور اسی نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم اس میں آرام کرو اور اس کے فضل کو  تلاش کرو۔‘‘(سورۃ القصص : 73)
یعنی رات آرام کے لیے اوردن  رزق کی تلاش۔
6۔’’اور اس کی نشانیوں میں سے ہے تمہارا رات اور دن میں سونا اور اس کا فضل تلاش کرنا…‘‘ (سورۃ الروم: 23)
یعنی رات اور دن دونوں میں نظامِ زندگی کا توازن، مگر واضح اشارہ کہ نیند اور کام کا ایک فطری نظام ہے۔
7۔ ’’اور اسی نے تمہارے لیے رات اور دن کو مسخر کر دیا…‘‘(سورۃ النحل:12)
یعنی دونوں کو انسان کے فائدے کے لیے تابع کر دیا گیا — ہر ایک کا الگ کردار ہے۔ان تمام آیات سے ایک واضح تصور ابھرتا ہے کہ:
• رات: سکون، نیند، جسمانی و ذہنی بحالی
• دن: محنت، جدوجہد، معاش اور عملی زندگی
یہ تقابل اس بات کو مضبوطی سے واضح کرتا ہے کہ دن اور رات کا یہ نظام محض وقت کی تقسیم نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جسے اپنانے میں ہی انسان کی جسمانی، ذہنی اور روحانی کامیابی پوشیدہ ہے۔
حضور اکرم ﷺ نے بھی اس فطری نظام کی پیروی کی تلقین فرمائی ہے۔ آپ ﷺ نے رات کو جلد سونے کی ہدایت دی تاکہ انسان جسمانی اور ذہنی طور پر تندرست رہ سکے۔ جدید سائنس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ رات کی نیند دن کی نیند کے مقابلے میں زیادہ مفید اور صحت بخش ہوتی ہے۔
مزید برآں، رات کا ایک حصہ عبادت کے لیے مخصوص کرنے کی بھی ترغیب دی گئی ہے، جس میں نمازِ تہجد خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہ عبادت نہ صرف روحانی ترقی کا ذریعہ ہے بلکہ انسان کو اللہ کے قریب بھی کرتی ہے۔
اگر ہم قدرت کے نظام پر غور کریں تو پرندے بھی اسی اصول پر عمل کرتے نظر آتے ہیں؛ وہ رات کو آرام کرتے ہیں اور دن بھر اپنی خوراک کی تلاش میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ تمام مثالیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا نظام نہایت حکمت پر مبنی ہے۔ 
لہٰذا، ایک متوازن اور صحت مند زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم دن کو محنت اور معاش کے لیے استعمال کریں، رات کو آرام کریں اور اس کے ایک حصے کو عبادت، خصوصاً نمازِ تہجد کے لیے مخصوص کریں۔
حکومت پاکستان کا یہ قدم انہی قرآنی اصولوں کی عملی تصویر بنتا نظر آتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف توانائی کے استعمال میں کمی آتی ہے بلکہ لوگوں کی روزمرہ زندگی میں بھی نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے۔
معاشرتی سطح پر اس فیصلے کے مثبت اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ لوگ غیر ضروری طور پر رات دیر تک بازاروں میں وقت گزارنے کے بجائے جلد اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں، جس سے خاندانی نظام مضبوط ہوتا ہے اور افراد کو اپنے اہل ِخانہ کے ساتھ معیاری وقت گزارنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ تبدیلی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
مزید برآں، صحت کے اعتبار سے بھی یہ فیصلہ نہایت مفید ہے، کیونکہ رات کی بروقت نیند انسانی جسم اور ذہن کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اسی طرح، رات کے ایک حصے میں عبادت، خصوصاً نمازِ تہجد، کے مواقع بھی میسر آتے ہیں، جو روحانی بالیدگی کا باعث بنتے ہیں۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی ایک منظم نظام کے تحت کاروباری سرگرمیاں محدود اوقات میں انجام دی جاتی ہیں، جس سے ان کی مجموعی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ حکومتِ پاکستان کا یہ اقدام اسی نظم و ضبط کو اپنانے کی ایک مثبت کوشش ہے۔
لہٰذا، یہ کہنا بجا ہوگا کہ رات 8 بجے بازار بند کرنے کا فیصلہ محض ایک وقتی انتظامی اقدام نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت اصلاحی قدم ہے۔ اگر اس پالیسی کو مستقل بنیادوں پر نافذ رکھا جائے تو یہ نہ صرف توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ایک متوازن، صحت مند اور باوقار معاشرے کے قیام کی طرف بھی ایک اہم پیش رفت ہوگی۔
اس موقع پر عوام سے بھی یہ پُرخلوص اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس فیصلے کو خوش دلی سے قبول کریں اور اسے محض ایک پابندی کے بجائے اپنی زندگی میں بہتری لانے کے ایک موقع کے طور پر دیکھیں۔ نظم و ضبط کو اپنانا، وقت کی قدر کرنا اور قدرتی نظام کے مطابق زندگی گزارنا دراصل ہماری اپنی فلاح میں ہے۔
اسی طرح زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افرادبالخصوص علماء، اساتذہ، دانشور اور سیاست دان سے بھی گزارش ہے کہ وہ اس مثبت اقدام کے نفاذ میں بھرپور تعاون کریں۔ اپنی تحریروں، تقاریر اور عملی نمونوں کے ذریعے عوام میں آگاہی پیدا کریں اور اس نظام الاوقات کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔اگر ہم سب مل کر اس فیصلے کو سنجیدگی سے اپنائیں تو یہ نہ صرف وقتی بہتری کا سبب بنے گا بلکہ ایک منظم، متوازن اور باوقار معاشرے کے قیام کی بنیاد بھی رکھے گا۔اللہ تعالیٰ نے دن اور رات کی جو تقسیم مقرر فرمائی ہے، وہ محض ایک فطری عمل نہیں بلکہ گہری حکمت اور انسانی فلاح کا ایک مکمل نظام ہے۔ دن کو روشنی، محنت، جدوجہد اور معاش کے لیے بنایا گیا تاکہ انسان اپنی ضروریات پوری کر سکے، جبکہ رات کو سکون، آرام اور روحانی بالیدگی کے لیے مخصوص کیا گیا تاکہ جسم اور ذہن تازہ ہو کر نئی توانائی کے ساتھ اگلے دن کا آغاز کر سکیں۔
جب انسان اس قدرتی نظام کے مطابق زندگی گزارتا ہے تو اس کی زندگی میں توازن، صحت اور سکون پیدا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جب ہم اس ترتیب کو الٹ دیتے ہیںدن کو غفلت میں اور رات کو بے مقصد مصروفیات میں گزار دیتے ہیںتو اس کے منفی اثرات     نہ صرف ہماری صحت بلکہ ہمارے خاندانی نظام، معاشرتی اقدار اور مجموعی کارکردگی پر بھی پڑتے ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اس الٰہی نظام کو سمجھیں اور اسے اپنی زندگیوں میں نافذ کریں۔ یہ صرف انفرادی بہتری کا معاملہ نہیں بلکہ قومی ترقی اور معاشرتی استحکام کا بھی تقاضا ہے۔ حکومت         کی جانب سے کیے گئے اقدامات اسی سمت ایک اہم  پیش رفت ہیں، مگر ان کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب  ہر فرد، ہر ادارہ اور ہر طبقہ اس میں اپنا کردار ادا کرے۔ آئین ِپاکستان حکومت کواس طرح کے اقدامات کاپابند بناتا ہے۔ 
لہٰذا، ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم دن کو محنت، دیانت اور کارکردگی کے لیے وقف کریں اور رات کو آرام، عبادت اور اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے مخصوص کریں۔ علماء، اساتذہ، دانشور، میڈیا اور سیاست دان سب کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے دائرۂ اثر میں اس شعور کو بیدار کریں اور عملی مثال قائم کریں۔
آئیں، ہم عزم کریں کہ ہم اس متوازن نظامِ حیات کو اپنائیں گے، کیونکہ اسی میں ہماری انفرادی کامیابی، اجتماعی بھلائی اور ایک مہذب و مضبوط معاشرے کی ضمانت پوشیدہ ہے۔
میڈیکل سائنس بھی اس بات کی واضح تائید کرتی ہے کہ انسانی جسم ایک قدرتی حیاتیاتی گھڑی (Biological Clock) کے تحت کام کرتا ہے جسے سرکیڈین ردھم (Circadian Rhythm) کہا جاتا ہے۔ یہ نظام دن اور رات کے مطابق ہماری نیند، بیداری، توانائی اور کارکردگی کو منظم کرتا ہے۔دن کے وقت، خاص طور پر سورج کی روشنی میں، انسانی دماغ میں کارٹیسول (Cortisol) اور دیگر بیداری بڑھانے والے ہارمونز کی سطح بلند ہوتی ہے۔ یہ ہارمون انسان کو چست، متحرک اور ذہنی طور پر مستعد رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں کام کرنے کی صلاحیت، توجہ (focus) اور  فیصلہ سازی بہتر ہو جاتی ہے۔ اسی لیے تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ تر افراد کی ذہنی کارکردگی، سیکھنے کی صلاحیت اور جسمانی طاقت دن کے اوقات میں عروج پر ہوتی ہے۔
اس کے برعکس، رات کے وقت جسم میں میلاٹونن (Melatonin) نامی ہارمون خارج ہوتا ہے، جو نیند کو بڑھاتا ہے اور جسم کو آرام کی طرف مائل کرتا ہے۔ یہ ہارمون اندھیرے کے ساتھ بڑھتا ہے، جس کے نتیجے میں:
•     غنودگی (sleepiness) میں اضافہ ہوتا ہے
•     ردِعمل کی رفتار (reaction time) کم ہو جاتی ہے
•     توجہ اور یکسوئی متاثر ہوتی ہے
•     فیصلہ سازی میں غلطیوں کا امکان بڑھ جاتا ہے
متعدد طبی تحقیقات یہ بھی بتاتی ہیں کہ جو لوگ رات کے اوقات میں کام کرتے ہیں (مثلاً نائٹ شفٹ ورکرز)،  ان میں تھکن، ذہنی دباؤ، نیند کی کمی، اور بعض اوقات دل اور میٹابولک بیماریوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ وہ اپنے قدرتی حیاتیاتی نظام کے خلاف جا کر کام کرتے ہیں۔
مزید برآں، دن کی روشنی خود بھی ایک اہم عنصر ہے۔ سورج کی روشنی: دماغ کو بیدار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ موڈ کو بہتر بناتی ہے۔ Serotonin کی پیداوار بڑھاتی ہے۔ جسمانی توانائی کو برقرار رکھتی ہے
اسی لیے طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسان کو اپنی روزمرہ سرگرمیوں کو دن کی روشنی کے مطابق ترتیب دینا چاہیے اور رات کو مناسب نیند لینی چاہیے۔
ان تمام دلائل کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دن کام اور کارکردگی کے لیے اور رات آرام کے لیے موزوں ترین وقت ہے۔ اس فطری اور سائنسی نظام کو اپنانا نہ صرف انفرادی صحت بلکہ اجتماعی کارکردگی کے لیے بھی نہایت ضروری ہے۔