دجال کی عالمی حکومت اور نیوورلڈ آرڈر کی حقیقت(قسط چہارم )
رفیق چودھری
(گزشتہ سے پیوستہ)
2۔ سرزمین موعود کا وعدہ مشروط ہے
صہیونی کتاب پیدائش باب 17 آیات7اور8 کی خود ساختہ تعبیر نکالتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے لیے سرزمین موعود کا وعدہ ابدی ہے ،گویا وہ حضرت ابراہیم ؈ کے دین سےاگر بغاوت کریں تب بھی یہ وعدہ برقرار رہے گا مگر اُن کی یہ تعبیر بھی جعل سازی اور تحریف پر مبنی ہے ۔ حقیقت کیا ہے ، یہ آیات خود بتارہی ہیں :
”اور میں اپنے اور تیرے درمِیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمِیان اُن کی سب پُشتوں کے لیے اپنا عہد جو ابدی عہد ہو گا باندھوں گا تاکہ میں تیرا اور تیرے بعد تیری نسل کا خُدا رہوںاور میں تجھ کو اور تیرے بعد تیری نسل کو کنعان کا تمام مُلک جس میں تو پردیسی ہے ایسا دُوں گا کہ وہ دائمی ملکیت ہو جائےاور میں اُن کا خُدا رہوں ۔‘‘
اگرچہ اس حقیقت کو خود یہودی مورخین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ تورات کا موجودہ نسخہ بہت بعد میں یہودی ربیوں نے خود مرتب کیا ہے اور اس میں بہت تکرار اور تحریف موجود ہے جبکہ Dead Sea Scrolls Discovery میں دریافت ہونے والے قدیم نسخوں میں کتاب پیدائش کی مذکورہ بالا آیات سمیت بہت سی آیات نہیں ملیں ۔ بعض ناقدین کا یہ بھی خیال ہے کہ آیت 8 کو اضافی طور پر بعدمیں شامل کیا گیاہے ۔ تاہم اس کے باوجود یہاں ایک بار پھر اوّلاً یہ واضح ہورہا ہے کہ حضرت ابراہیم ؈ کے ساتھ کیا گیا عہد اُن کی پوری ملت کے لیے تھا، صرف یہودیوں کے لیے نہیں تھا ۔ خود یہودی علماء کی تعبیر کے مطابق ملت میں وہ تمام لوگ بھی شامل ہیں جو آپؑ کے پیروکار ہیں اور عہد کی نشانی پر عمل کرتے ہیں چاہے وہ آپؑ کی نسل سے ہوں یا نہ ہوں ۔ دوم : یہاں واضح طور پر بتایا جارہا ہے کہ یہ عہد اس لیے ہے تاکہ حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے تمام پیروکار شکرانے کے طور اللہ تعالیٰ پر ایمان لائیں اور اس کے فرمانبردار رہیں (یعنی اللہ کو ہی معبود مانیں)۔یعنی اگر وہ نافرمانی کریں گے تو پھر یہ عہد خود بخود ساقط ہو جائے گا ۔ اسی بات کی گواہی تورات کا ہر دوسرا باب دے رہا ہے کہ یہ عہد اللہ کی فرمانبرداری سے مشروط ہے۔مثلاً:
”اگر تم اُس عہد کو توڑ دو جو خداوند نے تمہارے باپ دادا سے کیا تھا، تو وہ تم پر غضب نازل کرے گا اور تم جلد اُس اچھی زمین سے فنا ہو جاؤ گے۔“(یوشع 23-16)
”اگر تم اپنی راہیں درست کرو، اور سچ بولنے لگو تو میں تمہیں اس جگہ بسا دوں گا۔“(یرمیاہ 7،آیت 3)
”اگر پردیسی اور یتیم اور بیوہ پر ظلم نہ کرو اور اس بیت المقدس میں بے گناہوں کا خون نہ بہاؤ اور غیر معبودوں کی پیروی جس میں تمہارا نقصان ہے نہ کرو تو میں تم کو اس مقام اور اس ملک میں بساؤ ں گا جو میں نے تمہارے باپ دادا کو دیا تھا۔‘‘
(یرمیاہ7، آیات 6اور 7)
”اگر تم خداوند اپنے خدا کی بات سنو گے، تو وہ تمہیں برکت دے گا اور ملک میں آباد کرے گا۔اگر تم نافرمانی کرو گے، تو وہ تمہیں جلاوطن کر دے گا۔اور خُداوند تجھ کو زمین کے ایک سرے سے دُوسرے سِرے تک تمام قَوموں میں پراگندہ کرے گا۔ ‘‘ (استثناء: 28)
”اگر تم اجنبیوں پر ظلم کرو گے تو میں تمھیں بھی ملک بدر کر دوں گا۔“(خروج 22:21 )
تورات کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کی پوری تاریخ بھی گواہ ہے کہ سرزمین ِ موعود کا وعدہ اللہ کی اطاعت سے مشروط ہے ۔ بنی اسرائیل کے لیے مصر سے نکلنے کے بعد جو زمین متعین کی گئی اس کا ذکر گنتی 34 و حزقی ایل 47 میں کیا گیا ہے اس میں کہیں بھی نیل سے فرات تک کے علاقے کا ذکر نہیں ہےلیکن اُس وقت بھی اس وعدے کو مشروط رکھا گیا ہے ۔ جیسا کہ کتاب احبار میں ہے :
”پِھر خُداوند نے مُوسیٰ ؑ سے کہا:بنی اِسرائیل سے کہہ کہ میں خُداوند تمہارااخدا ہوں۔ تم ملک مصر کے سے کام جس میں تم رہتے تھے نہ کرنا اور مُلک کنعان کے سے کام بھی جہاں میں تمہیں لیے جاتا ہوں نہ کرنا اور نہ اُن کی رسموں پر چلنا۔تُم میرے حُکموں پر عمل کرنا اور میرے آئین کو مان کر چلنا۔‘‘(احبار 18، 1تا4)
”سو ایسا نہ ہو کہ جس طرح اُس ملک نے اُس قوم کو جو تم سے پہلے وہاں تھی نکال دیا اُسی طرح تم کو بھی جب تم اسے آلودہ کرو تو نکال دے ۔“ (احبار 18۔ 28)
یہاں بھی یہ بات واضح کر دی گئی کہ اگر بنی اسرائیل اللہ کے قانون کو مان کر چلیں گے تو وہ اس سرزمین پر امن کے ساتھ رہ سکیں گے لیکن اگر اللہ کی نافرمانی کریں گے تو اس سرزمین سے محروم کر دئیے جائیں گے اور بنی اسرائیل کی تاریخ میں یہ بار بار ثابت ہوتا رہا ۔ مثلاً جب موسیٰ؈ بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر لائے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے موسیٰ ؈نے ان سے کہا :
”اے میری قوم! اس پاک زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے مقرر کر دی اور پیچھے نہ ہٹو ورنہ خسارے میں جا پڑو گے۔“(المائدہ :21)
لیکن بنی اسرائیل نے اللہ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا اور کہا: وہاں ایک طاقتور قوم ہے ، ہم ان سے نہیں لڑ سکتے ، تم اور تمہارا خدا لڑو ، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں ۔ اس نافرمانی پر اللہ تعالیٰ نے انہیں سزادی اور وہ چالیس سال تک صحرا میں بھٹکتے رہے :
”فرمایا تحقیق وہ زمین ان پر چالیس برس کے لیے حرام کی گئی ہے، اس ملک میں سرگرداں پھریں گے، سو تو افسوس نہ کر نافرمان قوم پر۔“(المائدہ :26)
معلوم ہو اکہ ملتِ ابراہیم ؑکے لیےزمین کا وعدہ الٰہی منصوبے کا حصہ تھا، لیکن اُس زمین میں برکت کے ساتھ سکونت اور اقتدار نافرمانی کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ بنی اسرائیل کو کئی بار جلاوطن ہونا پڑا( تفصیل آگے آئے گی )۔ یہی بات اللہ نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید(المائدہ:66) میں بھی بیان کی :
’’اور اگر انہوں نے قائم کیا ہوتا تورات اور انجیل کو اور اس کو جو کچھ نازل کیا گیا تھا ان پر اِن کے رب کی طرف سے‘تو یہ کھاتے اپنے اوپر سے بھی اور اپنے قدموں کے نیچے سے بھی۔“
اس بات کو یہودی ربی بھی مانتے ہیں کہ سرزمین موعود میں سکونت، امن، اطاعت اور فرمانبرداری کے ساتھ مشروط ہے۔ جیسا کہ ربی موسیٰ بن ناحمان کتاب احبار 18، آیت 28 کی تشریح میں لکھتا ہے :
”وعدہ زمین کا ہے، لیکن قبضہ اور امن خدا کی اطاعت سے مشروط ہے۔ اگر قوم گناہ کرے تو زمین انہیں اُگل دے گی (یعنی اس پاک سرزمین سے نکالے جائیں گے )۔“
اسی طرح تالمود میں یہ تشریح موجود ہے :
”اسرائیل کی سرزمین رہنے کے لیے بہترین ہے، مگر صرف اُس کے لیے جو تورات کی پیروی کرے۔“ (Talmud, Ketubot 110b)
بنیاد پرست یہودیوں کی بہت بڑی تنظیم Neturei Karta بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ خدا نے بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کی وجہ سے انہیں جلاوطنی میں رکھا ہے ، وہ خود فلسطین واپس نہیں آسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ناطوری یہودی فلسطینیوں کی بے دخلی، قتل عام یا زمین ہتھیانے کے ہر عمل کے مسلمانوں کی طرح ہی شدید مخالف ہیں اور اسرائیلی ریاست کو شیطانی تخلیق قرار دیتے ہیں۔ اس یہودی تنظیم کا واضح موقف ہے کہ فلسطینی مسلمانوں کا نہ صرف یروشلم،مسجد اقصیٰ و قبتہ الصخرہ پر حق ہے بلکہ تمام فلسطینی مسلمان اُس ساری سرزمین پر بھی عین حقِ ملکیت رکھتے ہیں کہ جو تقسیمِ فلسطین1948ء سے پہلے اپنی وسیع سرحدی حدبندیوں کے ساتھ قائم ودائم تھی۔ ناطوری یہودی صہیونیت کے بھی دشمن ہیں اور یہودی مذہبی کتب کی تعلیمات کی روشنی میں صہیونیت کو سرے ہی سے یہودی مذہب سے خارج اور مرتد قراردیتے ہیں۔ یہودیوں کی یہ تنظیم پریس کانفرنسز ، لیکچرز ، انٹرویوز ، کتب و مضامین ، مغربی ممالک میں پُرزور احتجاجی مظاہروں اور سوشل میڈیا کی سرگرمیوں کے ذریعے اسرائیلی ریاست اور اس کے مظالم کی مخالفت جاری رکھے ہوئے ہے ۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگر صہیونی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سرزمین موعود کا وعدہ صرف نسلی یہودیوں کے لیے ہے تو یہ دعویٰ بھی غلط ہے کیونکہ اصل میں یہ وعدہ ابراہیم ؈ کی پوری ملت کے لیے ہے۔لیکن اگر صہیونیوں کی بات مان لی جائے تو تب بھی اس میں دھوکہ اور فریب ہے کیونکہ موجودہ صہیونی تو نسلی یہودی بھی نہیں ہیں۔ یہ اشکنازی یہودی ہیں ۔ گریٹر اسرائیل کا تصور پیش کرنے والا تھیوڈور ہرزل بھی ایک اشکنازی یہودی تھا ۔ڈی این اے ریسرچ کسی اشکنازی یہودی کو نسلاً بنی اسرائیلی ظاہر نہیں کرتی۔ پھر یہ کہ صہیونی تحریک یا گریٹر اسرائیل کے منصوبے میں صرف اشکنازی یہودی شامل نہیں ہیں بلکہ اس میں دنیا کی دیگر کئی قوموں کے لوگ بھی شامل ہیں جو کہ نسلاً بنی اسرائیل نہیں ہیں لیکن دجالی دین کے پیروکار ہونے کی وجہ سے اور دجال کی عالمی حکومت کے قیام کے لیے صہیونی تحریک کے ساتھ ہیں ۔ جیساکہ گمراہ عیسائی ہیں ، قادیانی ہیں ، حتیٰ کہ مسلمانوں کے بھی کئی گمراہ فرقے اور طبقات جو قبالہ یا Occult روایت کے عالمی فتنے کا شکار ہو چکے ہیں یا فری میسنری ، ایلومیناٹی جیسی باطنی تنظیموں میں سرگرم ہیں اوراپنے مسایاح (یعنی دجال ) کی عالمی حکومت کے قیام کے لیے کوشاں ہیں ، وہ بھی صہیونیت کے سہولت کار ہیں۔ دجالی دین میں شامل یہ سب لوگ اس سرزمین پر کیسے دعویٰ کر سکتے ہیں ؟معلوم ہوا کہ اگر صہیونی تحریک اور دجالی دین میں شامل سب لوگ خود ابراہیم ؈کی نسل سے نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود فلسطین کو اپنے لیے نسلی بنیادوں پر وعدہ کی سرزمین قرار دیتے ہیں (جیسا کہ اشکنازی ، قادیانی و دیگر صہیونی ) تویہ دنیا کو بہت بڑا فریب دے رہے ہیں ۔اسی طرح جو حضرت ابراہیم ؈ کے دین پر نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود نظریاتی یا روحانی طور پر اس سرزمین کو اپنے لیے وعدے کی سرزمین قرار دیتے ہیں وہ بھی دنیا کو فریب دے رہے ہیں ۔ کیونکہ نظریاتی اور روحانی طور پر اس سرزمین کا وعدہ صرف ان کے لیے ہے جو حضرت ابراہیمؑ کے دین پر چلیں گے ۔ جبکہ صہیونیت جیسی دجالی آرگنائزیشنزاور دجالی دین کو ماننے والے حضرت ابراہیم؈ کے دین پر نہیں ہیں، وہ ابراہم اکارڈز کے نام پر سادہ لوح دنیا کو دھوکہ دے رہے ہیں ۔ اس کا ثبوت خود انہی کے دلائل سے آئندہ اقساط میں پیش کیا جائے گا ۔ ان شاء اللہ !(جاری ہے )