(کارِ ترقیاتی) براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے - عامرہ احسان

9 /

براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے

عامرہ احسان

کچھ آوازیں ہیں جو پچھلے دنوں گلوبل ویلج کی فضاؤں میں گونجتی رہی ہیں۔تکبیرِ تشریق اور لبیک۔ بندہ و صاحب و محتاج و غنی کی تفریق سے ماوراء کفن پوش قافلے رواں رہے۔ دنیا نے دیکھا کہ پروانہ وار عقل و خرد سے بیگانہ لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلند کرتے قافلے فاصلے ناپ رہے ہیں۔ مزدلفہ سے کنکریاں چنتے سوال اُٹھاتے ہیں نہ شیطانوں کو پتھر مارتے وجہ پوچھتے ہیں! نہ میدان عرفات میں بندھی ہچکیوں کے ساتھ مغفرت طلب کرتے کوئی مائی کا لال روشن خیال اُن سے یہ پوچھنے کی جرأت کر سکتا ہے کہ کن گناہوں پر بلک رہے ہو؟ (اپنے ہاں تو گناہ فخر اور لذت سے بیان کر کر کے دانشور کالم (مزید) سیاہ کرتے ہیں!)۔ 
جس طرح گندا خون جسم کے ہر کونے کھدرے، ہرپور سے نکل کر دل کی طرف لپکتا ہے، اجلا ستھرا ہو کر نئی زندگی اور توانائی کا پیغام لے کر واپس لوٹتا ہے۔ اسی طرح دنیا کے ہر گوشے، آبادی، ملک سے نکل کر اہل ایمان اپنے روحانی مرکز کی طرف لبیک اللھم لبیک پکارتے لپکتے ہیں۔ نئی زندگی، تازہ روح ایمانی سے لبریز ہو کر اپنی مردہ بستیوں کے لیے پیغامِ حیات لے کر آتے ہیں۔ شرط یہ ضرور ہے کہ نہ اقبالؒ کا یہ شکوہ ان پر صادق آتا ہو کہ   ؎
نماز و روزہ و قربانی و حج
یہ سب باقی ہیں تو باقی نہیں ہے
 اور نہ المیہ ہی یہ بنے کہ… 
خر عیسیٰ ؑ اگر بمکہ رودں
چوں بیاید ہنوز خر باشد!
(شیخ سعدی)
حضرت عیسیٰ  E کا گدھا اگر مکہ بھی چلا جائے وہ جب واپس آئے گا، گدھے کا گدھا ہی رہے گا۔
وگرنہ توحید سے لبریز، عقل کو محو تماشائے لب بام چھوڑ دینے والی یہ کہانی مسحور کن ہے۔ 
پوری امت سے نمائندے چن چن کر بلائے جاتے ہیں۔ آؤ اور ابراہیمؑ حنیف، کی داستانِ حیات کے ایک ایک کردار میں ڈھل ڈھل کر اللہ اعلیٰ و اکبر، اقویٰ و اقدر کی پہچان پالو۔ ابراہیم  ؑ و اسماعیل  ؑ کے تعمیر کردہ گھر کے پروانے بن کر طواف کر کے دکھاؤ (لوٹ کر اللہ، اس کے احکام کو اسی طرح زندگی کا مرکز و محور بنا کر دکھاؤ گے   بلا چوں و چرا)۔ طواف کر لیا؟ اب مقامِ ابراہیم  ؑ پر کھڑے ہو کر نفل ادا کرو۔ وہ ابراہیم E جس نے وفا کا حق ادا کر دیا۔ (ابراہیم الذی وفّٰی) سلٰمٌ علیٰ ابراہیم۔ مالک کائنات اپنے بندے پر سلامتیاں نچھاور کرتا ہے! اب آگے بڑھو۔ اسماعیل ؑ بن جاؤ… زمزم پیؤ… یہ بھی عبادت ہے۔ (اب تک تو نیسلے پی پی کر امریکہ کی جیبیں بھرتے رہے!) 
آگے بڑھو۔ عبادتِ عظمیٰ کا اگلا رکن مامتا کو سلامی پیش کرنا ہے۔ عورت کی تکریم اس کا تقدس و وقار، اس کی عظمت کی معراج اس کا ماں بننا ہے۔ اسماعیل ؑ کی ماں ہاجرہؓ ۔ حسنؓ و حسینؓ کی ماں فاطمۃ الزہرۃؓ…! آج کی دنیا کے پاس عورت کے لیے کیا رکھا ہے؟ مسلمان ہو تو سلمان رشدی کی کم نصیب ماں بننا…؟ کذاب راجا اصغر کی ماں ہونا… توہین ِرسالت (کے جرم) پر برطانیہ بے قرار ہے (ایک مرتبہ پھر) اسے وی آئی پی بنا کر پاکستان سے بچالے جانے کے لیے ۔یا عورت کی معراج امارات کی وہ خاتون پائلٹ جو امریکی خونخوار جنگوں میں جھوٹی شہرت کی خاطر، چند ٹکوں کے عوض شام کی مسلمان آبادیوں پر بمباری کو سرمایۂ افتخار جانے؟ مغرب عورت کے لیے کیا مقام رکھتا ہے؟ حیا، عصمت، عفت تار تار کیے معاشروں کے چوراہوں پر سجائے بیٹھا ہے۔ آزادی، مساوات کا جھانسہ دے کر مامتا کے عظیم جذبے، عمیق احساس کو کچل کر رکھ دینے والا…؟ بچوں سے مائیں چھین کر ان سے دفاتر، کیٹ واک ریمپ، رقص و موسیقی کے تھیڑ سجانے والا…! اپنے قدموں کے نیچے مسعٰی کو پا کر سیدہ ہاجرہ ؓکے نقش قدم پر دوڑنے والے عقیدت سے سر جھکائے کسی پاکیزہ دل حاجی سے پوچھو، عورت بارے صفا مروہ نے اسے کیا پڑھایا! چہ نسبت خاک را بہ عالم پاک!
ہر قدم حج کی کہانی عشق کی کہانی ہے  ع  عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشق۔
گلوب پر ابراہیمE کی داستان بہ رنگ دگر چھائی ہوئی ہے۔ کوئی تھیوری پڑھ رہا، سبق یاد کر رہا ہے حج کرتے ہوئے۔ کوئی عملاً تجربہ گاہ میں اترا ہوا ہے۔ یعنی    ؎
آگ ہے اولادِ ابراہیم ؑ ہے نمرود ہے!
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحان مقصود ہے؟ 
کل وہ آگ وقت کے نمرود نے لکڑیوں سے بھڑکائی تھی۔ اب وہ آگ سائنس ٹیکنالوجی کی سان چڑھ کر کئی گنا    تباہ کن ہو چکی۔ ابراہیمd کے بیٹے ہیل فائر میزائلوں، کیمیائی بموں کا لقمہ بنائے جا رہے ہیں۔ آج کا نمرود ابراہیم ؑ کے نام لیواؤں کو بھی اتحادی بنا کر ساتھ لیے     ہر صاحب ایمان کے در پے ہے! سبق تازہ کر لیجیے۔ نمرود اللہ کے وجود کا منکر نہ تھا، نہ اسے تخلیق کائنا ت کا دعویٰ تھا۔ اس کا دعویٰ یہ تھا کہ عراق کا حاکمِ مطلق میں ہوں۔ میری زبان قانون ہے۔ تمدنی سیاسی معاملات کی خدائی (حاکمیت) میری ہے۔ طرز زندگی (معاشرت، سیاست، معیشت… ہر دائرہ حیات) طے کرنا میرا کام ہے۔ ابراہیمd نے نمرود کی رٹ کو چیلنج کیا تھا۔ اس کی خدائی فرمانروائی کا انکار کیا تھا۔ یہ حق اللہ کے سوا کسی کا نہیں کہ وہ اپنی مخلوق (انسان) کے لیے نظام زندگی طے کرے۔ اسی کا نام شریعت ہے۔ خواہ وہ براہیمی ؑ ہو، موسوی ؑ، عیسوی ؑ یا محمدﷺ کی لائی ہوئی ہو۔ زمان و مکان کے فاصلے مٹ جاتے ہیں یہ کہانی پڑھتے پڑھتے! 
غلامی ذہن کو کتنا مسخ کر دیتی ہے۔ آج ہمارا حال دیکھیے۔ دو ہزار سال پرانی سینٹ ویلنٹائن کی رطب و یابس کہانی کے لال پھول مسلمانوں کو یکایک ترقی یافتہ، روشن خیال، جدید بنا دیتے ہیں۔ معشوقہ اپنا عاشق تلاش کرتی پھرے تو ماڈرن ہے! 1400 سال پہلے سے آج تک محفوظ تواتر اور تسلسل سے پاکیزہ ترین ہاتھوں، سینوں اور اعمال میں محفوظ چلی آتی پاکیزہ قرآنی حیا پردے کی  اُجلی بے داغ روایت قدامت پرستی قرار پائے؟ سینٹ پال، سینٹ پیٹرز، سینٹ جوزف کے عیسائی مشنری مدارس جدید تعلیم کے نام پر معتبر قرار پائیں۔ مدرسہ عبداللہ ابن عباسؓ، مدرسہ عبداللہ بن مسعودؓ، جامعہ حفصہؓ کی تحقیر ہو…؟ یہ سب نمرودی احکام کے تحت نہیں؟ آج کے نمرود اور اس کے متبعین مسلم ممالک میں امریکی رٹ قائم کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں۔ گاجر بھی اور ڈنڈا بھی۔ ڈالر بھی اور میزائل بھی! اس کے بیچوں بیچ   دعویٰ  ٔ اسلام بھی ہمراہ چلتا ہے۔ کفر کی بانہوں میں بانہیں ڈالے مسلمانوں کا شکار کھیلتے بھی نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے! عید الاضحی پر منظر تو دیکھئے۔ سوا لاکھ فلسطینی کھلے آسمان تلے عید منا رہے تھے۔ آٹھ لاکھ فلسطینی ٹوٹے پھوٹے بمباری شدہ گھروں، بازاروں، مسمار صنعتی مراکز میں بے یار و مددگار بیٹھے ہیں۔ شام سے در بدر ایک کروڑ مسلمان پھٹی پھٹی نظروں سے اس امت کو عید مناتے دیکھ رہے تھے۔ ایسا ہی منظر (طرفہ تماشا ہے!) خود پاکستان میں ہے۔ جبری بے گھر لاکھوں افراد عیدالفطر سے گزر کر عید الاضحی کے بعد بھی اس وعدے کے پورے ہونے کی امید پر خیموں میں بیٹھے ہیں کہ گھروں کو لوٹ جائیں گے۔  یہ سب کیا ہے؟ پورے عالم پر چھائی نمرودی داستان کا ہی ایک حصہ! اپنی فکر کیجیے … آپ کہاں کھڑے ہیں؟
بتاؤ تم کس کا ساتھ دو گے
اِدھر ہے شیطان اُدھر خدا ہے!
اللہ کرے عید الاضحی سے حاصل کردہ تربیت ملک و ملت، امت کے لیے خیر اور ایمان کا سامان لے کر آئے۔ اگر ہم نے خواہشات نفس، اموال، اولاد (اپنے اسماعیل ؑ!) و محبوبات کو اللہ کی خاطر قربان کرنے کا حوصلہ و جذبہ پیدا کر لیا تو یہی قربانی کی روح ہے۔ ورنہ نری قصابی…       دم پخت ران، سری پائے نہاری… بریانی قورمہ…  حاصلِ عید…   خدانخواستہ!