مشکل ترین حالات کے باجود اللہ تعالیٰ نے آپریشن ’’بنیان مرصوص‘‘ میں
فتح عطافرمائی ، اس پر ہمیں شکرگزاری کا طرزِعمل اختیا رکرنا چاہیے،
جشنِ’’ معرکۂ حق‘‘ کے نام پرجس طرح اللہ کے احکامات کی دھجیاں
اُڑائی گئیں ، یہ اللہ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے ،
سوویت یونین پاکستان سے کئی گنا بڑی طاقت تھی لیکن نظریہ کو ترک
کیا تو اپنا وجودبھی قائم نہ رکھ سکا ،پاکستان کو سیکھنا چاہیے ،
’’بنیان مرصوص‘‘ کی قرآنی اصطلاح کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ ہم
پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلام کا قلعہ بنائیں ،
آج نماز ، روزہ ، زکوٰۃ ، حج و قربانی جیسی عظیم عبادات محض رسم بن
کر رہ گئی ہیں جبکہ ان کی روح سے اُمت غافل ہے ۔
خصوصی پروگرام’’ امیر سے ملاقات‘‘ میں
امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ کے رفقائے تنظیم و احباب کے سوالوں کے جوابات
میزبان :آصف حمید
مرتب : محمد رفیق چودھری
سوال:مئی 2025ء میں بھارت کے ساتھ پاکستان کا معرکہ ہواجس میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو فتح نصیب فرمائی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے ۔ اس حوالے سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا کیا طریقہ ہونا چاہیے اور کن کن وجوہات سے یا کن کن حرکتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا غضب آ سکتا ہے؟
امیر تنظیم اسلامی: قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
{وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ(7)}(سورہ ابراہیم ) ’’اور یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان کردیا تھا کہ اگر تم شکر کرو گے تومیں تمہیں اور زیادہ دوں گا‘اور اگر تم کفر کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بھی بہت سخت ہے۔‘‘
بھارت نے پہلگام کا فالس فلیگ ڈراما رچا کر پاکستان پر جنگ مسلط کی اور اس کا نام آپریشن سندور رکھا ۔ پاکستان نے جوابی آپریشن کا نام سورۃ الصف کی آیت نمبر 4 سے لیا:
{اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ(4)} ’’اللہ کو تو محبوب ہیں وہ بندے جو اُس کی راہ میں صفیں باندھ کر قتال کرتے ہیں ‘ جیسے کہ وہ سیسہ پلائی دیوار ہوں۔‘‘
یہ اچھی بات تھی اور بہت اچھی بات یہ تھی کہ بھارت کے پے در پے حملوں کے بعد پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص کا آغاز کیاتو نماز فجر ادا کرکےاوراس کے بعد نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے کیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ نے بہترین کامیابی عطافرمائی ۔ اس کے باوجود کہ پاکستان سیاسی ، معاشی ، معاشرتی ، اخلاقی اور ہر لحاظ سے بحرانوں کا شکار ہے ، دنیا میں پاکستانی پاسپورٹ کی کوئی قدر نہیں ہے، ہماری عدلیہ کا شمار دنیا کے بدترین نظامِ انصاف میں ہونے لگا ہے ۔ ہماری ان تمام تر غلطیوں ، کوتاہیوں اور نافرمانیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے پاکستان کو فتح عطافرمائی ۔پھر اس سال ایران امریکہ جنگ کے دوران اللہ تعالیٰ نے پاکستان کومزید عزت بخشی اور پاکستان جنگ بندی کروانے میں کامیاب ہوا جس سے دنیا میں پاکستان کی بہت نیک نامی ہوئی ۔ اس کے باوجود کہ ہمارا ملک مشکلات اور مصائب کا شکار ہے ، اللہ تعالیٰ نے بہت فضل کیا اور بہت بڑی نعمت ہمیں عطا فرمائی۔ جب اللہ تعالیٰ نعمت عطا فرمائے تو بندوں کا طرز عمل شکرگزاری والا ہونا چاہیے ۔ لیکن بدقسمتی سے ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ایک سال مکمل ہونے پر جو جشن منایا ، اُس میں رقص و سرود ، فحاشی اور عریانی ، بے پردگی سمیت بہت کچھ ایسا تھا جو شریعت کی مخالفت اور سرکشی پر مبنی تھا ۔ کہاں ہم نے قرآن پاک سے بنیان مرصوص کے الفاظ لے کر اور نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے معرکہ لڑا اور کہاں آج ہم اسی قرآن کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور اللہ کے احکامات کی دھجیاں اُڑا رہے ہیں ۔ یہ تو صریح ناشکری والی بات ہے ۔ ہمیں اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت سے سیکھنا چاہیے کہ جب آپ ﷺ کو خوش خبری ملتی تو آپ سجدۂ شکر بجا لاتے ۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ کا سر شکرگزاری کی وجہ سے رب کے سامنے جھکا ہوا تھا ، یہاں تک کہ آپ ﷺ کی پیشانی مبارک اونٹ کے کجاوے پر ٹکی ہوئی تھی ۔ گویا اعلان ہورہا تھا کہ آپ ﷺ کسی فاتح کی حیثیت سے نہیں بلکہ اللہ کے ایک عاجز اور شکر گزار بندے کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہو رہے ہیں ۔ ہم جشنِ معرکۂ حق کے نام سے جو کچھ کر رہے ہیں کیا یہ سنت رسول ﷺ سے کوئی مطابقت رکھتا ہے ؟ غورکرنا چاہیے کہ ہماری یہ حرکتیں اللہ کے عذاب کو دعوت دینے والی نہ ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں انعام دینا چاہتا ہے جبکہ ہم اللہ کے احکامات توڑرہے ہیں ۔ ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں ۔ ملکی حالات پہلے ہی ناگفتہ بہ ہیں ۔ پٹرول 416 روپے فی لٹر پر پہنچ گیا ہے ، ہمارا ہر پیدا ہونے والا بچہ ساڑھے تین چار لاکھ کا مقروض ہے ۔ ہماری آبادی کی کثیر تعداد ایسی ہے جس کو دو وقت کا کھانا بھی میسر نہیں ہے ، آئے روز خودکشیاں ہو رہی ہیں اوردوسری طرف ہماری حرکتیں کیسی ہیں ؟ وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے طیارہ 11 ارب روپے کا خریدا گیا ۔کروڑوں روپے معرکہ حق کے جشن میں پھونک دیے گئے اور اب اعلان کیا گیا کہ ساڑھے 4ارب روپے کی لاگت سے معرکۂ حق کی یادگار تعمیر کی جائے گی۔ ایک طرف عوام بھوک ، مہنگائی اور غربت سے خودکشیاں کررہے ہیں اور دوسری طرف اشرافیہ کی عیاشیاں دیکھ لیجئے ۔ کئی درد مند لوگوں نے اس پر آواز بھی اُٹھائی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ذِمّہ دار اداروں کی طرف سے وضاحت آنی چاہیے کہ یہ غلط ہوا ہے اور آئندہ اس کی فضول خرچیوں کو روکا جائے گا ۔ لیکن بدقسمتی سے یہ ایک دفعہ کا معاملہ نہیں ہے ۔ ہمارے ہاں معمول بن چکا ہے ، چاہے 14 اگست کا دن ہو، 28 مئی یوم تکبیر ہو یا کوئی بھی قومی دن ہو ، سرکشیوں اور فضول خرچیوں کا معاملہ اتنا بڑھ جاتاہے کہ بات ناشکری سے بھی آگے بڑھ جاتی ہے۔ اس مرتبہ یوم تکبیر عید الاضحی کے ساتھ آرہا ہے ۔ ایک طرف نماز عید کے لیے جاتے ہوئے ہم تکبیرات پڑھیں گے ، دوسری طرف جانوروں کی قربانی کرتے ہوئے تکبیر پڑھیں گے، تیسری طرف 28 مئی کو یوم تکبیر منایا جائے گا۔ اس سارے تناظر میں تکبیر کا مفہوم بھی ہمارے سامنے رہنا چاہیے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ حکم صادر فرماتاہے :
{وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ(3)} (المدثر) ’’اپنے رب کی بڑائی کا بول بالا کیجیے۔‘‘
رب کی بڑائی کا بول بالا صرف اللہ اکبر کہنا تو نہیں ہے ۔
یا وسعت افلاک میں تکبیر مسلسل
یا خاک کی اغوش میں تسبیح و مناجات
وہ مذہب مردان خداگاہ و خدا مست
یہ مذہب ملا و جمادات و نباتات
اللہ اکبر کی تسبیح کہنا بھی ضروری ہے، اس کا بھی اجر ہے مگر ایک اس کا عملی تقاضا بھی ہے کہ زمین پر اللہ کی بڑائی کا نفاذ ہو۔ ہم نے گزشتہ سال بنیان مرصوص کے نام سے آپریشن کیا ، اچھی بات ہے ایسے قرآنی نام استعمال ہونے چاہئیں لیکن اس کا عملی تقاضا یہ ہے کہ ہم پاکستان کو حقیقی معنوں میں بنیان مرصوص بنائیں جس کا آفیشل نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ مگر بدقسمتی سے آج یہاں بہت سے معاملات میں اللہ کی بڑائی تسلیم نہیں کی جارہی ۔ سود کے دھندے کو دیکھ لیں، اللہ اور اس کے رسول ﷺسے جنگ جاری ہے۔بے حیائی اور فحاشی کا طوفان اپنے عروج پر ہے۔ سٹہ ، جوا ، شراب سرِعام جاری ہے ۔ خلافِ شریعت قانون سازیاں ہو رہی ہیں ۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینے والی باتیں ہیں۔ اگر ہماری سرحدیں محفوظ ہیں تواللہ کا بڑا انعام ہے لیکن اگر ہمارا نظریہ محفوظ نہیں ہے تو یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔محترم ڈاکٹر اسراراحمدؒ بھی ذکر فرمایا کرتے تھے ، سوویت یونین پاکستان سے کئی گنا بڑی طاقت تھی لیکن نظریہ کو ترک کیا تو وجود قائم نہ رکھ سکا ۔ ہمارا اصل نظریہ ہے: لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔ اس کلمے کا عملی طور پر بھی نفاذ ہوگا تو حقیقی معنوں میں تکبیر کے تقاضے پورے ہوں گے ۔ اللہ کے احکام کا نفاذ کیا جائے گا تو پاکستان حقیقی معنوں میں بنیان مرصوص بنے گا ۔عیدالاضحی کے موقع پر ہم تکبیر پڑھتے ہوئے جانوروں کی گردن پر چھری پھیریں گے ، وہی چھری اپنے نفس کی خواہشات پر بھی پھیرنی پڑے گی، اپنی جان و مال کو اللہ کے دین کی سربلندی اور غلبہ کے لیے قربان کریں گے تو تکبیر اور قربانی کے تقاضے پورے ہوں گے ۔ 28 مئی کو یوم تکبیر منایا جائے گا ۔ 14 مئی 1998 ءکو بھارت نےایٹمی دھماکے کیے اور اگلے دن بھارتی وزیر اعظم نے پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دے دی ۔ 28 مئی 1998ءکو پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو29 مئی کو اسی بھارتی وزیر اعظم نے بیان جاری کیا کہ ہم پاکستان سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں ۔ قرآن میں سورۃ الانفال کی آیت 60 میں اللہ تعالیٰ نے اسی لیے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کے لیے جنگی سازو سامان تیار رکھو تاکہ وہ مرعوب رہیں ۔ شکرگزاری کا تقاضا تو یہ ہے کہ 28 مئی کو ہمارے حکمران اور مقتدر لوگ اللہ کے ہاں سجدۂ شکر ادا کریں کہ اس نے پاکستان کو ایٹمی صلاحیت عطا فرمائی ۔
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
کسی نے اچھا تجزیہ کیا کہ عربوں کو دولت ملی مگر انہوں نے عیاشیوں میں لگادی ، آج اُن کو مسائل کا سامنا ہے ۔ پاکستان کو مشکل ترین حالات میں ایٹمی صلاحیت اللہ نے عطا کردی ۔ اس کامیابی پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے ۔ اس شکرگزاری کا تقاضا ہے کہ ہم پاکستان میں اللہ کے دین کو نافذ کریں ۔ تب تکبیرِ رب کا مقصد پورا ہوگا ۔ اللہ کرے ہمارے حکمرانوں کو سمجھ آجائے ۔ بصورت دیگر اگر اللہ کے دین کے ساتھ بے وفائی والا معاملہ جاری رہا تو خدشہ ہے کہ اللہ کا غضب نازل نہ ہوجائے ۔
سوال: آج ملک سیاسی اور نظریاتی نفاقِ باہمی کا شکار ہے ، خیبر پختونخوامیں دہشت گرد حملے ہو رہے ہیں ، بلوچستان میں بھی نسلی اور لسانی بنیادوں پر فساد برپا ہے ، شیعہ سنی فساد اپنی جگہ ہے ، دونوں طرف کے علماء قتل ہورہے ہیں ۔ کہیں یہ سب بھی اللہ کے عذاب کی کوئی شکل تو نہیں ؟
امیر تنظیم اسلامی:آپ نے نفاق باہمی کے الفاظ استعمال کیےجو اکثر ڈاکٹر اسراراحمدؒ بھی استعمال فرمایا کرتے تھے۔ احادیث میں نفاق کی چار علامات بیان ہوئی ہیں : جھوٹ ، وعدہ خلافی ، خیانت اور گالم گلوچ ۔ بدقسمتی سے آج یہ چاروں چیزیں ہمارے قومی مزاج میں شامل ہو چکی ہیں ۔ حالانکہ یہ ملک ہم نے اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا اور نسلی ، لسانی ، علاقائی تعصبات کی نفی کرکے اس کو ہم نے بنایا تھا ۔ اس کا مطلب ہے کہ اسلام میں وہ طاقت اور کشش موجود ہے جو مختلف برادریوں ، زبانوں اور خطوں کے لوگوں کو آپس میں جوڑ کر ایک قوم بنا سکتا ہے۔ ہم نے اسلام کو پس پشت ڈالا تو ہر طرح کے تعصبات اُبھر کر سامنے آگئے اور یہی اللہ کا عذاب ہے ۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
{اَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا }(الانعام :65) ’’یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر دے ۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے حضرت لوطd کی قوم پر آسمان سے پتھر برستائے ،حضرت شعیبdکی قوم پر شعلے برسائے ، حضرت نوحd کی قوم پر طوفان آیا ، فرعون کو اس کی قوم سمیت غرق کر دیا ۔ قارون کو زمین میں دھنسا دیا ۔ مفتی شفیع ؒنے اوپر سے نازل ہونے والے عذاب کی ایک تعبیر یہ بھی کی ہے کہ بدترین قسم کے ظالم حکمران مسلط کر دئیے جائیں ۔ نیچے کا عذاب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عوام باغی اور نافرمان ہو جائیں ، اولاد نافرمان ہو جائے ۔ اس عذاب کی ایک شکل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ دشمن ہمیں آپس میں لڑائیں اور ہم ایک دوسرے کو قتل کرکے دشمنوں کے مقاصد پورے کریں ۔ ہم نے اللہ کے کلمے کو چھوڑا، قومیت کی اصل بنیاد کو چھوڑا تو باہمی نفاق کا شکار ہوگئے ۔ ہمیں رنگ ، نسل ، زبان سے بالاتر ہو کر جوڑنے والا اور ایک قوم بنانے والا واحد نظریہ کلمہ طیبہ ہے۔
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی ؐ
باقی تمام مسلم ممالک میں سے کوئی نسل کی بنیاد پر بنا ہے ، کوئی جغرافیہ کی بنیاد پر ، کوئی زبان کی بنیاد پر ، وہ ان بنیادوں پر قائم رہ سکتے ہیں ، مگر پاکستان کو قائم رکھنے والی واحد شے اسلام ہے ۔ ہر قسم کے نفاق ، تقسیم و تفریق اور تعصب کا واحد علاج اسلام ہے ۔ اسلام سے جڑیں گے تو ہم دوبارہ ایک قوم بن سکیں گے ۔
سوال:کسی بھی انقلابی تحریک یا جماعت کے متعلق ایک بڑا خدشہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا کام محض رسمی بن کر نہ رہ جائے ، خصوصاً وہ جماعت جو طویل عرصہ سے کام کررہی ہو، اس کے لیے یہ خدشہ مزید بڑھ جاتاہے ۔ وہ کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوتی ہے؟ (محمد ثوبان، سرگودھا)
امیر تنظیم اسلامی:ڈاکٹراسراراحمدؒ کے بقول انقلاب اس تبدیلی کو کہتے ہیں جو اجتماعی زندگی کےکم ازکم کسی ایک گوشہ میں آئے ۔ جیسے دنیا میں ہزار طرح کے معاشی ، سیاسی ، فکری انقلابات آتے ہیں ، انقلاب ِ فرانس اور انقلاب روس سے بھی دنیا واقف ہے لیکن اسلامی انقلاب جسے ہم کہتے ہیں اُس سے مراد ایسا انقلاب ہے جو انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام گوشوں میں آئے۔ ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے اس موضوع پر بے شمار خطابات اورکتابچے موجود ہیں۔ منہج انقلاب ِ نبوی ﷺ اور رسول انقلاب ﷺ کا طریق انقلاب ان میں سے چند معروف تصنیفات ہیں ۔ڈاکٹر صاحبؒ کے بقول انقلاب وہ نہیں ہے کہ چند رسوم کی اصلاح ہو جائے یا زندگی کے کسی ایک گوشے میں تبدیلی آجائے ، بلکہ حقیقی انقلاب وہ ہےجو فکری ، نظریاتی ، انفرادی اور اجتماعی تمام سطحوں پر آئے اور ایسا انقلاب لانے کے لیے جو تحریک یا جماعت کھڑی ہوگی وہ انقلابی تحریک کہلائے گی۔ کوئی بھی انقلابی تحریک جب تک اپنے انقلابی نظریہ سے جڑی رہے گی وہ فعال رہے گی لیکن جیسے جیسے نظریہ سے دور جائے گی تو رسمی رہ جائے گی ۔ اُمت کی مثال لے لیجئے ۔ آج بھی یہ اُمت قرآن کو ماننے والی ہے ، اللہ کے رسول ﷺ کو ماننے والی ہے مگر مجموعی صورت حال کیا ہے ؎
رہ گئی رسمِ اذاں، روح بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا، تلقین غزالی نہ رہی
نماز ، روزہ ، حج ، قربانی سب کچھ رسمی بن کر رہ گیا ہے ۔ آج کل قربانی کا سیزن ہے تو قربانی کے جانور کا گوشت مدنظر ہے اور وزن معلوم کرنے کے نت نئے فارمولے سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
{لَنْ یَّنَالَ اللہَ لُحُوْمُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا وَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ ط} (الحج:37)’’اللہ تک نہ تو ان کے گوشت پہنچتے ہیں اورنہ ان کے خون ‘لیکن اُس تک پہنچتا ہے تمہاری طرف سے تقویٰ۔‘‘
یہی حال باقی عبادات کابھی ہے ۔ اصل وجہ اپنی بنیاد اور نظریہ سے دوری ہے ۔ ہمارے فکر اور نظریہ کی بنیاد قرآن مجید ہے ۔ہمارے اسلاف نے اسی قرآن سے ہدایت حاصل کرکے دنیا پر حکمرانی کی اور آج ہم اسی قرآن کو چھوڑ کرمغلوب ہیں ۔ اسی طرح ایک انقلابی تحریک جب نظریہ اور بنیاد سے دور ہو جاتی ہے تو تھوڑے ہی عرصہ میں اس کے کام محض رسمی بن کر رہ جاتے ہیں ۔ انقلابی نظریہ محض چند رسومات کی اصلاح کا نام نہیں ہوتا بلکہ فکری ، سیاسی ، معاشی ، معاشرتی ، ہر سطح پر تبدیلی کا نام ہے ۔اگر میں ایک انقلابی تحریک سے وابستہ ہوں تو یہ تبدیلی سب سے پہلے میرے اندر آنی چاہیے ۔ اس معاشرے میں اگر اللہ کے احکامات ٹوٹتے ہوئے دیکھ کر بھی میرے چہرے کا رنگ تبدیل نہیں ہوتا تو اس کا مطلب ہے کہ انقلابی نظریہ میرے قلب میں اُترا ہی نہیں ہے ، جب یہ نظریہ قلب و روح میں اُتر جائے گا تو پھر جو جذبہ بیدار ہوگا وہ حقیقی تبدیلی اور انقلاب کا راستہ ہموار کر پائے گا ۔ بصورت دیگر میرا ہر عمل محض رسمی کارروائی ہوگی ۔ جیسے اُمت کے اعمال ہم دیکھ رہے ہیں ۔ الا ماشاء اللہ !
سوال:تنظیم اسلامی ان عوامل سے کس طرح محفوظ ہے؟
امیر تنظیم اسلامی:ہم یہ کہیں گےکہ ہم ان عوامل سے محفوظ رہنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ فتنہ تو ہر جگہ ہے ، سب کے لیے ہے ، نفس بھی لگا ہوا ہے، شیطان بھی لگا ہوا ہے ، دجالی تہذیب بھی ہے۔ کمی کوتاہی ہر جگہ ہوتی ہے اور اس کمی کوتاہی کا سب سے پہلے میں امیر تنظیم کی حیثیت سے ذمہ دار ہوں گا ۔ بندہ بہتر سے بہتر کی کوشش کرسکتا ہے، نتائج اللہ کے اختیار میں ہیں ۔ بنیادی بات وہی ہے جو پہلے بیان کی گئی کہ اگر انقلابی تحریک اپنے نظریہ پر گامزن نہ رہے تو وہ رسمی بن کررہ جاتی ہے ۔ ہمارے نظریہ میں قرآن مجید انقلابی کتاب ہے اور سیرت محمد ﷺ انقلابی سیرت ہے۔ اسی لیے ہمارے سلوگنز پر لکھا ہوتا ہے : ہماری دعوت قرآن کی بنیاد پر اور ہمارا منہج منہج انقلاب نبوی ﷺ ہے ۔ بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒ مفکرِ قرآن ، مدرس قرآن اور مبلغ قرآن تھے ۔ انہی کی تربیت کی روشنی میں ہم یہ کوشش کرتے ہیں کہ خطبات ِ جمعہ میں بھی قرآن کی تعلیم و تشریح بیان کریں ۔ یہی اللہ کے رسول ﷺ کی سنت ہے ۔ سنن ابی داؤد کی روایت میں ہے کہ: (( کان یقر القران ویذکر الناس )) آپ ﷺ خطابِ جمعہ میں قرآن کی تلاوت فرماتے اور قرآن کے ذریعے لوگوں کی تذکیر فرماتے تھے ۔
تنظیم اسلامی میں جو لوگ شامل ہو جاتے ہیں ، ان کی قرآنی تعلیم و تربیت کے لیے ہفتہ وار ایک پروگرام ہوتاہے جس کو ہم اُسرہ کہتے ہیں ۔ اس میں بھی قرآن کے ذریعے تذکیر و تعلیم کو فوقیت حاصل ہوتی ہے ۔ ان کے لیے ہفتہ وار درس قرآن کا اہتمام بھی ہوتاہے ۔ اس کے علاوہ بھی تنظیم اسلامی کے رفقاء سے یہ تقاضا کیا جاتاہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پرکم ازکم ایک پارہ قرآن کی تلاوت کریں۔ اس سے آگے بڑھ کر قرآن پاک کا ترجمہ ، تشریح پڑھنا یا سننا اور اپنے ایمان میں اضافے کی کوشش کرنا ، اس کا بھی تقاضا کیا جاتاہے ۔ اسی طرح ہمارے ہاں جو ماہانہ دعوتی اجتماعات بھی ہوتے ہیں ، ان میں بھی قرآن حکیم ہی کی آیات کی روشنی میں موضوعات طے ہوتے ہیں۔ رمضان میں دورۂ ترجمہ قرآن اور خلاصۂ مضامین قرآن کا تو سب کو علم ہے ۔ ڈاکٹر اسراراحمد ؒ نے انجمن ہائے خدام القرآن کا سلسلہ شروع کیا ، قرآن اکیڈمیز کا سلسلہ شروع کیا جن کے تحت رجوع الی القرآن کورسز کا اہتمام ہوتا ہے۔ پھر قرآن مجید کا منتخب نصاب بھی ہمارے ہاں پڑھایا جاتاہے۔ ہماری قرآن اکیڈمیز میں شام کے اوقات میں عربی گرامر کی کلاسز ، منتخب نصاب کی کلاسز ، سیرت النبی ﷺ کی کلاسز ہوتی ہیں ۔ یہ سارا اہتمام اسی لیے کیا جاتاہے تاکہ ہم قرآن اور منہج انقلاب نبوی ﷺ سے جڑے رہیں اور انقلابی جذبہ بڑھتا رہے ۔ ہم اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایمان کی کیفیت گھٹتی بھی ہے اور بڑھتی بھی ہے۔ قرآن کہتا ہے:{ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِیْمَانًا }(الانفال:2)’’اورجب انہیں اُس کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں توان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے۔‘‘
ایمان کو بڑھانے کے لیے، نظریے کی پختگی کے لیے قرآن کو فہم سے سمجھنا ،تدبر کے ساتھ اس پر غور و فکر کرنا ، ہدایت کی طلب و تڑپ کے ساتھ پڑھنا ، اس کی ہم مسلسل کوشش کرتے ہیں ۔
سوال: انقلابی جماعت کی انقلابی روح کو کس طرح برقرار رکھا جا سکتا ہے؟
امیر تنظیم اسلامی:شاہ ولی اللہؒ فرمایاکرتے تھے کہ جس دن تمہیں اطمینان ہو جائے کہ تمہاری نماز پرفیکٹ ہو گئی اُس دن تمہاری روحانی سطح پر موت واقع ہو جائے گی۔اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا کہ مومن کے دو دن برابر نہیں ہوتے ، یعنی مومن کا ہر دن پہلے سے بہتر ہونا چاہیے ۔ دین فقط چند عبادات یا رسومات کا مجموعہ نہیں ہے ، عبادات اہم ہیں مگر کل دین نہیں ہیں ۔ دین انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام گوشوں پر محیط ہے ۔ دین کا یہ جامع تصور قرآن اور صاحبِ قرآن ﷺ سے ملے گا ۔ اسی طرح انقلاب صرف فرد کی سطح پر تبدیلی کا نہیں ، بلکہ نظام کی سطح پر تبدیلی کا نام بھی ہے ۔ اجتماعی سطح پر انقلاب نہیں آ سکتا جب تک کہ انفرادی سطح پر انقلاب برپا نہ ہو ۔ جب انفرادی سطح پرانقلاب برپا ہو اور ایسے افراد جمع ہوکر اجتماعی جدوجہد کریں تو پھر انقلابی تحریک فعال ہوگی۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ اس ساری جدوجہد کو منہج انقلاب نبوی ﷺ کے چھ مراحل میں بیان کرتے تھے ۔ پہلا مرحلہ اپنی ذات پر اسلام کو غالب کرنا ہے ، اگر اپنے پانچ چھ فٹ کےجسم پر اسلام کو غالب نہیں کر پائے تو 25 کروڑ عوام کی سطح پر انقلاب کیسے لائیں گے ۔ انقلاب کا آغاز اپنی ذات سے ہوگا اور اس کے بعد دوسروں کو دعوت دی جائے گی ۔ جو لوگ دعوت قبول کریں گے ، ان کو منظم کرکے ایک جماعت تیار کی جائے گی ۔ جیسا کہ مکہ کے 13 برس میں کوئی قتال نہیں ہوا، تلوار نہیں اُٹھی ۔ وہاں قرآن کے ذریعے دعوت دی گئی اور جن لوگوں نے دعوتِ حق قبول کی اُن پر مشتمل ایک جماعت تیارکی گئی ۔ قرآن میں فرمایا :
{یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ ق}(الجمعۃ:2)’’جو ان کو پڑھ کر سناتا ہے اُس کی آیات اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں تعلیم دیتا ہے کتاب و حکمت کی۔‘‘
قرآن کے ذریعے تزکیہ و تذکیر ، اس کے احکام کی تعلیم ، اس کی حکمت کی تعلیم کی بنیاد پر جب ایک جماعت تربیت کے مراحل سے گزرے گی توپھر وہ مرحلہ آئے گا کہ نظام کی سطح پر تبدیلی کے لیے تحریک کو اقدام کے مرحلے میں لے جایا جا سکے۔بنیادی بات یہ ہے کہ قرآن سے جڑنے سے ہی انقلابی روح برقرار رہے گی ۔ تنظیم اسلامی کی سطح پر جو بنیادی لٹریچر فراہم کیا جاتاہے وہ قرآن کی تعلیمات پر ہی مشتمل ہوتاہے ۔ اسی سے فکر میں پختگی پیدا ہوتی ہےاور آگے سے آگے بڑھنے کا جذبہ برقرار رہتا ہے ۔ ہمارے مطالعہ لٹریچر میں فکری موضوعات موجود ہیں ۔ فکر میں انقلاب کا تصور ، انقلابی جدوجہد کا تصور، انقلابی جماعت کا تصور ،انقلابی جماعت کا میکینزم کیا ہوگا، دعوت کے میکینزم کیا ہوں گے، نظام کو چیلنج کرنے کا طریقہ کیا ہوگا، یہ سارے موضوعات بھی فکری لٹریچر میں آتے ہیں۔پھر یہ کہ انقلابی تربیت صرف فکری سطح تک ہی محدود نہیں رہنی چاہیے ۔ یعنی صرف گھر میں نہیں بیٹھے رہنا ، مسجد تک ہی محدود نہیں رہنا بلکہ باہر نکل کر لوگوں کو دعوت بھی دینی ہے ، ہمارے رفقاء دعوتی کیمپس بھی لگاتے ہیں ، گھر گھر جاکر دعوت بھی دیتے ہیں ، پریس کلبوں کے سامنے بھی کھڑے ہوتے ہیں ،پُرامن اور منظم مظاہروں میں بھی شامل ہوتے ہیں۔ مظاہروں کے دوران ٹریفک کو ڈسٹرب کیے بغیر اپنے اپنے پلے کارڈز اُٹھا کر سڑکوں کے کنارے کھڑے ہوتے ہیں ۔ اس طرح باہر نکلنے کی مشق ، ڈسپلن کی مشن اور امیر کی پکار پر لبیک کہنے کی مشق بھی ہوتی ہے ۔ یہ تربیت اس آخری مرحلے کی تیاری کے لیے ضروری ہےتاکہ لوگ امیر کی پکار پر لبیک کہنے کے لیے تیار ہوں ۔ اس کے ساتھ ساتھ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا ایک تقاضا بھی ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : بدی کو دیکھو تو اپنے ہاتھ سے بدل دو ،ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہیں تو زبان سے اُس کے خلاف آوازاُٹھاؤ، زبان سے بھی بدلنے کی طاقت نہیں توکم ازکم دل میں بُرا جانو ۔ برائی تو ہمارے معاشرے میں ہورہی ہے مگر اس کو ہاتھ سے روکنے کی طاقت ہمارے پاس نہیں ہے لہٰذا ہم زبان سے بدلنے کی کوشش کریں گے ، خطبات جمعہ میں ، تحریر و تقریر میں اس کے خلاف آواز اُٹھائیں گے۔احتجاج اور مظاہروں کا اہتمام کریں گے ۔ مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کے پاس 360 بت رکھے ہوئے تھے۔13 سال تک اللہ کے رسول ﷺ اور صحابہ کرام ؇نے وہاں نمازیں بھی پڑھی ہیں لیکن ایک بت کو بھی نہیں توڑا ۔ لیکن جیسے ہی مکہ فتح ہوتاہے تو اس کے بعد ایک بت کو بھی خانہ کعبہ میں نہیں چھوڑا ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے منہج انقلاب نبوی ﷺ کے عنوان سے ان مراحل کو بیان کیا ہے ۔
سوال: امیر تنظیم اسلامی کے اس وقت دنیاوی اعتبار سے اثاثے کیا ہیں؟ (محمد یوسف)
امیر تنظیم اسلامی:بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے اپنی زندگی میں ہی ’’حساب ِ کم و بیش ‘‘کے عنوان سے ایک کتاب لکھ دی تھی جس میں اپنے ذرائع آمدن سمیت تمام اثاثہ جات اور مالی معاملات کو واضح طور پر آشکار کر دیا تھا ۔ یہ کتاب آج بھی تنظیم اسلامی کے مکتبہ جات اور ویب سائٹ پر موجود ہے ۔ ہماری تنظیم کے دوسرے امیرحافظ عاکف سعید صاحب تھے ، اللہ ان کو صحت کاملہ عطا فرمائے ، انہوں نے بھی ’’حساب ِ کم و بیش ‘‘ کے آخر میں اپنے ذرائع آمدن کے متعلق لکھ دیا ہے ۔ ان کے بعد اگست 2020ءمیں امارت کی ذمہ داری میرے کندھوں پر آگئی ، میں نے بھی 2021ء کے شروع میں اپنے تمام تر مالی معاملات وضاحت کے ساتھ لکھ کر ذمہ داران کے حوالے کردئیے ۔ وہ بھی ایک صفحہ کی صورت میں دستیاب ہے ۔ کرائے کے مکان میں رہتا ہوں ، ذاتی گاڑی نہیں ہے ، لاہور میں جب ہوتا ہوں تو مرکز کی ایک گاڑی میرے استعمال میں ہوتی ہے ۔ جب کراچی میں ہوتا ہوں انجمن خدام القرآن سندھ کی ایک گاڑی میرے استعمال میں ہوتی ہے ۔ اس کی مرمت وغیرہ بھی میرے ذمے ہے ۔ آمدنی کا واحد ذریعہ علم فاؤنڈیشن میں ایک ذمہ داری ہے ۔ یہ وہی ادارہ ہے جس نے تعلیمی اداروں کے لیے مشترکہ قرآنی نصاب تیار کرنا شروع کیا ۔ 2010ء میں اس ادارے سے وابستہ ہوں ۔ اثاثہ جات میں کچھ بھی نہیں ہے ۔ بینک اکاؤنٹ میں تھوڑے بہت پیسے ہوں گے کیونکہ سیلری آتی ہے اور میں فائلر بھی ہوں ۔ فائلر کا مطلب ہے سب کچھ FBRکے پاس submit ہوتا ہے ۔ حاصل کلام یہ کہ ذاتی دنیوی اثاثہ جات میں سے کوئی گاڑی ، کوئی مکان فی الوقت میرے پاس نہیں ہے ۔