سیاسی تنہائی سے نجات کاواحدراستہ : بحالی ٔامت
ڈاکٹر ضمیراخترخان
آج کا عالم ِاسلام ایک ایسے نازک دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اس کی سیاسی کمزوری، سفارتی تنہائی اور فکری انتشار پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے۔ تعداد، وسائل اور جغرافیائی اہمیت کے باوجود مسلمان عالمی فیصلوں میں وہ اثر و رسوخ نہیں رکھتے جو ایک متحد اور باوقار اُمت کا حق ہوتا ہے۔ فلسطین سے کشمیر تک، شام سے سوڈان تک مسلمانوں کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں، مگر اُمّت کا اجتماعی کردار کمزور دکھائی دیتا ہے۔ دشمن قوتیں مسلمانوں کی تقسیم سے فائدہ اُٹھا رہی ہیں جبکہ مسلم دنیا اندرونی اختلافات، فرقہ واریت اور وقتی سیاسی مفادات میں اُلجھی ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ آخر اس سیاسی تنہائی، عالمی بے وزنی اور مسلسل زوال سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اِس بحران کا واحد حل ’’بحالی اُمّت ‘‘ہے۔جب تک مسلمان اپنی اصل شناخت یعنی ایک اُمت ہونے کے شعور کی طرف واپس نہیں آئیں گے، نہ ان کی سیاسی قوت بحال ہو سکتی ہے اور نہ ہی عالمی سطح پر اُن کی عزت و وقار قائم ہو سکتا ہے۔
آج کی مسلم قیادت ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ تعداد کے اعتبار سے دنیا کی دوسری بڑی قوت، قدرتی وسائل کے اعتبار سے مالا مال، جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہم اور نوجوان افرادی قوت رکھنے کے باوجود مسلم اُمّت عالمی سیاست میں کمزور، منتشر اور تنہا دکھائی دیتی ہے۔ فلسطین جل رہا ہے، کشمیر سسک رہا ہے، شام و سوڈان خون میں نہا رہے ہیں،امریکہ جس طرح ایران پرچڑھ دوڑا ہے مگر مسلم دنیا کا اجتماعی ضمیر اور مشترکہ قوت کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس سیاسی تنہائی، عالمی بے وزنی اور مسلسل ذلت سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ اس کا جواب صرف ایک ہے: بحالی اُمّت!
اسلام نے مسلمانوں کو محض ایک مذہبی گروہ نہیں بلکہ ایک عالمی اُمّت قرار دیا ہے۔ قرآن مجید نے فرمایا:اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک’’اُمّتِ وَسَط ‘‘بنایا ہے تاکہ تم دُنیا کے لوگوں پر گواہ بنو اور رُسول تم پر گواہ ہیں۔ (البقرۃ:143)۔ اس آیت میں اُمّت ِمحمدﷺکی امامت کا اعلان ہے۔یہ وہی منصب ہے جس پر پہلے بنی اسرائیل فائز تھے۔ اُن کی نااہلی کی وجہ سے اللہ نے انہیں دُنیا کی پیشوائی کے منصب سے باضابطہ معزول کیا اور اُمّتِ محمدیہ کو اس پر فائز کر دیا۔’’اُمتِ وَسَط ‘‘سے مراد ایک ایسا اعلیٰ اور اشرف گروہ ہے، جو عدل و انصاف اور توسط کی روش پر قائم ہو، جو دنیا کی قوموں کے درمیان صدر کی حیثیت رکھتا ہو، جس کا تعلق سب کے ساتھ یکساں حق اور راستی کا تعلق ہواور ناحق، ناروا تعلق کسی سے نہ ہو۔ یہ آیت مسلمانوں کو ایک عقیدے، ایک مقصد اور ایک اجتماعی تشخص میں پرو دیتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج یہی اُمّت قومیت، زبان، فرقہ واریت، سیاسی مفادات اور علاقائی تقسیموں میں بٹ چکی ہے۔ دشمن نے ہمیں طاقت سے کم اور ہماری تقسیم سے زیادہ کمزور کیا ہے۔
عالمی طاقتیں بخوبی جانتی ہیں کہ اگر مسلم دنیا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئی تو دنیا کے سیاسی و معاشی توازن بدل جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی فرقہ واریت کو ہوا دی جاتی ہے، کبھی لسانی تعصبات کو، کبھی جمہوریت اور آمریت کی جنگ میں اُلجھایا جاتا ہے اور کبھی معیشت و میڈیا کے ذریعے ذہنی غلامی مسلط کی جاتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے بھی اپنی اصل طاقت یعنی ’’وحدتِ اُمّت ‘‘کو فراموش کر دیا۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان ایک اُمّت بن کر اُٹھے تو دنیا کی سپر طاقتیں اُن کے سامنے جھک گئیں۔ خلافتِ راشدہ سے لے کر خلافت ِعثمانیہ تک مسلمانوں نے صرف زمینیں فتح نہیں کیں بلکہ عدل، علم، تہذیب اور انسانیت کو فروغ دیا۔ بغداد، قرطبہ،غرناطہ اور استنبول علم و حکمت کے مراکز تھے۔ مسلمان دنیا کو روشنی دے رہے تھے کیونکہ اُن کے پاس صرف طاقت نہیں بلکہ ایک مشترکہ مقصد بھی تھا۔ لیکن جب اُمّت کا شیرازہ بکھرا تو طاقت بھی چھن گئی اور وقار بھی۔ آج مسلم دنیا کو سب سے پہلے اپنی فکری اور سیاسی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ صرف احتجاج، بیانات اور وقتی اتحاد کافی نہیں۔ ہمیں ایک مستقل اور ’’بحالی اُمّت ‘‘کی عملی تحریک شروع کرنا ہوگی۔ اس تحریک کی بنیاد چند اہم اصولوں پر ہونی چاہیے:
1۔ اتحادِ اُمّت کو اولین ترجیح بنایا جائے: مسلمان ممالک اپنے باہمی اختلافات کو کم کریں اور مشترکہ مسائل پر متحدہ مؤقف اختیار کریں۔ فلسطین، کشمیر، اسلاموفوبیا، معاشی پابندیوں اور عالمی ناانصافیوں پر ایک مشترکہ آواز دنیا کو سنائی دینی چاہیے۔
2۔ علمی و فکری بیداری پیدا کی جائے: دنیا آج علم کے ذریعے حکمرانی کر رہی ہے۔ جب تک مسلم دنیا سائنس، ٹیکنالوجی، معیشت، میڈیا اور تحقیق میں آگے نہیں بڑھے گی، سیاسی آزادی ادھوری رہے گی۔ مدارس، جامعات اور تعلیمی اداروں کو ایسا نظام دینا ہوگا جو ایمان کے ساتھ جدید شعور بھی پیدا کرے۔
3۔ مشترکہ اسلامی معیشت کی بنیاد رکھی جائے: مسلم ممالک اگر تجارت، کرنسی، توانائی اور صنعت میں ایک دوسرے کے ساتھ حقیقی تعاون شروع کر دیں تو وہ عالمی معاشی دباؤ سے بڑی حد تک آزاد ہو سکتے ہیں۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک، زرعی ممالک اور صنعتی صلاحیت رکھنے والے ممالک مل کر ایک مضبوط اقتصادی بلاک بنا سکتے ہیں۔
4۔ میڈیا اور بیانیے کی جنگ سمجھی جائے: آج جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ میڈیا، فلم، سوشل میڈیا اور بیانیے سے بھی لڑی جا رہی ہے۔ مسلم دنیا کو اپنا مؤثر عالمی میڈیا بیانیہ تشکیل دینا ہوگا جو اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرے۔
5۔ نوجوان نسل کو مقصد دیا جائے: اگر مسلم نوجوان صرف روزگار، تفریح اور ذاتی کامیابی تک محدود رہے تو اُمّت کبھی بیدار نہیں ہو سکتی۔ نوجوانوں کو یہ شعور دینا ہوگا کہ وہ ایک عظیم اُمّت کے وارث ہیں اور ان کی ذِمّہ داری صرف اپنی ذات نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے خیر اور عدل کا پیغام بننا ہے۔
آج پاکستان، ترکی، ملائیشیا، سعودی عرب، ایران، قطر اور دیگر مسلم ممالک پر یہ تاریخی ذِمّہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ امّت کے اتحاد کے لیے عملی اقدامات کریں۔ خصوصاً پاکستان، جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا، اسے صرف ایک قومی ریاست کے بجائے عالم ِاسلام کے فکری اور سیاسی مرکز کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اگر اخلاص اور حکمت کے ساتھ مسلم دنیا کو قریب لانے کی کوشش کرے تو یہ ایک نئی تاریخ کا آغاز ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ کام صرف حکمرانوں کا نہیں۔ علماء، اساتذہ، صحافی، دانشور، نوجوان، تاجر، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس اور عوام الناس سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہر شخص اپنے دائرۂ اثر میں اُمّت کی وحدت، اسلامی شعور اور سیاسی بیداری کا پیغام عام کرے۔ کیونکہ انقلاب ہمیشہ چند بیدار ضمیروں سے شروع ہوتے ہیں۔
آج اگر ہم نے اپنی ذِمّہ داری نہ پہچانی تو سیاسی تنہائی مزید گہری ہوگی، عالمی طاقتیں مزید مسلط ہوں گی اور آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ لیکن اگر مسلم اُمّت نے قرآن کے پیغام کو تھام لیا، اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال دیا اور ایک اُمّت بننے کا فیصلہ کر لیا تو دنیا کا نقشہ بدل سکتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔’’اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘‘( آل عمران:103)۔یہی بحالی ٔ اُمّت کا راستہ ہے۔یہی سیاسی تنہائی سے نجات کا راستہ ہے۔اور یہی مسلمانوں کی عزت و وقار کی بحالی کا راستہ ہے۔
موجودہ عالمی حالات میں جبکہ مسلم اُمت سیاسی انتشار، سفارتی کمزوری اور عالمی دباؤ کا شکار ہے، پاکستان نے حالیہ دنوں میں جس حکمت، تدبر اور جرأت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ پوری اُمتِ مسلمہ کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن کر ابھرا ہے۔ خصوصاً ’’بنیانٌ مرصوص‘‘کی کامیابی اور عالمی سطح پر متوازن سفارت کاری نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر قیادت اخلاص، حکمت اور جرأتِ عمل کے ساتھ آگے بڑھے تو پاکستان نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے بلکہ پوری مسلم دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے میں بھی مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔ آج وقت کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت محض علاقائی کامیابیوں تک محدود نہ رہے بلکہ اُمّت ِمسلمہ کی وحدت، بیداری اور اجتماعی قوت کی بحالی کے لیے ایک بھرپور اور منظم عالمی جدوجہد کا آغاز کرے۔ جس طرح حالیہ سفارتی کوششوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ثالثی کی راہیں تلاش کرنے کی کوششیں کی گئیں، اسی جذبے اور بصیرت کے ساتھ مسلم ممالک کے درمیان فاصلے کم کرنے، باہمی اعتماد بحال کرنے اور ایک مشترکہ اسلامی بلاک تشکیل دینے کی سنجیدہ مہم چلائی جائے۔
آج عالم اسلام کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ اس کے پاس وسائل کم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اُس کے پاس اتحاد کمزور ہے۔ تیل، معدنیات، سمندری راستے، نوجوان افرادی قوت اور جغرافیائی اہمیت رکھنے کے باوجود مسلم دنیا عالمی فیصلوں میں مؤثر کردار ادا نہیں کر پا رہی۔ فلسطین، کشمیر، شام، سوڈان اور دیگر مسلم خطوں میں جاری مظالم اِس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ منتشر اُمّت عالمی طاقتوں کے سامنے بے وزن ہو جاتی ہے۔ ایسے میں پاکستان، جو ایٹمی قوت بھی ہے اور عالمِ اسلام کے دل کی آواز بھی، اس پر یہ تاریخی ذِمّہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اُمّت کے اتحاد کا عَلَم بلند کرے۔ ہم پاکستان کی سیاسی قیادت، عسکری قیادت، سفارت کاروں، علماء، دانشوروں اور قومی اداروں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر ایک ہمہ گیر ’’وحدتِ اُمّت پالیسی‘‘ تشکیل دیں، جس کے تحت مسلم ممالک کے مابین سیاسی، معاشی، دفاعی اور علمی تعاون کو نئی بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ اسلامی تعاون تنظیم کو محض رسمی ادارہ بنانے کے بجائے اسے ایک فعال، بااختیار اور فیصلہ کن پلیٹ فارم بنایا جائے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ترکی، سعودی عرب، ایران، قطر، ملائیشیا اور دیگر اہم مسلم ممالک کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے بڑھا کر ایک مشترکہ اسلامی وژن تشکیل دے۔
یہ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے کہ پاکستان اپنی نوجوان نسل، جامعات، میڈیا اور دینی اداروں میں اُمّت ِمسلمہ کے اجتماعی شعور کو فروغ دے تاکہ قوم صرف قومی نہیں بلکہ اُمّت کے وسیع تر مفاد کو بھی اپنی ذِمّہ داری سمجھے۔ اگر مغرب اپنے سیاسی و معاشی اتحاد کے ذریعے دنیا پر اثر انداز ہو سکتا ہے تو ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان کیوں نہیں ایک مشترکہ لائحۂ عمل اپنا سکتے؟ اللہ کا حکم ہے کہ’’اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘‘
یہ آیت آج بھی مسلم دنیا کو اتحاد، اخوت اور اجتماعی قوت کا راستہ دکھا رہی ہے۔ پاکستان اگر اخلاص، حکمت اور جرأت کے ساتھ اِس مشن کی قیادت کرے تو وہ نہ صرف اپنی داخلی قوت کو مضبوط بنا سکتا ہے بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی امیدوں کا مرکز بھی بن سکتا ہے۔آج تاریخ پاکستان کی قیادت کو پکار رہی ہے کہ وہ وقتی سیاسی مفادات سے اوپر اُٹھ کر اُمّت ِمسلمہ کے اجتماعی مستقبل کی فکر کرے۔ اگر پاکستان نے اِس موقع کو پہچان لیا تو وہ صرف ایک ملک نہیں بلکہ عالمِ اسلام کی وحدت، عزت اور بیداری کی تحریک کا مرکز بن سکتا ہے۔ آج وقت کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ صرف حکومتیں ہی نہیں بلکہ پوری قوم، بلکہ پوری اُمّت ِمسلمہ بیدار ہو۔ یہ معرکہ صرف ایوانوں، کانفرنسوں یا سفارتی میزوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ہر اس شخص کی ذِمّہ داری ہے جو اپنے دل میں اسلام، اُمّت ِمسلمہ اور آنے والی نسلوں کی عزت و آزادی کا درد رکھتا ہے۔ اگر مسلم دنیا کو سیاسی تنہائی، عالمی دباؤ اور فکری غلامی سے نکالنا ہے تو معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
ہم پاکستان کے سیاست دانوں سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ ذاتی مفادات، جماعتی لڑائیوں اور اقتدار کی کشمکش سے بلند ہو کر اُمّت ِمسلمہ کے وسیع تر مفاد کو اپنی سیاست کا محور بنائیں۔ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ بڑے مقاصد سے زندہ رہتی ہیں۔ اگر سیاست صرف اقتدار کے حصول تک محدود رہے گی تو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ آج ضرورت اِس امر کی ہے کہ پاکستان کی سیاسی قوتیں عالمِ اسلام کے اتحاد، مشترکہ دفاع، مشترکہ معیشت اور مشترکہ سفارت کاری کے لیے متفقہ قومی بیانیہ تشکیل دیں۔
ہم علمائے کرام، خطباء اور دینی راہنماؤں سے بھی درد مندانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ مسلکی اختلافات سے اوپر اُٹھ کر اُمّت کے اتحاد، شعور اور سیاسی بیداری کا پیغام عام کریں۔ محراب و منبر صرف عبادات کے مسائل تک محدود نہ رہیں بلکہ اُمّت کے اجتماعی درد، فلسطین و کشمیر کے زخم، مسلم دنیا کی کمزوری اور اسلامی اخوت کی ضرورت کو بھی پوری قوت سے اجاگر کریں۔ آج اُمّت کو ایسے علماء کی ضرورت ہے جو لوگوں کے دلوں میں اتحاد، غیرت، علم اور حکمت کی آگ روشن کریں۔
ہم اساتذہ، دانشوروں، صحافیوں، وکلاء، ڈاکٹرز، انجینئرز، تاجروں، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ خاموش تماشائی نہ بنیں۔ ہر شخص اپنے دائرۂ اثر میں اُمت کے شعور کو بیدار کرے۔ قلم رکھنے والا قلم سے، زبان رکھنے والا زبان سے، دولت رکھنے والا اپنے وسائل سے، اور اثر و رسوخ رکھنے والا اپنی طاقت سے اس جدوجہد میں حصہ ڈالے۔ اگر باطل اپنی تہذیب، سیاست اور میڈیا کے ذریعے دنیا پر اثر انداز ہو سکتا ہے تو اہلِ ایمان کیوں منتشر اور خاموش رہیں؟
اور ہم عوام الناس سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ صرف حالات پر افسوس کرنے کے بجائے خود کو بدلنے اور قوم کو جگانے کا عزم کریں۔ اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، مساجد، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور سماجی حلقوں میں اُمّت ِمسلمہ کی وحدت، سیاسی شعور اور اسلامی بیداری کی بات کریں۔ نوجوان نسل کو مایوسی، بے راہ روی اور فکری غلامی سے نکال کر ایک عظیم مقصد دیں۔ کیونکہ تاریخ ہمیشہ انہی قوموں کو یاد رکھتی ہے جو اپنے وقت کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے کھڑی ہو جائیں۔
آج اگر ہم نے اپنی ذِمّہ داری ادا نہ کی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ لیکن اگر ہم سب نے مل کر اپنے اپنے حصے کا چراغ جلا دیا تو یہی منتشر چنگاریاں ایک عظیم انقلاب کی روشنی بن سکتی ہیں۔ یہ وقت خواب دیکھنے کا نہیں، بیدار ہونے کا ہے۔یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں، کردار ادا کرنے کا ہے۔ یہ وقت تقسیم کا نہیں، اُمّت کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا ہے۔ایک بڑی مذہبی سیاسی جماعت کے قائد کے حالیہ بیان نے اُمّت ِمسلمہ کے اتحاد، مشترکہ دفاع اور اسلامی بلاک کے قیام کی ایک اہم امید پیدا کی ہے۔ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ’’جمعیت کا منشور ہے کہ اسلامی بلاک وجود میں آئے‘‘ اور ’’یہ ایک ہونے کا وقت ہے‘‘، تو یہ صرف ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام کے درد کی ترجمانی ہے۔ اسی تناظر میں اُن سے دردمندانہ اور مخلصانہ اپیل ہے کہ وہ اس مؤقف کو عملی شکل دینے کے لیے آگے بڑھیں اور پاکستان کی تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی تاریخی ذِمّہ داری ادا کریں۔ آج اُمّت ِمسلمہ کو محض تقاریر نہیں بلکہ ایک ایسی متحدہ تحریک کی ضرورت ہے جو فرقہ واریت، نفرت اور انتشار کے خاتمے کا ذریعہ بنے۔یہ وقت ہے کہ تمام دینی و سیاسی جماعتیں اور تمام مکاتبِ فکر باہمی احترام کے ساتھ ایک قومی و اسلامی اتحاد تشکیل دیں۔ اگر فلسطین، کشمیر، غزہ اور عالمِ اسلام کے دیگر مسائل پر اُمّت کو ایک آواز بنانا ہے تو اس کی ابتدا پاکستان سے ہونی چاہیے۔
آج اُمّت مسلمہ شدید آزمائش سے گزر رہی ہے۔ ایسے میں اگر دینی و سیاسی قیادت اخلاص کے ساتھ متحد ہو جائے تو پاکستان عالمِ اسلام کے اتحاد کا مرکز بن سکتا ہے۔ تاریخ اُنہی قیادتوں کو یاد رکھتی ہے جو تقسیم نہیں بلکہ وحدت کا پرچم بلند کرتی ہیں۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم دنیا محض جذباتی نعروں اور وقتی احتجاج سے آگے بڑھے اور بحالی ٔاُمّت کو اپنی اجتماعی جدوجہد کا مرکز بنائے۔ اگر مسلمان اپنے اختلافات کو پس ِپشت ڈال کر قرآن و سنت کی بنیاد پر اتحاد، علم، عدل اور مشترکہ سیاسی شعور کو اپنالیں تو کوئی طاقت انہیں دنیا میں باوقار مقام حاصل کرنے سے نہیں روک سکتی۔ سیاسی تنہائی کا اندھیرا صرف اُسی وقت ختم ہوگا جب اُمّت اپنے بکھرے ہوئے وجود کو دوبارہ ایک طاقت میں تبدیل کرے گی۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ حکمران، علماء، دانشور، نوجوان اور عوام الناس سب اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کریں اور ایک ایسی فکری و عملی تحریک کا آغاز کریں جو مسلم دنیا کو دوبارہ عزت، استحکام اور قیادت کی منزل تک پہنچا دے۔ اگر آج ہم نے اس ذِمّہ داری کو محسوس کر لیا تو آنے والا کل مسلم اُمّت کی بیداری، اتحاد اور عالمی وقار کا نیا باب ثابت ہو سکتا ہے۔ ان شاء اللہ!