(الہدیٰ) شرک ظُلمِ عظیم ہے! - ادارہ

8 /
الہدیٰ
 
شرک ظُلمِ عظیم ہے! 
 
 
 
آیت 13{وَاِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِا بْنِہٖ وَہُوَ یَعِظُہٗ} ’’اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے سے جبکہ وہ اسے نصیحت کر رہاتھا۔‘‘
یہاں سے اُن نصیحتوں کا آغاز ہوتا ہے جن میں حضرت لقمان اپنے بیٹے سے مخاطب ہیں۔ اگرچہ یہاں پر اس کا ذکر نہیں کیا گیا‘ لیکن انہوں نے یہ نصیحتیں اپنے انتقال کے وقت کی تھیں۔ ہر شخص فطری طور پر چاہتا ہے کہ وہ اپنی موت سے پہلے اپنی اولاد کو اپنے ورثے کے بارے میں ضروری ہدایات دے جائے۔ جیسے عام طور پر بڑے بڑے کارخانہ داراور دولت مند لوگ اپنے کاروبار ‘ اثاثہ جات اور اور لین دین کے معاملات سے متعلق وصیت کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ چنانچہ حضرت لقمان جیسے حکیم انسان نے بھی ضروری سمجھا کہ اپنے عمر بھر کے غوروفکر اور دانائی کا نچوڑاور لُبِّ لباب موت سے پہلے اپنے بیٹے کو منتقل کر دیں۔
{یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِکْ بِاللّٰہِ ط اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ(13)}’’اے میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک مت کرنا۔ یقیناً شرک بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘ 
لغوی اعتبار سے لفظ ’’ظلم‘‘ کا مفہوم ناانصافی اور حق تلفی ہے۔ ’’ظلم‘‘ کی تعریف یوں کی جاتی ہے : وَضْعُ الشَّیْیٔ فِیْ غَیْرِ مَحَلِّہٖیعنی کسی  چیز کو اُس کے اصل مقام سے ہٹا کر کسی دوسری جگہ پر رکھ دینا۔ ظلم کی اِس تعریف (definition)پر غور کریں تو یہ نکتہ بڑی آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے کہ یہاں شرک کو ’’ظلم عظیم‘‘ کیوں کہا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ سب کا خالق ہے اور کائنات کی ہر چیز اُس کی مخلوق ہے۔وہ اپنی صفات میں یکتا اور تنہا ہے۔ اب اگر کوئی انسان ان صفات کے اعتبار سے مخلوق میں سے کسی کو اُٹھا کر اللہ کے برابر کر دے یا اللہ تعالیٰ کو کسی اعتبار سے گرا کر مخلوق کی صف میں لا کھڑا کرے تو اِس سے بڑھ کر ظلم اور کیا ہو گا؟
 
درس حدیث
 
جنت کی ضمانت
 
عَنْ  ثَوْبَانَ ؓ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِﷺ : ((’’مَنْ تَکَفَّلَ لِیْ اَنْ لَا یَسْأَلَ النَّاسَ شَیْئًا وَأَتَکَفَّلُ لَہٗ بِالْجَنَّۃِ)) فَقُلْتُ: ’اَنَا‘: فَکَانَ لَایَسْأَ  لُ اَحَدًا شَیْئًا۔(رواہ ابودائود)              
حضرت ثوبان  ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’ جو شخص مجھے اس کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے سوال نہیں کرے گا، میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں!‘‘ میں نے عرض کیا۔ ’’میں آپؐ سے اس کا عہد کرتا ہوں۔‘‘ اس کے بعد (حضرت ثوبانؓ نے) کسی سے کچھ نہیں مانگا۔
تشریح: ’’ اسلام میں اس بات کو ناپسند کیا گیا ہے کہ انسان دوسروں پر بوجھ بن جائے اور دستِ سوال دراز کرتا پھرے۔ اس کے برعکس نیکی یہ ہے کہ دوسروں کے کام آیا جائے۔ سوال کرنے سے حیا جاتی رہتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا، اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ چنانچہ جب آپؐ کسی کو بھیک مانگتا دیکھتے تو اُسے اپنے ہاتھ سے محنت کر کے روزی کمانے کی تلقین کرتے۔