اداریہ
رضاء الحق
کیا مشرقِ وسطیٰ کسی فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے؟
مئی 2026ء کے اختتام اور جون کے آغاز پر مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں جنگ، سفارت کاری، معاشی دباؤ، نظریاتی تصادم اور جغرافیائی سیاست سب ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو چکے ہیں اور کل کیا ہوگا، ٹرمپ اور نیتن یاہو کیا پینترا بدلیں گے، اِس حوالے سے یقین سے کچھ کہنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ اِس کی واضح مثال ایران کی جوابی کارروائی کے طور پر خلیجی ممالک، خصوصاً جزیرہ قشم پر بمباری اور کویت ایئرپورٹ پر بڑا حملہ ہے جس میں ایک بھارتی شہری سمیت کئی ہلاکتیں ہوئیں اور درجنوں زخمی ہوئے۔ ایران نے بحرین میں ایک امریکی فوجی اڈے پر بھی حملہ کیا۔ دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل اِس بات کی ’کھوج‘ میں مصروف ہیں کہ افزودہ ایرانی یورینیم کہاں موجود ہے! پھر یہ کہ اِس تحریر کو رقم کرتے وقت تک ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی پاسدارانِ انقلاب سے تنازعے پر اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینے کی افواہیں بھی زیرِ گردش ہیں، جنہیں مغربی میڈیا درست جب کہ ایران نواز میڈیا جھوٹ قرار دے رہا ہے۔ بظاہر دنیا یہ تاثر لینے کی کوشش کر رہی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی سفارتی پیش رفت جاری ہے، مگر زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ یہ محض مذاکرات کا مرحلہ نہیں بلکہ طاقت، صبر، دباؤ اور بقا کی جنگ ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطے جاری ہیں، ایران کسی محدود نوعیت کے عبوری معاہدے پر غور کر رہا ہے، جبکہ امریکی قیادت یہ تاثر دے رہی ہے کہ کشیدگی کو کم کرنے کی سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔ تاہم اس تمام سفارتی سرگرمی کے باوجود جنگی ماحول پوری طرح ختم نہیں ہوا، بلکہ ایک غیر یقینی تعطل (stalemate) کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان نئے عسکری اتحاد کی خبریں اس وقت عالمی سطح پر شدید بحث کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ امریکہ اسرائیل کا ایک نیا اور مہلک ترین اتحاد ..... یہ اصل جنگوں کے آغاز کی تیاری ہے۔ مبینہ معاہدہ کے تحت امریکی فوجی دستے اور اڈے اسرائیل میں قائم کیے جائیں گے، اور امریکی کانگرس اس سلسلے میں قانون سازی کے قریب ہے۔ اس میں جدید دفاعی ٹیکنالوجی، مشترکہ میزائل شیلڈز، اور خطے میں جارحانہ حکمتِ عملی شامل ہیں۔ یہ پیش رفت خطے میں طاقت کے توازن کو یکسر بدلنے والی ہوگی۔ اصل اور بڑی جنگوں کی تیاری کی جھلک واضح نظر آتی ہے۔ یہ اتحاد براہِ راست ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ فلسطینی مزاحمت اور لبنانی سرحدی صورت حال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ چین اور روس اس اقدام کو خطے میں امریکی بالادستی کے طور پر دیکھ سکتے ہیں اور ممکن ہے کہ کُھل کر ایران کی حمایت کریں۔ اوآئی سی اور عرب لیگ تو دفن ہو چکیں مگر عالمِ اسلام کو اِس خوف ناک پیش رفت پر فوری ردِعمل دینا ہوگا۔ تاکہ یہ ابلیسی اتحاد مسلم ممالک کے خلاف جارحانہ حکمتِ عملی میں نہ ڈھل جائے۔ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب جیسے ممالک کو مشترکہ دفاعی اور سفارتی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ اگر مسلم دنیا خاموش رہی تو یہ اتحاد مستقبل میں ایک ایک کرکے تمام عرب ممالک کو ہڑپ کر جائے گا۔ میڈیااور عوامی سطح پر اس اتحاد کے خطرات کو اجاگر کرنا بھی ضروری ہے تاکہ عالمی رائے عامہ متاثر ہو۔اسرائیل کی خطے میں جارحانہ حکمتِ عملی کو اس اتحاد سے مزید
تقویت ملے گی۔بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اتحاد ایران اور حزب اللہ کے خلاف براہِ راست دباؤ بڑھانے کے لیے ہے۔ الغرض پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور ایران جیسے ممالک کو مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگ محض امریکہ اور ایران کی نہیں بلکہ اسرائیل اور ایران کی ہے۔ اگر ایران کمزور یا پسپا ہوا تو پاکستان بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ توانائی بحران، فرقہ وارانہ کشیدگی اور علاقائی عدم استحکام پاکستان کے لیے سنگین خطرات ہیں۔ دوسری طرف اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی ہو جاتی ہے تو اسرائیل کے لیے یہ قابلِ قبول نہیں ہوگا، کیونکہ اس سے اس کے ’’گریٹراسرائیل‘‘ منصوبے کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اسرائیل کی پالیسی ہمیشہ توسیع پسندانہ رہی ہے، اور کسی بھی امن معاہدے کو وہ اپنے عزائم کے لیے رکاوٹ سمجھتا ہے۔
نیتن یاہو کے ساتھ ٹرمپ کی ٹیلیفون پر مبینہ جھڑپ، جس میں امریکی صدر نے نیتن یاہو کو پاگل اور ناشکرا تک کہا، ہمارے نزدیک نظر کے دھوکے کے سوا کچھ نہیں اور دونوں محض ٹال مٹول سے وقت گزارنے (time buying) کی کوشش کر رہےہیں، اگرچہ عالمی میڈیا کے مطابق یہ اِس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب (بلکہ یروشلم!) کے مفادات ہر پہلو پر یکساں نہیں اور بعض ذرائع کے مطابق لبنان اور ایران کے محاذ پر اسرائیلی عسکری اقدامات کے دائرہ کار پر دونوں رہنماؤں میں اختلافات پیدا ہوئے۔ اگر تنازعات حقیقی ہوتے تو امریکی حکومت اسرائیل پر 3.8 ارب ڈالر نچھاور کرنے اورمشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے نیا مہلک ترین معاہدہ کرنے پر مُصِر نہ ہوتی۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان چند مقامات پر جُزوی جنگ بندی تو ہوئی ہے، مگر اس کے پائیدار رہنے کے امکانات کم ہیں کیونکہ حزب اللہ، حماس اور اسرائیل کے درمیان اعتماد کی فضا کبھی قائم نہیں ہو سکتی۔البتہ ٹرمپ کے حزب اللہ اور شام کے صدر احمد الشرع سے رابطے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکہ براہِ راست فریقین کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بہرحال ایسے معاہدے اس خطے میں اکثر عارضی ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ بنیادی تنازع حل نہیں ہوتا۔
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا پاکستان واقعی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ رکوانے میں کامیاب ثالث بن رہا ہے؟ اِس سوال کا جواب ہم قارئین پر چھوڑ دیتے ہیں۔ سب چودہویں کے چاند کی طرح روشن ہے!
اگر اُمت ِمسلمہ کے زاویۂ نگاہ سے دیکھا جائے تو ایک تلخ سوال سامنے آتا ہے: کیا ایران کو بھی فلسطینی مسلمانوں کی طرح عالمی قوتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے؟ بدقسمتی سے اس سوال کا جواب بڑی حد تک اثبات میں محسوس ہوتا ہے۔ مسلم دنیا کی اکثریت شدید سفارتی کمزوری، داخلی تقسیم اور مغربی انحصار کا شکار ہے۔ عرب دنیا کے اکثر حکمرانوں کی ترجیح اپنی حکومتوں کا استحکام، سرمایہ کاری، اور امریکہ کے ساتھ تعلقات ہیں، نہ کہ مشترکہ اسلامی مؤقف۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کی تباہی کے بعد بھی کوئی مؤثر اجتماعی حکمتِ عملی سامنے نہ آسکی، اور ایران کے معاملے میں بھی عالمِ اسلام بڑی حد تک بیانات تک محدود نظر آتا ہے۔ اگرچہ بعض ریاستیں سفارتی طور پر جنگ بندی کی حمایت کر رہی ہیں، مگر عملی مزاحمتی صف بندی دکھائی نہیں دیتی۔
یورپی ممالک کا مؤقف نسبتاً محتاط ہے۔ خصوصاً جرمنی ،فرانس اور سپین جنگ کے بجائے کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے حق میں ہیں۔ ان کے لیے زیادہ بڑا خطرہ پورے خطے کا عدم استحکام، تیل وگیس کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات ہیں۔ اِس وقت اکثریورپی ممالک اسرائیل کی سلامتی سے زیادہ جنگ کے پھیلاؤ سے خوفزدہ دکھائی دیتے ہیں۔
بعض پاکستانی حلقوں میں یہ خدشہ موجود ہے کہ ایران کی کمزوری کے بعد پاکستان پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، خصوصاً اس کے ایٹمی پروگرام اور علاقائی پالیسیوں کے حوالے سے جو ایک ایسی حقیقت ہے جس کا واشگاف الفاظ میں تذکرہ بن گوریان اور نیتن یاہو دونوں کر چکے ہیں اور بھارت کی ہر طرح سے معاونت کرنا بھی اِسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ امریکہ میں یہ خدشہ بھی زیرِ بحث ہے کہ اگر ایران پر حد سے زیادہ دباؤ ڈالا گیا تو چین اور روس زیادہ کھل کر اس کی پشت پر آ سکتے ہیں۔ چین کے لیے توانائی کی رسد اور روس کے لیے امریکی اثرورسوخ کو محدود کرنا اہم مسئلہ ہے۔ تاہم فوری طور پر ’’تیسری عالمی جنگ‘‘ کے آغاز کا امکان کم دکھائی دیتا ہے، کیونکہ بڑی طاقتیں براہِ راست تصادم کے بجائے پراکسی، سفارت کاری اور محدود دباؤ کی حکمتِ عملی اختیار کرتی رہی ہیں۔ البتہ اگر کسی غلط عسکری اندازے یا حادثاتی تصادم نے بڑے ممالک کو براہِ راست آمنے سامنے لا کھڑا کیا تو خطرات یقیناً بڑھ سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں بظاہر سفارت کاری جاری ہے مگر کسی بڑی جنگ کا سایہ ابھی مکمل طور پر ٹلا نہیں۔ اُمتِ مسلمہ کی کمزوری، باہمی تقسیم اور قیادت کے بحران نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ کیا مسلم دنیا محض ردِ عمل تک محدود رہے گی یا کبھی مشترکہ حکمتِ عملی بھی اختیار کر سکے گی؟ فلسطین سے ایران تک جاری بحران ایک ہی حقیقت کی یاد دہانی ہیں: جب اُمت سیاسی وحدت، فکری پختگی اور اجتماعی قوت سے محروم ہو جائے تو اس کے مسائل عالمی طاقتوں کی میزوں پر طے ہونے لگتے ہیں، اس کے اپنے ایوانوں میں نہیں۔
ہمارے نزدیک یہ ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ ایران کو محض ایک بہانے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جبکہ اصل ہدف پاکستان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کو کسی جنگ بندی یا امن معاہدے میں حقیقی دلچسپی نہیں۔ صہیونیوں کے نزدیک ’’گریٹراسرائیل‘‘ کے ابلیسی منصوبے کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان ہے۔پھر مقبوضہ فلسطین میں بھی دجالی حکومت کے قیام کی تیاریاں عروج پر دکھائی دیتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران مخالف مہم نے فلسطین، غزہ اور مسجدِ اقصیٰ جیسے بنیادی مسائل کو پسِ منظر میں دھکیل دیا ہے، جو اُمّت ِمسلمہ کے لیے لمحۂ فکریہ سے زیادہ ڈوب مرنے کا مقام ہے۔
مسجدِ اقصیٰ محض ایک تاریخی مقام نہیں بلکہ ہمارے ایمان، ہماری اجتماعی شناخت اور ہماری روحانی وابستگی کا ایک بنیادی ستون ہے۔ اس کے خلاف صہیونی منصوبے صرف ایک عمارت کو نقصان پہنچانے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری اُمّتِ مسلمہ کی روحانی فضا کو مجروح کریں گے۔ اگر اُمّت نے اس ابلیسی منصوبے کو روکنے کے لیے اجتماعی ذِمّہ داری نہ نبھائی تو آنے والے وقت میں نہ صرف فلسطین بلکہ پورا عالمِ اسلام شدید خطرات سے دوچار ہوگا۔ یہی وقت ہے کہ پاکستان سمیت عالمِ اسلام خواب غفلت سے جاگے اور اپنی اجتماعی ذِمّہ داری کو عملی صورت میں ڈھالے، تاکہ مسجدِ اقصیٰ اور اُمّتِ مسلمہ کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026