صراطِ مستقیم کی ہدایت
(سورۃ الانعام کی آیت161 کی روشنی میں )
مسجدجامع القرآن ، قرآن اکیڈمی لاہور میںامیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے15 مئی 2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص
مرتب: ابو ابراہیم
خطبۂ مسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
آج ان شاء اللہ سورۃ الانعام کی آیت 161 کی روشنی میں تذکیر یا یاد دہانی کے طور پر چند باتیں بیان کرنا مقصود ہیں ۔ سورۃ الانعام مکی سورت ہے اور مکی دور کے بالکل آخر میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ایک ہے۔ اس میں دیگر مکی سورتوں کی طرح جہاں توحید ، آخرت، پیغمبروںؑ کے حالات و واقعات ، جنت اور جہنم کا بیان ہے وہاںاللہ کے رسول ﷺ اور مشرکین مکہ کے درمیان کشاکش کا بھی تذکرہ ہے ۔ اسی تناظر میں زیر مطالعہ آیت میں مشرکین مکہ کے تعلق سے دو ٹوک انداز بھی اختیار کیا گیا ہے ۔فرمایا :
{قُلْ اِنَّنِیْ ہَدٰىنِیْ رَبِّیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ج دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّۃَ اِبْرٰہٖمَ حَنِیْفًاج وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ(161)} ’’(اے نبیﷺ!) کہیے کہ میرے ربّ نے تو مجھے ہدایت دے دی ہے سیدھے راستے کی طرف۔وہ دین ہے سیدھا جس میں کوئی ٹیڑھ نہیںاورملّت ہے ابراہیم کی‘ جو یکسو تھا (اللہ کی طرف) اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔‘‘
مشرکین مکہ کا دعویٰ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم ؑ کی نسل میں سے ہیں ۔ زیر مطالعہ آیت کے ذریعے ان پر واضح کیا گیا کہ حضرت ابراہیم ؑ کے حقیقی وارث تو اللہ کے رسول ﷺ ہیں اور پھر آپ ﷺ کےسچے پیروکار ہیں۔ حضرت ابراہیم؈ نے شرک کے خلاف جہاد کیا تھا اور وہ اللہ کے سوا کسی کو معبود نہیں مانتے تھے ۔ جبکہ تم (مشرکین ) اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو اور توحید کی مخالفت کرتے ہو لہٰذا حضرت ابراہیم ؑ کے وارث ہونے کی تمہارے پا س نہ کوئی عقلی دلیل ہے اور نہ کوئی نقلی (وحی پر مبنی ) دلیل ہے ۔ عقل کا تقاضا بھی اس حقیقت کو ماننا ہے کہ کائنات کو بنانے والا اور اس کا نظام چلانے والا ایک ہی رب ہے اور وہی معبود حقیقی ہے اور یہی تعلیم وحی کے ذریعے بھی نقل ہوئی ہے ۔ ہر پیغمبر نے یہی دعوت دی کہ ایک اللہ کو ہی اپنا رب مانو اور اسی کی عبادت کرو ۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ۔ ہر پیغمبرؑ کی دعوت اللہ کی طرف سے نازل کردہ وحی کے تابع ہوتی تھی۔ اپنی طرف سے پیغمبرؑ بات نہیں کرتے تھے ۔ جیسا کہ قرآن کریم رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بتاتا ہے :
{وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی (3) اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی(4)} (النجم)’’یہ تو صرف وحی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔اور یہ (جو کچھ کہہ رہے ہیں) اپنی خواہش ِنفس سے نہیں کہہ رہے ہیں۔‘‘
زیر مطالعہ آیت کا آغاز بھی نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان سے ہوتا ہے کہ میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہہ رہا بلکہ میرے رب نے مجھے اِس کی ہدایت عطافرمائی ہے ۔
یہاں ایک ذیلی نکتہ سمجھ لیجئے کہ ہم بھی اللہ ہی کے محتاج ہیں، پیغمبرؑ بھی اللہ ہی کے محتاج تھے، وہ بھی ہدایت کے معاملے میں اللہ کے محتاج تھے۔ ہدایت دینے والی ذات اللہ کی ہے، کتاب کی تعلیم، حدیث کی تعلیم جسے ہم وحی غیر متلو کہتے ہیں وہ اللہ ہی نے عطا کی۔ رسول اللہﷺ کے ذریعے وہ ہم تک پہنچی ہے ۔ اس کتاب الٰہی و وحی غیر متلو کا عملی نمونہ رسول اللہﷺ کی ذات ہےجن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
{وَاِنَّکَ لَتَہْدِیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (52)} (الشوریٰ) ’’اور آپؐ یقیناً سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتے ہیں۔‘‘
اندازہ کیجئے کہ جن کے ذریعے ہم تک قرآن پہنچا ، جن کے ذریعے قرآن کی تشریح ہم تک پہنچی ، جو سراپا ہدایت ہیں اور جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ یہ فرمارہا ہے کہ آپ ﷺ صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت دینے والے ہیں ، وہ اللہ کے پیغمبر ﷺ خود ہر نماز کی ہر رکعت میں اللہ تعالیٰ سے ہی ہدایت مانگتے ہیں :
{اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ(o)} ’’(اے ربّ ہمارے!) ہمیںہدایت بخش سیدھی راہ کی۔
یہاں تک کہ جب آپ ﷺ دنیا سے تشریف لے جارہے تھے اور جو آپ ﷺ نے اپنی حیات طیبہ کی آخری نماز پڑھی اس میں بھی آپ ﷺ نے یہی دعا کی ہوگی ، ذرا سوچیے کہ ہمیں اس ہدایت کی کس قدر ضرورت ہوگی اور ہمیں اس ہدایت کے لیے رب سے کس قدر دعائیں مانگنی چاہئیں ۔ لہٰذا جب بھی موقع ملے تو نماز کے دوران سورۃ الفاتحہ کے علاوہ بھی یہ دعا مانگتے رہنا چاہیے :
{اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ،اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ}
زیرِ مطالعہ آیت میں آپ ﷺ کا فرمان نقل ہوا کہ میرے رب نے ہی مجھے ہدایت دی ہے ۔ لغوی اعتبار سےکسی شے کو ابتدا سے لے کر انتہا تک پروان چڑھانا،اس کی ایک ایک حاجت کو پورا کرنا اور اس کو نقطۂ عروج یا نقطۂ کمال تک پہنچانا ربوبیت کہلاتاہے ۔ ماں باپ کے لیے قرآن میں اس لفظ کا استعمال ہوا ہے ۔ جیسا کہ فرمایا :
{وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا(24)} (بنی اسرائیل:24)’’اور دعا کرتے رہو : اے میرے رب ان دونوں پر رحم فرما جیسے کہ انہوں نے مجھے بچپن میں پالا۔‘‘
انسان کو تخلیق تو اللہ تعالیٰ نے کیا ہے لیکن اس کی پیدائش کا ذریعہ ماں باپ بنتے ہیں ، پہلے 9 ماہ بچے کو ماں اپنے پیٹ میں پالتی ہے ، اس کے بعد جوان ہونے تک ماں باپ اس کی پرورش کرتے ہیں ، اس کی ہر ضرورت اور ہر حاجت کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اسی لیے اللہ تعالیٰ قرآن میں حکم دیتاہے کہ ماں باپ کے ساتھ حسن ِسلوک سے پیش آؤ اور ان کے لیے دعا بھی کرو ۔ لیکن آج یہ بات ہم بھول چکے ہیں ۔2007ء میں کراچی کی ایک پرائیویٹ یونیورسٹی میں درس قرآن کا شرف حاصل ہوا ۔ جب سورۃ بنی اسرائیل کی اس آیت کا مطالعہ کرایا تو BBAکے چار طالب علموں نے عجیب بات بتائی کہ ہمیں آج معلوم ہوا ہے کہ ماں باپ کے لیے دعا کرنا بھی ہمارے دینی تقاضوں میں شامل ہے ۔ یہ 2007ء کی بات ہے ، آج 2026ء میں ہماری نئی نسل کا کیا حال ہوگا ؟
آج لوگوں کے پاس اپنے لیے دعا مانگنے کا وقت نہیں ہے ، والدین کو کون یاد رکھے گا ؟ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے ۔ محترم ڈاکٹر اسراراحمدؒ ایک حدیث سنایا کرتے تھے کہ جس طرح اللہ کے گھر (خانہ کعبہ) کو دیکھنے کا ثواب ملتا ہے ، اسی طرح والدین کا دیدار کرنے کا بھی ثواب ملتاہے ، ایک صحابی نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ! اگرمیں 100 مرتبہ دیکھوں تو ؟ فرمایا : ہر نظر پر ایک حج کا ثواب ملے گا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں والدین کا فرمانبردار اور اُن کے لیے دعا کرنے والا بنائے ۔ آمین !اسی طرح حقیقی معنوں میں ہماری حاجات کو اولاً و اصلاً پورا کرنے والااللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے ۔ ہماری حاجات جسم کی بھی ہیں ،روح کی بھی ہیں، ہماری حاجات معاش ، گھر گھرہستی کے معاملات میں بھی ہیں اورسب سے بڑھ کر ہدایت کے معاملات میں ہیں۔ پھر ہماری حاجات آخرت کے حوالے سے بھی ہیں ۔ جب یہ یقین ہوگا کہ ہمیں اللہ نے پیدا کیا ہے اور وہی ہماری حاجات کو پورا کرنے والا تو پھر دل سے دعا نکلے گی کہ یارب! تو ہمیں ہدایت عطا کر ۔ سورہ رحمٰن میں ہم پڑھتے ہیں:
{اَلرَّحْمٰنُ (1) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ (2) خَلَقَ الْاِنْسَانَ(3)} ’’رحمٰن نے۔ قرآن سکھایا ۔ اُسی نے انسان کو بنایا۔‘‘
ترتیب کے لحاظ سے انسان پہلے زمین پر آیا اور قرآن آخری پیغمبر ﷺ پر نازل ہوا لیکن یہاں قرآن کی تعلیم کا ذکر پہلے آرہا ہے اور انسان کی تخلیق کا ذکر بعد میں ہے ۔ معلوم ہوا کہ ہدایت کی انسانی زندگی میں اس قدر اہمیت ہے کہ انسان کی پیدائش سے پہلے اس کا اہتمام کیا گیا ۔انسان کی پیدائش سے لے کر مرنے کے بعد بھی ، حشر کے میدان تک اور جنت میں داخلے تک وہ ہدایت کا محتاج ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جنت میں داخل ہونے والوں کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :
{الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ ھَدٰىنَا لِھٰذَاقف وَمَا کُنَّا لِنَھْتَدِیَ لَـوْ لَآ اَنْ ھَدٰىنَا اللہُ ج }( آیت : 43 ) ’’کل شکر اور کل تعریف اُس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں یہاں تک پہنچادیا‘ اور ہم یہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے اگر اللہ ہی نے ہمیں نہ پہنچا دیا ہوتا۔ ‘‘
معلوم ہوا کہ ماں کی گود میںجو کلمہ نصیب ہو گیاوہ کافی نہیں ہے، کان میں اذان پڑ گئی وہ کافی نہیں ہے، نماز کی توفیق مل گئی کافی نہیں، کچھ دین کو سیکھنے کا موقع مل گیا کافی نہیں بلکہ اس سے آگے بھی بہت کچھ مطلوب ہے۔دنیا سے بندہ جا رہا ہے ، کلمہ نصیب ہو جائے تو بڑی بات ہے ، اللہ ہم سب کو نصیب فرمائے ورنہ بہت بُری موت بھی ہو جاتی ہے ۔ کانسرٹ سے نکلے موت آگئی، شراب کے نشے میں دھت ہیں اور موت آگئی۔ کسیمغربی ملک میں ایک مسلمان بوڑھا تھا، موت کا وقت آیا،جان نہیں نکل رہی تھی، گھر والے کلمہ پڑھا رہے ہیں، پڑھنے کو تیار نہیں، کہتا ہے: فلاں کا البم لگاؤ، اس کے گانے سنوں ۔ اس فاحشہ عورت کے گانے سنتے سنتے موت آگئی ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون، اللہ ہمیں بری موت سے محفوظ رکھے۔ہدایت پیدائش سے لے کر مرتے دم تک اور اس کے بعد بھی جنت میں داخلے تک مطلو ب ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کو کسے معلوم ہے کہ انسان کی اصل حاجات کیا ہیں ۔ فرمایا :
{اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ط} (الملک:14) ’’کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟‘‘
اسی لیے انسان کو قرآن کریم آخری کلام کے طور پر دے دیا گیا اور رسول اللہﷺ کا اُسوہ بھی عطا کر دیاگیا۔ آج کل جین زی (Gen Z) اور جین الفا (Gen Alpha) زیرِ بحث ہیں ۔ کیوں ہم نے ان کو کیٹیگرائز کر کے بالکل سائیڈ پر کر دیا ہے؟ کیا یہ اللہ کی مخلوق نہیں ہیں ؟ کیا ان میں اللہ نے روح نہیں پھونکی ؟ کیا ان کو ہدایت کی ضرورت نہیں ہے ؟ قرآن قیامت تک کے لیے ذریعۂ نجات اور راہ ِ ہدایت ہے ۔ موجودہ اور آنے والی نسلوں کو ہدایت قرآن ہی سے ملے گی، ان کی روح کی پیاس صرف قرآن سے بجھے گی ۔ قرآن کی تعلیم کے ذریعے ہی ان میں اللہ سے ملاقات کی تڑپ پیدا ہوگی اور پھر وہ صراطِ مستقیم پر چلیں گے ۔ یہ پورا پیکج اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی ﷺ کے ذریعے مکمل فرما کر عطا کیا۔ زیرِ مطالعہ آیت میں آپ ﷺ سے کہلوایا گیا کہ بے شک مجھے بھی صراطِ مستقیم کی ہدایت میرے رب کی طرف سے ملی ہے ۔ اب صراطِ مستقیم کیا ہے ؟ اس کی ایک تعبیر تو سورۃ الفاتحہ میں ہے :
{صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ } سورۃ النساء (آیت 69)کے مطابق انعام یافتہ لوگوں میں سرفہرست انبیاء کرامؑ ہیں اور انبیاءؑ کے امام محمدمصطفیﷺ ہیں ۔ لہٰذا سیدھے راستے پر چلنا ہے تو انبیاء کا طریقہ اور امام الانبیاءﷺ کا اسوہ تمہارے سامنے رہے۔ جیسے حضرت عائشہ نے فرمایا :((کَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ))
قرآن کا عملی نمونہ دیکھنا ہوتو سیرت رسول ﷺ کے اخلاق و اُسوہ کو دیکھو ۔ صراطِ مستقیم کی ایک اور تعبیر آپﷺ کے فرمان میں بھی ملتی ہے ۔ ترمذی شریف کی طویل حدیث کے الفاظ ہیں :
((وھو الصراط المستقیم)) یہ قرآن کریم ہی سیدھا راستہ ہے۔سورۃ الفاتحہ میں ہم اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم کی دعا مانگتے ہیں ، وہ بھی قرآن کا ہی حصہ ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ پورا قرآن بندے کے سامنے رکھتا ہے کہ یہ ہے سیدھا راستہ ۔ زیرِ مطالعہ آیت میں فرمایا :
{دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّۃَ اِبْرٰہٖمَ حَنِیْفًاج }’’وہ دین ہے سیدھا جس میں کوئی ٹیڑھ نہیںاورملّت ہے ابراہیم کی جو یکسو تھا۔‘‘دِیْنًا قِیَمًاسے مراد صحیح دین، قائم دین ہے۔ سورۃ البینہ میں فرمایا:
’’اور انہیں حکم نہیں ہوا تھا مگر یہ کہ وہ بندگی کریںاللہ کی ‘اپنی اطاعت کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے ‘بالکل یکسو ہو کراور (یہ کہ) نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں ‘اور یہی ہے سیدھا (اور سچا)دین۔‘‘(البینہ:5)
یہاں عبادت کا بیان الگ آیا اور پھر نماز اور زکوٰۃ کا بیان الگ ۔ حالانکہ نماز اور زکوٰۃ بھی عبادات ہیں ۔ دراصل سمجھانا یہ مقصود ہے کہ عبادت ایک مکمل عمارت ہے ، نماز اور زکوٰۃ اس عمارت کے اگرچہ اہم ستون ہیں لیکن مکمل عمارت نہیں ہیں ۔ مکمل عبادت تو پوری زندگی میں مطلوب ہے ۔ جیسا کہ فرمایا : {وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ D} (الذاریات) دنیا میں بہت سے کام ہمیں مجبوراً کرنا پڑتے ہیں، صبح9 سے شام 5بجے نوکری مجبوری کا نام ہے ، بچے ہیں تو ہوم ورک کرنا ہے وغیرہ وغیرہ لیکن اللہ کی عبادت مجبوری کے تحت نہیں بلکہ محبت اور شکرگزاری کے جذبے کے تحت ہونی چاہیے ۔ اسی جذبے کے ساتھ مکمل طور پر اپنے رب کے سامنے اپنے آپ کو جھکا لینا عبادت ہے اور یہ عبادت ہر لمحہ اور ہر کام میں مطلوب ہے ۔ صرف مسجد میں نہیں بلکہ گھر ، دفتر ، دکان ، عدالت ، سیاست ، پارلیمنٹ،ریاست اداروں میں بھی مطلوب ہے ،نکاح کا موقع ہو یا ماتم کا ، خوشی کا لمحہ ہو یا غم کا ہر جگہ ایسی بندگی درکار ہے ۔ اللہ فرماتاہے :{ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص} (البقرہ:208) ’’پورے پورے اسلام میں داخل ہو جاؤ۔‘‘
یہ نہیں کہ صرف مسجد میں ہی اللہ میرا معبود ہے ، باہر نکل کر میں آزاد ہوں ،ہرگز نہیں ۔اللہ 24 گھنٹے میرا معبود ہے اور پوری زندگی اس کی عبادت مقصود ہے ۔
{وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِیْنُ(99)}(الحجر) ’’اور اپنے رب کی بندگی میں لگے رہیں یہاں تک کہ یقینی شے وقوع پذیر ہو جائے۔‘‘
یہی اصل میں دین ِ قیم سے مراد ہے کہ جو ہر وقت قائم اور درست ہو ۔ فرمایا :
{دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّۃَ اِبْرٰہٖمَ حَنِیْفًاج} ’’وہ دین ہے سیدھا جس میں کوئی ٹیڑھ نہیںاورملت ہے ابراہیم کی۔‘‘
ملت کا ترجمہ طریقہ بھی کیا جاتاہے اور بعض اوقات اس کا ترجمہ مذہب بھی کیا جاتاہے ۔ اپنے نزول کے وقت اس آیت کے اصل مخاطب مشرکین مکہ تھے جن کا دعویٰ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم ؈ کی نسل سے ہیں ۔ اُنہی پر واضح کیا گیا کہ ابراہیم ؈ کا طریقہ تویہ تھا کہ وہ یکسو ہو کر اللہ کی عبادت کرتے تھے اور کسی کو اللہ کے ساتھ شریک نہیں ٹھہراتے تھے ۔ قرآن مجید میں ملتِ ابراہیم کی وضاحت بھی کئی مقامات پر کی گئی ہے ۔ جیسا کہ سورۃ البقرہ میں فرمایا:
{اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗ اَسْلِمْ لا قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(131)} ’’جب بھی کہا اُس سے اُس کے پروردگار نے کہ مطیع فرمان ہو جاتو اُس نے کہا میں مطیع فرمان ہوں تمام جہانوں کے پروردگار کا۔‘‘
{وَاِذِ ابْتَلٰٓی اِبْرٰہٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّہُنَّ ط} (البقرۃ: 124 )’’اور ذرا یاد کرو جب ابراہیم ؑ کو آزمایا اُس کے رب نے بہت سی باتوں میں تواُس نے اُن سب کو پورا کردکھایا۔‘‘
وہ تمام امتحانات میں پورے اُترے، تب اللہ فرماتا ہے:
{قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ط} ’’تب فرمایا: (اے ابراہیم ؑ!) اب میں تمہیں نوعِ انسانی کا امام بنانے والا ہوں!‘‘
یہ امامت کا منصب، یہ دنیا کی لیڈرشپ گھر بیٹھے آن لائن آرڈر سے نہیں مل جاتی ، یہ بہت بڑی آزمائشوں اور مشقتوں سے گزر کر ملتی ہے۔ابراہیم dکی زندگی میں ان آزمائشوں اور مشقتوں کی انتہا ہے ۔ فکری امتحان، صبر کا امتحان، گھر والوں سے امتحان، پوری قوم کی طرف سے امتحان، آگ میں ڈالا جا رہا ہے،آبائی وطن چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، بیوی اور بیٹے کو صحرا میں اللہ کے توکل پر چھوڑ رہے ہیں ۔اورسب سے بڑا امتحان اس پیارے بیٹے کی قربانی جس کو اُنہوں نے طویل صبر کے بعد اللہ سے دعائیں مانگ مانگ کر حاصل کیا تھا۔ ذرا سوچیے ! آج ہمارے بیٹے کی انگلی دروازے کی جھری میں آجائے تو ہمارا کلیجہ پھٹ جائے، لیکن حضرت ابراہیم ؑاور حضرت اسماعیلؑ اللہ کے سامنے کس قدر جھکنے والے تھے ۔اللہ کا حکم آگیا کہ اپنے پیارے بیٹے کو اللہ کی راہ میں ذبح کر دو ۔ فرمایا :{فَلَمَّآ اَسْلَمَا وَتَلَّہٗ لِلْجَبِیْنِ(103)} (الصافات)’’پھر جب دونوں نے فرمانبرداری کی روش اختیار کر لی اور ابراہیم نے اس کو پیشانی کے بَل لٹا دیا۔‘‘
دونوں میں سے کسی نے بھی سوال تک نہیں کیا ۔ بیٹے نے بھی کہا :
{قَالَ یٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُز سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآئَ اللہُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ(102)}(الصافات) ’’اُس نے کہا : ابّا جان! آپ کر گزرئیے جس کا آپ کو حکم ہو رہا ہے۔اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔‘‘
معلوم ہوا کہ دین ِ قیم صرف چند عبادات اور اذکار تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ زندگی بھر کی قربانی مانگتاہے ، زندگی بھر کی بندگی چاہتاہے ۔ جب جب ،جہاں جہاں، جو جو تقاضا آئے اُس پر جھکنا اسلام ہے اور قربانی اس کی انتہا ہے۔ یہی ملتِ ابراہیمی ہے، ہر طرح کے امتحانات سے گزار کر انتہا پر بیٹے کی قربانی اللہ نے مانگی اور وہ اپنے تئیں چھُری چلا چکے اور دونوں باپ بیٹا رب کے حکم کے سامنے جھک گئے۔یہاں اللہ نے اسلام کا لفظ استعمال کیا ۔ معلوم ہوا کہ اسلام ملت ابراہیم ہے ۔ یہودو نصاریٰ بھی ملت ابراہیم میں سے ہیں ، ان سے بھی یہی تقاضا تھا ، مشرکین مکہ سے بھی یہی تقاضا تھا کہ یکسو ہو کر اللہ کی عبادت کرو ۔ سورۃ مزمل میں یکسو(حنیف) ہونے کی وضاحت بھی کر دی گئی :{وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّـلّٰہِ ط} (البقرہ:165)’’اور جو لوگ واقعتاًصاحب ِایمان ہوتے ہیں ان کی شدید ترین محبّت اللہ کے ساتھ ہوتی ہے۔‘‘
زیرمطالعہ آیت سے اگلی آیت میں فرمایا :
{قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (162)}(الانعام)’’ آپؐ کہیے میری نماز‘ میری قربانی‘ میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘
یہ حنیف ہونا ہے فکری سطح پر، قلبی سطح پراور عملی سطح پر بھی مطلوب ہے ۔ سب سے بڑھ کر اللہ کے ساتھ محبت ہو ، اللہ کے ہر حکم کے سامنے جھکے رہو ، پوری زندگی اُس کی فرمانبرداری میں گزارو اوراس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ۔ آج ہم تنہائی میں بیٹھ کر ذرا سوچیں کہ کیا ہم ملت ابراہیم پر قائم ہیں ؟ کیا اللہ ہماری ترجیح اوّل ہے؟ کیا اللہ کی محبت بقیہ محبتوں پر غالب ہے؟ کیا اللہ کے لیے جھکنا باقی سارے تقاضوں پر غالب ہے؟ حنیف ہونا کوئی آسان بات نہیں ہے۔ اللہ فرماتا ہے:{وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ(161)} ’’اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔‘‘
یہود نے عزیر؈کو اللہ کا بیٹا قرار دے دیا، نصاریٰ نے عیسیٰ ؈ کو اللہ کا بیٹا قرار دے دیا، مشرکین مکہ نے خانہ کعبہ میں 360بت رکھ لیے ، اس کے باوجود وہ کہتے تھے کہ ہم ملتِ ابراہیم ہیں ، درحقیقت وہ ہرگز ہرگز ملتِ ابراہیم پر نہیں تھے۔ابراہیم ؈ مشرک نہیں تھے ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے حقیقت اقسام ِ شرک کے عنوان سے شرک کی مختلف قسموں کی وضاحت کی ہے ۔ اگر اللہ کی محبت پر کسی کی محبت کو ترجیح دی جائے ، اگر اللہ کے حکم پر کسی اور کے حکم کو ترجیح دی جائے تووہ بھی شرک ہے ، اللہ کے قانون کو بائی پاس کر کے کسی اور کا قانون مانا جا رہا ہے، یہ تو شرک پلس (plus) والی بات ہے ۔ دکھاوے کا عمل کیا ، دکھاوے کی نماز ادا کی تووہ بھی شرک ہے ؎
براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں
اللہ کا قانون پامال کر کے انسانی عقل سے بنا ہوا قانون نافذ کیا جا رہا ہے، یہ مشرکانہ نظام ہے۔ مگر ہمارے ہاں ابھی وہ شرک کے فتوے ایک مکتب فکر کی طرف سے دوسرے کے لیے چند چیزوں تک محدود ہیں۔ ؎
باطل کے اقتدار میں تقویٰ کی آرزو
کتنا حسیں فریب ہے جو کھا رہے ہیں ہم
شریعت کے خلاف قانون سازیاں کرکے سرعام اللہ کے احکامات کا مذاق اُڑایا جارہا ہے ، یہ شرک کسی کو نظر نہیں آتا؟عرب میںتوحید کا بڑا ذکر ہوتاہے اور شرک کی نفی ہوتی ہے مگر حاکمیت والی توحید وہاں بھی بیان نہیں ہوتی:
{إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلهِ}(یوسف:۴۰)خالق بھی وہ ہے اور حاکم بھی وہی ہے۔
سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی باقی بتانِ آزری
یہ حقیقت کیوں بیان نہیں کی جاتی ؟بس چند چیزوں کو پکڑ کر شرک کے فتوے لگانا ، باطل نظام سے کمپرومائز کرلینا، سود کا دھندہ دیکھ کر چہرے کا رنگ بھی تبدیل نہ ہو، اللہ کے احکامات ٹوٹیں اور ماتھے پر بل بھی نہ آئے تو یہ توحید نہیں ہے ۔ یہ ساری تفصیلات اس لیے نہیں کہ ہم دوسروں پر شرک کے فتوے لگائیںبلکہ یہ اس لیے ہیں کہ ہم اپنا جائزہ لیںکہ کیا آج ہم دین حنیف پر قائم ہیں ؟ اللہ تعالیٰ ہمیں توحید پر کاربند رکھے اور شرک اور اس کی ہر قسم سے ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین !