(دعوت و تحریک) نقیب، اُسرہ اور اجتماعِ اسرہ - آصف حبیب پراچہ

8 /

نقیب، اُسرہ اور اجتماعِ اسرہ

آصف حبیب پراچہ(ناظم تربیت، حلقہ کراچی شرقی)

اس تحریر کا مقصد نظام العمل میں موجود اسرہ کی ساخت، نقیب کے فرائض اور اجتماعِ اسرہ کے خدوخال کی وضاحت پیش کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ مضمون اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ نقیب ِاسرہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے اسرہ میں فطری ماحول کو فروغ دیتا ہے اور تعمیری جذبے کے تحت اسرہ کو معنوی و روحانی خطوط پر استوار کرتا ہے کہ اس کا اثر با معنی، شاندار اور پائیدار ہو۔ امید ہے کہ یہ تحریر ساتھیوں کے لیے مفید اور رہنمائی کا باعث ہوگی۔ ان شاء اللہ!

 
تنظیم اسلامی ایک اصولی اسلامی انقلابی جماعت ہے اوراِس اجتماعیت میں شامل ہر رفیق ایک ایسی اینٹ کی مانند ہے جو اس کی پوری عمارت کو استحکام عطا کرتی ہے۔ لہٰذا اس کے ہر رفیق کی تعمیرِ سیرت اور کردار سازی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ۔اسی بات کا اظہار تنظیم اسلامی کی قرارداد تاسیس میں یوں کیا گیا ہے؛
’’ آج ہم اللہ کا نام لے کر ایک ایسی اسلامی تنظیم کے قیام کا فیصلہ کرتے ہیں جو دین کی جانب سے عائد کردہ    جملہ انفرادی و اجتماعی ذِمّہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے میں ہماری ممدو معاون ہو۔ ہمارے نزدیک دین کا اصل مخاطب فرد ہے۔ اُسی کی اخلاقی و روحانی تکمیل اور فلاح و نجات‘ دین کا اصل موضوع ہے‘ اور پیش نظر اِجتماعیت اصلاً اسی لیے مطلوب ہے کہ وہ فرد کو اس کے نصب العین یعنی رضائے الٰہی کے حصول میں مدددے۔لہٰذا پیش نظر اِجتماعیت کی نوعیت ایسی ہونی چاہیے کہ اُس میں فرد کی دینی اور اخلاقی تربیت کا کماحقہ‘ لحاظ رکھا جائے اور اس امر کا خصوصی اہتمام کیا جائے کہ اس کے تمام شرکاء کے دینی جذبات کو جِلا حاصل ہو‘ ان کے علم میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے‘ ان کے عقائد کی تصحیح و تطہیر ہو‘ عبادات اور اتباعِ سنت سے اُن کا شغف اور ذوق و شوق بڑھتا چلا جائے‘ عملی زندگی میں حلال و حرام کے بارے میں اُن کی حس تیز تر اور اُن کا عمل زیادہ سے زیادہ مبنی بر تقویٰ ہوتا چلا جائے اور دین کی دعوت و اشاعت اور اس کی نصرت و اقامت کے لیے اُن کا جذبہ ترقی کرتا چلاجائے۔ اِن تمام اُمور کے لیے ذہنی اور علمی رہنمائی کے ساتھ ساتھ عملی تربیت اور تاثیر صحبت کے اہتمام کی جانب خصوصی توجہ ناگزیر ہے۔’’ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ ‘‘کے مصداق، افراد جتنے تربیت یافتہ اور مضبوط ہوں گے، اتنی ہی مضبوط اور ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند یہ اجتماعیت ہوگی، جس کی ہر اینٹ خود بھی نہایت پختہ ہوگی اور بیک وقت دیگر اینٹوں سے بھی مضبوطی سے جڑی ہوئی ہوگی۔ 
اُسرہ : ایک انقلابی جماعت کی جملہ کارروائی اور جدوجہد میں 'نظمِ جماعت کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ایسا نظم جو    امیر جماعت سے لے کر ہر رفیق تک ریڑھ کی ہڈی کی    مانند جڑا ہوتا ہے۔ اس نظم کے ذریعے ذِمّہ داران رفقاء کی فکری، نظریاتی، علمی ، روحانی، عملی، اور دیگر پہلوئوں سے تربیت کرنے میں کوشاں رہتے ہیں۔یہ تربیتی عمل درس و تدریس اور ورکشاپ سے دعوتی میدانوں میں رہنمائی و مشق تک، اورانفرادی تعلق کے ذریعہ ذاتی اصلاح اور شخصی مشاورت (one-to-one counseling) تک مستقل بنیادوں پر جاری رہتا ہے ۔ اس مقصد کے لیے تنظیم اسلامی میں نظم کی ہر سطح پر’’اسرہ ‘‘کا ایک بھرپوراور مربوط نظام تشکیل دیا گیا ہے۔جہاں اُس سطح کی ضرورت کے مطابق مشاورت، تربیت ،فیصلہ سازی اور اقدامات کئے جاتے ہیں۔ اس نظم کی بلند ترین سطح پر مرکزی اسرہ ہے جو امیر ِمحترم کےتحت ان کے معاونین پر مشتمل ہے۔ اسی طرح نائب ناظم اعلیٰ، امیر حلقہ، مقامی امیر اور سب سے بنیادی سطح پر نقیب اور اس کے رفقاء پر مشتمل اسرہ قائم کیا جاتا ہے ،جس کی صحت اور کارگردگی پوری تنظیم پر اثر انداز ہوتی ہے۔
  اسرہ درحقیقت دین کی دعوت و اقامت کی جدوجہد میں رفقاء کی تربیت اور تیاری کا مرکز ثقل ہے۔ یہ ایک ایسا غیر معمولی پلیٹ فارم ہے جہاں ساتھی نہ صرف دینی شعور اور عملی نظم حاصل کرتے ہیں بلکہ ان کی ذہنی و جسمانی توانائیاں اور دلی محبتیں بھی ایک ہی محور پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ مزید برآں، اسرہ اپنے ہر رکن کے لیے ایک مضبوط زرہ (Armor)  کی مانند ہے۔ اس کے ذریعے رفقاء میں واقفیت، باہمی سمجھ بوجھ اور یکجہتی کا احساس پروان چڑھتا ہے۔ اور رفقاء کو رحماء بینھم کے    عملی مظہرکے طور پر ایک مربوط رشتے میں پِرو دیتا ہے،جو نہ صرف اللہ سے محبت کرتے ہیں،بلکہ اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے بھی محبت کرتے ہیں، چنانچہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی محبت کے بھی مستحق بن جاتے ہیں۔ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗٓ (المائدۃ : 54)جن سے وہ (خود) محبت فرماتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے ۔
لفظ اُسرہ کے لغوی معنی خاندان کے ہیں۔ یہ کسی شخص کے خاندان، قبیلہ یا ایسے افرادکے مجموعہ پر بولا جاتا ہے جو قرابت داری یا نسب کے رشتے میں جڑے ہوں۔ گویا انسانوں کا ایک ایسا گروہ جس میں کوئی قدر مشترک ہو۔ ’’أسر‘‘سے اس کے معنی 'قوت کے نکلتے ہیں۔ اس اعتبار سے بھی مفہوم قریب قریب وہی بنتا ہے۔ کیونکہ انسان کے اہلِ خانہ ،اعزاء و اقرباء اور اس کی اجتماعیت  ہی اس کے لئے قوت  کے حصول کا اولین ذریعہ اور نمایاں مظہر ہوا کرتے ہیں۔ خاندان نظامِ حیات کی بنیادی اکائی ہے۔ قرآن و حدیث میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خاندان کو مضبوط رکھا جائے، اس کی حفاظت کی جائے اور اس کی تربیت و نشوونما پر توجہ دی جائے۔ اسلام خاندان کے افراد کو اعلیٰ اقدار اور عمدہ اخلاق کی طرف رہنمائی کرتا ہے،آپس کے تعلقات کو مضبوط بنانے کی تاکید کرتا ہے، اور اخوت و بھائی چارگی کے تصور کو نظریاتی سوچ سے عملی حقیقت بنا دیتا ہے۔ پھر یہی مضبوط خاندان ہی بہترین اور صالح معاشرہ کی بنیاد بنتا ہے۔ 
 نقیب:لغوی طور پر’’نقیب ‘‘مادہ ’’ن ق ب‘‘سے ماخوذ ہے اس سے لفظ 'نقب آتا ہے جس کے معنی بڑے سوراخ کے ہیں؛ نقب لگانا یعنی کھودنا، اندر تک جانا، اور فعیل کے وزن پر نقیب بنتا ہےیعنی کسی چیز کی تہہ تک جانے والا۔ اصطلاح میں’’نقیب ‘‘سے مراد کسی قوم کا نمائندہ یا سردار کے ہیں اور اس سے خبرگیر، نمائندہ، کفیل اور نگراں کے مفہوم میں آتا ہے ۔ گویا نقیب وہ شخص ہوتا ہے جو اپنی قوم کی طرف سے گواہ، ضامن اور نمائندہ ہو۔جو کسی گروہ کے اندرونی حالات و معاملات کی نگرانی کرے ، ان کے احوال و امور پر نظر رکھتا ہو اور ان کے خیالات و معاملات سے مطلع   رہتا ہو۔ادبی و تاریخی مآخذات سے معلوم ہوتا ہے کہ   قبل از اسلام عرب معاشرہ قبائلی اور قافلائی تھا اور مخصوص معاملات کے لیے نمائندے یا نگران مقرر کرنا معمول تھا۔یہی سماجی ضرورت نقیب جیسے عہدوں کو جنم دیتی ہے۔ نقیب کا عہدہ قبیلے کی ساخت اور ضرورت کے مطابق مختلف عملی ذِمّہ داریوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ مثلاً؛نمائندگی، ثالث، قافلے کی قیادت یا معاہدات کی نگرانی، وغیرہ۔ نقیب کا لفظ  قرآن حکیم میں  انہی معنوں میں آیا  ہے جہاں حضرت موسیٰ ؑ کے زمانے میں بنی اسرائیل کے بارہ قبائل کے لیے بارہ نقیب مقرر کیے جانے کا ذکر ہے:{وَبَعَثْـنَا مِنْہُمُ اثْـنَیْ عَشَرَ نَـقِیْـبًاط} ( المائدہ: 12)’’ اور ہم نے ان میں سے بارہ نقیب مقرر کیے۔‘‘ 
       علاوہ ازیں،نقیب کی اصطلاح ہمیں سیرت محمدﷺ کے واقعہ سے بھی ملتی ہے جب بیعت عقبہ ثانیہ کے   موقع پرمدینہ سے آئے ہوئے مسلمانوں کے لیے آپﷺ نے بارہ نقباء مقرر فرمائے تھے۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ: ’’تم اپنی قوم کے ذِمّہ دار (کفیل) ہو جیسے عیسیٰ بن مریمؑ کے حواری ان کے ذِمّہ دار تھے اور میں اپنی قوم پر ضامن ہوں۔‘‘ پس یہ بارہ نقباء بھی اپنی قوم کے مؤمن افراد کے ضامن تھے۔ اللہ کے رسولﷺ نے انہیں اس سے آگے بڑھ کر داعی و مربی کا کردار بھی دیا۔  لہٰذا جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے، تو انصار پہلے ہی ان نقباء کے ذریعے اسلام کی بنیادی تعلیمات سے مانوس ہو چکے تھے۔ بعدازاں جب مدینہ میں صحابہ کرامj مختلف ذمہ داریوں پر فائز ہوئے، تو اس وقت بھی نقباء کا کردار دعوتی و تربیتی نمائندگی کی صورت میں جاری رہا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ شروع میں یہ نظام ابتدائی تنظیمی ڈھانچے کے طور پر رہا، جو بعد میں اسلامی ریاست کے وسیع ترنظم میں ضم ہو گیا۔
یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ بیعت عقبہ ثانیہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ مدینہ میں ایک انقلابی تحریک کا نقطۂ آغاز تھا ۔ اس کے نتیجہ میں نہ صرف اسلامی ریاست کی بنیاد پڑی، بلکہ دنیا بھر میں اسلام کے تبلیغ و غلبے کی راہ بھی ہموار ہوئی۔ نقیب کی نمائندگی میں بیشتر حساس معاملات میں کام لیا گیا،جس میں غزوۂ بدر کے بعد قیدیوں کی تقسیم، غزوۂ احد کے بعد زخمیوں کی دیکھ بھال ، غزوۂ تبوک کی حاضری اور تیاری ، غزوۂ احزاب میں خندق کی کھدائی اور صلح حدیبیہ پر عملدرآمد، یہاں تک کہ معرکۂ موتہ کے موقع پر حضور اکرمﷺ کی ہدایات پر لشکر کے مختلف حصوں کی کمان نقباء کے سپرد کیا جانا شامل ہیں۔
عہدِ نبوی ﷺ کے بعد بھی نقیب کا منصب کبھی دعوتی و تربیتی نمائندہ، کبھی اہلِ بیت کے نسب کے سرکاری نگران، اور کبھی تصوف کے سلسلوں میں مربی کے طور پر برقرار رہا۔ آج تنظیم اسلامی میں رائج اسراجات اور نقباء کانظام اسی مبارک سنت کی ایک صورت ہے اور ہمارے لئے موقع ہے کہ بیعت عقبہ کی یاد کو تازہ رکھیں اور اپنی زندگیوں کو اسی جذبۂ ایمانی اور عزمِ مصمم سےمنور کریں۔
نقیبِ اسرہ: تنظیم اسلامی کے تنظیمی ڈھانچے میں سب سے بنیادی اور فیصلہ کن ذِمّہ داری نقیبِ اسرہ کی ہے اور واقعہ یہ ہے کہ نقباء کے مناسب حد تک فعال اور متحرک ہونے پر ہی تنظیم اسلامی کی پیش رفت کا اصل انحصار اور دارو مدار ہے۔نظم میں نقیبِ اسرہ اپنے رفقاء کے لیے ’’امیر‘‘کی حیثیت رکھتا ہے۔اس طرح تنظیم کو میدانی سطح (Ground Level) پرایک مخلص اور پُر عزم قیادت میسر آتی ہے۔ یہ ایک ایسی ذِمّہ داری ہے جو تربیت و رہنمائی، اطلاعات و رابطہ اور قیادت وانتظام کو یکجا کر دیتی ہے۔ نقیب اپنے رفقاء کے انفرادی احوال، ایمانی کیفیت اور عمل کی نگرانی کرتا ہےاور نظم بالا کو ان احوال سے باخبر رکھتا ہے۔ تربیت کا جوہر اس وقت جلوہ گر ہوتا ہے جب نقیب اپنے عمل سے نمونہ قائم کرتا ہے۔ وہ نظم کی ہدایات اور دینی سرگرمیوں میں سب سے پہلے خود کو پیش کرتا ہے تاکہ رفقاء کے لیے عملی مثال اور روشن مینار بن جائے۔
ایک نقیب کے پاس ’’اسرے کی مجموعی ترقی‘‘ اور ’’رفقاء کی انفرادی نشوونما‘‘ دونوں کے لیے واضح وژن ہوتا ہے۔یہ ضروری نہیں ہےکہ نقیب اسرہ دیگر رفقاء سے زیادہ تجربہ کار یا زیادہ علم و ہنر والا ہی ہو، بلکہ ضروری یہ ہے کہ وہ ان کے مزاج اور ضروریات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ہر رفیق کی شخصیت کا مطالعہ کرنا اور یہ جائزہ لیتے رہنا کہ کس رفیق میں کون سی خصوصیات کو فروغ دینا ضروری ہے اور کن مسائل کو حل کرنا ضروری ہے، نقیب کے اولین کاموں میں سے ہے۔ اسرہ کے رفقاء مختلف مزاج اور متنوع صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں، اور یہی تنوع اس اسرہ کی اصل خوبی اور حسن بن سکتا ہے۔ نقیب کا کام رفقاء کے مزاج کو بدلنا یا سب کو ایک جیسا بنانا نہیں ہے، بلکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ راہِ حق میں مختلف مزاج، صلاحیتیں اور خوبیاں رکھنے والے ساتھیوں کی ضرورت ہے۔ وہ رفقاء کے مزاج کو دینی رہنمائی کے تابع لانے کی تربیت کرتا ہے اور سب کو ایک ہی فکر، نظریہ، مقصد اور سمت پر جوڑتا ہے۔
نقیب اُسرہ رفقاء کے دلوں کو آپس میں جوڑنے میں مدد دیتا ہے۔ اسرہ میں ایسا ماحول قائم کرتا ہے کہ رفقاء ایک دوسرے کو پہچانیں، اپنائیں، ایک دوسرے کی خوبیوں سے فائدہ اٹھائیں اور کمیوں کو دور کرنے کے لیے باہمی سہارا بنیں۔ وہ حقیقی بھائی چارے، اعتماد، وفاداری اور وابستگی کی فضا قائم رکھتا ہے، اور اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ رفقاء کے تعلقات کی پاکیزگی منفی اثرات سے محفوظ رہے۔ یہاں تک کہ وہ اس درجے کے قریبی دوست بن جائیں جن کے مابین روزانہ کا رابطہ ہو، جو ایک دوسرے کی مصروفیات سے آگاہ رہیں، اور قرآن کے فرمان ’’یُؤثِرونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم…‘‘ کے مصداق اپنی حاجت پر دوسرے کی ضرورت کو مقدم رکھیں۔ وہ دوسرے کی غیر موجودگی میں بھی اس کی حفاظت کا اہتمام کریں اور کم از کم کے درجہ میں دوسرے کے لیے خلوص کے ساتھ دعا کرتے رہیں ۔ غیر رسمی ملاقاتوں میں اپنے گھر والوں کو بھی شریک رکھنے سے مزید خوبصورت ماحول پیدا ہوتاہے،کہ جب اسرہ کے رفقاء اور ان کے اہلِ خانہ کے درمیان تعلقات کے ذریعے دینی فضا قائم ہو، اور اسرہ کے رفقاء اور ان کے گھرانوں کی ترجیحات میں ہم آہنگی پیدا ہو جائے۔ یوں گھر کے افراد بھی دین کی خدمت میں شامل ہو کر اجتماعیت کو مزید مضبوط بنا دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ کیفیت یکایک پیدا نہیں ہوتی، بلکہ وقت اور محنت سے فروغ پاتی ہے۔ نقیب اپنی فکر اور توانائیاں اس بات پر صرف کرتا ہے کہ رفقاء کس طرح ایک مضبوط بندھن میں جڑ سکیں۔ 
نقیب اسرہ کے کردار کا ایک لازمی پہلو ذاتی    ذِمّہ داری کا شعور بیدار کرنا ہے۔ ایک انقلابی کارکن کسی ذِمّہ داری سے گریز نہیں کرتا، بلکہ اسے اللہ کی طرف سے عائد کردہ فریضہ اور سعادت سمجھ کر قبول کرتا ہے۔ چنانچہ نقیب رفقاء کی صلاحیتوں کو اِس طرح پروان چڑھاتا ہے کہ وہ آئندہ تنظیم کے تحت مختلف ذِمّہ داریاں سنبھالنے کے قابل ہو جائیں۔ لہٰذا رفقاء کی ذاتی ترقی، تربیتی نصاب اور ان اہداف کے حصول کی پیش رفت مسلسل جاری رہتی ہے، جو اجتماعیت کے مشن کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اولاً تو رفیق ہونا ہی اُسے ذِمّہ دار بنا دیتا ہے، کیونکہ اب اس کے سامنے ایک نصب العین، ایک مقصد اور ایک مشن ہوتا ہے۔ نقیب  اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ رفقاء اپنے نصب العین اور  تنظیم اسلامی کے مقصد کو واضح طور پر سمجھیں، اور اس جدوجہد کو اتنا اہم جانیں کہ انسانیت کی بھلائی کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی خدمت نظر نہ آئے۔
نقیب اپنے رفقاء کو ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرتا ہے۔وہ سکھاتا ہے کہ استقامت کے ساتھ درست راہ پر ڈٹے رہیں، ہر حال میں اللہ کے حکم پر عمل کریں اور جو چیز اُسے ناپسند ہو اُسے ترک کر دیں۔ وہ رفقاء کو سمجھاتا ہے کہ آزمائشیں، مصائب اور مشکلات انسان کی زندگی کا لازمی حصہ ہیں جو کبھی معمولی ہوتی ہیں اور کبھی شدید۔ مگر ہر مشکل دراصل صبر کا امتحان ہے۔ اس موقع پر ردِعمل وہی ہو جو رب کو پسند ہے اور یہ یقین ہو کہ اللہ دیکھ رہا ہے اور اس کے کاموں میں سراسر خیر ہے۔ صبر کا کمال یہ ہے کہ انسان اپنے آپ اور اپنے تمام نتائج کو اللہ کے سپرد کر دے،اور دنیاوی سہاروں کے بجائے صرف اسی پر بھروسہ رکھے۔ جب انسان اس کیفیت میں اللہ ہی سے لو لگاتا ہے تو اس کا اپنے رب سے تعلق قائم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ پھر یہی تعلق آزمائش میں مٹھاس اور خوبصورتی پیدا کر تا ہے اور اسے’’صبرِ جمیل‘‘ کی صورت عطا کرتا ہے۔ مشکل کے بدلے میں اللہ سے تعلق کا بلند مقام حاصل ہونا کسی عظیم انعام سے کم نہیں ۔ یہ روحانی کیفیت انقلابی کارکن کو دین کے مشن پر استقامت، شرح صدر، سکون قلب اور یکسوئی عطا کرتی ہے۔
اجتماعِ اسرہ: نقیب کے فرائض منصبی کا تقاضا ہے کہ وہ انفرادی اور غیر رسمی ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ رفقاء کو یکجا کر کے ایک مجلس میں بٹھائے، تاکہ باہمی ملاقات، مشاورت، تذکیر و تربیت، تجربات کا تبادلہ، اہداف کا جائزہ اور آئندہ امور کی منصوبہ بندی مؤثر انداز میں ہو سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے تنظیم اسلامی کے نظام العمل میں ’’اجتماعِ اُسرہ‘‘ کو ایک اہم اور بنیادی پلیٹ فارم کی حیثیت دی گئی ہے۔ اجتماعِ اسرہ وہ ذریعہ ہے جو ایک چھوٹے گروہ کو فعال اور مؤثر ٹیم میں بدل دیتا ہے۔ اجتماع اسرہ قرآنی ہدایت ’’{کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَO} (التوبہ) کی عملی تصویر ہے جو ہمیں دارِ ارقم کی یاد دلاتا ہے جہاں اللہ کے رسولﷺ اور صحابہ کرام ؓ باقاعدگی سے جمع ہوا کرتے تھے۔ یہ ایک ایسا تربیتی و دعوتی پلیٹ فارم ہے جو ہر فرد کو اپنی کمزوریوں پر قابو پانے اور صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ لفظ ’’اُسرہ‘‘ اور’’اجتماعِ اُسرہ‘‘ میں فرق ہے۔ رفقاء عام طور پر اجتماعِ اُسرہ کے لیے بھی صرف ’’اُسرہ ‘‘کا لفظ استعمال کر لیتے ہیں، جس    سے ذہنوں میں اُسرہ کا تصور محدود ہو جاتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ رفقاء ہمیشہ اس اجتماع کو اس کے اصل نام ’’اجتماعِ اُسرہ ‘‘سے پکاریں، تاکہ اُسرہ کے وسیع تصور کو برقرار رکھا جا سکے۔ نقیب اجتماعِ اُسرہ سے پہلے اس کی بھرپور تیاری کرتا ہے، اور اس کا یہ شوق و جذبہ رفقاء کے دلوں میں اجتماع کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اُسرہ کے رفقاء بھی ہر ملاقات اور اجتماع سے قبل روحانی، جسمانی اور ذہنی طور پر خود کو تیار کرتے ہیں۔ تربیتی و دعوتی امور اور مشاورت میں فعال حصہ لیتے ہیں، اور جب کوئی فیصلہ طے پاتا ہے تو اس پر دل و جان سے عمل کرتے ہیں۔ وہ   اجتماعِ اسرہ میں شرکت اور باہم ملاقات کو اقامت ِدین کے مشن کی تیاری کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اجتماع میں رفقاء کی حاضری و شرکت ان کی تنظیم کے امیر سے ایفائے عہد کی علامت ہے۔ لہٰذا وہ اپنی روزمرہ زندگی میں اسے اولین ترجیح دیتے ہیں اور اس میں شرکت کو کسی بڑے ادارے کے انٹرویو یا ممکنہ گاہک سے ملاقات سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اجتماعِ اسرہ کا ایک بنیادی غرض یہ ہے کہ اسرے کی دعوتی سرگرمیوں کا مسلسل جائزہ لیا جائے کیونکہ دعوتِ دین کسی بھی انقلابی جماعت کا اولین اور مستقل کرنے کا کام ہے۔ اگر دعوت کا کام نہیں ہورہا تو وہ اسرہ مؤثر نہیں ہے اور اگر کوئی رفیق دعوت کے میدان میں کسی درجے بھی سرگرم نہیں ہے تو حقیقی  معنوں میں وہ غیر فعال ہے۔   اس کے برعکس جتنی زیادہ دعوتی سرگرمیاں ہوں گی،اور     جتنا زیادہ رفقاء سنجیدگی اور مستقل مزاجی  سے کام کریں گے تو اتنا ہی ناگزیر ہو جائے گا کہ انہیں بلایا جائے ، ساتھ بٹھایا جائے اور مشورہ کیا جائے۔ یوں اجتماع اسرہ کا انعقاد خود بخود ایک اسرہ کی ضرورت بن جائے گا۔چنانچہ رفقاء کے انفرادی احباب سے رابطہ و دعوت ، انہیں مرحلہ وار آگے بڑھانے،  اسرے کے تحت ہونے والے حلقہ قرآنی کے تسلسل، نصاب، محلہ میں گشت اور حاضری کی کیفیت کا گاہے بگاہے جائزہ لینا اور بہتری کے لیے صلاح و مشورہ کرنا اجتماعِ اسرہ کا لازمی تقاضا ہے۔
حاصل:نقیب کا کردار صرف اجتماعِ اسرہ کی قیادت تک محدود نہیں ہوتا ، بلکہ وہ شعوری طور پر اس بات کا اہتمام کرتا ہے کہ اجتماعِ اسرہ کا انعقاد ہی اسرے کا واحد مقصد نہ رہ جائے۔ اس سلسلے میں رفقاء کا شخصی جائزہ لینا نقیب کی اہم ذِمّہ داریوں میں سے ایک ہے۔ اس کے ذریعہ وہ اپنے رفقاء کی صلاحیتوں اور کمزوریوں کو پہچانتا ہے اور خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ ان کی اصلاح و ترقی کے لیے پُرخلوص رہنمائی اور مشورہ فراہم کرتا ہے۔ نقیب رفقاء کو فعال رکھنے کے لیے ان کے درمیان ذِمّہ داریاں تقسیم کرتا ہے اور انہیں چھوٹے بڑے کام تفویض کرتا رہتا ہے۔ ہر رفیق کے لیے کم از کم ایک حبیب، ایک حلقہ قرآنی،  ایک مسجد،  اور اس جیسے مزید اہداف مقرر کرتا ہے، پھر وقتاً فوقتاً ان کا جائزہ لیتا ہے اور ان کی معاونت کرتا ہے۔اللہ کی  راہ میں مال کا انفاق ہو یا وقت و جان کی قربانی کا موقع ہو، نقیب اپنے نظمِ بالا کی پکار پر فوراً لبیک کہتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اسرہ کے رفقاء اس میں اپنا حصہ ڈالنے سے محروم نہ رہیں۔ نقیب کی کامیابی اسی میں مضمر ہے کہ رفقاء کے ساتھ رابطے اور اعتماد کی فضا قائم ہو، اور انہیں یہ یقین دل میں جا گزیں ہو جائےکہ نقیب ہی ان کا قریب ترین ساتھی اور خیرخواہ ہے۔ یہی وہ روحانی رشتہ ہے جو نقیب اور رفقاء کے درمیان قائم ہونا چاہیے، تاکہ ان کی جدوجہد اللہ کی محبت کا ذریعہ بن جائے۔ آپﷺ نے ایک حدیث قدس میں بیان فرمایاکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ((وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ، وَالْمُتَجَالِسِينَ فِيَّ، وَالْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ، وَالْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ)) (موطا امام مالک)’’میری محبت ان پر واجب ہے جو میری رضا کے لیے آپس میں محبت کرتے ہیں، جو میری رضا کے لیے بیٹھتے ہیں، جو میری رضا کے لیے ایک دوسرے سے ملتے ہیں، اور جو میری رضا کے لیے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں۔‘‘
تنظیم اسلامی کے رفقاء کو یہ بات ہر دم تازہ رکھنی چاہیے کہ ہم درحقیقت اللہ کے رسول ﷺ کے مشن کے شریک اورمددگار ہیں،بالکل ویسے ہی جیسے صحابہ کرامj تھے۔بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر حضرت عباس hنے انصارِ مدینہ کو یہ حقیقت باور کرائی کہ حضور ﷺ کو مدینہ میں جگہ دینا دراصل سارے عرب سے جنگ کا اعلان ہے۔ اگر تم ان کا دفاع اپنی جان و مال قربان کر کے کر سکتے ہو تو آگے بڑھو، ورنہ وہ اپنے خاندان میں محفوظ ہیں۔ ایسے فیصلہ کن لمحے میں انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو اپنی جانوں پر ترجیح دی۔ انہوں نے یہ عظیم سودا قبول کیا کہ چاہے ان کا سب کچھ قربان ہو جائے، لیکن اگر رسول اللہ ﷺ انہیں مل جائیں اور وہ آپ ﷺ کے مشن میں اپنی زندگیاں کھپا دیں تو یہ کسی بھی سعادت سے کم نہیں۔     جب قرآن نازل ہو رہا تھا تو صحابہ کرامj اس کی آیات میں اپنی تصویر دیکھتے تھے، اپنے قلوب و اذہان کا جائزہ لیتے تھے اوراسی کے مطابق اپنے اعمال کی اصلاح کرتے تھے۔ آج بھی ہمیں وہی طریقہ اختیار کرنا ہو گا۔ قرآن کی آیات کو دل میں اتارنا ہو گا اور ان میں خود کو اس  انقلابی کارکن کے حیثیت میں تلاش کرنا ہو گا کہ جو اللہ کے رسولﷺ کے مشن میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرے۔ ہمیں اپنی زندگی میںایسے ہی انقلاب کی ضرورت ہے۔