الہدیٰ
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک
آیت 14{وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ ج } ’’اور ہم نے وصیت کی انسان کو اُس کے والدین کے بارے میں۔‘‘
یعنی والدین کے بارے میں حسنِ سلوک کی تاکیدی ہدایت کی۔ پھر والدین میں سے بھی والدہ کے حق کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا‘ کیونکہ بچوں کی پیدائش اور پرورش کے سلسلے میں زیادہ مشقت اور تکلیف والدہ ہی کو برداشت کرنا پڑتی ہے۔
{حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَہْنًا عَلٰی وَہْنٍ}’’اُس کو اٹھائے رکھا اُس کی ماں نے (اپنے پیٹ میں) کمزوری پر کمزوری جھیل کر‘‘
{وَّفِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنِ} ’’اور اُس کا دودھ چھڑانا ہوا دو سال میں‘‘
پہلے نو ماہ تک بچہ ماں کے پیٹ میں رہ کر جونک کی طرح اُس کا خون چوستا رہا اور پھر پیدائش کے بعد دو سال تک مسلسل اُس کے جسم کی توانائیاں دودھ کی شکل میں نچوڑتا رہا۔
{اَنِ اشْکُرْ لِیْ وَلِوَالِدَیْکَ ط}’’کہ تم شکر کرو میرا اور اپنے والدین کا !‘‘
{ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ(14)}’’اور میری ہی طرف تمہارا لوٹنا ہو گا۔‘‘
درس حدیث
عاشورہ کے روزے کی فضیلت
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ:(( صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ))(سنن ابن ماجہ)
حضرت ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’عاشوراء کا روزہ(اُس کے بارے میں) میں سمجھتا ہوں کہ اُس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ پچھلے ایک سال کے گناہ معاف کر دے گا۔‘‘