اداریہ
رضاء الحق
گلگت بلتستان سے آزاد کشمیر تک !
گلگت بلتستان میں ہونے والے حالیہ الیکشنز خود الیکشن کے نام پر ایک بدنما دھبہ ہیں۔ اور ہم ابھی سے کہے دیتے ہیں کہ اگر27 جولائی کو آزاد کشمیر میں ہونے والے الیکشنزمیں فارم ’’اے کے 47‘‘ استعمال کیا گیا تو اس کے نتائج ملک و قوم کی بقا و سلامتی کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ملک بھر کے اخبارات اور روایتی میڈیا گلگت بلتستان میں (مبینہ طور پر) فارم 47 کی کامیابی کے ترانے گا رہے ہیں، جو اُن کی مجبوری بھی ہے، لیکن سوشل میڈیا اور گلگت بلتستان میں موجود وی لاگرز نے الیکشن سے قبل، دوران اور بعد میں کی گئی دھاندلی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کا اچھا خاصا ووٹ بینک موجود ہے اور ماضی کے الیکشنز میں بھی اُنہیں وہاں سے خاطرخواہ کامیابی ملتی رہی ہے۔ اسی طرح آزاد امیدوار بھی اس صوبے سے معتد بہ تعداد میں منتخب ہوتے رہے ہیں۔ لیکن ہر وہ جماعت جس کا کسی بھی درجے میں حکومتی اتحاد سے مینڈیٹ چھین لینے کا خطرہ تھا، اسے قانونی موشگافیوں اور ماورائے آئین و قانون حربوں دونوں کے استعمال سے چت کر دیا گیا۔ مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں یہ تاثر بھی سامنے آیا کہ انتخابی ماحول مکمل طور پر غیر جانبدار نہیں رہا۔ سیاسی کارکنوں کے خلاف انتظامی دباؤ، جلسوں اور سرگرمیوں پر غیر رسمی قدغنیں، بعض حلقوں میں اثرانداز ہونے کی کوششوں کے الزامات، اور انتخابی عمل کے دوران ریاستی مشینری کے کردار پر اٹھنے والے سوالات نے ایک ایسی فضا پیدا کی جس میں اصل مقابلہ سیاسی جماعتوں کے درمیان کم اور طاقت و اختیار کے مراکز کے گرد زیادہ محسوس ہوا۔پنجاب پولیس کے تقریباً پانچ ہزار اہلکاروں کی تعیناتی کا معاملہ بھی غیر معمولی بحث کا موضوع بنا رہا۔ ’’متحارب‘‘ پارٹیوں کے امیدواروں، کارکنوں، حتیٰ کہ ووٹرز، سپورٹرز کو بھی ’’ڈرائنگ روم‘‘ کی سیر کرائی گئی۔ ان میں سے اکثرکو الیکشن کے دن بھی ایسے غائب رکھا گیا جیسے گدھے کے سر سے سینگ ! بعض ابھی بھی گھر واپس نہیں لوٹے۔ایک ’مخصوص‘ پارٹی کو الیکشن میں حصّہ لینے سے روک دیا گیا جس سے الیکٹورل سیاست کا جنازہ ہی نکال دیا گیا۔
جمہوریت محض ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ کسی ریاست کے آئین کے تحت ایک ایسا اجتماعی معاہدہ ہوتا ہے جس میں ریاست، عوام اور سیاسی قوتیں اس اصول پر متفق ہوتی ہیں کہ عوامی مینڈیٹ کا حترام ہو گا اور اقتدار کی منتقلی شفاف، منصفانہ اور قابلِ قبول طریقے سے ہوگی۔ جب اس بنیادی اصول پر سوالات اُٹھنے لگیں، انتخابی عمل کے بارے میں شکوک و شبہات بڑھ جائیں اور عوام کے ذہنوں میں یہ احساس جنم لینے لگے کہ سیاسی نتائج پہلے سے طے شدہ ہیں، تو مسئلہ صرف ایک انتخاب کا نہیں رہتا بلکہ پورے سیاسی نظام کی ساکھ اور ریاستی استحکام کا بن جاتا ہے۔ حالیہ گلگت بلتستان انتخابات کے تناظر میں اُٹھنے والے سوالات اور آزاد جموں و کشمیر میں متوقع انتخابی ماحول اسی تشویش کو جنم دے رہے ہیں۔ یہ سوال اہم ہے کہ اگر واقعی ایسی سخت حکمتِ عملی اختیار کی گئی تو اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ بظاہر اس کا ایک سبب ریاستی سطح پر سیاسی نظم و ضبط اور مطلوبہ نتائج کے حصول کی خواہش معلوم ہوتی ہے۔ گلگت بلتستان محض ایک انتظامی خطہ نہیں بلکہ پاکستان کی جغرافیائی، دفاعی اور معاشی حکمتِ عملی کا ایک نہایت حساس حصّہ ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تناظر میں اس کی اہمیت مزید بڑھ چکی ہے۔ ایسے میں شاید یہ تصور کیا گیا کہ اگر کوئی ایسی عوامی یا سیاسی قوت اُبھر کر سامنے آتی ہے جو مرکزی پالیسیوں سے مکمل ہم آہنگ نہ ہو تو اُس سے نہ صرف انتظامی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی بلکہ وسیع تر قومی مفادات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔تاہم ریاستی استحکام کے نام پر سیاسی عمل کو محدود کرنے سےشاید ہی کبھی مطلوبہ نتائج حاصل ہوئے ہوں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جمہوری آوازوں کو دبانے سے وقتی’’ سکون‘‘ تو حاصل کیا جاسکتا ہے مگر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی بے چینی بعد ازاں زیادہ پیچیدہ شکل اختیار کرلیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے اہم سوال انتخابی نتائج کے عوامی قبولِ عام کا بنتا ہے۔ کسی بھی جمہوری نظام میں صرف کامیابی کافی نہیں ہوتی، کامیابی کی اخلاقی اور سیاسی قبولیت بھی ضروری ہوتی ہے۔ اگر عوام کی ایک بڑی تعداد یہ محسوس کرے کہ انتخابی عمل آزاد اور شفاف نہیں تھا تو ایسی حکومت خواہ قانونی حیثیت رکھتی ہو، اخلاقی اعتبار سے کمزور سمجھی جاتی ہے۔ یہی احساس بعد ازاں احتجاجی سیاست، ریاستی اداروں پر عدم اعتماد اور سیاسی تقسیم میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔
گلگت بلتستان کے تناظر میں یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ وہاں کی آبادی پہلے ہی سیاسی شناخت، آئینی حیثیت اور نمائندگی کے پیچیدہ سوالات سے دوچار رہی ہے۔ ایسے ماحول میں انتخابی شفافیت پر معمولی سا شبہ بھی زیادہ گہرا اثر چھوڑ سکتا ہے۔حکومت کےایسے طرزِ عمل کے باعث بعض مبصرین پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک حساس باب کی طرف بھی اشارہ کرتے محسوس ہوتے ہیں، اگرچہ اس تقابل کو محتاط انداز میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ 1970ء کے انتخابات سے قبل بھی مختلف علاقوں میں سیاسی احساسِ محرومی، طاقت کے غیر متوازن استعمال اور مرکز و اکائیوں کے درمیان اعتماد کے فقدان کے عناصر موجود تھے۔ اس دور کے حالات اور آج کے سیاسی تناظر میں یقیناً نمایاں فرق موجود ہے، مگر ایک لطیف مماثلت ضرور محسوس کی جاسکتی ہے: جب عوام یہ محسوس کرنے لگیں کہ اُن کی سیاسی ترجیحات کو مکمل آزادی کے ساتھ سامنے آنے نہیں دیا جارہا تو ریاست اور عوام کے درمیان نفسیاتی فاصلہ بڑھنے لگتا ہے۔
تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ قومیں اکثر اپنے تجربات سے فوری سبق نہیں سیکھتیں، خصوصاً جب طاقت کے مراکز قلیل المدتی استحکام کو طویل المدتی سیاسی ہم آہنگی پر ترجیح دینے لگیں۔بین الاقوامی سطح پر بھی ایسے انتخابات کے اثرات محدود نہیں رہتے۔ آج کا دور اطلاعات کا دور ہے جہاں مقامی واقعات چند لمحوں میں عالمی مباحث کا حصّہ بن جاتے ہیں۔ انتخابی شفافیت پر اگر مسلسل سوالات اٹھیں، سیاسی سرگرمیوں پر قدغنوں کی اطلاعات آئیں، یا اپوزیشن کے لیے غیر مساوی ماحول کا تاثر مضبوط ہو تو بین الاقوامی ذرائع ابلاغ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور جمہوریت پر نظر رکھنے والے ادارے لازماً سوالات اُٹھاتے ہیں۔ یہ محض سفارتی تشویش کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کے مجموعی سیاسی امیج سے جڑا مسئلہ ہے۔ ایک ایسی ریاست جو خود کو جمہوری، آئینی اور عوامی نمائندگی کی علمبردار قرار دیتی ہو، اس کے لیے انتخابی غیر شفافیت کا تاثر طویل مدت میں نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔اس تناظر میں چین کے ساتھ تعلقات کا سوال بھی اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔ عمومی طور پر چین داخلی سیاسی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند رہتا ہے اور اس کی بنیادی ترجیح استحکام اور معاشی منصوبوں کا تسلسل ہوتی ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی ایسے خطے میں جہاں اس کے بڑے معاشی مفادات وابستہ ہوں، سیاسی بے چینی یا عوامی ناراضی بالآخر تشویش کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر مقامی آبادی میں یہ احساس پیدا ہو کہ سیاسی فیصلے ان کی حقیقی رائے کی نمائندگی نہیں کرتے تو اس کا اثر ترقیاتی منصوبوں کے سماجی قبولِ عام پر بھی پڑ سکتا ہے۔ لہٰذا مسئلہ صرف انتخابی سیاست تک محدود نہیں بلکہ حکمرانی کی مجموعی ساکھ سے جڑا ہوا ہے۔اسی دوران آزاد جموں و کشمیر میں آنے والے انتخابات کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتِ حال بھی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بعض حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہاں بھی انتخابی میدان کو مخصوص انداز میں ترتیب دینے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ خاص طور پر جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات نے بحث کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے نہ صرف ’تنہا پرواز‘ (Solo Flight) کی ٹھانی اور آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں سے لاتعلق رہے، اگرچہ مطالبات اُس کے سیاسی ہی تھے۔ پھر یہ کہ اُس کا ایسا طرزِعمل سامنے آیا جو تشدد پر مبنی اور ریاست کی رِٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف تھا اور اِس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انتشار پر بھارت میں خوب تالیاں پیٹی گئیں۔ جس سے یہ تاثر بھی اُبھرا یا اُبھارا گیا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پیچھے ’را‘ (RAW) ہے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ وہ محبِ وطن افراد پر مشتمل ایک تحریک ہے جو آزاد کشمیر کے ساتھ 78 سالوں سے کیے گئے ظلم کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں۔ لہٰذا اگر کسی تنظیم، تحریک یا عوامی گروہ کو انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے تحت محدود یا انتخابی عمل سے دور رکھا جاتا ہے تو اس اقدام کی قانونی اور اخلاقی توجیہ غیر معمولی اہمیت اختیار کرجاتی ہے۔ریاستی مؤقف یہ ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی گروہ نفرت انگیزی، تشدد یا ریاستی نظم کے لیے خطرہ بنے تو قانون حرکت میں آئے گا۔ تاہم جمہوری اصول یہ تقاضا کرتے ہیں کہ ایسی پابندیوں کے لیے شواہد شفاف، قانونی عمل غیر جانب دار اور الزامات ناقابلِ تردید نوعیت کے ہوں۔ محض سیاسی مقبولیت یا عوامی دباؤ کسی گروہ کو ریاستی سطح پر ناقابلِ قبول قرار دینے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ اگر عوام کے ایک بڑے حصّے کو یہ محسوس ہو کہ اُن کی آواز کو سیاسی میدان میں جگہ نہیں دی جارہی تو اس کے نتیجے میں احتجاجی رجحانات مزید گہرے ہوسکتے ہیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نےروایتی سیاسی جماعتوں سے زیادہ مقبولیت حاصل کی، خصوصاً اس وقت جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگا کہ روایتی سیاسی قوتیں اُن کے معاشی، سماجی اور روزمرہ کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
تاجروں کی اِس جماعت نے آزاد کشمیر میں مہنگائی، ٹیکسوں، بجلی کے نرخوں اور حکمرانی سے متعلق مسائل پر عوامی مسائل کو حل کیا۔ گلگت بلتستان میں پیدا ہونے والے تاثر کو اگر آزاد کشمیر میں دہرایا گیا، تو اس کے قلیل المدتی اور طویل المدتی اثرات دونوں سنگین ہوسکتے ہیں۔ عوام میںسیاسی احتجاج، نتائج کی عدم قبولیت، اور ریاستی اداروں پر تنقید میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ لیکن زیادہ اہم خطرہ طویل مدت میں سامنے آتا ہے، جب عوام جمہوری عمل سے امید کھونے لگیں۔ جب ووٹ کی طاقت پر اعتماد کمزور پڑتا ہے تو غیر سیاسی رویوں کے لیے جگہ پیدا ہونے لگتی ہے۔ یہ صورتِ حال کسی بھی ریاست کے لیے خطرناک ہوتی ہے، بالخصوص ایسے ملک کے لیے جو پہلے ہی سیاسی تقسیم، معاشی دباؤ اور علاقائی پیچیدگیوں سے دوچار ہو۔پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہی ہے۔
آج اگر ملک میں اسلام کے عدلِ اجتماعی پر مبنی نظام کو مکمل اور حقیقی طور پر نافذ کر دیا جائے تونہ صرف سارے مسائل حل ہو جائیں بلکہ ملکی استحکام اور طرزِ حکومت کے درمیان مصنوعی تضاد بھی ختم ہو جائے گا۔ عوامی اعتماد، شفاف عمل اور سیاسی شمولیت جیسےمسائل بھی حل ہو جائیں گے۔ لیکن جب تک ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ نہیں ہوتا، استحکام صرف طاقت کے استعمال یا سیاسی انجینئرنگ سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ مارشل لاء یا ہائبرڈ نظام سے مسائل کا حل ممکن ہی نہیں۔لہٰذا اِس ’’درمیانی دور‘‘ میں اگر انتخابی نتائج واقعی عوامی رائے کی حقیقی ترجمانی کریں تو اختلافات کے باوجود قوم کسی قدر آگے بڑھ سکتی ہے؛ لیکن اگر انتخابات محض ایک رسمی عمل بن کر رہ جائیں تو سیاسی نظام کا جنازہ ہی نکلے گا۔
جب تک ملک میں اسلامی نظام کا قیام نہیں ہوتا،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر بلکہ پورے ملک کے تناظر میں یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جو ریاستی بصیرت ، سیاسی فراست اور جمہوری برداشت کا اصل امتحان ثابت ہوتے ہیں۔ مملکتِ خدادادپاکستان کی طاقت صرف اِس کے عسکری یا انتظامی وسائل میں نہیں،بلکہ اصلاً ملک کے قیام کی بنیاد یعنی نظریۂ اسلام اور اُس کے بعد اِس امر میںپنہاں ہے کہ عوام کو اپنے سیاسی نظام پر کتنااعتمادہے۔ اگر پاکستان میں اسلامی نظام کا مکمل اور حقیقی نفاذ نہیں کیا جاتا تو ملک کی وجہ جواز ہی باقی نہیں رہتی۔اور جب عوام کااپنے سیاسی نظام کی شفافیت اور اِس میں اُن کی شمولیت کا اعتماد ہی نہ رہے گا تو قیمت بالآخر پوری ریاست کو ادا کرنا پڑے گی! اللہ تعالیٰ پاکستان میںاہلِ اقتدار کو عقلِ سلیم اور ملکی مفادات میں فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!