(منبرو محراب) لذتوں کو ختم کر دینے والی موت کا تذکرہ - ابو ابراہیم

6 /

لذتوں کو ختم کر دینے والی موت کا تذکرہ

(قرآن و حدیث کی روشنی میں)

مسجدجامع القرآن ، قرآن اکیڈمی لاہور میں نائب امیرِ تنظیم اسلامی محترم اعجازلطیف حفظ اللہ کے5جون 2026ء کے خطاب ِجمعہ کی تلخیص

مرتب: ابو ابراہیم

خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے ، جس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا ہے، لیکن ہم اِس حقیقت کو بھولے رہتے ہیں اور آخرت کی تیاری کرنے کی بجائے دنیا و مافیہا میں مشغول رہتے ہیں جس کا نتیجہ آخرت کے دائمی خسارہ کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ قرآن مجید میں موت کی یاددہانی کا خاص اہتمام کیا گیا ہے تاکہ انسان اِسے یاد رکھے     اور اپنی آخرت کی تیاری کرے۔آج ان شاء اللہ ہم قرآن و احادیث کی روشنی میں اِس یاددہانی کا اہتمام کریں گے ۔ سورۃ الجمعہ کی آیت نمبر 8میں فرمایا :
{قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْہُ فَاِنَّہٗ مُلٰقِیْکُمْ}’’(اے نبیﷺ!) آپؐ کہہ دیجیے کہ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو وہ تم سے ملاقات کر کے رہے گی۔‘‘
وہ موت جس سے ہم فرار اختیار کرتے ہیں ، جس کا عام طور پر اپنی مجلسوں میں تذکرہ نہیں کرتے، حتیٰ کہ جنازے پر ہوتے ہوئے بھی دنیا جہان کی ساری باتوں کا ذکر ہوتا ہے سوائے موت کے، بے شک وہ توہم سے ملاقات کر کے رہے گی۔ موت کا سامنا ہر ایک کو کرنا ہے ۔ آگے فرمایا :
{ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰی عٰلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ فَیُنَــبِّئُـکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(8)}’’پھر تمہیں لوٹا دیا جائے گا اُس ہستی کی طرف جو پوشیدہ اور ظاہر سب کا جاننے والا ہے‘پھر وہ تمہیں جتلا دے گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔‘‘ موت کا وقت مقرر ہے ، نہ اس سے ایک گھڑی  پہلے آسکتی ہے اور نہ بعد میں ۔ فرمایا :
{وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِ کِتٰــبًا مُّؤَجَّلًاط} (آل عمران:145) ’’اور کسی جان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ مر سکے مگر اللہ کے حکم سے‘(ہر ایک کی موت کا) وقت مقرر لکھا ہوا ہے۔‘‘ 
چاہے کوئی چھوٹا ہے یا بڑا ، ہر ایک کی موت کے وقت کا تعین ہو چکا ہے ، کس وقت آجائے کسی کو کچھ پتا نہیں سوائے اللہ کے، لہٰذا موت سے فرار ممکن نہیں۔ کہا جاتاہے کہ مائیکل جیکسن ایک ایسا انسان تھا جو فطرت کے نظام کو شکست دینا چاہتا تھا۔ اُسے عام انسانوں کی طرح 60،70 سال کی عمر میں مرنے سے نفرت تھی ، وہ 150 سال تک زندہ رہنا چاہتا تھااور چونکہ اس کے پاس وسائل بہت تھے تو اس نے طویل عمر پانے کے لیے بڑی دلچسپ حرکتیں کیں ۔ رات کو آکسیجن ٹینٹ نما مشین میں سوتا، جراثیم اور بیماریوں کے اثرات سے بچنے کے لیے دستانے پہن کر لوگوں سے ہاتھ ملاتا، لوگوں میں جانے سے پہلے منہ پر ماسک چڑھاتا۔ مخصوص خوراک کھاتا ،   اس نے مستقل طور پر 12 ڈاکٹر ز کی خدمات حاصل کر رکھی تھیں جو روزانہ اُس کے جسم کے ایک ایک حصے کا معائنہ کرتے، اُس کی خوراک کا روزانہ لیباٹری ٹیسٹ ہوتا۔ اس کا سٹاف اسے روزانہ ورزش کرواتا،یہاں تک کہ اُس نے پہلے سے ہی انسانی اعضاء ڈونیٹ کرنے والوں کا بھی انتظام کر رکھا تھا کہ اگر اُس کے پھیپھڑے فیل ہو جائیں، گردے ناکارہ ہو جائیں ، آنکھوں کی بینائی چلی جائے یا دل کام کرنا چھوڑ دے تو فوری طور پر اُسے یہ متبادل اعضاء لگائے جاسکیں ۔ ان ڈونرز کو وہ باقاعدہ پیمنٹ کرتا تھا ۔ چنانچہ اُسے یقین تھا کہ وہ ڈیڑھ سو سال تک ضرور زندہ رہے گا لیکن پھر 25 جون2009ء کی رات آئی۔ آکسیجن کے انتظام کے باوجود اُسے سانس لینے میں دشواری پیش آرہی تھی ، اُس کے ڈاکٹرز نے ملک بھر کے سینئرترین ڈاکٹرز کو بھی اس کی رہائش گاہ پر جمع کر لیا، یہ ڈاکٹرز اُسے موت سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے لیکن ناکام ہوئے تو ہاسپٹل لے گئے ۔ بالآخر وہ شخص جس نے ڈیڑھ سو برس تک زندہ رہنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی، جو ننگے پاؤں زمین پر نہیں چلتا تھا، جس کے گھر میں روزانہ جراثیم کش ادویات چھڑکی جاتی تھیں اور جس نے 25 برس تک کوئی ایسی چیز نہیں کھائی تھی، جس سے ڈاکٹروں نے اُسے منع کیا، وہ صرف 50 سال کی عمر میںانتقال کرگیا اور صرف 30 منٹ کے اندر موت سے بچنے کے تمام تر انتظامات اور وسائل ناکام ہو گئے ۔ یہ قدرت کی طرف سے ایک اعلان تھا کہ انسان پوری دنیا کو فتح کر سکتا ہے لیکن وہ اپنے مقدر کو شکست نہیں دے سکتا ہے۔ وہ موت اور اُس موت کے لکھنے والے کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ سورۃالنساء کی آیت نمبر 78 میں انسان کو جھنجھوڑتے ہوئے اعلان کیا گیا ہے کہ تم کائنات کی وسعتوں میں کہیں بھی چھپ جاؤ موت تمہیں ڈھونڈ نکالے گی:
{اَیْنَ مَا تَـکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمُ الْمَوْتُ وَلَـوْکُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَۃٍط} ’’تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تم کو پالے گی‘خواہ تم بڑے مضبوط قلعوں کے اندر ہی ہو۔‘‘ 
    یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ موت سے دفاع کی بجائے موت کے بعد جو حالات پیش آئیں گے ، ان کے حوالے سے اپنے دفاع کی کوشش کرنی چاہیے ۔ یہ زندگی ہمیں اس لیے ملی ہے کہ ہم آخرت کی تیاری کر سکیں ۔ سورہ لقمان میں فرمایا :
{وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًاط}  ’’اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل وہ کیا کمائی کرے گی۔‘‘
 ہمارے ہاں کمائی کا تصور عام طور پر صرف روپے پیسے کمانے تک محدود ہے ۔ حالانکہ کوئی شخص اپنی زندگی میں نیکی کمائے گا یا بدی ، یہ صرف اللہ ہی جانتاہے اور یہ بھی کہ :
{وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ م بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ط}  (آیت: 34)’’اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں اُس کی موت واقع ہو گی۔‘‘
بہت دفعہ ایسابھی ہوتاہے کہ لوگ بڑے بڑے احاطے قبرستانوں میںپہلے سے قبضہ کرکے رکھتے ہیں ۔ حالانکہ ان کو معلوم نہیں ہوتا ہے کہ وہاں ان کو دفن ہو نا  نصیب ہوگا بھی یا نہیں ۔ فرمایا:
{اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ(24)}’’یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا‘ ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔‘‘ 
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں 
سامان سو برس کا ہے، پل کی خبر نہیں ہے 
جو باتیں انسان کی یاددہانی کے لیے انتہائی ضروری ہیں  ان کو قرآن میں کم ازکم دو یا دو سے زائد مرتبہ بیان کیا جاتاہے ۔ایک جگہ فرمایا :
{کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ قف ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ(57)}(  العنکبوت) ’’ہر جان موت کا مزا چکھنے والی ہے‘ پھر تم ہماری ہی طرف لوٹا دئیے جائو گے۔‘‘
اس کے بعدسورۃ الانبیاء کی آیت 35 میں فرمایا : 
{کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ط وَنَبْلُوْکُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃًط}  ’’ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہےاور ہم آزماتے رہتے ہیں تم لوگوں کو شر اور خیر کے ذریعے سے۔‘‘
جس کو نعمتیں مل جائیں تو وہ سمجھتا ہے کہ اللہ مجھ سے بڑا خوش ہے اور مجھے نواز رہا ہے ۔ حالانکہ دینے والا کہتا ہے کہ میری امتحان لینے کی مرضی ہے، کبھی دے کے آزماتا ہوں، کبھی لے کے آزماتا ہوں۔ اسی طرح سورۃ آل عمران میں فرمایا : 
{کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ط وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِط}  ’’ہر ذی نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہےاور تم کو تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ تو قیامت ہی کے دن دیا جائے گا۔‘‘
یہ دنیا دارالجزاء نہیں ہے بلکہ یہ دار الامتحان ہے ، یہاں کم یا زیادہ دے کر آزمایا جارہا ہے اور اس آزمائش کا نتیجہ آخرت میں نکلے گا ۔جو کامیاب ہوا وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں جائے گا اور جو بدبخت ٹھہرا وہ جہنم میں جائے گا ۔  آگے فرمایا : 
{فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَط} ’’تو جو کوئی بچا لیا گیا جہنم سے اور داخل کر دیا گیا جنت میں تو وہ کامیاب ہو گیا۔‘‘ 
گویا اصل کامیابی وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ کامیابی کہہ رہا  ہے ۔ فرمایا : 
{ ذٰلِکَ یَوْمُ التَّـغَابُنِ ط}(التغابن:9) 
’’ وہی ہے ہار اورجیت کے فیصلے کا دن۔‘‘
 جو اُس دن جیتا وہ ہمیشہ کے لیے جیتا اور جو اُس دن ناکام ہوا وہ ہمیشہ کے لیے ناکام ٹھہرا۔ فرمایا :
{وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَـآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ(185)} (آل عمران) ’’اور یہ دنیا کی زندگی تو اِس کے سوا کچھ نہیں کہ صرف دھوکے کا سامان ہے۔‘‘ 
دنیا کی کامیابی اور مال ودولت تو عارضی ہے ، اس بات کو سامنے رکھ کر اگر زندگی نہیں گزاری جا رہی تو ہم وہ مہلت کھو دیں گے جو آخرت کی کامیابی کے لیے عمل کرنے کے لیے ملی ہے ۔ مگر بدقسمتی سے آج کم و بیش90فیصد مسلمان بھی اِس بات کو بھولے ہوئے ہیں ، وہ بھی صرف اِس دنیا کی دھوکے کی زندگی کو ہی اصل زندگی اور یہاں کی عارضی کامیابی کو اصل کامیابی سمجھ رہے ہیں ۔ یہی چیز اعمال پر بھی اثرانداز ہوتی ہے ۔ آپ دیکھ لیجئے کم و بیش 90 فیصد مسلمان ہمارے ہاں نماز کے لیے مسجد میں نہیں جاتے ۔ عقیدہ اپنی جگہ ہے ، لیکن عمل بتا رہا ہے کہ شاید ان کےنزدیک نماز فرض ہی نہیں ہے ۔ اندازہ کیجئے کہ ہم کس قدر دھوکے کا شکار ہیں ۔
جتنے اچھے اعمال ہوں گے اتنا موت کا ذائقہ بھی اچھا ہوگا۔ اور جتنے اعمال بُرے ہوں گے اسی قدر موت تلخ ہوگی ۔اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنے معاملات کوابھی درست کر لیں تاکہ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے وہ مرحلہ بھی آسان کر دے۔ 
مرنے کے بعد انسان کو جو چیزیں فائدہ پہنچا سکتی ہیں اُن کی تیاری بھی اسی دنیا میں کرلینی چاہیے ۔ اس ضمن میں سب سے پہلے نیک اولاد ہے جو صدقہ جاریہ بن سکتی ہے اور مرحوم والدین کے لیے دعا بھی کر ے گی۔ لہٰذا اولاد کی تربیت ایسی کریں کہ وہ اچھے مسلمان بن جائیں۔ اسی طرح انسان نے کوئی ایسا نیک عمل کیا ہو جس کا فائدہ دوسروں کو پہنچ رہا ہو تو اس کا بھی اجر اس کو موت کے بعد ملتا رہے گا ، جیسا کہ قرآن کی تعلیم دینا ، کوئی فلاحی کام کرنا، دین کی طرف راغب کرنا وغیرہ۔ انسان کو دنیا کی اس مہلت کے دوران ایسے کام کرنے چاہئیں ۔ کسی کا عمل اگر اچھا ہوگا تو اس کی موت بھی اچھی ہوگی ۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ ؐنے فرمایا :’’راحت پانے والا ہے یا اس سے راحت پائی گئی ہے۔‘‘صحابہؓ نے عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ اس سے کیا مراد ہے ۔ فرمایا : ’’مومن آدمی جب مرتا ہے تو دنیاوی مشکلات اور مصائب سے راحت پا لیتا ہے اور بدکار آدمی کے مرنے سے انسان ، درخت ،جانور راحت پا جاتے ہیں۔‘‘
ایک اور روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’دنیا میں جو عمل انسان کے لیے مرغوب ہوتاہے اُس کی موت اُسی عمل کے دوران ہوتی ہے ۔‘‘ یعنی اگر کوئی انسان اللہ کے ذکر میں مشغول رہتاہے تو اُس کی موت بھی اسی حالت میں آئے گی اور اگر گناہ میں مشغول رہتا ہے تو اس کی موت بھی نافرمانی کی حالت میں آئے گی ۔
’’ہر چیز فنا ہو جائے گی صرف اللہ کی ذات باقی رہے گی ۔ ‘‘  (القصص:88،الرحمٰن:27)
ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’ لوگو موت کو یاد کرو اور یاد رکھو جو دنیا کی لذتوں کو ختم کر دینے والی ہے کثرت کے ساتھ اُس کا ذکر کیا کرو۔‘‘
موت کی یاد دہانی کے لیے ہماری روز مرہ زندگی میں کئی مواقع آتے ہیں لیکن ہم دھیان نہیں کرتے۔ جیسے سیاہ بالوں کا سفید ہونا بھی انسان کے لیے ایک وارننگ ہے ۔ پھر بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ بدن کی چستی اور توانائی ختم ہو گئی تو یہ بھی ایک وارننگ ہے ۔ پھر بدن کا جھک جانا ایک اور وارننگ ہے ۔عزیز و اقارب کا اس دنیا سے چلے جانا بھی ایک نشانی ہے ۔ اس طرح ہر انسان کے پاس کوئی نہ کوئی نشانی ضرور بھیجی جاتی ہے لیکن غفلت کی بِنا پر انسان ان نشانیوں پر غور نہیں کرتا۔ دین کا کوئی کام ہو تو کہتا ہے میں تو بوڑھا ہو گیا ہوں لیکن دنیا کا کوئی کام ہو تو کہتا ہے میں کیاکسی سے کم ہوں ، ابھی تو ہم جوان ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ صحابۂ کرام ؓ کو بے فکری سے ہنستے دیکھ کر متنبہ فرمایا کہ آگاہ رہو اگر تم لذتوں کو توڑ دینے والی چیز کو کثرت سے یاد رکھتے تو تم اس حال میں نہ ہوتے جو میں دیکھ رہا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ خطاب صرف صحابۂ کرام ؓ کے لیے تو نہیں ہے ۔ 
اسی غفلت کی وجہ سے آج کا انسان بھی اعمال میں کوتاہی کرتاہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کل سے نماز شروع کر لیں گے، کل سے تہجد کا آغاز کر دیں گے، کل سے قرآن مجید کی تلاوت باقاعدگی سے شروع کر دیں گے لیکن پھر وہ کل آ تی ہی نہیں ، بعض کے ہاں تصور ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد حج کرلیں گے اور مسجد میں جانا شروع کریں گے ۔ ایک دانشور سے کسی نے پوچھا کہ عبادت کرنے کے لیے بہترین دن کون سا ہے۔ دانشور نے کہا کہ موت سے ایک دن پہلے۔ اس شخص نے حیرانگی سے پوچھا کہ موت کا وقت تو کسی کو معلوم نہیں ہے۔ کہا :پھر ہر دن کو زندگی کا آخری دن سمجھو ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :  انسان ہر نماز پڑھتے وقت یہ سوچے کہ یہ میری آخری نمازہے۔ رمضان میں روزے رکھتے وقت سوچے کہ یہ میرا آخری روزہ ہے ۔ سورۃ الحشر میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
{یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْـتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍج }(الحشر :18) ’’اے اہل ِایمان! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر جان کو دیکھتے رہنا چاہیے کہ اُس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے!‘‘
مطلب یہ ہے کہ آج کچھ کریں گے تو کل کے لیے آگے بھیجیں گے کیونکہ کل کا تو پتہ نہیں ہے۔ اس غفلت سے نکلنے کا طریقہ بھی اللہ کے نبی ﷺ نے بتایا ہے ۔ فرمایا : ’’بے شک دل زنگ آلود ہو جاتے ہیں جس طرح لوہا زنگ آلود ہو جاتا ہے ۔‘‘ عرض کیا گیا:’’ یارسول اللہ ﷺ !  اس کا علاج کیا ہے؟ ‘‘فرمایا :’’موت کو کثرت سے یاد کرنا اور قرآن مجید کی کثرت سے تلاوت کرنا ۔‘‘تلاوت کا اصل مفہوم پیچھے پیچھے چلنا ہے ، پیچھے چلنے کے لیے تو لازم   ہےکہ صحیح پڑھیں بھی، سمجھیں بھی اورعمل بھی کریں ۔ صرف پڑھنے سے ثواب تو ضرور ملتاہے لیکن ہدایت تلاوت کا حق ادا کرنے سے ملے گی۔ بہرحال انسان موت سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، حالانکہ بچ نہیں سکتا لیکن اگر کوشش کرے تو جہنم سے ضرور بچ سکتاہے ۔ اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا : پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو۔ جوانی کو بڑھاپے سے پہلے( یعنی اگر کچھ کرنا ہے تو جوانی ایک موقع ہے، ٹالو نہیں کہ بوڑھے ہوں گے تو پھر  توبہ کریں گے)،صحت کو بیماری سے پہلے، مالداری کو محتاجی سے پہلے ، فرصت کو مصروفیت سے پہلےاور زندگی کو موت سے پہلے۔ موت تو کسی وقت بھی آسکتی ہے ۔ لہٰذا جو موقع مل رہا ہے اس کو غنیمت جانو اور آخرت کی تیاری کرو۔ ہمارے ہاں ایک غلط فہمی شروع سے ہی بچے کے ذہن میں ڈال دی جاتی ہے کہ بڑے ہو کر کیا بنو گے ؟ پھر وہ ساری زندگی دنیا کے حصول کی جدوجہد میں گزار دیتاہے، حالانکہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ’’رزق کی طرف جلد بازی نہ کرو کیونکہ بندہ اس وقت تک نہیں مر سکتا جب تک کہ اس کے نصیب کا آخری رزق اس تک نہیں پہنچ جاتا۔‘‘قرآن میں فرمایا : ’’اور نہیں ہے کوئی بھی چلنے پھرنے والا (جاندار) زمین پر‘مگر اس کا رزق اللہ کے ذِمّہ ہے۔‘‘(سورۃھود:6)  زندگی دینے سے پہلے اللہ نے رزق کا بندوبست کررکھا ہے لہٰذا رزق کا حصول زندگی کا مقصد نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد آخرت کی تیاری کرنا  ہے ۔سورۃ بنی اسرائیل میں فرمایا : ’’ اور جو کوئی آخرت کا طلب گار ہو‘ اور اس کے لیے اس کے شایانِ شان کوشش کرے اور وہ مؤمن بھی ہو‘تو یہی لوگ ہوں گے جن کی کوشش کی قدر افزائی کی جائے گی۔‘‘ (آیت 19)   دنیا کے لیے اتنی کوشش کرو جتنا یہاں رہنا ہے اور آخرت کے لیےاتنی کوشش کرو جتنا وہاں رہنا ہے ۔ دنیا چند دن کی جبکہ آخرت ہمیشہ کے لیے ہے ۔ لہٰذا دنیا کی چند روزہ زندگی کو صرف رزق کے حصول میں کھپا دینا اور حلال و حرام کی تمیز بھی نہ کرنا وہ طرزِعمل ہے، جس سے ہم اپنی آخرت کھوٹی کر بیٹھتے ہیں ۔ 
موت کی ریہرسل روزانہ ہوتی ہے لیکن ہم اس کی طرف توجہ نہیں کرتے ہیں۔ ( سورۃ انعام کی آیت 60 اور سورۃ زمر کی آیت 42 میں بھی اس کا ذکر ہے )۔ غور کیجئے کہ سوتے وقت کی دعا کیا ہے:
(( اَللّٰہُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْیَا))(بخاری) ’’ اے اللہ! میں تیرے نام کے ساتھ مرتا ہوں اورزندہ ہونا نصیب ہوگا تو تیرے نام کے ساتھ ۔ ‘‘نیند بھی ایک موت ہے ۔  آپ ﷺ نے حضرت انسh سے فرمایا : اے میرے بچے ! اگرتجھ میں استطاعت ہو تو ہمیشہ باوضو رہو ۔ اس لیے کہ وضو کی حالت میں اگر موت آگئی تو وہ شہادت کی موت ہوگی ۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ نیند میں وضو ٹوٹ جاتا ہے لہٰذا سونے سے پہلے وضو کی کیا ضرورت ہے حالانکہ موت تو نیند میں بھی آسکتی ہے ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ جو بندہ پاکیزہ حالت میں سوتا ہےتواس کے ساتھ ایک فرشتہ رہتا ہے اور رات بھر دعا کرتا رہتا ہے کہ اللہ اس بندے کو بخش دے کیونکہ یہ پاکیزہ ہو کرسویا ہے۔ اسی طرح ہم جب نیند سے بیدار ہوتے ہیں تو پڑھتے ہیں :
((الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ))’’تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی بخشی اور اسی کی طرف ہم کو لوٹنا ہے۔‘‘ (صحيح البخاري)
گویا کہ نیند بھی ایک طرح کی موت ہے اور اس سے ہمیں سیکھنا چاہیےاور آخرت کی تیاری کرنی چاہیے ۔ انسان کے مرتے ہی اُس سے پہلے جو چیز چھین لی جاتی ہے وہ اس کی شناخت ہے ۔ کوئی اس کا نام نہیں لیتا بلکہ پوچھتا ہے کہ لاش کہاں ہے ، جنازہ پڑھتے وقت جنازہ کہا جائے گا اور دفناتے وقت میت کہا جائے گا ۔ مرنے والے کا حسب نسب ، قبیلہ ، پوزیشن وغیرہ کچھ کام نہیں آئے گا، جن کے لیے اتنا سوچتا تھا وہ اب اس کی وراثت کی تقسیم کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں ۔ لہٰذا ہمیں سیکھنا چاہیے کہ یہ دنیا کس قدر دھوکے کی جگہ ہے ۔ روزانہ بستر پر لیٹ کر سوچیں کہ آج یہ میری آخری رات ہوتو میں اپنے رب کو کیا منہ دکھاؤں گا ۔ پھر انسان دل سے اپنے گناہوں پر توبہ بھی کرے اور سید الاستغفار کا اہتمام بھی کرے ۔  اس کے علاوہ اللہ کے رسول ﷺنے سوتے وقت کے جو معمولات بتائے ہیں ، ان کا بھی اہتمام کریں ۔ جنازوں میں شرکت کو محض ایک رسم نہ سمجھیں بلکہ یہ سوچیں کہ اگلی بار اس چارپائی پر میں بھی ہو سکتا ہوں۔ ناگہانی اور حادثاتی اموات کو دیکھ کر اپنی مہلت ِعمل کی قدر کریں۔ہفتے میں ایک بار نہیں تو کم از کم مہینے میں ایک بار قبرستان ضرور جائیں اور وہاں کے مکینوں کی بے بسی پر غور کریں، کیسے کیسے نامور لوگ بے نام و نشان پڑے ہوئے ہیں ۔ اُن کے پاس کیا کچھ نہیں تھا ، سب یہیں رہ گیا ۔لہٰذا توبہ میں جلدی کریں ، کل پر نہ ٹالیں کیونکہ کل کی ضمانت کسی کے پاس نہیں ۔ بیماروں کی زیارت کریں اور ہسپتالوں کے چکر لگائیں تاکہ ہمیں اپنی صحت اور زندگی کی عارضی نوعیت کا احساس ہو سکے۔ ایسی کتابوں کا مطالعہ کریں جو آخرت کی منظر کشی کرتی ہوں تاکہ دل کی سختی کم ہو۔ ذکر الٰہی کی کثرت کو معمول بنائیں کیونکہ جس حال میں انسان زندگی گزارتا ہے، اسی حال میں اُسے موت بھی آتی ہے۔ اپنے وقت کو ایسے بامقصد کاموں میں لگائیں جو مرنے کے بعد بھی ہمارے لیے صدقہ جاریہ بن سکیں ۔ اس کے علاوہ شہادت کی دعا کریں ۔ بخاری شریف کی روایت ہے : 
((اللَّهُمَّ ارْزُقْنِيْ شَهَادَةً فِيْ سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ)) (بخاری)’’اے اللہ! مجھے اپنی راہ میں شہادت نصیب فرما اور مجھے اپنے رسولﷺ  کے شہر (مدینہ منورہ) میں موت عطا فرما۔
اور یہ دعا بھی کثرت سے کرنی چاہیے : 
((اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَنَا قَبْلَ الْمَوْتِ، وَارْحَمْنَا عِنْدَ الْمَوْتِ، وَلَا تُعَذِّبْنَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَلَا تُحَاسِبْنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ)) (مشکوٰۃ)’’اے اللہ! ہمیں موت سے پہلے بخش دے، اور موت کے وقت ہم پر رحم فرما، اور موت کے بعد ہمیں عذاب نہ دے، اور قیامت کے دن ہم سے حساب نہ لینا، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اِن باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !