ہوئے تم دوست جس کے دشمن اُس کا آسماں کیوں ہو!
ابو موسیٰ
دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ ایک عالمی قوت کی حیثیت سے اُبھرا۔ امریکی ریاست امریکی انتظامیہ امریکی صدر، کانگرس وغیرہ وغیرہ کبھی بھی دودھ سے دھلے ہوئے نہیں تھے، لیکن اُن میں ایک رکھ رکھاؤ تھا، صاف ستھرے معاملات اور تہذیب کا اوڑھنا اُنہوں نے بہرحال اُڑھ رکھا تھا۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ وہ بھی ذہنی اور فکری طور پر اصلاً اگرچہ موجودہ صدر ٹرمپ سے کوئی زیادہ مختلف تو نہیں تھے لیکن صدر ٹرمپ نے دکھاؤے کا یہ پردہ بھی بے دردی سے چاک کر دیا۔ گویا گٹر سے ڈھکنا اٹھا دیا، اب امریکہ کے گلے سڑے نظام کی بُو چہار دام پھیل رہی ہے اور دنیا امریکہ سے روزبروز دور ہوتی جا رہی ہے۔
اِن ہی دنوں میں عظیم سپر پاور امریکہ کے بے وقعت ہونے کی کئی مثالیں قائم ہوئی ہیں۔ وہ سعودی عرب جو وائٹ ہاؤس کے اشاروں پر ناچتا تھا اور اُس کی کسی قسم کی حکم عدولی کو اپنے لیے حرام سمجھتا تھا۔ اُس نے گزشتہ چند ماہ میں امریکہ کے حوالے سے جو بے رخی اختیار کی ہے، وہ ناقابل یقین ہے۔ یہ وہی ٹرمپ ہے جس کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے آخری سرکاری دورے کے دوران امریکہ میں ٹریلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی۔ اُسے سونے کا بنا ہوا ایک جہاز تحفہ میں دیا گیا اور متحدہ عرب امارات کی بیٹیوں نے کُھلے بالوں کے ساتھ ٹرمپ کے سامنے ڈانس کرکے عرب مسلمانوں کی غیرت کا جنازہ نکالا۔ یہ امت ِمسلمہ کے لیے ڈوب مرنے کا مقام تھا۔ تب ٹرمپ پریس کے سامنے فرماتے تھے کہ سعودی عرب کی حکومت امریکہ کے بغیر دو ہفتے بھی قائم نہیں ر ہ سکتی، لیکن امریکہ ایران جنگ نے سب کچھ بدل دیا ہے۔ اب سعودی عرب امریکہ کو صاف انکار کر رہا ہے کہ وہ اُس کے ہر حکم تعمیل کا پابند نہیں ہے۔ اِس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں کہ عرب مضبوط ہوگئے ہیں بلکہ عرب تو مزید ہر سطح پر گراوٹ کا شکار ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ایران نے امریکی قوت اور ہیبت کا جنازہ نکالا ہے۔ گویا ایران نے ہی عربوں کو بھی زبان کھولنے کی جرأت دی ہے۔ ایران جس طرح آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر امریکہ سے بات کرتا ہے اور جس طرح اُس کے غرور کو خاک میں ملا رہا ہے اِس سے امریکہ، خلیجی ریاستوں میں بے وقعت ہو رہا ہے، صرف متحدہ عرب امارات ابھی تک امریکی غلامی کا پٹہ اپنی گردن سے اتار نہیں سکا۔ لیکن وہ بھی پریشان ہے اور تذبذب کا شکار ہے۔ دبئی جو ایک شہر تھا عالم میں سنسان ہوا جا رہا ہے۔ وہاں کی عمارتیں تو ابھی کچھ زیادہ زمین بوس نہیں ہوئیں البتہ اُن کی قیمتیں یقیناً زمین بوس ہوگئی ہیں۔ بہت سے پاکستانی تاجر، صنعت کار، سول ملٹری بیوروکریسی جن کو دبئی میں پراپرٹی ہونے پر مان تھا۔ آج اُس سے جان چھڑانے کی سوچ رہے ہیں اِس لیے کہ اگر توقع کے عین مطابق جنگ دوبارہ شروع ہوگئی تو دبئی یقیناً ویران ہو جائے گا اور ناجائز ذرائع سے وہاں خریدی ہوئی جائیدادیں ٹکا ٹوکری ہو جائیں گی پھر وہ مال وبالِ جان بن جائے گا۔
جہاں تک امریکہ ایران جنگ کا تعلق ہے راقم پہلے بھی عرض کر چکا ہے۔ 1897ء کے پروٹوکولز کے نتیجہ میں آنے والے دور میں صہیونی دنیا میں اپنی بالادستی قائم کرنے کا ایک باقاعدہ پروگرام رکھتے ہیں۔ اُن کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ اپنے لیے ایک ہدف مقرر کرتے ہیں تو اُس کے حصول کے لیے اپنی پوری قوت جھونک دیتے ہیں۔ اِس ہدف کے حصول کے لیے اپنے مالی ذرائع، میڈیا میں اپنی آواز اور وہ امریکہ جسے ایک عرصہ سے اُنہوں نے یرغمال بنا رکھا ہے اُس کی پوری جنگی قوت اور اپنا سازشی ذہن یہ سب کچھ اِس ہدف کے حصول کے لیے لگا دیتے ہیں۔ اگر اُن کی راہ میں رکاوٹیں پیش آئیں تو وہ ذرائع اور طریقہ کار میں تو کچھ تبدیلی کر لیتے ہیں۔ اپنی عملی کارروائیاں کچھ دیر کے لیے ملتوی بھی کر لیتے ہیں لیکن اپنے اُس ہدف کو جو وہ شروع میں مقرر کر لیتے ہیں، اُس سے ہرگز ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے۔
28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ میں بھی یہی کچھ ہوا اور ہو رہا ہے۔ امریکہ اسرائیل حملے کے خلاف ایران نے جس نوعیت کی Resistance کی اور پھر یہ کہ جوابی حملے کرکے نہ صرف اسرائیل کو نقصان پہنچایا بلکہ خلیج میں جن ممالک میں امریکی اڈے قائم ہیں اُنہیں بھی تہہ و بالا کیا لہٰذا سعودی عرب، کویت، اردن، بحرین اور متحدہ عرب امارات کوئی بھی ایرانی حملوں سے محفوظ نہ رہا۔ اگرچہ اِن عرب ممالک نے خود پر حملوں کے حوالے سے شدید احتجاج کیا کہ امریکہ اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران اُن پر حملہ آور کیوں ہے جس کا جواب ایران یہ دیتا ہے کہ تم نے اپنی سرزمین پر امریکی اڈے قائم کرکے درحقیقت امریکہ اور اسرائیل کو ایران پر حملہ کرنے میں نہ صرف سہولت کاری کی ہے بلکہ ہمارے خلاف عملی طور پر جنگ میں حصہ لیا ہے۔ منطقی اور منصفانہ بات یہ ہے کہ جہاں سے ایران پر حملہ ہوتا ہے اُن مقامات پر ایران کیوں حملہ نہ کرے؟ فرد ہو معاشرہ ہو یا ریاست جس سوراخ سے ڈسی جاتی ہے اُسے بند کرنے کا حق رکھتی ہے۔ پھر یہ کہ وہ شیطان کی آماجگاہ اسرائیل پر بھی تو تابڑتوڑ حملے کر رہا ہے۔ ایران پر حملہ ہوا تو وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر فارغ تو نہیں بیٹھ سکتا تھا کہ اِن دو حملہ آوروں میں سے ایک یعنی امریکہ چونکہ اُس کے میزائلوں کی پہنچ سے دور ہے لہٰذا وہ اپنی تباہی و بربادی کا تماشا دیکھتا رہتا۔ حقیقت یہ ہے کہ عربوں کا یہ مطالبہ کہ ایران جوابی حملے امریکہ کے اُن جنگی ٹھکانوں پر نہ کرے جو اُن کے ممالک میں امریکہ نے قائم کیے ہوئے ہیں۔ اُن کا یہ مطالبہ یا اعتراض عقل سے بعید تو ہے ہی غیر منطقی بھی ہے اور غیر فطری بھی ہے۔
امریکہ اسرائیل اور ایران بدستور جنگ کی صورتِ حال میں ہیں حقیقت یہ ہے کہ صہیونی سازشوں سے اور امریکی چالبازیوں سے باز نہیں رہ سکتے جب ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے جواب میں پامردی کا مظاہرہ کیا تو وہ اگرچہ حملہ آوروں کے ہاتھ توڑ تو نہ سکا لیکن اُنہیں بُری طرح مڑوڑ ضرور دیا جن ہاتھوں سے اُس کی سرزمین پر حملہ کیا گیا تھا۔ ایران کا یوں مقابلہ کرنا دشمنوں کے لیے غیر متوقع تھا پھر یہ کہ امریکہ کو یقین تھا کہ چین اور روس اُس کے ردِعمل کے خوف سے ایران کی زبانی کلامی مدد کے سوا کچھ نہ کر سکیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ چین اور روس نے ایران کی کھلم کھلا اور اعلانیہ تو کوئی مدد نہ کی لیکن ٹیکنالوجی اور کچھ دوسرے پوشیدہ ذرائع سے اُس سے تعاون یقیناً کیا جس سے ایران کے دشمنوں کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔ اب صہیونیوں نے اپنی خصلت کے مطابق ہدف میں تو ہرگز کوئی تبدیلی نہ کی لیکن اُنہیں بڑا اور تباہ کن جوابی حملے کے لیے وقت درکار تھا۔ تاکہ وہ اپنی قوت کو مجتمع کر سکیں گولہ بارود کا جو ذخیرہ کم ہوتا نظر آ رہا تھا اُس کمی کو پورا کرنے اور نئی سٹریٹیجی کے ساتھ دوبارہ حملہ آور ہوں۔ لہٰذا پاکستان کے ذریعے ایسے مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا ظاہر ہے کہ جنہیں ناکام بنانا پہلے سے ہی طے تھا اور محض وقت حاصل کرنا تھا پاکستان کو اِس کام پر لگا دیا گیا۔ سادہ لوح پاکستانیوں کو بتایا گیا کہ پاکستان سفارت کاری کر رہا ہے۔ فریبی ٹرمپ نے اِس مقصد کے حصول کے لیے پاکستان کی قیادت کی عظمت کے گیت گانے شروع کر دیئے اور سب کو عظیم قرار دے دیا۔ مقصد درحقیقت ایران کے خلاف ازسرنو جنگ اور تباہی کے لیے وقت حاصل کرنا تھا۔ حکومتِ پاکستان یہ سب کچھ یقیناً سمجھتی ہوگی لیکن ایک تو اِس سہولت کاری جسے سفارت کاری کا نام دیا گیا تھا اُس سے اُن کی عوام میں ساکھ بحال ہو رہی تھی اور دوسرا یہ کہ اگر خطہ میں جنگ کی آگ بھڑکی تو پاکستان بھی اِس کی زد میں آسکتا ہے اِن دونوں وجوہات کی بنا پر حکومتی سطح پر خوب بھاگ دوڑ ہوئی اور ہو رہی ہے، حالانکہ کون نہیں جانتا کہ صہیونی کچھ فیصلے کیے ہوئے ہیں اور وہ اُن پر ہر صورت عمل درآمد کریں گے۔
تازہ ترین صورتِ حال یہ ہے کہ امریکہ کو یہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ ہرمز کے بند ہونے سے اور جنگی صورتِ حال کی وجہ سے ایران کی معیشت پر بہت بُرے اثرات پڑ رہے ہیں اور مہنگائی بے قابو ہوتی جا رہی ہے، جس سے عوام میں تشویش اور بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔ لہٰذا ایران پر اقتصادی پابندیاں بھی لگائی جا رہی ہیں اور اب یورپی یونین کو بھی آمادہ کر لیا ہے کہ وہ ایران پر نئی پابندیاں لگائے۔ اُن کی کئی شخصیات اور ادارے بلیک لسٹ کر دیئے ہیں۔ یورپ کے ویزے بند کرا دیئے گئے ہیں۔ یہ سب کچھ اِس لیے کیا جا رہا ہے کہ ایران اندر سے ٹوٹ جائے۔ اگرچہ راقم کو یقین ہے کہ ایرانی بڑے قوم پرست ہیں، وہ گھاس کھا لیں گے لیکن دشمن کے آگے جھکیں گے نہیں۔ بہرحال اللہ رب العزت کے فیصلے کے سوا صہیونیوں کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ٹھہر سکتی۔ صرف اللہ کا اختیار ہے کہ وہ اُن کی طاقت اور سازش کو دفن کر دے اور صہیونیوں کو ذلیل و خوار کرکے شکست خوردہ کر دے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ ہر صدی میں ایک مرتبہ یہودی لازماً ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ ہٹلر نے یہودیوں کے ساتھ جو کچھ کیا تھا اُس کو ایک صدی ہونے کو ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ وقت ہمیں بھی دکھائے البتہ اِس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ موجودہ 57 اسلامی ممالک میں سے ایران کے سوا کسی میں ہمت نہیں ہے کہ وہ صہیونیوں کے خلاف کوئی عملی قدم کر سکیں بلکہ وہ تو زبان سے بھی کچھ کہنے سے گھبراتے ہیں کہ کہیں اُن کے نیچے سے کرسی کھینچ نہ لی جائے اور وہ دھرام سے زمین پر نہ گر جائیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ایرانی قیادت کی بھی مغرب میں بنک بیلنس اور جائیدادیں ہوتیں تو وہ بھی امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے کی جرأت نہ کرتے۔
ایک تو امریکہ کو نئی جنگی حکمتِ عملی تیار کرنے کے لیے وقت درکار تھا جو اتحادیوں نے مذاکرات کے ذریعے اُسے فراہم کر دیا۔ علاوہ ازیں عارضی جنگ بندی اِس لیے بھی ضروری تھی کہ امریکی عوام اور یورپ اِس جنگ کے جواز کو تسلیم نہیں کر رہا تھا۔ وقفہ سے دوسرا مقصد یہ حاصل کیا گیا کہ عوام اور دوسرے جنگ مخالف یورپی اتحادیوں کو انتظامیہ یہ تاثر دے سکے کہ امریکہ جنگ نہیں چاہتا لیکن ایران امن کی طرف آنے کو تیار ہی نہیں۔ ہم مذاکرات میں جنگ ختم کرنے کی کئی آفرز دے چکے ہیں لیکن ایران بہت سے معاملات میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ خاص طور پر وہ ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی نہیں کروا رہا جس سے دنیا کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ اوباما کے دور میں ایران نے 3.5 فیصد سے زائد یورینیم کی افزودگی نہ کرنے پر معاملات طے کر لیےتھے۔ لہٰذا اِس صورت میں ایران کا ایٹم بم بنانا ناممکن تھا پھر یہ کہ اِس جنگ سے پہلے عمان میں ہونے والے مذاکرات میں ایران نے ایٹم بم نہ بنانے کی واضح یقین دہانی کروا دی تھی لیکن اِن مذاکرات کے دوران 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر حملہ کر دیا۔ راقم پھر اپنی اِس رائے کا اعادہ کرے گا کہ صہیونیوں نے جنگ سے ایران کو تباہ کرنے یا رجیم چینج کرکے ایران میں اپنی پٹھو حکومت لانے کے طے کیا ہوا تھا۔ لہٰذا ٹرمپ کی دھمکیاں یا سفارت کاری کے نام پر مذاکرات کا ڈراما رچانا ہو یا ٹرمپ کے الٹے سیدھے بیانات ہوں۔ یہ سب کچھ اپنے ہدف کی طرف بڑھنے کے مختلف مرحلے ہیں۔ ہدف گریٹر اسرائیل کا قیام ہے اور ایران پر حملہ اِس حوالے سے پہلا قدم ہے۔ مسلم ممالک کو امریکہ اور اسرائیل کے ناپاک عزائم کے راستے میں رکاوٹ بننا ہوگی اِس کے لیے اللہ تعالیٰ کی رسی کو تھامنا اُس کے رسولﷺ کے احکامات اور شریعت کو نافذ کرنا ناگزیر وگرنہ بصورتِ دیگر امت ِمسلمہ کا انجام دیوار پر جلّی حروف سے لکھا جا چکا ہے۔ خاص طور پر پاکستان کے حکمرانوں کو امریکہ کے اسلام دشمن کردار کو تاریخ کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے آج سے قریباً 35 سال پہلے ارشاد فرمایا تھا کہ امریکہ پاکستان کا بھارت سے بڑا دشمن ہے۔ وائٹ ہاؤس کے 30 سال پہلے کی جو دستاویزات میڈیا کے سامنے آئی ہیں اُن سے ثابت ہوتا ہے کہ 1971ء میں پاکستان کو دولخت کرنے کا ذمہ دار سوویت یونین کو ٹھہرایا جاتا رہا ہے حالانکہ امریکہ نے اِس حوالے سے کلیدی رول ادا کیا تھا۔ وہ اِس حوالے سے بھارت کی مکمل پشت پناہی کر رہا تھا۔ اب بھی ہمارے پالیسی سازوں اور مقتدرہ کو بڑی باریک بینی سے ماضی میں امریکہ کے کردار کا جائزہ لینا چاہیے کیسے کیسے اُس نے پاکستان کو نقصان پہنچایا۔ قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب شہاب نامہ میں لکھ چکے ہیں کہ سپر عالمی قوتیں یہ سمجھتی تھیں کہ پاکستان جو نظریہ اسلام پر قائم ہوا ہے اور وہ ایک بڑی مضبوط اور پروفیشنل فوج رکھتا ہے اگر اس کے اسلامی نظریہ پر چوٹ نہ لگائی اور اُس کی مضبوط فوج کو نقصان نہ پہنچایا گیا تو پاکستان ایک مضبوط اسلامی ریاست بن جائے گا جو صرف کمیونزم کے لیے ہی نہیں سرمایہ دارانہ نظام کے لیے بھی خطرہ بن جائے گا۔ اور اِس کا حل یہ ہے کہ ملک میں بار بار مارشل لا لگے تاکہ فوج کمزور ہو۔ لہٰذا سب کو مل کر امریکہ کے عزائم پرکڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ راقم اپنی اِس تحریر کو غالب کے اِس مصرعہ پر ختم کرتا ہے۔ ع
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
و ما علینا الا البلاغ!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026