(خصوصی کالم) اخبارِ اسلام - خالد نجیب خان

10 /

اخبارِ اسلام

غزہ، اصل صور تِ حال کیا ہے؟ (بشکریہ: فرینڈز آف فلسطین)

تحقیق: خالد نجیب خان (معاون مرکزی شعبہ نشرو اشاعت)

l رام اللہ کے مشرقی قصبے برقا میں یہودی آبادکاروں نے ایک مسجد اور متعدد املاک کو نذرِ آتش کر دیا۔ آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ ہونے سے مغربی کنارے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ اسرائیلی بحریہ نے روزگار کے لیے سمندر میں جانے والے 9 فلسطینی ماہی گیروں کو گرفتار کر لیا، جبکہ مختلف علاقوں میں گرفتاریاں، محاصرے اور روزگار کے مواقع پر پابندیاں عوام کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہیں۔
l غزہ مسلسل خونریزی، تباہی اور انسانی المیے کے بوجھ تلے زندگی گزار رہا ہے ۔گلیاں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں، گھر یادوں میں بدل گئے ہیں، اور وہ بستیاں جہاں کبھی زندگی کی رونق تھی، آج خاموشی اور درد کی تصویر بنی ہوئی ہیں۔یہاںبے گھر افراد کے خیموں میں لگنے والی آگ کے دوران پانی تک دستیاب نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اکتوبر 2023ء سے اکتوبر 2025ء کے دوران 51 ممالک نے اسرائیل کو 6.885 ارب ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان فراہم کیا۔ سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس مجموعی سپلائی کا 91فیصد حصہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جانب سے نسل کشی کے خطرے سے خبردار کیے جانے کے بعد فراہم کیا گیا۔ عالمی سپلائی چین کا انحصار اسرائیل کی فوجی سپلائی کے ایک عالمی نیٹ ورک پر ہے، جس میں سرفہرست امریکہ42 فیصد بھارت26فیصد اس کے بعد رومانیہ، تائیوان اور چیک ریپبلک شامل ہیں، جنہوں نے جنگ سے پہلے کے مقابلے میں اپنی سپلائی میں اضافہ کیا۔ پھر یہ کہ درآمدات کا 62 فیصد حصہ دھماکہ خیز ہتھیاروں پر مشتمل ہے (جیسے بم، میزائل اور بارودی سرنگیں)، جن کی مالیت 550 ملین ڈالر سے زائد ہے۔ اس کے علاوہ بڑی مقدار میں گولہ بارود بھی درآمد کیا گیا، جس کے استعمال کے اوقات میں شہری علاقوں میں شدید حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ خاندانوں کی جدائی، بچوں کی محرومی اور انسانی المیے کی داستانیں مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ دیر البلح سے گرفتار کیے گئے ننھے ریان ابو العجین کی اسرائیلی حراست میں مبینہ تشدد کے بعد شہادت کی خبر نے فلسطینی عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ تباہ شدہ بستیوں، ملبے میں کھیلتے بچوں،بے گھر خاندانوں اوربنیادی سہولتوں سے محروم شہریوں کی مشکلات بدستور بڑھ رہی ہیں تاہم گزشتہ ماہ کے دوران 1701 بچوں کی پیدائش نے امید کی ایک نئی کرن روشن کی ہے۔
l اسرائیلی جیل ’’الدامون‘‘ میں قید فلسطینی اسیر خواتین کے نماز کے کپڑے ضبط کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں نے مذہبی آزادی اور انسانی وقار کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
l 2024ء میں گرفتار کیے جانے والے اور غزہ میں زخمیوں اور مریضوں کی خدمت کی علامت سمجھے جانے والے فلسطینی ڈاکٹر حسام ابو صفیہ جنہیں طویل عرصے سے بغیر کسی جرم ثابت ہوئے حراست میں رکھا گیا ہے، اسرائیلی سپریم کورٹ میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے۔ دورانِ قید انہیں صحت کے متعدد مسائل کا بھی سامنا رہا ہے۔
l ابو عبیدہ نے مغربی کنارے کے شہر جنین اور وہاں کے مجاہدین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدید محاصرے اور مسلسل حملوں کے باوجود جنین نے استقامت اور مزاحمت کی نئی مثال قائم کی ہے، جو غزہ کے عوام کی جدوجہد سے گہری مماثلت رکھتی ہے۔
مسلم دنیا سے متعلق دیگر ممالک کی اہم خبریںl ایران: امریکہ سے معاہدے پر متضاد بیانات: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ مجوزہ معاہدے کو ایران کی کامیابی قرار دیا جبکہ وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ معاہدے کا مطلب جنگی جرائم کو فراموش کرنا نہیں اور ایران اپنے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ جاری رکھے گا۔ اُدھر امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے افزودہ یورینیم کے ذخائر کی حفاظت کے لیے زیر زمین تنصیبات کو سیل اور بعض راستوں پر بارودی سرنگیں نصب کر دی ہیں۔ امریکہ نے ایرانی وزارت دفاع اور اس سے وابستہ نو شخصیات و اداروں پر نئی پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں۔ اسی دوران ایران میں پہلی مرتبہ سزائے موت پانے والے 139 قیدیوں کی عام معافی کا اعلان کیا گیا جبکہ سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین 9جولائی کو مشہد میں ہوگی۔
l اسرائیل / فلسطین: غزہ پر حملے جاری، فوجی موجودگی برقرار رکھنے کا اعلان: امریکا اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ کی جنگ، بشمول لبنان میں جاری تنازعہ، کے خاتمے پر اتفاق کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ وزیراعظم نیتن یاہو اور میں ایک واضح پالیسی پر عمل پیرا ہیں، جس کے تحت اسرائیلی افواج لبنان، شام اور غزہ کے سکیورٹی زونز میں غیر محدود مدت تک موجود رہیں گی تاکہ سرحد اور اسرائیلی آبادیوں کو وہاں سے ’جہادی عناصر‘ کے خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس علاقے کو مقامی رہائشیوں سے خالی کرایا جائے گا۔ اسرائیلی فوج نے غزہ میں حماس کے دو کمانڈروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ فلسطینی ذرائع کے مطابق حملوں میں ایک بچے سمیت متعدد شہری شہید اور زخمی ہوئے ۔ اسرائیل نے متنازعہ ریاست صومالی لینڈ کے صدر کا بھی پہلا سرکاری دورہ کرایا جبکہ قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کے اجلاس کے دوران اپنی فوج سے کہا ہے کہ حزب اللہ پر دباو ڈالنے کے لیے لبنانی خواتین اور نوجوانوں کو حراست میں لیں۔
l یمن: پناہ گزین خاتون بھوک سے جاں بحق: شمالی یمن کے صوبہ حجہ میں حوثیوں کے زیرِ انتظام ایک پناہ گزین کیمپ میں ایک خاتون بھوک اور طبی سہولتوں کی کمی کے باعث جاں بحق ہو گئی،واضح رہے کہ چند ہفتے قبل اُن کے شوہر کا انتقال بھی اِنہی حالات میں ہوا تھا۔
l بھارت: مسلمان خواتین اور کشمیریوں کے خلاف امتیازی سلوک : بنگلہ دیشی وزیراعظم کے مشیر زاہد الرحمان کو پیشگی سفارتی منظوری کے باوجود دہلی ایئرپورٹ پر روک کر طویل پوچھ گچھ کی گئی۔ بھارتی حکام کی مداخلت کے بعد داخلے کی اجازت ملنے کے باوجود انہوں نے واپس ڈھاکہ جانے کو ترجیح دی۔وزیرِ بلدیات و آبی وسائل سی آر پاٹل نے پاکستان کی جانب بہنے والے پانی کو روکنے کے حکومتی منصوبوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو ایک بوند پانی بھی جانے نہیں دیں گے ۔ مختلف ریاستوں میں کشمیری طلبہ اور تاجروں کو ہراساں کیے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ مہاراشٹر میں ایک امام مسجد کو ہندوتوا عناصر نے زبردستی ’’جے شری رام‘‘ کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا۔دہلی میں ایک 19 سالہ حاملہ مسلمان خاتون پراسرار حالات میں مردہ پائی گئیں، اُن کے اہلِ خانہ نے اجتماعی عصمت دری اور قتل کا الزام عائد کیا ہے۔ دوسری جانب بھارت میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے مسلم خواتین کو بدنام کرنے کے واقعات میں اضافے کی اطلاعات ملی ہیں۔