اسلامی پاکستان ہی اصل پاکستان ہے !!!
ڈاکٹر ضمیراخترخان
تاریخی حقیقت یہ ہے کہ قیام پاکستان کے فوراًبعد ہی سیاست دانوں نے ملک کوسیاسی اکھاڑابنا دیا تھا۔ پہلاکھیل ملک کی نظریاتی اساس کو نقصان پہنچاناتھا۔ بڑی مشکل سے قراردادِمقاصد پاس ہوئی جس سے نظریاتی سمت کا تعین ہواتھا۔ اس کا تقاضاتھا کہ ملک کونظریاتی بنیادوں پراستوار کرتے ہوئے معاشرتی، معاشی اور سیاسی نظام کو اسلام کے عادلانہ اصولوں پراستوار کیا جاتالیکن اس سمت کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ لادینی عناصر (Seculars)قوت پکڑتے گئے۔انہوں نے ایک سے بڑھ کر ایک رکاوٹ کھڑی کی ۔ یہ شوشہ چھوڑاگیاکہ پاکستان میں کس کا اسلام نافذ کیاجائے۔سنی کایاشیعہ کا؟ بریلوی کا یادیوبندی کا؟ جب تمام مکاتب فکرکے 31علماء نے جمع ہوکر22متفقہ دستوری نکات پیش کیے توپھر بھی لادینی سیاست کے علمبرداروں نے ملک کواسلامی نظام کی طرف لے جانے کی بجائے اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھادیایہاں تک کہ ملک دولخت ہو گیا۔ آج پاکستان عالمی سطح پر انتہائی بلندی پر ہونے کے باوجود اپنے تشخص کی تلاش میں ہے۔ جان لیجیے کہ پاکستان کی اصل پہچان اس کا اسلامی ہونا ہے۔
پاکستانی سیاست دان: ظالم یا مظلوم؟آج پاکستان کی سیاست میں ایک دلچسپ اور افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ تقریباً ہر بڑی سیاسی جماعت خود کو مظلوم اور دوسروں کو ظالم ثابت کرنے میں مصروف نظر آتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اپنی سیاسی تاریخ کو ناانصافیوں، برطرفیوں اور اقتدار سے محرومی کی داستان قرار دیتی ہے۔ پیپلز پارٹی اپنے رہنماؤں کی قربانیوں اور سیاسی جدوجہد کو اپنی مظلومیت کا ثبوت پیش کرتی ہے۔ تحریک انصاف بھی سیاسی رکاوٹوں، انتخابی عمل اور حکومتی اقدامات کو اپنے خلاف ظلم سے تعبیر کرتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی سیاست میں مظلومیت ایک سیاسی سرمایہ بن چکی ہے ،جسے عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر ہم ملکی تاریخ کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں تو ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے کہ آخر پاکستان کی اصل مظلوم ہستی کون ہے؟ کیا صرف سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین مظلوم ہیں یا خود پاکستان، اس کے عوام اور اس کا نظریاتی تشخص سب سے زیادہ مظلوم ہیں؟
قیامِ پاکستان کے فوراً بعد قوم کو ایک ایسے نظام کی ضرورت تھی جو اس ملک کی نظریاتی بنیادوں کو مضبوط کرتا اور اسے اسلامی فلاحی ریاست کی شکل دیتا۔ اسی مقصد کے لیے قراردادِ مقاصد منظور کی گئی جس نے واضح کیا کہ پاکستان میں حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہوگی اور ریاستی نظام اسلامی اصولوں کے مطابق تشکیل پائے گا۔ یہ قرارداد درحقیقت پاکستان کی نظریاتی سمت کا تعین کرتی تھی۔
بدقسمتی سے بعد کے ادوار میں سیاسی قیادتیں اِس بنیادی مقصد کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہیں۔ اسلام کے عادلانہ معاشی، سماجی اور سیاسی نظام کو نافذ کرنے کے بجائے اقتدار کی کشمکش، ذاتی مفادات اور گروہی سیاست کو ترجیح دی گئی۔ لادینی اور سیکولر رجحانات کو فروغ ملا اور مختلف قسم کے فکری شبہات پیدا کیے گئے۔ یہ سوال اُٹھایا گیا کہ پاکستان میں کس مکتب فکر کا اسلام نافذ کیا جائے گا؟ حالانکہ جب مختلف مکاتب فکر کے اکتیس جید علماء نے متفقہ طور پر بائیس دستوری نکات پیش کر دئیے تھے تو اس کے بعد اس قسم کے اعتراضات کی کوئی حقیقی بنیاد باقی نہیں رہتی تھی۔
ملک کی نظریاتی سمت سے انحراف کا نتیجہ یہ نکلا کہ قومی وحدت کمزور ہوتی گئی، سیاسی عدم استحکام بڑھتا گیا اور بالآخر 1971ء میں ملک دولخت ہو گیا۔ اس سانحے سے بھی مطلوبہ سبق حاصل نہ کیا جا سکا۔ آج پاکستان ایٹمی قوت ہے، اس کی افواج دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں، اس کا جغرافیائی محل وقوع غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور عالمی سطح پر اس کی حیثیت مُسلَّمہ ہے، لیکن اس کے باوجود ملک مسلسل اپنی فکری اور نظریاتی شناخت کے سوال سے دوچار ہے۔
پاکستان کے سیاست دانوں کو یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ قوم اب محض مظلومیت کے بیانیے سننا نہیں چاہتی بلکہ عملی نتائج دیکھنا چاہتی ہے۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے مسائل کب حل ہوں گے، غربت، بے روزگاری، بدعنوانی اور ناانصافی کا خاتمہ کب ہوگا، اور ملک کو اس مقصد کی طرف کب لے جایا جائے گا جس کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دی تھیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں باہمی الزام تراشی، انتقامی سیاست اور اقتدار کی رسہ کشی سے بالاتر ہو کر پاکستان کے اسلامی تشخص پر اتفاق کریں۔ اُنہیں چاہیے کہ وہ آئین پاکستان میں موجود اسلامی دفعات کو حقیقی روح کے مطابق نافذ کرنے، عدل و انصاف کو مضبوط بنانے، سودی معیشت سے نجات حاصل کرنے، تعلیم کو اسلامی اور سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے اور ریاستی اداروں میں امانت و دیانت کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ قومی لائحۂ عمل تشکیل دیں۔
پاکستان کا مستقبل محض سیاسی نعروں یا مظلومیت کے دعووں میں نہیں بلکہ اس کے بانیان کے خواب کی تعبیر میں پوشیدہ ہے۔ ایک ایسی ریاست جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، جہاں حکمران خود کو عوام کا خادم سمجھیں، جہاں کمزور کو انصاف اور محروم کو سہارا ملے، اور جہاں قرآن و سنت کی تعلیمات معاشرتی اور ریاستی زندگی کی رہنمائی کریں۔
آج پاکستان کے سیاست دانوں کے لیے سب سے بڑی دعوت یہی ہے کہ وہ خود کو مظلوم ثابت کرنے کے بجائے قوم کے خیرخواہ اور معمار بنیں۔ وہ اپنے سیاسی اختلافات کو قومی مفاد پر قربان کریں اور پاکستان کو ایک حقیقی فلاحی اسلامی مملکت بنانے کے لیے متحد ہو جائیں۔ اگر سیاسی قیادت اخلاص، دیانت اور عدل کے اصولوں کو اپنا لے تو پاکستان نہ صرف اپنے داخلی مسائل پر قابو پا سکتا ہے بلکہ پوری اُمَّت ِمُسلمہ کے لیے امید، استحکام اور ترقی کا ایک روشن نمونہ بھی بن سکتا ہے۔
سیاست دانوں نے اپنی بداعمالیوں کو چھپانے کے لیے اور عوام کو دھوکہ دینے کے لیے ایک عذرایسا بھی تراشاہے جس نے پاکستان کی سالمیت کو بھی خطرے سے دوچار کیا ہوا ہے وہ عذرلنگ فوج کاسیاست میں مداخلت ہے۔ یہ’’عذرِ گناہ بدترازگناہ‘‘ کا مصداق ہے۔ آئیے دیکھیں کہ فوج نے سیاست دانوں کے ساتھ کیا کیا:
کیا فوج نے سیاست دانوں کو کام نہیں کرنے دیا؟پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک معروف بیانیہ یہ ہے کہ فوج نے سیاست دانوں کو کبھی کام کرنے کا موقع نہیں دیا اور جمہوری عمل کو بار بار تعطل کا شکار کیا۔ اس بیانیے میں جزوی حقیقت ضرور موجود ہے کہ ملک میں متعدد بار مارشل لاء نافذ ہوئے اور فوج نے براہِ راست اقتدار سنبھالا، لیکن اگر تاریخ کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کیا جائے تو تصویر کا دوسرا رخ بھی نظر آتا ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد ابتدائی برسوں میں سیاسی قیادت ایک مضبوط، مستحکم اور متحد جمہوری نظام قائم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ اقتدار کی کشمکش، ذاتی مفادات، جماعتی اختلافات اور باہمی عدم اعتماد نے سیاسی نظام کو کمزور کیا۔ حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہیں، وزارتوں کے حصول کے لیے جوڑ توڑ جاری رہا اور قومی مسائل پس منظر میں چلے گئے۔ ایسے حالات میں ریاستی اداروں کے درمیان طاقت کا توازن بھی متاثر ہوا۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ برصغیر میں پاکستان کے ساتھ ہی وجود میں آنے والے بھارت میں سیاسی قیادت نے ابتدا ہی سے ریاستی نظام کی باگ ڈور مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں رکھی۔ وہاں سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کے باوجود جمہوری اداروں کو تسلسل کے ساتھ چلایا گیا، آئینی عمل کو مستحکم کیا گیا اور اقتدار کی منتقلی کے اصولوں کو قبول کیا گیا۔ اس کے برعکس پاکستان میں سیاسی عدم استحکام نے غیر منتخب قوتوں کے لیے مداخلت کے مواقع پیدا کیے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ فوجی مداخلتوں نے جمہوری ارتقا کو نقصان پہنچایا، لیکن یہ کہنا بھی مکمل حقیقت نہیں کہ تمام تر ذِمّہ داری صرف فوج پر عائد ہوتی ہے۔ تاریخ کے متعدد مواقع پر سیاست دانوں نے خود ایک دوسرے کے خلاف غیر سیاسی قوتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی، مخالفین کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے غیر جمہوری ذرائع اختیار کیے اور قومی مفاد کے بجائے جماعتی مفادات کو ترجیح دی۔ یوں سیاسی کمزوریوں نے بھی ایسے حالات پیدا کیے جن میں فوجی مداخلت ممکن ہوئی۔
لہٰذا دیانت دارانہ تجزیہ یہی ہے کہ پاکستان کی سیاسی مشکلات کا ذِمّہ دار کوئی ایک ادارہ یا ایک طبقہ نہیں۔ فوجی مداخلتیں بھی اس بحران کا حصّہ رہی ہیں اور سیاسی قیادت کی باہمی چپقلش، کمزور جمہوری روایات اور ذاتی مفادات بھی اس میں شریک رہے ہیں۔ قوم کو آج الزام تراشی کے دائروں سے نکل کر یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے تمام اداروں اور سیاسی قوتوں کو اپنے اپنے آئینی دائرۂ کار میں رہ کر پاکستان کو ایک مستحکم، باوقار اور اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔
منزلِ پاکستان: اسلامی فلاحی ریاست اور اُمّت کی قیادت:پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ سیاست دانوں اور ریاستی اداروں دونوں سے مختلف ادوار میں ایسی کوتاہیاں سرزد ہوئیں جنہوں نے قومی ترقی کی رفتار کو متاثر کیا۔ اقتدار کی کشمکش، باہمی عدم اعتماد، آئینی تنازعات، ادارہ جاتی تصادم اور قومی ترجیحات سے غفلت نے ملک کو وہ استحکام فراہم نہیں کیا جس کا خواب بانیانِ پاکستان نے دیکھا تھا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کی غلطیوں پر ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے ان کی تلافی کے لیے ایک واضح اور متفقہ قومی سمت اختیار کی جائے۔
پاکستان کے قیام کا بنیادی مقصد محض ایک جغرافیائی ریاست کا حصول نہیں تھا بلکہ ایک ایسی فلاحی مملکت کا قیام تھا جہاں اسلام کے عادلانہ اصول اجتماعی زندگی کی بنیاد بنیں، جہاں قانون کی حکمرانی ہو، جہاں معاشی استحصال کا خاتمہ ہو، جہاں عدل، مساوات اور انسانی وقار کو یقینی بنایا جائے اور جہاں ریاست اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود کی ذِمّہ دار ہو۔ لہٰذا آج پاکستان کی تمام سیاسی و ریاستی قوتوں کے لیے سب سے اہم قومی ایجنڈا یہی ہونا چاہیے کہ ملک کی منزل کو واضح طور پر اسلامی فلاحی ریاست کے قیام سے وابستہ کیا جائے اور اس مقصد کے حصول کے لیے سنجیدہ، تدریجی اور عملی پیش رفت کی جائے۔
اگر پاکستان اپنے اندر عدل، دیانت، امانت، قانون کی بالادستی، معاشی انصاف، قومی یکجہتی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کو مضبوط بنا لے تو وہ نہ صرف اپنے داخلی مسائل پر قابو پا سکتا ہے بلکہ اُمَّتِ مُسلمہ کے لیے بھی امید اور رہنمائی کا مرکز بن سکتا ہے۔ ایک مستحکم، خوشحال اور اصولی پاکستان مُسلم دنیا کے درمیان اتحاد، تعاون اور ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور عالمی سطح پُر امن، انصاف اور انسانی وقار کے لیے ایک مثبت آواز بن سکتا ہے۔
یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ جو قوم اپنے گھر کو منظم اور مضبوط نہیں بنا سکتی، وہ دوسروں کی مؤثر رہنمائی بھی نہیں کر سکتی۔ جب پاکستان اپنے اندر سیاسی استحکام، معاشی خود انحصاری، سماجی عدل اور اخلاقی قوت پیدا کرے گا تو وہ عالمِ اسلام اور وسیع تر عالمِ انسانیت کے لیے ایک تعمیری کردار ادا کرنے کے قابل ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ قوم بحیثیت مجموعی صداقت، عدالت، دیانت، شجاعت اور خدمتِ خلق جیسی اقدار کو اپنی قومی زندگی کا حصّہ بنائے۔علامہ اقبالؒ نے اِسی حقیقت کو اپنے منفرد انداز میں بیان کیا تھا:
’’سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا‘‘
اگر پاکستان اپنے قیام کے بنیادی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے اخلاص، اتحاد اور عزم کے ساتھ آگے بڑھے تو وہ نہ صرف اپنے عوام کے لیے امن، ترقی اور خوش حالی کا ذریعہ بن سکتا ہے بلکہ اُمَّت ِمُسلمہ اور عالمی برادری میں بھی ایک باوقار اور مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ماضی کی کوتاہیوں کی تلافی اور مستقبل کی عظمت کی ضمانت بن سکتا ہے۔ ان شاء اللہ!