دنیا کےتقریباً5.8ارب انسانوں میں سے چن کر نکالے، منتخب کردہ کم و بیش2 ارب مسلمانوں پر نیا قمری سال طلوع ہوا ہے محرم الحرام کے معظم مہینے سے۔ اس نے تمہیں (اپنے کام کے لیے )چن لیا ہے…اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام مسلم رکھا اور اس قرآن میں بھی ۔ (الحج:78)یہ ماہ مبارک اسوۂ شبیریؓ اور یوم عاشور ہمیں یہی اسباق پختہ کرواتا ہے۔ ہم انبیاء کرامf کے پیغام کے وارث، اپنے باپ ابراہیم خلیل اللہ ؑ کی ملت سے اور خاتم الانبیاء محمد مصطفیﷺ کے اُمّتی ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ آج کی جاہل، پاگل، خود سے ناآشنا دیوانی دنیا کے لیے استاد اور مربی بناکر بھیجے گئے تھے۔ (مگر بنی اسرائیل کی طرح کافر قوموں کی نقالی میں چوں چوں کا مربہ بن کر دربدر خاک بسر ہوئے پڑے ہیں)وہ عالمی گاؤں جس کے باسی یہ تک نہیں جانتے ؍ بھول گئے ہیں کہ شادی مرد اور عورت کے مابین ہوتی ہے یا مرد اور مرد کے مابین؟ شادی پہلے ہوتی ہے یا پہلے بچے پیدا ہوتے ہیں؟ گودوں میں بچے پالے اور کھلائے جاتے ہیں یا کتے؟
دیوانگی کے تمام آثار گلوبل ویلج کے چودھریوں کے ہاں پورے ہوچکے ہیں۔ دیوانہ نہیں جانتا، وہ کون ہے، کہاں سے آیا ہے۔ اہل ِمغرب ہوش کھوبیٹھے ہیں کہ وہ حضرت آدمؑ کی اولاد ہیں۔ اپنا ناتا بن مانس ؍ بندر سے جوڑتے، اُس کی گود میں جابیٹھے ہیں۔ دیوانہ رشتوں کو نہیں پہچانتا ۔ یہ بھی پہلے اولاد کو ڈے کیئر سینٹرز اور فوسٹر کیئر میں دربدر کرتے ہیں۔ (پھر خود روپودوں کی طرح جھاڑ جھنکار ٹرمپ نما شخصیتیں پروان چڑھتی ہیں۔)والدین اولڈ ہومز میں رہتے ہیں، تنہا، تشنہ ، اولاد کی دید کے پیاسے۔ اولڈ ہوم سے فیونرل ہوم (جنازہ گھر)لے جاکر راکھ بناکر کہانی ختم۔ دیوانہ کپڑے پھاڑتا، برہنہ پھرتا ہے، مہذب شائستہ لوگ اسے دیکھ کر منہ چھپاتے ہیں۔ مغرب دیوانگی کا یہ مرتبہ پا چکا۔ (اسی کی تقلید میں ہمارے ہاں نئے مگر پھٹے، پھاڑے گئے کپڑوں، پینٹوں کا فیشن !)چھوت کا یہ مرض کم لباسی ، بے لباسی، تنگ پاجامیاں، حیاسوز رقیق لباسی بن کر دنیا بھر میں پھیل گیا ہے، سوائن فلو کی طرح۔ یہی پاگل پن ، بالباس ، باپردہ، باحجاب وبانقاب کو دیکھ کر جھلااُٹھتا ہے۔ کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے۔مارڈالتا ہے جنون کے دورے میں (مروہ شربینی)۔ دیوانہ وحشت زدہ ہوتا ہے، سفاکی پر اُتر آتا ہے۔ آج دنیا بھر پر جنونی بھیڑیوں کا راج ہے جس نے مسلم دنیا کو ایک قبرستان میں بدل ڈالا ہے۔ سارے پاگل مل کر ڈریکولائی خونخواری سے غزہ، کشمیر، لبنان اور ایران کے مناظر تخلیق کررہے ہیں۔ دیوانہ غیرت، مروت، لطیف احساسات سے عاری، بے حیا ہوتا ہے۔ آج بے حیائی کے فروغ کے لیے باضابطہ صنعتیں وجود میں آچکی ہیں۔ فحش ویب سائٹس ، بچوں تک کو بدکاری کی تجارت میں دھکیل کر اربوں ڈالر کے گٹر سے کمائی دنیا کی معیشت کی رگوں میں گردش کررہی ہے۔ عاشورے کا متبرک دن حضرت موسٰیؑ اور ان کی قوم کی نجات اور سرخروئی اور فرعون کی غرقابی کا بھی دن ہے، سید نا حسین ؓ کی عزیمت بھری شہادت کی عظیم گواہی کے ساتھ ساتھ۔ دونوں واقعات ازلی ابدی کلمۂ حق لاالٰہ الااللہ کی سربلندی سے وابستہ ہیں۔ معرکۂ فرعون وکلیم ؑ ہو یا زمین پر اللہ کی حکمرانی، خلافت کے نظام کے ذریعے اسے قائم رکھنے کی خاطر جگر گوشۂ بتولؓ کا خاندان سمیت شہادت قبول کرتے کٹ مرنا ہو، کہانی ہر دوصورت اسلام کی حکمرانی، بالادستی ہی کی ہے۔ حکمراں ہے اک وہی باقی بتان آزری۔ اس کے بعد پوری اسلامی تاریخ جابر حکمرانوں کے مقابل یہی کہانی دہراتی چلی جاتی ہے۔ اس کی ابتدا تو سیدنا حسینؓ کے نانا سے ہوئی تھی!کفر کے مقابل محمدرسول اللہ ﷺکا یہ عزم ثبت ہے: خدا کی قسم!یہ لوگ اگر میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیں اور یہ چاہیں کہ میں اس مشن کو چھوڑ دوں تو میں اس سے باز نہیں آسکتا۔ یہاں تک کہ یا تو اللہ اس مشن کو غالب کردے یا میں اس جدوجہد میں ختم ہو جاؤں۔ باقی 1400سال یہی صدا دہرائی گئی ہے۔ کربلاکے میدان میں، آئمہ کرام اور پُرعزم مسلمانوں نے جابر حکمرانوں کے بالمقابل حق کے دفاع میں۔امام ابوحنیفہؒ کو ابی ہبیرہ کے حکم پر برستے کوڑوں کے بیچ دیکھ لیجئے۔ صدق وایمان کی آواز نے ظالم کو بھی دہلا دیا:ابی ہبیرہ! اُس وقت کو یاد کرو جب تمہیں اللہ کے حضور کھڑا کیا جائے گا اور جس طرح آج میں تمہارے سامنے ذلیل کیا جارہا ہوں اس سے کہیں زیادہ ذلت کے ساتھ تم اللہ کے دربار میں پیش ہوگے ۔ امام اعظمؒ نے ساری سزائیں حکمرانوں کے مناصب رد کرنے، چیف جسٹس بننے کی پیش کشیں ٹھکرانے پر اُٹھائیں۔ منصور نے اِسی جرم میں30کوڑے برسائے۔ اور آپؓ وہاں سے یوں نکلے کہ برہنہ پشت، بدن پر صرف پاجامہ اور خون ایڑیوں تک بہہ رہا تھا۔ زخموں سے چور 70برس کی عمر میں قید خانے میں ڈالے گئے!کبھی کسی امیر کا عطیہ، ہدیہ قبول نہ کیا۔ وہ مناصب جن کے پیچھے لوگ دوڑتے پھرتے تھے ٹھکرا کر سزائیں مول لیں!یہی شان امام احمد بن حنبلؒ کی عزیمتوں کی ہے۔ رمضان میں چند گھونٹ پانی پی کر روزہ رکھا ہوتا۔ اسی حالت میں جلاد پوری قوت سے کوڑے برساتے۔ پیٹھ زخموں سے چور، جسم خون سے رنگین، تلوار سے کچوکے دیئے جاتے۔ 28مہینے قید وبند اور کوڑوں کی بلا میں استقامت کا پہاڑ بن کر جیئے۔ 77برس کی عمر میں انتقال ہوا تو امام حنبل ؒ کی بات پوری ہوئی۔ (ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ موت کے دن جنازے کی کیفیت سے ہوگا)جنازے پر ساڑھے آٹھ لاکھ افراد نے شرکت کی۔ یہی کیفیت امام ابوحنیفہؒ کے جنازے کی تھی۔ سارا شہر اُمڈ آیا۔ پہلی نماز جنازہ میں 50ہزار افراد کا مجمع تھا۔ اس کے بعد 6مرتبہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ بعدازاں حکمرانوں نے یہ سبق سیکھ لیا کہ کھلے عام جنازہ نہ ہونے دیا جائے ۔ (آج تمام مسلم ممالک میں مقتل سجے ہیں۔ یہی چلن ہے)۔
مشرق وسطیٰ میں مصر سے اُٹھنے والی تحریک الاخوان المسلمون جس نے الحادو دہریت کے اٹھتے طوفانوں کا رخ موڑ دیا۔ عرب نوجوانوں کو ایمان سے لذت آشنا کرنے والا بے مثل مربی، بانیٔ اخوان سید حسن البناء تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے صرف مصر میں فعال کارکنوں کی تعداد 5لاکھ ہوگئی تھی۔ دیگر عرب ممالک میں بھی مراکز قائم ہوگئے۔ مغرب کی کٹھ پتلی حکومت نے اجتماعات ، اخبار ورسائل پر پابندی لگائی۔ جیلیں اخوان سے بھر دیں۔ تاآنکہ 12 فروری 1949ء قاہرہ کی سڑک پر گولی مار کر 43سالہ حسن البناء کو فاسق حکمرانوں نے شہید کردیا۔ لاکھوں جوانوں کے دل کی دھڑکنوں میں بسنے والے قائد کی کھلے عام نماز جنازہ کی اجازت نہ ملی۔ بوڑھے باپ اور گھر کی خواتین نے جنازہ اٹھایا اور رات کی تاریکی میں خاموشی سے تدفین کی۔ ان کے بعد سید قطبؒ پر تعذیبوں کے پہاڑتوڑے گئے۔ جھوٹ کے پلندوں پر اخوان کے6رہنماؤں کو پھانسی دی گئی جس میں سید قطبؒ بھی تھے۔ 22کتابوں کے مصنف ، مفسر قرآن، جنہیں مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ جدید مصر میں اسلامی فکر اور اسلامی دعوت کے سب سے بڑے علمبردار قرار دیتے ہیں۔ اور یہ بھی کہ:وہ (سید قطبؒ ، اسلام بارے)کسی مدافعت اور معذرت کے قائل نہیں۔ وہ مغربی تہذیب کی بنیادوں پر تیشہ چلاتے ہیں اور اپنے حریف پر بڑھ کر حملہ کرتے ہیں۔ سو مغرب کے فکری غلاموں نے پھانسی دے کر سید قطبؒ کو منہ مانگی مراد دے دی۔ دنیا نے دیکھا کہ کس دھج سے وہ مقتل کو گئے! مسکراتے روشن چہرے کے ساتھ نبی محترم ﷺ سے ملاقات کے متمنی !
سید نا حسین ؓ کے ان وارثوں میں ایک دمکتا نام محمد مہدی عاکف ؒ کا بھی ہے جو89 سال کی عمر میں مصر کی جیل میں السیسی کی فرعونیت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ یکم محرم 1439ھ سنت فاروقی ؓ پر شہادت پائی۔ 27 سال (تین وقفوں میں) جیل کاٹی۔ حسب روایت حکومت شہدائے اسلام کے خاکی اجسام سے بھی لرزاں و ترساں رہی!اس شرط پر اہل خانہ کو جسد خاکی دیا کہ اہل خانہ کے سوا کوئی نہ ہو۔ (ان شاء اللہ فرشتوں کے جلومیں !)رات کی تاریکی میں خاموش تدفین ہو۔ وزارت داخلہ نے خاندان کی کڑی نگرانی کی۔ 90سال کے بابوں سے بھی لرزتا نظام!مبنی برظلم ، تشدد، کذب وافتراء ، فسق وفجور…! ان کے برطانوی آقاؤں کے خلاف لڑنے والا صف اول کا مجاہد۔ یعنی دہشت گرد!غزہ کے، فلسطینی مصری مزاحمت کاروں (بمقابلہ برطانوی استعمار)کو عسکری تربیت دینے والا۔ یعنی سہولت کار!سید نا حسین ؓ سے پوچھا گیا کہ بزدلی کیا ہے؟ فرمایا: دوستوں پر جری (ان کے خلاف بہادری!) اور دشمنوں سے بھاگنا!یعنی آج کی لغت میں:غیر کا ہوسامنا تو بس قلی بن جائیے! آج مسلم دنیا پر قلیوں کی حکومت ہے!کوفیوں کی حکومت ہے جن کی تلواریں، زبانیں اور دل سبھی کچھ کفر کے ساتھ ہے۔