(دین و دانش) نیا اسلامی سال :خود احتسابی کا سنہرا موقع - مفتی رفیق احمد بالا کوٹی

10 /

نیا اسلامی سال :خود احتسابی کا سنہرا موقع

مفتی رفیق احمد

 

لوگ سال گزرنے پر جشن مناتے ہیں۔ اپنی سالگرہ مناتے ہیں۔ تہوار کی طرح خوشیوں، شادمانیوں اور لہو ولعب میں منہمک رہتے ہیں۔ یہ خوشیاں اور جشن منانا اسلامی تعلیمات کے عین خلاف ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو سال گزرنے پر اظہار تاسف اور محاسبۂ نفس کی تعلیم دیتا ہے۔ کیونکہ انسان کی زندگی سے ایک پل گزرنا گویا اس کی مقررہ میعاد سے ایک گھڑی ختم ہوگئی۔ اور وہ قبر کی طرف رفتہ رفتہ قریب ہوتا جارہا ہے۔ در حقیقت انسان کی زندگی ایک عالی شان پرشکوہ عمارت کی طرح ہے۔ اس کی زندگی کے لمحات اس عمارت کی اینٹیں ہیں۔ جیسے ہی ایک دن گزر گیا تو اس عمارت سے ایک اینٹ گرگئی۔ جیسے جیسے اس عالی شان فلک بوس عمارت کی اینٹیں گرتی جائیں گی وہ آخرت کی طرف دن بدن قریب سے قریب تر ہوتا جائے گا۔ پھر جب اس عمارت کی تمام اینٹیں گر جائیں گی تو سمجھو کہ پیامِ اجل آکر اس کی روح کو پکڑ کر چلا جائے گا۔ یہی دنیوی زندگی کی حقیقت ہے۔ ہماری پوری بھاگ دوڑ اسی فانی دنیا میں ناامید ہوکر رہ جائے گی۔ دنیا جی لگانے کی چیز نہیں ہے۔ جیسے کہ شیخ سعدیؒ نے فرمایا:’ حکیماں گفتہ اند ہرچہ نپاید دل بستگی را نشاید ‘یعنی ’’عقلمندوں نے کہا ہے کہ جوچیز (پائیدار) نہیں ہے اس سے دل لگانا عقلمندی نہیں ہے۔‘‘شیخ سعدیؒ مزید اس زندگی کی حقیقت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ؎
ہردم از عمر می رود نفسے
چوں نگہ می کنی نماند کسے
مفہوم:’’انسان کی زندگی ہر سانس کے ساتھ اس کی عمر کم ہو رہی ہے(ایک ایک لمحہ بیت رہا ہے)۔ اور جب تم غور سے دیکھتے ہو تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی اس دنیا میں ہمیشہ کے لیے نہیں رہنے والا۔ یہ زندگی کی فانی حقیقت اور وقت کی قدر کی طرف ایک خوبصورت اشارہ ہے۔‘‘
اے کہ پنجاہ رفت و در خوابی
مگر ایں پنچ روز دریابی
مفہوم:’’اے انسان! تو نے غفلت میں زندگی کے50 سال گزار دئیے اور ابھی تک (غفلت کی) نیند میں ہے۔ اب تو ہوش میں آ جاتا کہ زندگی کے باقی ماندہ پانچ دن (یا چند لمحے) ہی غنیمت جان کر سنوار لے۔‘‘
مندرجہ بالا اشعار میں خود احتسابی کی بہترین دعوت ہے جو انسان کو یاد دلاتی ہے کہ وقت بڑی تیزی سے گزر رہا ہے، اس لیے آنے والے وقت کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
آج ہم سب عہد وپیماں کریں کہ ہمارے گزرے ہوئے لمحات کا جائزہ لیں گے اور خود احتسابی کرکے اپنے رب کی طرف رجوع ہوکر نفس کا محاسبہ کریں گے۔ نفس کے محاسبہ کے متعلق حضرت امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق ؓ کا قول ہے:(حاسبوا أنفسكم قبل أن تحاسبوا، وزنوها قبل أن توزنوا۔) یعنی’’ حساب لیے   جانے سے پہلے حساب کرلو اور اعمال وزن کیے جانے سے پہلے وزن کرلو۔‘‘ تو جب جب ہماری زندگی میں نیا سال جلوہ گر ہوتا ہے تو جشن منانے کے بجائے خود کا محاسبہ کریں اور گزرے ہوئے ایام پر ندامت کے آنسو بہاتے ہوئے آنے والے ایام میں حسن عمل کا عزم مصمم کریں۔ کیونکہ ہماری زندگی کے ایک ایک لمحے کے بابت ہم سے پوچھ گچھ ہوگی جیسے کہ سرکارِ دوجہاں ﷺ فرماتے ہیں کہ  روز ِقیامت ابن آدم کے قدم اپنی جگہ سے ہل نہیں سکیں گے، جب تک اس سے پانچ چیزوں کے بارے پوچھ گچھ نہ کر لی جائے گی، (1) اس نے اپنی عمر کہاں فنا کی؟ (2) اپنی نوجوانی کہاں کھپائی؟ (3) مال کہاں سے اور کیسے کمایا؟ اور  (4) کہاں خرچ کیا؟ اور (5) اس نے اپنے علم کے مطابق کتنا عمل کیا؟‘‘(جامع ترمذی)
اس حدیث پاک سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ انسان سے اس کے گزرے ہوئے ایام کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا۔ اس کے بچپن سے لے کر بڑھاپے تک کے ایک ایک لمحہ کے بارے اس سے سوال ہوگا۔ جیسے کہ حدیث پاک سے واضح ہوتا ہے۔ کیونکہ تخلیق انسانی کے پیچھے قدرت کا عظیم مقصد پنہاں ہے۔ یوں ہی لہو ولعب میں وہ اس کی زندگی کو گزار نہیں سکتا۔ اس کی تخلیق کے پیچھے اعلیٰ مقاصد ہیں۔ جیسے کہ قرآن کہہ رہا ہے: ’’میں نے جن اور انس اسی لیے بنائے کہ میری عبادت کریں۔‘‘ (ذاریات:56)۔ دوسری جگہ فرماتا ہے: ’’کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بے کار بنایا اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟‘‘(المؤمنون:115) 
تخلیق ِانسان کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ’’ بڑی برکت والا ہے وہ جس کے قبضے میں ساری بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرنے والا ہے اور وہی عزت والا، بخشش والا ہے۔‘‘ (ملک:1،2)
تو آپ خوب سمجھ گئے ہوں گے کہ انسان کو اس کے گزرے ہوئے ایام پر جشن نہیں بلکہ ندامت کے آنسو بہانا چاہیے۔ بے کار اور بیہودہ کاموں میں صرف ہوئے لمحات کو سوچ کر اللہ تعالیٰ سے معافی تلافی کرتے رہیں۔ خود احتسابی کرتے رہیں اور محاسبۂ نفس میں لگے رہیں اور عہد کریں کہ ان شاء اللہ العزیز یہ نیا اسلامی سال میری زندگی کے لیے ایک داغ بیل اور نقطۂ تحول ثابت ہوگا۔ اس میں اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کروں گا۔ حتی الوسع گناہوں سے اجتناب کروں گا اور نیکی کی دعوت عام کروں گا۔ لوگوں کی  خیر خواہی کرتے ہوئے بھلائیوں کا مشورہ دوں گا۔برائیوں سے خود بھی بچوں گا اوراپنی استطاعت کے مطابق دوسروں کو بھی بچنے کا کہوں گا۔ دین کو قائم و نافذ کرنے کی جدوجہد کا حصہ بنوں گا۔ اللہ اور اس کے حبیب پاک ﷺ کو پسندیدہ اعمال میں زندگی کے قیمتی لمحات وساعات کو گزاروں گا۔ نئے سال سے بہتر خود احتسابی اور محاسبۂ نفس کا دوسرا موقع ہاتھ نہیں آئے گا۔ اس لیے چاہیے کہ اس ہجری و قمری نئے سال کی قدر کریں اور ضائع ہونے سے حفاظت کریں۔ پروردگار عالم سے دعا گو ہیں کہ اس نئے ہجری سال میں ہمیں زیادہ سے زیادہ نیکی کرنے اور برائیوں سے دور رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ بالخصوص مغربی تہذیب سے دور ونفور ہوکر اسلامی تہذیب تمدن اپنانے کی توفیق عطا فرمائے آمین!