ایثار و قربانی
مرکزی شعبہ تعلیم و تربیت تنظیم اسلامی
ایثار و قربانی اسلام کے وہ درخشاں اوصاف ہیں جو انسان کو درجۂ کمال تک پہنچا دیتے ہیں۔ جب کوئی انسان اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتا ہے، اپنی خواہشات اور ضروریات کو پسِ پشت ڈال کر دین کی سربلندی کی خاطر اپنے ساتھیوں کے لیے قربانی پیش کرتا ہے تو وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رضامندی کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ ایک جماعت کی اصل قوت اُس کے رفقاء کا وہ جذبۂ ایثار ہوتا ہے جو اُنہیں باہم شیر و شکر رکھتا ہے۔ جماعت ایک جسم کی مانند ہوتی ہے، جب اس جسم کا ہر عضو اپنی تکلیف بھلا کر دوسرے کا درد بانٹتا ہے تو وہ جماعت ناقابلِ تسخیر بن جاتی ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن و حدیث اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی روشن مثالوں سے رہنمائی لے کر ایثار و قربانی کو اپنی زندگیوں کا حصّہ بنائیں۔
سورۃ الحشر آیت نمبر 9 میں اللہ تعالیٰ انصارِ مدینہ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے: {وَیُـؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ وَلَـوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌط وَمَنْ یُّـوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (9)} ’’ اور وہ نہیں پاتے اپنے سینوں میں کوئی حاجت اِس بارے میں کہ جو کچھ ان (مہاجرین) کو دیا جاتا ہے اور وہ تو خود پر ترجیح دیتے ہیں دوسروں کو خواہ اُن کے اپنے اوپر تنگی ہو۔ اور جو کوئی بھی بچالیا گیا اپنے جی کے لالچ سے تو وہی لوگ ہیں فلاح پانے والے۔‘‘
یہ آیتِ کریمہ ایثار کی معراج ہے۔
{ وَلَـوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌط} کے الفاظ بتاتے ہیں کہ حقیقی ایثار وہ ہے جو تنگ دستی اور مشکل حالات میں بھی کیا جائے۔ جب ایک مسلمان خود ضرورت مند ہو اور پھر بھی اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی مدد کرے تو وہ ایثار کا بلند مقام پاتا ہے۔
سورۃ آل عمران آیت 92 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {لَــنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ط وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْ ئٍ فَاِنَّ اللہَ بِہٖ عَلِیْمٌ (92)}’’ تم ہرگز نہیں پہنچ سکتے نیکی کے مقام کو جب تک کہ خرچ نہ کرو اُس میں سے جو تمہیں پسند ہے اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے اللہ اُس سے باخبر ہے۔‘‘
یہ آیت ہمیں سمجھا رہی ہے کہ قربانی کا مطلب وہ چیز دینا ہے جو ہمیں خود عزیز ہو۔ہمیں اپنے مال سے بہت محبت ہوتی ہے۔ ہمیں اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں پر ناز ہوتا ہے۔لہٰذا اگر ہم نیکی کا اعلیٰ مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنا وقت، اپنا مال ،اپنی صلاحیتیں اور اپنی توانائیاں اپنے رفقاء کے لیے خرچ کرنی چاہئیں۔ تاکہ ان کے دنیاوی مسائل بھی حل ہوں اور وہ اُخروی کامیابی بھی حاصل کرلیں۔
نبی اکرم ﷺ نے ایثار کی عملی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: ((لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّىٰ يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ)) ’’تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘(بخاری و مسلم)
یہ حدیث ایثار کا ایک بنیادی اصول بیان کرتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کی خوشی، ترقی اور بھلائی کو اپنی خوشی سمجھیں، کبھی کسی دوسرے پر حسد نہ کریں۔
آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا:
((مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ، مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى )) (مسلم)’’مومنوں کی مثال آپس میں محبت، رحم دلی اور شفقت کرنے میں ایک جسم کی طرح ہے، جب اس کا کوئی ایک عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم بے خوابی اور بخار کے ساتھ اُس کا ساتھ دیتا ہے۔‘‘
ہمیں اس حدیث پر غور کرنا چاہیے کہ کیا ہم اپنے ساتھیوں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے ہیں؟ کیا کسی رفیق کی مشکل میں ہم بےچین ہو جاتے ہیں؟ یہی دراصل ایثار کی روح ہے۔
ہجرتِ مدینہ کے بعد نبی اکرم ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ (مواخات )قائم فرمایا۔ انصارِ مدینہ نے اپنے مہاجر بھائیوں کو اپنے گھروں میں ٹھہرایا، اپنی زمینیں، اپنے باغات، اپنےمال اور اپنے مکان آدھے آدھے تقسیم کر لیے۔
حضرت سعد بن ربیع ؓ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ سے کہا: ’’میرے پاس دو باغ ہیں، ایک آپ لے لیں، اور دو بیویاں ہیں، میں ایک کو طلاق دے دیتا ہوں، اس سے آپ نکاح کرلیں۔ ‘‘ یہ وہ ایثار تھا جس کی اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں تعریف فرمائی ہے۔
جنگ ِیمامہ میں ایک صحابیؓ شدید زخمی اور پیاسے تھے۔ اُنہوں نے پانی کے لیے آواز لگائی۔ ایک دوسرے صحابیؓ پانی لے کر آئے۔ انہوں نے پانی پینا چاہا ہی تھا کہ ایک اور زخمی صحابیؓ نے پانی مانگا، اُنہوں نے پانی خود پینے کے بجائے اُسے دے دیا۔ پھر تیسرے نے آواز دی، دوسرے صحابیؓ نے پانی اُن کی طرف بھیج دیا ۔ وہ پانی ان کے پاس لے کر گئے ہی تھے کہ انہوں نے جان اللہ کے سپرد کردی۔پانی واپس پہلے صحابیؓ کے پاس لایا گیا ۔ اتنی دیر میں وہ بھی شہید ہوچکے تھے۔ وہ دوسرے صحابی ؓکی طرف پلٹے وہ بھی شہید ہوچکے تھے۔ اس طرح تینوں صحابی ؓ ایک دوسرے کے لیےایثار کرتے ہوئے شہید ہوگئے ۔
جب آیت لَن تَنَالُوا الْبِرَّ نازل ہوئی تو حضرت ابو طلحہ ؓ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! میرا سب سے محبوب مال ’’بیرحاء‘‘ کا باغ ہے، میں اُسے اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ نفع بخش مال ہے۔ یہ قربانی اس لیے عظیم تھی کہ انہوں نے اپنی سب سے پسندیدہ چیز راہِ خدا میں دے دی۔
ہم رفقاء تنظیم اسلامی درج ذیل طریقوں سے ایثار کاعملی نمونہ پیش کر سکتے ہیں۔
1۔ وقت کا ایثار:
آج کے دور میں وقت سب سے قیمتی دولت ہے۔ ایک رفیق کا سب سے بڑا ایثار یہ ہے کہ وہ اپنا وقت تنظیم کے کاموں کے لیے دے۔ جب کوئی ساتھی مشکل میں ہو تو اپنے کام چھوڑ کر اُس کی مدد کرے۔ نئے ساتھیوں کی تربیت اور رہنمائی کرے۔ اجتماعات اور دینی پروگراموں میں وقت پر پہنچے اور انتظامات میں ہاتھ بٹائے۔
2۔ مال کا ایثار:
کوئی رفیق تنگ دستی کا شکار ہو تو اُس کی حتی الامکان مدد کی جائے تنظیم کے اجتماعی منصوبوں میں دل کھول کر حصّہ ڈالے۔ یاد رہے کہ ہم جو مال بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُسے کئی گنا کر کے واپس لوٹا دیتا ہے۔ تنظیم کے کاموں میں مالی تعاون بھی ایثار کی ایک اہم صورت ہے۔
3۔ صلاحیتوں کا ایثار:
اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو کسی نہ کسی صلاحیت سے نوازا ہے۔ کوئی لکھنے میں ماہر ہے کوئی بولنے میں ،کوئی منصوبہ بندی میں ماہر ہے تو کوئی کسی ٹیکنالوجی میں۔ جب کہ کوئی شخص جسمانی قوت کا حامل ہے۔ گویا کہ اس حوالہ سے ہر شخص جماعت کے لیے ایثار کرسکتا ہے۔ جو رفیق خود اپنی محنت سے سیکھتا ہے اور دوسروں کوسکھاتا ہے ، وہ بھی ایثار کا عملی نمونہ ہے۔
4۔ انا کا ایثار:
تنظیم میں سب سے اہم قربانی اپنی ذاتی انا کی قربانی ہے، جب ہمیں کسی معاملہ میں اختلاف ہو تو ہم اپنی رائے پر ہٹ دھرمی نہ دکھائیں۔
مشاورت میں اپنی رائے دیانت داری اور اخلاص کے ساتھ دیں اور(معروف کے دائرہ میں) امیر کے ہر فیصلہ کو تسلیم کرلیں۔ خواہ ہماری ذاتی رائے مختلف ہو۔ دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنا اور نظر انداز کرنا بھی ایثار کی اعلیٰ صورت ہے۔
ایثار و قربانی وہ طاقت ہے جو ایک جماعت کو ناقابل شکست بناتی ہے۔ جب ہم اپنی ذات سے اوپر اُٹھ کر دوسروں کے لیے جینا شروع کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت بھی ہمارے شامل حال ہوجاتی ہے۔ صحابہ کرام ؓ نے ایثار کی بدولت دنیا کو فتح کیا۔ چونکہ وہ قلبی محبت اور ایثار میں ایک دوسرے سے آگے رہتے تھے، اسی لیے وہ ایک بہت بڑی طاقت بن گئے ۔
آج ہمیں بھی تنظیم اسلامی کو اسی بنیاد پر کھڑا کرنا ہے۔ آج ہی ہم میں سے ہر شخص یہ عہد کرے کہ وہ اپنے ساتھیوں اور جملہ مسلمانوں کی فلاح کے لیے اپنا وقت ، مال اور صلاحیتیں خرچ کرے گا۔ اپنے ساتھیوں کی عزت کرے گا اور اپنی انا کو ختم کرے گا۔
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حقیقی ایثار و قربانی کی توفیق عطا فرمائے، ہماری تنظیم کو اُن اوصاف سے آراستہ فرمائے جن کا ذکر قرآن مجید نے انصارِ مدینہ کے ضمن میں فرمایا ہے اور ہمیں دنیا اور آخرت میں فوز و فلاح سے نوازے ۔ آمین!
{وَمَنْ یُّـوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(9)} (الحشر)’’اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچا لیا گیا، وہی کامیاب ہیں۔‘‘