سانحۂ کربلا
ڈاکٹر اسرار احمدؒ
حضرت ذوالنورین ؓ کی مظلومانہ شہادت سے لے کر کربلا کے سانحۂ فاجعہ تک مسلمانوں کی آپس میں جومسلح آویزش رہی ہے‘ اِس میں درپردہ اُن سبائیوں ہی کا ہاتھ تھا۔ مستند تواریخ اس حقیقت پر شاہد ہیں‘ البتہ ان کونگاہِ حقیقت بین اور انصاف پسندی کے ساتھ پڑھنا ہو گا۔
[سورۃ البقرہ کی آیات 152تا 157کی تلاوت اور ادعیۂ مسنونہ کے بعد ]
10 محرم الحرام ’’یومِ عاشوراء‘‘ کہلاتا ہے۔ یقیناً یہ بات آپ کے علم میں ہو گی کہ10 محرم الحرام سن61 ہجری کو ایک نہایت افسوس ناک حادثہ دشتِ کربلا میں پیش آیا تھا‘ جس میں سبطِ رسولؐ سیدنا حضرت حسین ابن علی i اور آپ ؓکے خانوادے کے اکثر افراد نیز آپؓ کے اعوان و انصار کی کثیر تعداد نے جامِ شہادت نوش فرمایا تھا۔ اس حادثہ کے متعلق یہ بات اچھی طرح سمجھ لی جانی چاہیے کہ یہ اچانک ظہور پذیر ہونے والا حادثہ نہیں تھا بلکہ درحقیقت اسی سبائی سازش کا ایک مظہر تھا جو پورے پچیس سال قبل اس سے بھی کہیں زیادہ افسوس ناک حادثے کو جنم دے چکی تھی‘ یعنی نبی اکرمﷺ کے دوہرے داماد اور تیسرے خلیفۂ راشد حضرت عثمان ذوالنورین ؓ کی مظلومانہ شہادت۔
جب نبی اکرم:ﷺ نے تاریخ کا عظیم ترین معجزہ دنیا کودکھادیا یعنی {جَآئَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ ط} کا نقشہ بالفعل قافلۂ انسانیت کو چشمِ سر سے دیکھنے کا موقع فراہم فرما دیا اور ایک وسیع و عریض خطۂ زمین پر حق کو بالفعل قائم و نافذ فرما کر رہتی دنیا تک کے لیے ایک کامل نمونہ پیش فرما دیاتو حق غالب اور باطل سرنگوں ہو گیا۔لیکن باطل نے انقلابِ محمدی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے آخری مرحلے میں وہی روش اختیار کی کہ وقتی طور پر شکست تسلیم کر کے وہ اس انتظار میں رہا کہ موقع آئے تو میں وار کروں اور کاری وار کروں۔ چنانچہ آنحضورﷺ کے انتقال کے فوراً بعد فتنوں کا ہجوم اُٹھ کھڑا ہوا۔ کئی کاذب مدعیانِ نبوت میدان میں آگئے اور ان کے ساتھ کافی جمعیت ہو گئی۔ پھر مانعین و منکرینِ زکوٰۃ سے سابقہ پیش آیا اور اہلِ ایمان کو بیک وقت ایسے ایسے عظیم فتنوں سے نبرد آزما ہونا پڑا کہ وقتی طور پر تو محسوس ہوتا تھا کہ حق کا چراغ اب بجھا کہ بجھا! یہ درحقیقت وہ انقلاب دشمن قوتیں (Counter- Revolutionary Forces)تھیں جن سے عہدہ برآ ہونے کے لیے واقعتاً صدیق ہی نہیں بلکہ صدیق اکبرؓ کی شخصیت درکار تھی۔ صدیق دراصل نبی کا عکس کامل ہوتا ہے۔چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ثابت کر دیا کہ جس انقلاب کی تکمیل نبی اکرمﷺ نے بنفس نفیس فرمائی تھی، اس کے خلاف آپؐ ‘کی وفات کے بعد جو ردّعمل ظاہر ہوا‘اس کی سرکوبی کرنے کی پوری صلاحیت اور عزیمت اور آہنی قوتِ ارادی ان کے نحیف و نزار جسم میں موجود تھی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے نبی اکرمﷺ کے انقلاب کو مستحکم (Consolidate) کیا اورزمامِ کار حضرت عمر فاروق ؓکے حوالے کر کے وہ بھی اپنے مالک حقیقی کی طرف مراجعت فرماگئے۔
حضرت عمر فاروق ؓکے دورِ خلافت میں انقلابِ محمدیcکے زیرِ نگیں عراق و شام و فارس (ایران) کے پورے کے پورے ملک اور شمالی افریقہ کا مصر سے مراکش تک کا وسیع علاقہ آ گیا اور اس پر اسلام کا جھنڈا لہرانے لگا اور اللہ کا دین غالب و نافذ ہو گیا۔ اس کے ردّعمل میں مخالفانہ تحریکیں (Reactionary Movements) اُٹھ کھڑی ہوئیں! چنانچہ باطل نے پہلا وار کیا حضرت عمر فاروق ؓکی ذات پر۔باطل پرست یہ سمجھتے تھے کہ شاید یہ پوری عمارت اسی ایک ستون پر کھڑی ہے‘ اس کو گرا دو توعمارت زمین بوس ہو جائے گی۔ الحمد للہ کہ اُن کی توقع غلط ثابت ہوئی اور عمارت برقرار رہی۔ یہ خالص اہلِ فارس کی سازش تھی۔ ابولؤلو ٔفیروز پارسی غلام اور اس کی پشت پر ہرمز ان اہلِ فارس کا ایک جرنیل تھا۔
اس سازش کی ناکامی کے بعد جو دوسرا وار ہوا ‘وہ بہت کاری وارتھا۔ اس میں یہود کی عیاری اور کیادی شامل تھی۔ ان کا سازشی ذہن اور اس میں مہارت ضرب المثل بن چکی ہے۔ عبد اللہ بن سباء یمن کا ایک یہودی اُٹھا‘ اسلام کا لبادہ اوڑھا، مدینہ منورہ میں آ کر قیام کیا اور نئے نئے شگوفے چھوڑنے شروع کر دیئے۔ کہیں محبت ِآلِ رسولؐ کے پردے میں حضرت عثمان ؓکی خلافت کے متعلق وسوسہ اندازی کی اور حضرت علی ؓکے استحقاقِ خلافت کا پروپیگنڈا کیا۔اُس نے کہا کہ ہر نبی ؑ کا ایک وصی ہوتا ہے اور وہی خلافت کا حق دار ہوتا ہے‘ تو اصل میں حضورﷺ کے وصی حضرت علی ؓہیںلہٰذا خلافت کے حق دار وہ ہیں۔ ان کی بجائے جو بھی مسند ِخلافت پر فائز ہوا یا اب ہے ‘ وہ غاصب ہے۔ کہیں حضرت علی ؓکی الوہیت کے عقیدے کا پرچار کیا جس سے اسلام کی جڑ’’ توحید‘‘ پر کاری ضرب لگتی ہے۔ ایرانی نو مسلم جن کی گھٹی میں نسلاً بعد نسلٍ شاہ پرستی اور Hero Worshipپڑی ہوئی تھی اور جو نسب کی بنیاد پر اقتدار کی منتقلی کے خوگر تھے ‘ ان پر اس کا کتنا گہرا اثر ہوا ہوگا!
ان باتوں نے سادہ لوح لوگوں کے ذہنوں اور دلوں میں گھر کرنا شروع کر دیا۔ یہ شخص مدینہ سے بصرہ گیا‘ وہاں بھی اُس نے اپنا ایک مرکز قائم کیا۔ پھر کوفہ گیا‘ وہاں اس نے اپنا ایک مرکز قائم کیا۔ دمشق جا کر وہاں کوشش کی لیکن وہاں دال نہ گلی۔پھر مصر گیا ‘وہاں اپنے ہم خیالوں کی ایک جماعت پیدا کی ۔ یوں ہر طرف اُس نے ایک فتنہ و فساد کی فضا پیدا کر دی اور حضرت عثمان ؓکے دورِ خلافت کے آخری دو سال اس فتنہ و فساد کی نذر ہو گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امامِ مظلوم حضرت عثمان ؓکی شہادت ہوئی جو تاریخ انسانی کی عظیم ترین مظلومانہ شہادت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ وہ اس وقت عظیم ترین مملکت کے فرماں روا تھے‘ لاکھوں کی تعداد میں فوجیں موجود تھیں جو اُن کے اشارے پر کٹ مرنے کے لیے تیار تھیں۔ جب مٹھی بھر باغیوں نے اس شہید ِمظلوم ‘کامحاصرہ کر رکھا تھا تو مختلف صوبوں کے گورنروں کی طرف سے استدعا آ رہی تھی کہ ہم کو اجازت دیجئے کہ ہم فوجیں لے کر حاضر ہو جائیں اور ان باغیوں کی سرکوبی کریں‘ لیکن وہ امامِ وقت یہ عزم کئے ہوئے تھے کہ میں اپنی جان کی حفاظت و مدافعت میں کسی کلمہ گو کا خون بہانے کی اجازت نہیں دوں گا۔ حضرت حسن‘ حضرت حسین‘ حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ دروازے پر پہرے دار تھے لیکن باغی پیچھے سے دیوار پھاند کر گئے اور اس ہستی کو شہید کر دیا جس کو ذوالنورین کا لقب حاصل تھا اور جس سے نبی اکرم‘ﷺ راضی تھے اور جس کے حق میں دعا فرمایا کرتے تھے کہ ’’اے اللہ! میں عثمانؓ سے راضی ہوں‘تُو بھی اُس سے راضی رہیو۔‘‘
حضرت علیؓ کے عہد خلافت کے پورے پونے پانچ برس باہم خانہ جنگی میں گزرے۔ اس بات کو ذہن میں رکھئے کہ اِس سارے فتنے کی آگ بھڑکانے والے عبد اللہ بن سبا کے حواری خوارج تھے، اور انہی میں سے ایک نےبعد میں حضرت علیؓ کو شہید کر دیا۔ حضرت علی ؓ کی شہادت کے بعد کوفہ میں حضرت حسن ؓکے ہاتھ پر بیعت ِ خلافت ہوئی۔ تاہم آنجنابؓ نے حضرت امیر معاویہ سے صلح کر لی۔اس طرح تقریباً پانچ سال کے اختلاف‘ افتراق ‘ انتشار اور باہمی خانہ جنگی کا دروازہ بند ہوگیا۔ اب پورا عالمِ اسلام ایک وحدت بن گیا۔ واضح رہے کہ اس کے بعد حضرت معاویہؓ نے بیعتِ خلافت لی۔اس صلح کے واقعہ پر حضرت حسنؓ نے ان الفاظ میں تبصرہ فرمایا کہ ’’اگر خلافت ان کا یعنی حضر ت معاویہؓ ‘کا حق تھی تو ان تک پہنچ گئی اور اگر میرا حق تھی تو میں نے بھی اُن کوسونپ دی۔ جھگڑا ختم ہوا۔‘‘ یہ وہ بات تھی جس کی پیشین گوئی آنحضرت‘ﷺ نے فرمائی تھی کہ میرے اس بیٹے یعنی حضرت حسنؓ کے ذریعے اللہ تعالیٰ ایک وقت میں مسلمانوں کے دو گروہوں میں مصالحت کرائے گا۔ یہ خصوصی مقام اور رتبہ ہے جناب حسن ؓکا…ع ’’ یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا!‘‘ لیکن سازشی سبائی اس صورتِ حال سے سخت مشتعل تھے۔ انہوں نے حضرت حسن ؓ پر طعن کیا‘ لیکن اللہ تعالیٰ اس اُمت کی طرف سے قیامت تک حضرت حسن ؓکو جزائے خیر عطا فرمائے کہ اُن کے اِس ایثار کی بدولت وہ رخنہ بند ہو گیا اور وہ دراڑ پُر ہو گئی جو عالمِ اسلام میں اس آپس کے خلفشار کی وجہ سے‘پڑگئی تھی۔
حضرت معاویہؓ کے عہد خلافت کے یہ بیس سال امن کے سال ہیں۔ باہمی خانہ جنگی ختم ہو گئی۔ ع ’’ہوتا ہے جادئہ پیما پھر کارواں ہمارا‘‘ کی کیفیت پیدا ہوئی اور دعوت و تبلیغ اور جہاد و قتال کے عمل کا احیاء ہوا۔ توسیع از سر نو شروع ہوئی۔ فتوحات کا دائرہ وسیع ہوا۔ یہ بیس سالہ دَور خلافتِ راشدہ کے بعد اُمت کی تاریخ میں جتنے بھی ادوار آئے ہیں‘ ان میں سب سے افضل اور بہتر دور ہے۔ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ سربراہ ِ حکومت ایک صحابیؓ ہیں۔ان کے بعد معاملہ آتا ہے حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ کا لیکن وہ صحابی نہیں ہیں‘ تابعی ہیں۔ ع ’’گر حفظ ِمراتب نہ کنی زندیقی‘‘۔ہم کسی غیر صحابی کو صحابی کے ہم پلہ اور ہم مرتبہ سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اہلِ سنّت کا مجمع علیہ عقیدہ ہے کہ ادنیٰ سے ادنیٰ صحابیؓ بھی اُمت کے بڑے سے بڑے ولی سے افضل ہے۔
اس کے بعد آتا ہے امیر یزید کی بحیثیت ولی عہد نامزدگی اور پھر ان کے دورِ حکومت میں سانحۂ کربلا کا واقعہ جو دردناک بھی ہے اور افسوس ناک بھی اور جس نے بلاشک و شبہ تاریخ اسلام پر بہت ہی ناخوشگوار اثرات چھوڑے ہیں۔
حضرت امیر معاویہؓ کو حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے مشورہ دیا (جو مسلمہ طور پر ایک نہایت ذہین و فہیم‘ مدبر اور دُور رَس نگاہ رکھنے والے صحابی مانے جاتے ہیں) کہ ’’دیکھئے مسلمانوں میں آپس میں جو کشت و خون ہوا اور پانچ برس کا جو عرصہ آپس کی لڑائی جھگڑے میں گزرا‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے بعد پھر وہی حالات پیدا ہو جائیں۔ لہٰذا اپنی جانشینی کا مسئلہ اپنی زندگی ہی میں طے کر کے جایئے‘‘۔ مغیرہ بن شعبہؓ اصحابِ شجرہ میں سے ہیں۔ پھر حضرت علیؓ کے پورے عہد حکومت میں وہ حضرت علیؓ کے بڑے حامیوں (Supporters) میں رہے اور ہر مرحلے میں انہوں نے حضرت علی ؓکا ساتھ دیا۔لیکن وہ اُمّت کے حالات کو دیکھ رہے تھے۔ آپس کی خانہ جنگی کا انہیں تلخ اور درد ناک تجربہ ہوا تھا۔ حالات میں بہت کچھ تبدیلی آ چکی ہے، یہ60 ہجری کے لگ بھگ کا زمانہ ہے۔ آنحضور‘ﷺ کی وفات پر پورے پچاس برس گزر چکے ہیں۔ کبار صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی عظیم اکثریت اللہ کو پیار ی ہو چکی ہے۔ چند صغارِ صحابہؓ: کو چھوڑ کر تقریباً ننانوے فی صد لوگ تو بعد کے ہیں ۔پھر وہ جوش و جذبۂ ایمانی بھی پچاس سال کے بعد اس درجے کا نہ رہا تھا جو خلافت ِراشدہ کے ابتدائی پچیس سال تک نظر آتا ہے۔ لہٰذا اِن حالات میں حضرت مغیرہ ؓکی سمجھ میں مصالح اُمّت کا یہی تقاضا آیا کہ امیر معاویہؓ اپنا کوئی جانشین نامزد فرما دیں‘ چونکہ اس وقت فی الواقع بحیثیت مجموعی اُمّت کے حالات اس جمہوری اور شورائی مزاج کے متحمل نہیں رہے ہیں جو محمد رسول اللہ‘ﷺ نے پیدا فرمایا تھا۔لہٰذا حالات کے پیش نظر ایک سیڑھی نیچے اتر کر فیصلہ کرنا چاہئے۔ چنانچہ حضرت مغیرہؓنے دلائل کے ساتھ حضرت معاویہؓ سے اصرار کیا کہ وہ اپنا جانشین نامزد کریں اور اس کی بیعت ِولی عہدی لیں۔ پھر ان ہی نے جانشینی کے لیے یزید کا نام تجویز کیا۔
حضرت عبد اللہ بن زبیر‘ عبد اللہ بن عمر اور عبد اللہ بن عباس ،حضرت حسین ابن علی اور عبد الرحمن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے یزید کی بیعت ِولی عہدی سے انکار کیا ۔ ان حضرات کے علاوہ اُمّت کی عظیم اکثریت نے بیعت کر لی۔ ہم ان سب کو نیک نیت سمجھتے ہیں ۔جو بھی صحابہ کرام ث اُس وقت موجود تھے‘ اُن میں سے جنہوں نے ولی عہدی کی بیعت کی اور جنہوں نے انکار کیا وہ سب کے سب نیک نیت تھے۔ سب کے پیش ِنظر اُمّت کی مصلحت تھی۔
جب ولی عہدی کی بیعت کا مسئلہ مدینہ منورہ میں پیش ہوا تھا تو حضرت عبداللہ بن زبیرؓ وہاں سے مکہ مکرمہ چلے گئے تھے۔ حضرت حسین ؓ نے بھی ایسا ہی کیا۔ چند حضرات کی رائے یہ تھی کہ مکہ مکرمہ ہی کو Strong-Holdاور اصل Base بنایا جائے اور اس ولی عہدی کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے اپنی قوتوں کو مجتمع کیا جائے۔ ابھی اس سلسلہ میں کوئی مؤثر کام شروع نہیں ہو سکا تھا کہ حضرت امیر معاویہ ؓ کا انتقال ہو گیا اور بحیثیت ولی عہد حکومت یزید کے ہاتھ میں آ گئی‘ جس کے بعد کوفہ والوں نے خطوط بھیج بھیج کرحضرت حسینؓ کو اپنی وفاداری اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کر کے جدوجہد اور اقدام کا یقین دلایا۔ یہ بنو تمیم کے وہ جنگجو لوگ تھے، جنہیں جنگ یمامہ کے بعد یہاں آباد کیا گیا تھا۔آنجناب نے تحقیق حال کے لیے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓ کو کوفہ بھیجا۔ ان کی طرف سے بھی اطلاعات یہی موصول ہوئیں کہ اہل ِکوفہ بدل وجان ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔ حضرت حسینؓ نے کوفہ کے سفر کا ارادہ کر لیا اور کوچ کی تیاریاں شروع کر دیں۔
آیئے! حضرت حسینؓکے موقف کو سمجھنے کی کوشش کریں! اہل ِسنّت اِس معاملے میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ پوری نیک نیتی سے آنجنابؓ یہ سمجھتے تھے کہ اسلام کے شورائی اور جمہوری مزاج کو بدلا جا رہا ہے۔ حالات کے رُخ کو اگر ہم نے تبدیل نہ کیا تو وہ خالص اسلام جو حضرت محمد‘ﷺ لے کر آئے تھے اور وہ کامل نظام جو حضور‘ﷺ نے قائم فرمایا تھا‘ اس میں کجی کی بنیاد پڑ جائے گی‘ لہٰذا اسے ہر قیمت پر روکنا ضروری ہے۔ یہ رائے اُن کی تھی اور پوری نیک نیتی سے تھی۔ یہ بھی ذہن میں رکھئے کہ کوفہ صرف ایک شہر ہی نہیں تھا بلکہ سیاسی اور فوجی حیثیت سے اس کی بھی بڑی اہمیت تھی۔ یہ سب سے بڑی چھائونی تھی جو حضرت عمر فاروق ؓکے دور میں قائم کی گئی تھی‘اس لیے کہ یہ وہ مقام ہے جس سے اُس شاہراہ کا کنٹرول ہوتا ہے جو ایران اور شام کی طرف جاتی ہے۔ لہٰذا حضرت حسینؓ یہ رائے رکھتے تھے کہ اگر کوفہ کی عظیم اکثریت ان کا ساتھ دینے کے لیے آمادہ ہے‘ جیسا کہ ان کے خطوط سے ظاہر ہوتا ہے تو اس کے ذریعے اسلامی نظام میں لائی جا رہی تبدیلی کا ازالہ کیا جا سکتا ہے اور اس کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔ لیکن اس رائے سے اختلاف کر رہے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس‘ حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم اجمعین۔ یہ اختلاف بھی معاذ اللہ بدنیتی پر مبنی نہیں تھا۔ حضرت حسین ؓبھی اور یہ تینوں عبادلہ بھی نیک نیت تھے۔ ان تینوں حضرات نے لاکھ سمجھایا کہ آپ کوفہ والوں پر ہر گز اعتماد نہ کیجئے۔ یہ لوگ قطعی بھروسے کے لائق نہیں ہیں۔ یہ لوگ جو کچھ آپ کے والد ِبزرگوار کے ساتھ کرتے رہے ہیں‘ اس کو یاد کیجئے۔ جو کچھ آپ کے برادرِ محترم کے ساتھ کر چکے ہیں ‘اس کو پیش نظر رکھئے۔ یہ عین ممکن ہے کہ ان کے دل آپ کے ساتھ ہوں‘ لیکن ان کی تلواریں آپؓ کی حمایت میں نہیں اٹھیں گی بلکہ معمولی خوف یا دبائو یا لالچ سے آپؓ کے خلاف اُٹھ جائیں گی۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ دونوں نے بہت سمجھایا کہ مکہ سے نہ نکلئے۔ یا کم از کم ان عورتوں اور بچوں کو مکہ مکرمہ ہی میں چھوڑ جائیے۔لیکن نہیں‘ دوسری جانب عزیمت کا ایک کوہِ گراں ہے‘ پیکر ِشجاعت ہے‘ سراپا استقامت ہے۔ نیک نیتی سے جو فیصلہ کیا ہے‘ اس پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد راستے میں جب اطلاع ملی کہ حضرت مسلم بن عقیلؓ جو ایلچی اور تحقیق کنندہ کی حیثیت سے کوفہ گئے تھے ‘وہاں شہید کر دیئے گئے اور کوفہ والوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی سب کے سب نے گورنرِ کوفہ کے سامنے حکومت ِ وقت کے ساتھ وفاداری کا عہد استوار کر لیا ہے تو حضرت حسینؓ نے سوچنا شروع کیا کہ سفر جاری رکھا جائے یا مکہ واپسی ہو۔
لیکن ذہن میں رکھئے کہ ہر قوم کا ایک مزاج ہوتا ہے جو انسان کی شخصیت کا جزو لاینفک ہوتا ہے۔ عرب کا مزاج یہ تھا کہ خون کا بدلہ لیا جائے خواہ اس میں خود اپنی جان سے بھی کیوں نہ ہاتھ دھو لینے پڑیں۔ چنانچہ حضرت مسلمؓ کے عزیز رشتہ دار کھڑے ہو گئے کہ اب ہم ان کے خون کا بدلہ لیے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔ حضرتِ حسین ؓ کی شرافت اور مروّت کا تقاضا تھا کہ وہ ان لوگوں کا ساتھ نہ چھوڑیں جو ان کے مشن میں ان کا ساتھ دینے کے لیے نکلے تھے۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ حضرت مسلم بن عقیلؓ کے خونِ ناحق کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کرنے والوں کا ساتھ یہ پیکرِشرافت و مروّت نہ دیتا! لہٰذا سفر جاری رہا۔ اسی دوران حضرت عبداللہ بن جعفرطیار ؓ جو چچا زاد بھائی ہیں‘ ان کے بیٹے حضرت عون اور حضرت محمد ان کا پیغام لے کر آئے ہیں کہ ’’خدا کے لیے اُدھر مت جائو‘‘۔ لیکن فیصلہ اٹل ہے۔ ان دونوں کو بھی ساتھ لیتے ہیں اور سفر جاری رہتا ہے حتی کہ قافلہ دشت ِ کربلا میں پہنچ گیا۔ اُدھر کوفہ سے گورنر ابن زیاد کا لشکر آ گیا۔ یہ لشکر ایک ہزار افراد پر مشتمل تھا اور اس کو صرف ایک حکم تھا کہ وہ حضرت حسینؓکے سامنے یہ دو صورتیں پیش کرے کہ آپ نہ کوفہ کی طرف جا سکتے ہیں نہ مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ کی طرف مراجعت کر سکتے ہیں‘ ان دونوں سمتوں کے علاوہ جدھر آپ جانا چاہیں اس کی اجازت ہے۔ یہ تیسرا راستہ دمشق کا ہی ہو سکتا تھا ! لیکن حضرت حسین ؓ نے اسے اختیار نہ کیا بلکہ آپ وہیں ڈٹے رہے۔ اب عمرو بن سعد کی قیادت میں مزید چار ہزار کا لشکر کوفہ پہنچ گیا۔ اور یہ عمرو بن سعد کون تھے؟ افسوس کہ ان کے نام کو گالی بنا دیا گیا ہے۔ یہ تھے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فاتحِ ایران اور یکے از عشرہ مبشرہ کے بیٹے جن کی حضرتِ حسینؓ کے ساتھ قرابت داری بھی ہے۔ وہ بھی مصالحت کی انتہائی کوشش کرتے ہیں اور گفت و شنید جاری رہتی ہے۔ اب حضرت حسینؓ کی طرف سے تین صورتیں پیش ہوتی ہیں۔ یعنی یہ کہ: ’’یا مجھے مکہ مکرمہ واپس جانے دو ‘یا مجھے اسلامی سرحدوں کی طرف جانے دو تا کہ میں کفار کے خلاف جہا دو قتال میں اپنی زندگی گزاردوں ‘یا میرا راستہ چھوڑدو۔ میں دِمشق چلا جائوں۔ میں یزید سے اپنا معاملہ خود طے کرلوں گا‘‘۔ لیکن اب گھیرا تنگ ہو گیا ہے اور صورتِ حال یکسر بدل گئی ہے۔یہ بھی خوب جان لیجئے کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے!
حضرت حسینؓ نے میدانِ کربلا میں ابن زیاد کے بھیجے ہوئے لشکروں کے سامنے جو خطبات دیئے اس میں انہوں نے بھانڈا پھوڑ دیا کہ میرے پاس کوفیوں کے خطوط موجود ہیں جنہوں نے مجھے یہاں آنے کی دعوت دی تھی۔ انہوں نے اس کوفی فوج کے بہت سے سرداروں کے نام لے لے کر فرمایا ’’اے فلاں ابن فلاں! یہ تمہارے خط ہیں کہ نہیں؟ جن میں تم نے مجھ سے بیعت کرنے کے لیے مجھے کوفہ آنے کی دعوت دی تھی۔‘‘ اس پر وہ لوگ برأ ت کرنے لگے کہ نہیں ہم نے یہ خطوط نہیں بھیجے۔ مفاہمت کی صورت میں جب یہ خطوط سامنے آتے تو ان کا حشر کیا ہوتا‘ اس کو اچھی طرح آج بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان سرداروں اور ان کے حواریوں نے مصالحت و مفاہمت کا سلسلہ جاری رہنے نہیں دیا اور عمرو بن سعد کو مجبور کر دیا کہ وہ حضرت حسینؓ کے سامنے یہ شرط پیش کرے کہ یا تو غیر مشروط طور پرSurrender کیجئے‘ ورنہ جنگ کیجئے۔ یہ سازشی لوگ حضرتِ حسینؓکے مزاج سے اتنے ضرور واقف تھے کہ ان کی غیرت و حمیت غیر مشروط طور پر حوالگی کے لیے تیار نہیں ہو گی اور فی الواقع ہوا بھی یہی۔ لہٰذا انہوں نے غیرمشروط Surrender کرنے سے انکار کر دیا اور مسلح تصادم ہو کر رہا‘ جس کے نتیجے میں سانحۂ کربلا واقع ہوا۔ دادِ شجاعت دیتے ہوئے آپ کے ساتھی شہید ہوئے۔ آپ کے اعزہ و اقارب نے اپنی جانیں نچھاور کیں اور آپؓ نے بھی تلوار چلاتے ہوئے اور دشمنوں کو قتل کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ اِنا للہ وانااِلیہ راجعون۔
یہ ہے اصل حقیقت اس سانحۂ فاجعہ کی۔ اصل سازشی ذہن کو پہچانئے! حضرت ذوالنورین ؓ کی مظلومانہ شہادت سے لے کر کربلا کے سانحۂ فاجعہ تک مسلمانوں کی آپس میں جو مسلح آویزش رہی ہے‘ اس میں درپردہ ان سبائیوں ہی کا ہاتھ تھا۔
یہ سانحۂ فاجعہ انتہائی افسوس ناک تھا‘ اس سے کون اختلاف کر سکتا ہے! اس نے تاریخ پر جو گہرے اثر ڈالے ہیں‘ وہ اظہر من الشمس ہیں ۔اس کڑوے اور کسیلے پھل کا مزا اُمت ساڑھے چودہ سو سال سے چکھتی چلی آ رہی ہے۔