(خصوصی مضمون) جشنِ فتح یا نظامِ حق؟ - شجاع الدین شیخ

10 /

جشنِ فتح یا نظامِ حق؟

شجاع الدین شیخ

پاکستان کی پوری قوم ہی نہیں ساری دنیا نے یہ دیکھا کہ مئی2025ء میں پاکستان کو عطا ہونے والی غیر معمولی عسکری و سفارتی کامیابی کے بعد اِس سال ’’معرکۂ حق‘‘ کے عنوان سے ملک بھر میں تقریبات منعقد کی گئیں۔ بلاشبہ ایک دشمن قوت کے مقابلے میں کامیابی پر پوری قوم کا خوش ہونا فطری امر ہے۔ قوموں کی تاریخ میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جو اُن کے اعتماد، حوصلے اور اجتماعی شعور کو نئی زندگی عطا کرتے ہیں ۔ پاکستان کے لیے بھی یہ کامیابی ایسا ہی ایک لمحہ تھی۔ پوری قوم نے اِسے اپنی عسکری قوت، سفارتی حکمتِ عملی اور قومی اتحاد کی علامت قرار دیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف اس انداز میں جشن منا لینا ہی کسی فتح کا اصل تقاضا ہوتا ہے؟ کیا مسلمان فتوحات کو محض نعروں، یادگاروں اور تقریبات کے ذریعے یاد کیا کرتے تھے؟ یا اُن کی فتوحات کا کوئی بلند تر مقصد اور پیغام بھی ہوا کرتا تھا؟
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنی تاریخ کے سب سے عظیم الشان فتح یعنی ’’فتح مکہ‘‘ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ نبی اکرم ﷺ جب دس ہزار جاں نثار صحابہ کرام ؓ کے ساتھ فتح کے موقع پر مکہ میں داخل ہوئے تو وہ منظر انسانی تاریخ کی سب سے عظیم فتح کا منظر تھا۔ وہی اہل ِ مکہ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایااور مسلمانوں کو ہجرت پر مجبور کیا، آج آنحضورﷺ کے قدموں میں تھے۔ لیکن اِس عظیم فتح کے موقع پر نہ کوئی تکبر تھا، نہ غرور، نہ انتقامی جذبہ اور نہ ہی طاقت کے نشے میں کوئی جشن۔ حضور اکرم ﷺ کا سر مبارک عاجزی سے اِس قدر جھکا ہوا تھا کہ پیشانی مبارک اونٹنی کے کجاوے سے لگی ہوئی تھی۔ زبان مبارک پر شکرِ الٰہی کے کلمات تھے اور اعلان یہ تھا: ’’آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔‘‘
فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کا اُسوہ عاجزی ،شکراور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے عہد کی تجدید کا اندازتھا۔ اُس فتح کا مقصد صرف مکہ پر قبضہ حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ اللہ کے دین کو غالب کرنا اور انسانیت کو ظلم، جاہلیت اور طاغوتی نظام سے نجات دلانا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ فتح کے بعد سب سے پہلا کام بیت اللہ کو بتوں سے پاک کرنا تھا۔ گویا مسلمان جب فتح حاصل کرتے تھے تو اپنی خواہشات کی تکمیل نہیں بلکہ اللہ کے دین کی سربلندی کو مقدم رکھتے تھے۔آج ہم اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لیں تو احساس ہوتا ہے کہ ہم نے فتوحات کے حقیقی مفہوم کو کہیں کھو دیا ہے۔ آج ہماری تقریبات میں شکر کے بجائے فخر و غرور اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کی خلاف ورزی، جیسے رقص و سُرُود کی محافل منعقد کرنا ،زیادہ نمایاں نظر آتا ہےاور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کے قصیدے پڑھے جاتے ہیں۔ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کی بات کرنے کے بجائے ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو دعوت دیتے ہیں۔ سودی معیشت جوں کی توں قائم ہے، مغربی تہذیب کی یلغار بڑھتی جا رہی ہے، خاندانی نظام کمزور کیا جا رہا ہے اور بے حیائی کو ’’آزادی‘‘ کے نام پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ایسے میں ضروری ہے کہ ہم صرف داخلی حالات ہی نہیں بلکہ عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے منظرنامے کو بھی سمجھیں۔
آج دنیا ایک نئے عالمی تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔ امریکہ اور چین بظاہر ایک دوسرے کے حریف ہیں، لیکن دونوں کی ترجیحات میں مسلم دنیا کہیں نہ کہیں محض ایک مہرے کی حیثیت رکھتی ہے۔ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی بالادستی برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ چین تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعے عالمی قوت بننے کے خواب میں مصروف ہے۔ دونوں طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے لیے مسلم ممالک کے وسائل، جغرافیے اور سیاسی حالات کو استعمال کر رہی ہیں۔امریکہ کی موجودہ پالیسیوں کو دیکھ کر اب یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ واشنگٹن کی اصل وفاداری اسرائیل کے ساتھ ہے۔ غزہ میں ہزاروں معصوم بچوں اور خواتین کی شہادت کے باوجود امریکہ مسلسل اسرائیل کو عسکری اور سیاسی تحفظ فراہم کر رہا ہے۔ مغربی کنارے پر قبضے کے منصوبے، مسجد اقصیٰ کے خلاف بڑھتی ہوئی سازشیں اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کا خواب دراصل اُس صہیونی ایجنڈے کا حصّہ ہیں جس کی تکمیل کے لیے پورا خطہ جنگ کی آگ میں جھونکا جا رہا ہے۔ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور جنگی صورت حال بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ ایک عرصے سے خطے میں ’’امن‘‘ کا راگ الاپتے رہے، لیکن جب ایران نے مستقل جنگ بندی کے لیے اپنی شرائط پیش کیں تو اُنہیں مسترد کر دیا گیا۔ اِس سے واضح ہوگیا کہ امریکہ کا مقصد امن نہیں بلکہ اسرائیل کے مفادات کا تحفظ ہے۔ اسرائیل چاہتا تھا کہ ایران کو مکمل طور پر کمزور اور پسپا کر دیا جائے تاکہ خطے میں اُس کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ لیکن الحمد للہ حالات نے وہ رُخ اختیار نہیں کیا جس کی توقع امریکہ اور اسرائیل کر رہے تھے۔یہاں پاکستان کا کرداراللہ تعالیٰ کی توفیق سے انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔پاکستان نے نہ صرف مسلسل سفارتی سطح پر ثالثی اور کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی بلکہ عالمِ اسلام میں ایک متوازن آواز کے طور پر بھی اپنا کردار ادا کیا۔ اگرچہ عالمی طاقتوں نے پاکستان کی کوششوں کو کھل کر تسلیم نہیں کیا، لیکن حقیقت یہی ہے کہ ایران کے معاملے میں مکمل جنگی تباہی کو روکنے میں پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی اور عسکری وقار نے اہم کردار ادا کیا۔ امریکہ اور اسرائیل یہ سمجھ رہے تھے کہ مسلم دنیا حسبِ سابق منتشر اور کمزور رہے گی، لیکن پاکستان کی مضبوط پوزیشن اور عالمِ اسلام میں اُس کے اثر نے اُن کے منصوبوں کو مکمل کامیابی حاصل نہ ہونے دی۔یہ لمحہ پاکستان کے لیے محض فخر کا نہیں بلکہ شکر گزاری اور ایک عظیم ذِمّہ داری کے احساس کا ہے۔ اگر پاکستان واقعی عالمِ اسلام کی امید بننا چاہتا ہے تو اُسے اپنی بنیادوں کی طرف لوٹنا ہوگا۔ یہ ملک صرف جغرافیے کا نام نہیں بلکہ ایک نظریے کا نام ہے۔ علامہ اقبالؒ نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا وہ مغرب کی تہذیبی غلامی میں جکڑا ہوا ملک نہیں بلکہ اسلام کے عادلانہ نظام کا علمبردار تھا۔اور قائد اعظم نے بھی اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ اور خلافت راشدہ سے رہنمااصول لینے کی بات کی تھی ۔
ابھی وقت ہے کہ ہم فتح کے جشن سے آگے بڑھ کرفتح کے مقصد کو سمجھیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت صرف اُن قوموں کو حاصل ہوتی ہے جو اُس کے دین کے ساتھ مخلص ہوں، جو عدل قائم کریں، جو اپنی معیشت، سیاست اور معاشرت کو قرآن و سنت کے تابع کریں اور جو اپنی کامیابیوں پر تکبر کے بجائے عاجزی اختیار کریں۔
معرکۂ حق کا اصل پیغام یہی ہے کہ مسلمان وقتی فتوحات کے نشے میں گم ہونے کے بجائے اپنی اصل ذِمہ داری کو پہچانیں۔ پاکستان نے اگراپنے اسلامی تشخص کو مضبوط کر لیا، اُمتِ مسلمہ کے اتحاد کا محور بن گیا اور اللہ کے نظام کے نفاذ کی جدوجہد کو اپنا ہدف بنا لیا تو وہ دن دور نہیں جب یہی پاکستان عالمِ اسلام کی حقیقی قیادت کرتے ہوئے طاغوتی قوتوں کے مقابلے میں ایک مضبوط دیوار بن جائے گا۔اِن شاء اللہ!