الہدیٰ
روزِ قیامت چھوٹے سے چھوٹا اور خفیہ سے خفیہ عمل بھی حاضر کیا جائے گا
آیت 16 {یٰـبُنَیَّ اِنَّہَآ اِنْ تَکُ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ} ’’اے میرے بچے! اگر وہ (کوئی اچھا یا برا عمل) رائی کے دانے کے برابر بھی ہو۔‘‘
اپنی جسامت کے اعتبار سے رائی کا دانہ بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ مراد اس سے بہت ہی چھوٹی یا حقیر چیز ہے۔ قرآن مجید میں کسی چھوٹی یا حقیر چیز کا ذکر کرنے کے لیے حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ(رائی کے دانے) کے علاوہ بالعموم فَتِیْلًایعنی کھجور کی گٹھلی کے ساتھ لگے ہوئے دھاگے (النساء:۴۹) اور نَقِیْرًا یعنی کھجور کی گٹھلی کے گڑھے (النساء:۱۲۴) جیسے الفاظ بھی آتے ہیں‘ لیکن رائی کا دانہ اپنی جسامت میں اِن سب سے چھوٹا ہوتا ہے۔
{فَتَکُنْ فِیْ صَخْرَۃٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِہَا اللّٰہُ ط}’’پھر وہ ہو کسی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین کے اندر‘ اُسے اللہ لے آئے گا۔‘‘
انسان اشرف المخلوقات ہے‘ اس کے اعمال چاہے اچھے ہوں یا برے وہ بھی انسان ہی کی طرح اہم ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ انسانی اعمال کو ضائع نہیں ہونے دے گا۔ چنانچہ انسان کا کوئی بھی عمل چاہے وہ کسی پہاڑ کی کھوہ میں وقوع پذیر ہواہو‘ خلاء کی پہنائیوں میں یازمین کے پیٹ کی تاریکیوں میں سر انجام دیا گیا ہو‘ وہ اللہ سے چھپ نہیں سکتا۔
{اِنَّ اللّٰہَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ(16)}’’یقینا اللہ بہت باریک بین‘ ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔‘‘
یہی مضمون سورۃ الزلزال میں اس طرح بیان ہوا ہے:{فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ (7) وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ(8)}
’’تو جو کوئی کرے گاذرّہ برابر بھلائی وہ اُسے دیکھ لے گا‘ اور جو کوئی کرے گا ذرّہ برابر برائی وہ بھی اُس کو دیکھ لے گا۔‘‘
درس حدیث
تین چیزیں قیامت کے دن عرش کے نیچے ہوں گی
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ؓ عَنِ النَّبِيِّﷺ قَالَ:((ثَلَاثَةٌ تَحْتَ الْعَرْشِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْقُرْآنُ يُحَاجُّ الْعِبَادَ لَهُ ظَهْرٌ وَبَطْنٌ، وَالْأَمَانَةُ وَالرَّحِمُ تُنَادِي أَلَا مَنْ وَصَلَنِي وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَنِي قَطَعَهُ اللهُ))(مشکوٰۃ المصابیح، شرح السنہ)
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں، (آپؐنے) فرمایا: ’’تین چیزیں روزِ قیامت عرش کے نیچے ہوں گی، ایک قرآن بندوں کی طرف سے جھگڑا کرے گا، اس کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، اور (دوسری چیز) امانت بھی، جبکہ(تیسری چیز رشتہ) رحم آواز دے گا، سن لو! جس نے مجھے ملایا، اللہ اُسے ملائے اور جس نے مجھے قطع کیا اللہ اُسے قطع کرے۔‘‘