(اداریہ) شہادتِ حسینؓ: اُمّتِ مسلمہ کے لیے دائمی پیغام! - رضا ء الحق

9 /

اداریہ


رضاء الحق


شہادتِ حسینؓ: اُمّتِ مسلمہ کے لیے دائمی پیغام!


تاریخ ِانسانی میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو کسی خاص زمانے تک محدود نہیں رہتے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے حق و باطل کے درمیان امتیاز کا معیار بن جاتے ہیں۔ واقعۂ کربلا بھی انہی عظیم واقعات میں سے ہے۔ اسے اگر محض ایک المناک تاریخی سانحہ، ایک سیاسی اختلاف یا اہلِ بیتِ اطہارؓ کے ساتھ ہونے والے ظلم کے طور پر دیکھا جائے تو اس کے اصل پیغام سے ناواقفیت ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ کربلا اسلام کے اُس ابدی اصول کا عملی اظہار ہے کہ ایک صاحبِ ایمان و عزیمت کے لیے اللہ کے دین کی سربلندی ہر شے سے مقدم ہے، خواہ اس کے لیے جان، مال، اہل و عیال اور دنیا کی ہر متاع ہی کیوں نہ قربان کرنا پڑے۔
اسلام میں شہادت محض میدانِ جنگ میں قتل ہو جانے کا نام نہیں، بلکہ راہِ حق میں اپنی پوری زندگی اللہ کے حوالے کر دینے کا نام ہے۔ قرآنِ حکیم میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان سے ان کی جان و مال خرید لینے کا اعلان فرمایا ہے۔ (التوبہ: 111) گویا مومن اپنی زندگی کا مالک نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا امانت دار ہے۔ جب دینِ حق کو اس کی ضرورت پیش آئے تو وہ کسی تردد کے بغیر اپنا سب کچھ قربان کر دیتا ہے۔ یہی وہ تصور ہے جس نے بدر، اُحد، یرموک، قادسیہ اور کربلا جیسے عظیم واقعات کو جنم دیا۔
قرآن مجید میں بار بار اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ اہلِ ایمان کی آزمائش لازمی ہے۔ فرمایا: ’’کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ صرف یہ کہہ دینے سے چھوڑ دئیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے، اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟‘‘ (العنکبوت: 2) ایمان کی صداقت ہمیشہ آزمائش کی بھٹی میں ثابت ہوتی ہے۔ اسی لیے تاریخِ اسلام میں ہر دور میں ایسے رجالِ حق پیدا ہوئے جنہوں نے باطل کے سامنے سر جھکانے کے بجائے اپنی گردن کٹوانا قبول کیا۔
رسول اکرم ﷺ کے وصال کے بعد خلافتِ راشدہ نے اسلام کے سیاسی اور اجتماعی نظام کو اپنی اصل روح کے ساتھ قائم رکھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ جب خلافت کی جگہ ملوکیت نے لینا شروع کی، اقتدار کا مقصد دین کی خدمت کے بجائے سلطنت کا استحکام بنتا گیا، اور مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں وہ انقلابی روح کمزور ہونے لگی جس نے انہیں دنیا کی امامت عطا کی تھی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب حضرت امام حسینؓ نے محسوس کیا کہ اگر اس تبدیلی کو خاموشی سے قبول کر لیا گیا تو اُمَّت رفتہ رفتہ اس راستے سے ہٹ جائے گی جس پر رسول اللہ ﷺ نے اسے قائم کیا تھا۔
یہاں اس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ حضرت امام حسینؓ کی جدوجہد اقتدار کی کشمکش نہیں تھی۔ اگر مقصد حکومت حاصل کرنا ہوتا تو حالات کا اندازہ کرتے ہوئے وہ کوئی سیاسی مفاہمت بھی اختیار کر سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے جو راستہ چنا، وہ دنیاوی کامیابی کے اعتبار سے نہایت دشوار تھا۔ اس راستے پر چلنے والا پہلے ہی جانتا تھا کہ اس کے سامنے تلواریں ہیں، پیچھے خاندان ہے اور ساتھ چند جان نثار۔ اس کے باوجود اُنہوں نے قدم واپس نہ کھینچا، کیونکہ اُن کے سامنے اقتدار نہیں بلکہ حق کی شہادت تھی۔
کربلا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ظاہری فتح نہیں بلکہ اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا مطالبہ کرتا ہے، جو اُخروی کامیابی اور درجات میں بلندی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ دنیا کی نگاہ میں فتح و شکست کا معیار کچھ اور ہو سکتا ہے، لیکن اللہ کے ہاں اصل کامیابی وفاداری ہے۔ اسی لیے کربلا میں جسم زخمی ہوئے، خیمے جل گئے، حضرت حسینؓ اور اُن کے اہل و عیالؓ نے مصائب برداشت کیے، لیکن اسلام کا ضمیر زندہ ہو گیا۔ اگر حسینؓ مصلحت کوشی اختیار کر لیتے تو شاید وقتی سکون حاصل ہو جاتا، لیکن اُمَّت ہمیشہ کے لیے حق و باطل کے درمیان فرق کرنے کا معیار کھو بیٹھتی۔
آج پوری دنیا پر ایک ایسا عالمی نظام مسلط ہے جس کی بنیاد طاقت، سرمایہ، عسکری برتری اور تہذیبی غلبے پر قائم ہے۔ طاقتور ریاستیں بین الاقوامی قانون کی داعی بھی ہیں اور اس کی سب سے بڑی خلاف ورز بھی۔ انسانی حقوق کے علم بردار بھی وہی ہیں اور کمزور اقوام کے حقوق پامال کرنے والے بھی وہی۔ عدل و انصاف کے پیمانے بھی انہی کے ہاتھ میں ہیں اور ظلم کی تعریف بھی وہی متعین کرتے ہیں۔ یہی وہ دوہرا معیار ہے جس نے دنیا کو ایک نئے اخلاقی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
اس حقیقت کا سب سے المناک مظہر فلسطین کی سرزمین ہے۔ کئی دہائیوں سے فلسطینی عوام اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں، لیکن عالمی ضمیر مسلسل خاموش ہے۔ ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل نے غزہ میں ہزاروں معصوم بچوں، عورتوں اور بے گناہ شہریوں کو شہید کر دیا، بستیاں ملبے کا ڈھیر بن جاتی ہیں، ہسپتال، تعلیمی ادارے اور عبادت گاہیں محفوظ نہیں رہتیں، لیکن عالمی اداروں کے بیانات عملی اقدام میں تبدیل نہیں ہوتے۔ طاقت کا قانون عدل و انصاف کے قانون پر غالب آ جاتا ہے۔
یہ صورت حال صرف فلسطین تک محدود نہیں۔ مسلم دنیا کے مختلف خطے سیاسی عدم استحکام، بیرونی مداخلت، معاشی انحصار اور داخلی انتشار کا شکار ہیں۔ کہیں فرقہ واریت نے اُمَّت کو تقسیم کر رکھا ہے، کہیں نسلی اور قومی تعصبات نے اسلامی اخوت کو کمزور کر دیا ہے، اور کہیں شخصی اقتدار کی کشمکش نے اجتماعی مفاد کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اُمَّت کی تعداد کم و بیش دو ارب سے زیادہ ہونے کے باوجود اُس کا وزن عالمی سیاست میں صفر ہے۔
گزشتہ مہینوں میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے بھی پورے خطے کو غیر یقینی صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔ اگرچہ جنگ بندی کے عارضی 60 روزہ ایم او یوز پر دستخط کے بعد سویٹزرلینڈ میں مذاکراتی عمل کا آغاز ہو چکا ہے کہ اِسے حتمی اور دیرپا جنگ بندی اور قیامِ امن معاہدے کی شکل دی جا سکے لیکن اسرائیل جنگ بندی کے لیے تیار ہی نہیں۔ وہ ’گریٹر اسرائیل‘ کے منصوبے پر عمل پیرا ہے اور لبنان و مغربی کنارے میں اُس کی کارروائیاں جاری ہیں۔ پھر غزہ میں نسل کُشی اور مسجدِاقصیٰ کو (معاذاللہ!) شہید کر کے وہاں تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر کرنے پر تُلا ہوا ہے۔ دوسری طرف مسلم ممالک کے حکمرانوں کی حالتِ زار دیکھئے کہ وہ اُس کے خلاف آواز اُٹھانے کو بھی تیار نہیں کہ اُس کے راستے کی رکاوٹ بنیں۔ گویا مجموعی منظرنامہ یہ بتاتا ہے کہ مسلم دنیا بدستور باہمی اعتماد، مشترکہ حکمتِ عملی اور اجتماعی قیادت سے محروم ہے۔ یہی کمزوری بیرونی قوتوں کو مداخلت اور دباؤ کا موقع فراہم کرتی ہے۔ قرآنِ حکیم نے جس ’’وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا‘‘ کا حکم دیا تھا، اُمَّت اس کی عملی تصویر پیش کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔
تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اُمَّت کے موجودہ بحران کی تمام ذِمّہ داری بیرونی طاقتوں پر ڈال دینا دیانت داری نہیں ہوگی۔ تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے کہ جب کوئی قوم اپنے اخلاقی اور فکری زوال کا شکار ہوتی ہے تو بیرونی دشمن اس کی کمزوری سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ قرآن مجید نے واضح کر دیا کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اُس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی پیدا نہ کرے۔ (الرعد: 11) لہٰذا آج اُمَّتِ مسلمہ کی اصل بیماری بیرونی جارحیت سے پہلے اندرونی کمزوری ہے۔ یہی حقیقت پاکستان کے حالات میں بھی پوری شدت سے نظر آتی ہے۔
آج اُمَّتِ مُسلمہ کو جن بحرانوں کا سامنا ہے وہ صرف سیاسی یا معاشی نوعیت کے نہیں، بلکہ بنیادی طور پر فکری، اخلاقی اور تہذیبی بحران ہیں۔ جب کسی قوم کا تصورِ مقصد کمزور ہو جائے تو اس کی سیاسی طاقت، معاشی وسائل اور عددی برتری بھی اسے وقار نہیں دے سکتے۔ اُمَّت کا اصل بحران یہ ہے کہ اس نے دین کو ایک مکمل نظامِ زندگی کے بجائے محض چند مذہبی رسومات تک محدود کر دیا ہے۔ یہی وہ فکری انحراف ہے جس نے اُمَّت کو اجتماعی قیادت، عالمی اثر و رسوخ اور داخلی وحدت سے محروم کر دیا ہے۔
اس پس منظر میں کربلا ہمیں ایک واضح فکری سمت فراہم کرتی ہے۔ حضرت امام حسینؓ کا طرزِ عمل یہ بتاتا ہے کہ حق کے ساتھ وابستگی کسی مصلحت، دباؤ یا خوف کی محتاج نہیں ہوتی۔ جب دین کے بنیادی اصول خطرے میں ہوں تو خاموشی اختیار کرنا دراصل حق سے دستبرداری کے مترادف ہے۔ یہی اصول آج بھی اُمَّت کے لیے رہنما اصول ہے۔
شہادتِ حسینؓ دراصل اس عہد کی تجدید ہے کہ مسلمان اپنی پوری زندگی کو اللہ کے دین کے تابع کرے گا، خواہ اس کی قیمت کچھ بھی ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو اُمَّت کو دوبارہ اس کے منصبِ امامت کی طرف لے جا سکتا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو باطل کے مقابلے میں اہلِ حق کو سرخرو کرتا ہے۔