شہادت اور فریضۂ شہادت
(قرآن و حدیث کی روشنی میں )
مسجدجامع القرآن ، قرآن اکیڈمی لاہور میںامیر ِتنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے19جون 2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص
مرتب: ابو ابراہیم
خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
ماہ محرم الحرام ہجری کیلنڈر کے مطابق سال کا پہلا مہینہ ہے اور اسلامی تاریخ میں اِس کی بہت زیادہ اہمیت ہے ۔ ہمارے دین کے بعض احکامات کا انحصار قمری تاریخ پر ہے۔جیسا کہ رمضان کا آغاز و اختتام ، عید الفطر ، عیدالاضحی اورایام ِحج کا تعین ، زکوٰۃ و عشر کا حساب ، خواتین کی عدت وغیرہ ۔ چنانچہ علماء نے لکھا کہ قمری تاریخ کا یاد رکھنا اُمّت ِمسلمہ پر فرض کفایہ کے درجے میں ہے ۔ تاہم کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کو ہمارے دین میں پسند نہیں کیا گیا ۔ جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جیسے 31 دسمبر کی رات کو نیوایئر نائٹ منائی جاتی ہے تو ہم بھی یکم محرم کے آغاز میں ہیپی نیو اسلامک ایئر منا لیں ۔ ایسے تصورات کی ہمارے دین میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔ اللہ کے نبی ﷺہر مہینے کا چاند دیکھتے تو دعا فرماتے تھے :
((اللّٰهمَّ أهِلَّهُ عليْنا بالأمْن والإيمان )) ’’اے اللہ! اس چاند کو ہم پر امن اور ایمان کے ساتھ طلوع فرما۔‘‘
ایمان اگر واقعتاً دل میں ہو تو بندے کی ذات بھی دوسرے کے لیے امن کا باعث بنتی ہے اور ایمان والوں کا مجموعہ اگر واقعتاً ایمان کے تقاضوں پر عمل کرے تو ایک گھر یا معاشرے کو ہی نہیں پورے عالم کو امن میسر آ سکتا ہے ۔ اِس دعا کا دوسرا حصہ اسلام اور سلامتی کے متعلق ہے :
(( وَالسَّلامَةِ وَالإسلامِ)) ’’اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ۔ ‘‘
اسلام کا مطلب ہے : اپنے آپ کو اللہ کے سامنے سرنڈر کر دینا اور یہ پارٹ ٹائم جاب نہیں ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
{ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص}( البقرہ : 208 ) ’’اسلام میں داخل ہو جائو پورے کے پورے۔‘‘
اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کے سامنے سرنڈر کردینا اسلام ہے اور جب بندہ ایسا کرلے تو وہ مکمل طور پر سلامتی میں آجاتاہے ۔ اسی سلامتی کی دعا ہم دوسروں کے لیے بھی مانگتے ہیں ۔ دعا کا تیسرا حصہ توفیق اور اللہ کی رضا کے متعلق ہے :
((التوفیق والترضیٰ))’’اے اللہ اس توفیق کے ساتھ جسے تو پسند فرماتا ہے اور جس سے تو راضی ہو جاتا ہے۔‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ ایسے اعمال کی توفیق عطا فرما دے جو تیری رضا کے حصول کا ذریعہ بنیں ۔ پھر چاند کو خطاب کر کے اللہ کے رسولﷺ فرماتے:
((رَبِّي وَرَبُّكَ اللهُ))’’(اے چاند!) میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔‘‘
یہ سورج ،چاند، ستارے ، کہکشائیں اور پوری کائنات کو بنانے والا رب اللہ تعالیٰ ہے اور اس کائنات کا نظام چلانے والا بھی اللہ تعالیٰ ہے ۔
(( هِلالُ رُشْدٍ وَخَيْرٍ))’’ (یہ) ہدایت اور بھلائی کا چاند ہے۔‘‘
یہ سنت رسول ﷺ ہے جس کا اہتمام ہمیں بھی اسلامی سال کے آغاز میں کرنا چاہیے ۔ نیو ایئر نائٹ اور جشن وغیرہ اسلام میں ممنوع ہیں ۔ ایک مسلمان کو اگر کچھ کرنا چاہیے تو وہ ہے فرائض اور واجبات کی پابندی ، حرام اور ممنوع کردہ باتوں سے اپنے آپ کو بچانا ۔ محرم کے مہینے کا خاص عمل 9 اور 10 محرم کا روزہ ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ 10 محرم کا روزہ رکھتے تھے ۔ بتایا گیا کہ بنی اسرائیل بھی 10 محرم کا روزہ رکھتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر آئندہ سال تک میں زندہ رہا تو 9 محرم کا روزہ بھی رکھوں گا تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ مشابہت پیدا نہ ہو ۔ لہٰذا بہتر عمل یہ ہے کہ 9 اور 10 محرم کا روزہ رکھا جائے ۔ یہ عمل اللہ کے رسولﷺ کی سنت سے ملتا ہے۔ باقی جو کچھ ہم ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں ، ان سب باتوں کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اگر روزہ رکھیں گے تو ان بدعات سے خود بخود بچ جائیں گے ۔ اسلاف نے قیمتی جملہ لکھا کہ جب بدعت آئے گی تو سنت رخصت ہو جائے گی ۔ آج روزہ رکھنے کی بجائے گلی کوچوں میں بھر بھر کر لوگوں کو پلایا اور کھلایاجاتاہے یا پھر چھٹیاں منائی جاتی ہیں ۔ حالانکہ سال کے 365دنوں میں سے کوئی دن ایسا نہیں ہے جب رسول اللہ ﷺ کے کسی صحابی ؓ، تابعین ، تبع تابعین یا اسلاف میں سے کسی کی شہادت نہ ہوئی ہو ۔ یہاں تک کہ یکم محرم کو بھی خلیفۂ دوم حضر ت عمر ؓ کی شہادت کا دن ہے ۔ اگر ہر دن ہم چھٹی منانا شروع کر دیں تو پورا سال چھٹیوں میں گزر جائے گا ۔ پھر یہ کہ 9 اور 10 محرم کی چھٹی کے ساتھ لوگ ہفتہ اتوار کی چھٹی ملا کر سیر و تفریح پر نکل جاتے ہیں ، لانگ ویک اینڈ مناتے ہیں، مطلب حقیقت روایات میں کھو گئی، اُمَّت خرافات میں کھو گئی۔جن کی یاد میں یہ چھٹیاں منائی جاتی ہیں انہوں نے تو سجدے میں جان دے دی ، شہید ہوگئے ، شدید بھوک پیاس کے باوجود بھی نہ نماز چھوڑی ، نہ روزہ چھوڑا ، نہ اللہ کا ذکر چھوڑا ، نہ آپ ؓ کی خواتین نے پردہ چھوڑا۔ آج انہی امام حسین ؓ کی یاد میں ہم چھٹیاں منائیں ، سیر و تفریح کریں ، نہ نماز کا خیال ، نہ روزہ ، نہ اللہ کی یاد ، نہ پردے کا خیال ، خرافات اور بدعات کا انبار ۔ یہ کیسی نسبت ہےاور کیسا طرزعمل ہے ؟ اللہ کا دین تو حضور ﷺ پر مکمل ہو گیا۔{اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَـکُمْ دِیْـنَـکُمْ} (المائدہ:3) ’’آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کردیاہے‘‘
حجۃ الوداع کے موقع پر اس آیت کا نزول ہوا اور واضح کر دیا گیا کہ آپ ﷺ پر دین کی تکمیل ہوگئی ۔ اب اگر کسی دن کی فضیلت معلوم کرنی ہو یا کسی دن کا کوئی خاص عمل کرنا ہوتو رہنما ئی اُسوہ رسول ﷺ سے ملے گی :
{لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} (الاحزاب:21)’’(اے مسلمانو!) تمہارے لیے اللہ کے رسول ؐمیں ایک بہترین نمونہ ہے۔ ‘‘
ہم اپنی طرف سے دین میں کوئی اضافہ نہیں کر سکتے ۔ احادیث میں عاشورہ کے بارے میں روایات ملیں گی ، 9 اور 10 محرم کے روزے کی سنت کا ذکر بھی ملے گا ۔ کہیں اور اس کو تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ۔ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ سیدنا حسین ؓ کی شہادت عظیم الشان شہادت ہے۔ اس کے اندر عزیمت کی عظیم داستان ہے۔ یہ نور علی نور والی بات ہوگئی کہ ایک دن پہلے سے فضیلت کا حامل تھا، اُ س دن آپ ؓکی شہادت بھی ہوگئی۔اب شہادت کیا ہے اور فریضہ شہادت کیا ہے ؟ اس حوالے سے بھی ہمیں جان لینا چاہیے ۔بانی تنظیم اسلامی محترم ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے بارہا اس موضوع پر کلام کیا ہے کہ شہادت اور فریضہ شہادت میں کیا فرق ہے ۔
شہادت
شہادت کے لغوی معنی ہیں :حاضر ہونا، موجود ہونا یا گواہی دینا ۔ اس لحاظ سے شہید کا لفظ مدد کرنے کے معنی میں بھی آتاہے ۔ مثال کے طور پر سورۃ البقرہ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:{اَمْ کُنْتُمْ شُہَدَآئَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ لا} (آیت:133)’’کیا تم اُس وقت موجود تھے جب آدھمکی یعقوبؑ پر موت۔‘‘ ہاں شہید کا لفظ موجودگی کے معنی میں آیا ۔ اسی کی جمع شہداء ہے ۔ اسی سے لفظ شاہد بنتا ہے جس کے معنی ہیں گواہ اور شہادت کے معنی بنتے ہیں گواہی دینا ۔ یہ اللہ کے نبی ﷺ کی ذِمّہ داری بھی تھی‘ البتہ آپ ﷺ کےلیے قرآن میں شاہد کا لفظ بھی آتا ہے، شہید کا لفظ بھی آتاہے ۔
سورۃ البقرہ کی آیت 282 قرآن پاک کی طویل ترین آیت ہے ، جو کہ قرض کے موضوع پر ہے ، قرض لیتے اور دیتے وقت لکھنے اور گواہ مقرر کرنے کی ضرورت اور طریقہ کار کو تفصیل سے بیان کیا گیا ۔ وہاں بھی شہداء کا لفظ گواہوں کے لیے آتاہے ۔ یہی لفظ کبھی مدد کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے ۔ جیساکہ سورۃ الفتح میں فرمایا :
’’وہی ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسولؐ کو الہدیٰ اور دین حق دے کر‘تا کہ وہ غالب کر دے اسے کل کے کل نظامِ زندگی پر۔اورکافی ہے اللہ مددگار کے طور پر۔‘‘(آیت :28)
شہید کے مفہوم میں یہ سب شامل ہے کہ جہاں اللہ کے دین کے لیے ضرورت پڑے تو وہ گواہی بھی دے گا ، جہاں اللہ کے دین کو مدد کی ضرورت پڑی تو مدد بھی کرے اور جہاں اللہ کے دین کے لیے جان دینے کی باری آئی تو جان بھی دے گا ۔ ہم دوسرا کلمہ پڑھتے ہیں : ((اشھد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمدا عبدہ ورسولہ)) ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ ‘‘
فریضۂ شہاد ت
فریضہ شہادت سے مراد اللہ کے دین کی گواہی پیش کرناہے اور اس معنی میں شہادت یا فریضۂ شہادت کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی نبوت کی تاریخ پرانی ہے ، یا انسانیت کی تاریخ پرانی ہے یا خلافت کی تاریخ پرانی ہے ۔ یہ تینوں باتیں اہم ہیں اور ان میں ربط بھی ہے ۔ آدم؈ پہلے انسان تھے ، پہلے نبی بھی تھے اور پہلے خلیفہ بھی تھے ۔ اللہ کا پیغام پہنچانا ،اللہ کے دین کی گواہی دینا اور اللہ کے دین کو قائم کرنے کی کوشش کرنا فریضۂ شہادت ہے اور اسی فریضے کے لیے تمام انبیاء و رسل بھیجے گئے ۔جب انبیاء اللہ کا پیغام پہنچا رہے تھے تو وہ شہادت کا فریضہ ادا کررہے تھے ، اللہ کے دین کی گواہی پیش کر رہے تھے ۔ تمام رسولوںؑ کی بنیادی ذِمّہ داری قرآن ہمیں بتاتا ہے :
{رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللہِ حُجَّۃٌ م بَعْدَ الرُّسُلِ ط}(النساء: 165 )
’’یہ رسول ؑ(بھیجے گئے) بشارت دینے والے اور خبردار کرنے والے بنا کر تا کہ نہ رہ جائے لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت ( دلیل) رسولوں کے آنے کے بعد۔‘‘
رسولؑ اس لیے بھیجے گئے تاکہ وہ لوگوں پر گواہ بن جائیں ، حجت بن جائیں ، روزِ محشر کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہم تک اللہ کا پیغام پہنچا ہی نہیں ۔ جن لوگوں نے رسولوںؑ کی دعوت قبول کی اور ایمان لائے ان کو اُنہوں نے جنت کی خوشخبری دی اور جنہوں نے انکار کیا ان کو جہنم کے عذاب سے ڈرایا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:{وَمَــآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللہِ ط } (النساء: 64 ) ’’ہم نے نہیں بھیجا کسی رسول کو مگر اس لیے کہ اُس کی اطاعت کی جائے اللہ کے حکم سے۔‘‘
تمام رُسلؑ اللہ کے دین کو اپنے قول سے بھی پیش کرتے تھے اور اللہ کے دین پر عمل کر کے دکھایا بھی کرتے تھے ،ا ن کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہوگی۔ جیسے فرمایا: {مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ ج} (النسا:۸۰)’’جس نے اطاعت کی رسو ل کی اُس نے اطاعت کی اللہ کی۔‘‘
لہٰذا پیغمبروں نے نمونہ بن کر دکھایا۔ آج نمونہ رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے ۔ فرمایا :
’’(اے مسلمانو!) تمہارے لیے اللہ کے رسول ؐمیں ایک بہترین نمونہ ہے۔ ‘‘(الاحزاب:21)
رسولوںؑ کی ایک اور ذِمّہ داری بھی قرآن بیان کرتاہے اور وہ انقلابی محنت ہے ۔ یعنی اللہ کی زمین پر عدل کا نظام قائم ہو اور اس کے لیے اگر قتال بھی کرنا پڑے تو کیا جائے گا۔ سورۃ الحدید میں فرمایا :
’’ہم نے بھیجا اپنے رسولوں کو واضح نشانیوں کے ساتھ‘اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان اُتاری‘تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔‘‘(آیت :25)
رسولوںؑ کو اس لیے نہیں بھیجا کہ وہ بس شریعت پڑھ کر سنا دیں ، صرف پیغام پہنچا دیا جائے یا صرف ڈرانے اور خوشخبری سنانے کے لیے نہیں بھیجا بلکہ اس لیے بھیجا کہ ان تمام کاموں کے ساتھ وہ اللہ کے دین کو بالفعل قائم کرنے کی جدوجہد کریں ۔ اسی لیے معجزات عطا ہوئے۔ شریعت کا قانون نفاذ کے لیے ہی عطا ہوا ہے ۔ اس کے نفاذ سے ہی عدل و قسط کا نظام قائم ہو گا ۔ اللہ تعالیٰ آگے فرماتاہے :
’’اور ہم نے لوہا بھی اُتارا ہے ‘اس میں شدید جنگی صلاحیت ہے۔‘‘ (الحدید:25)
انبیاء و رسلؑ نے اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لیے جنگیں بھی لڑی ہیں اور اُن کے لیے اسلحہ بھی تیار کیا ہے۔ مظلوموں کی داد رسی کے لیے ، عدل کے نفاذ کے لیے ، باطل اور ظالم نظام کو مٹانے کے لیے قتال بھی کیا گیا ۔ قرآن پاک ہمیں بتاتا ہے:
{وَکَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰـتَلَ لا مَعَہٗ رِبِّـیُّوْنَ کَثِیْرٌج } (آل عمران:146)’’کتنے ہی نبی ایسے گزرے ہیں کہ جن کے ساتھ ہو کر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی۔‘‘
اللہ کی راہ میں جہاد اور قتال بھی شہادت کے زمرے میں آتاہے ۔ اللہ کے نبیوں نے اس طرح بھی اللہ کے دین کی گواہی پیش کی ہے ۔ اللہ کے آخری رسول ﷺ نے 23 سال انقلابی جدوجہد کی تاکہ اللہ کا دین غالب ہو جائے ۔ ختم ِنبوت کے بعد یہ ذِمّہ داری اس اُمت کے کندھوں پر ہے۔ اللہ تعالی نے لفظ شہید رسول اللہ ﷺ کے لیے استعمال کیا ہے اور لفظ شہداء اُمّت ِ مسلمہ کے لیے استعمال کیا ہے۔ اپنے قول سے، اپنے کردار اور عمل سے اور ایک اجتماعی جدوجہد برپا کر کے اللہ کے دین کو قائم کرنا تمام رسولوں کی ذِمّہ داری رہی اور آپ ﷺ نے اس ذِمّہ داری کو بتمام و کمال پورا کیا ۔ چنانچہ آپ ﷺ کی شانِ اقدس کو قرآن یوں بیان کرتاہے :
’’اے نبیؐ !یقیناً ہم نے بھیجا ہے آپؐ کو گواہ بنا کر اور بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا۔اوراللہ کی طرف بلانے والا اُس کے حکم سے اور ایک روشن چراغ بنا کر۔‘‘(الاحزاب:45،46)
یعنی آپ ﷺ نے اللہ کے دین کی گواہی بھی دی ، بشارت بھی دی ، جہنم سے ڈرایا بھی ، دعوت بھی دی اور آپ ﷺ ہدایت کا روشن چراغ بھی بنے جس کا تعلق شہادت کے فریضے سے ہے ۔ اسی طرح اللہ کے رسولﷺ کے لیے قرآن میں شہید کا لفظ آرہا ہے۔
’’اور (اے مسلمانو!) اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک اُمت ِوسط بنایا ہے‘تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسولؐ ‘تم پر گواہ ہو۔‘‘ ( البقرہ: 143 )
وسط کے کئی تراجم ہیں، معتدل بھی ، درمیانی بھی ، بہترین بھی ۔ اس اُمّت کو اُمّت وسط اس لیے بنایا تاکہ یہ لوگوں تک اللہ کے دین کی دعوت پہنچائے اور اس کے قیام کے لیے جدوجہد بھی کرے ۔ تب شہادت کا فریضہ ادا ہوگا، تب گواہی پوری ہوگی ورنہ کل روز محشر ہم خود پکڑے جائیں گے ۔ آج بڑے آرام سے ہم کہہ دیتے ہیں کہ یہودو نصاریٰ اورمشرکین جہنم میں جائیں گے اور ہم جنت میں جائیں گے لیکن اگر روزمحشر مشرکین اور یہودونصاریٰ نے ہمارے خلاف گواہی دے دی کہ ہم نے اللہ کا پیغام اُن تک نہیں پہنچایا تھا تو اللہ کو ہم کیا جواب دیں گے ؟
رسول اللہ ﷺنے تو گواہی دے بھی دی اور لے بھی لی ۔ حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا : ((الاھل بلغت؟)) ’’کیا میں نے اللہ کے پیغام کو تم لوگوں تک پہنچا دیا؟ ‘‘سب نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپؐ نے حق وصیت، حق نصیحت، حق امانت ادا کر دیا ، اللہ کا پیغام پہنچا دیا ۔اس کے بعد آپ ﷺ نے اپنی شہادت کی اُنگلی کو آسمان کی طرف بلند کیا اور فرمایا :
((اللہم اشہد اللہم اشہد اللہم اشہد )) ’’اے اللہ !تو گواہ ہے (میں نے تیرا کلام پہنچا دیا ) ۔ ‘‘
اس کے بعد فرمایا :((فَلْيُبَلِغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ)) ’’حاضر شخص (موجود ) غائب تک (اسلام کی دعوت) پہنچائے ۔ ‘‘
گویا رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کے ذِمّہ دین کو پہنچانا اور قائم کرنے کی جدوجہد کرنا لازم قرار دیا ۔ آپ ﷺ نے یہ شہادت کیوں پیش کی ؟ سورۃ الاعراف کے شروع میں ہے:{فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْہِمْ وَلَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ(6)} ’’پس ہم لازماً پوچھ کر رہیں گے ان سے بھی جن کی طرف ہم نے رسولوں کو بھیجا اور لازماً پوچھ کر رہیں گے رسولوں سے بھی۔‘‘
روز قیامت رسولوں سے بھی پوچھا جائے گا ۔ کیا تم نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا ؟ پھر لوگوں سے بھی پوچھا جائےگا: کیا تم تک رسولوں نے پیغام پہنچایا ؟ رسول اللہ ﷺ اس سوال کی جوابدہی پر رویا کرتے تھے ۔ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓکو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ قرآن کی تلاوت سناؤ ۔ عبداللہ بن مسعود ؓ نے سورۃ النساء کی تلاوت شروع کی ۔ جب آیت 41 پر پہنچے تو فرمایا :
(( حسبک حسبک حسبک))’’عبداللہ ! رُک جاؤ ! ‘‘
عبداللہ بن مسعودؓ نے نگاہ اُٹھا کر دیکھا تو آپ ﷺ
کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں جاری تھیں جس کی وجہ سے آپ ﷺ کی داڑھی مبارک تر ہو چکی تھی۔ اس آیت میں یہ ذکر تھا :
’’تو اُس دن کیا صورت حال ہو گی جب ہم ہر اُمت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے‘اور (اے نبیﷺ) آپ کو لائیں گے ہم ان پر گواہ بناکر۔‘‘ (النساء:41)
روز محشر اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو گواہ بنا کر کھڑا کریں کہ آپ ﷺ پہنچا بھی گئے، گواہی دے بھی ،لے بھی گئے۔ اُس کے بعد اُمت نے کیا کیا ؟ کیا کبھی ہم نے غور کیا ہے کہ ہمارے پاس کیا جواب ہوگا ؟ کبھی یہ سوچ کر ہماری آنکھوں میں بھی آنسو آئے ہیں ؟ اب ختم نبوت کے بعد یہ ہماری ذِمّہ داری ہے کہ ہم لوگوں پر گواہ بنیں ۔ یہی شہادت کافریضہ ہے جو ہم سب نے ادا کرنا ہے ۔ اس کے بغیر نجات ممکن نہیں ۔
شہید
اللہ کے دین کی دعوت اور غلبے کے لیے جو اپنا وقت ، صلاحیت ، مال و اسباب لگاتاہے وہ گواہی پیش کر رہا ہے ۔ اسی راستے میں جو جان کا نذرانہ بھی پیش کردے تو وہ
بتمام و کمال شہید قرار پاتا ہے۔گو کہ قرآن پاک میں اس کے لیے مقتول کالفظ بھی آتاہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّـقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اَمْوَاتٌ ط}(البقرۃ:154) ’’اور مت کہو اُن کو جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائیں کہ وہ مردہ ہیں۔‘‘
اسی طرح احادیث میں اللہ کی راہ میں جان دینے والوں کے لیے شہید کا لفظ بھی آتاہے ، مقتول کا لفظ بھی آتا ہے ۔ دورنبوی ؐ میںکم وبیش 269صحابہ؇ نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ، غزوۂ تبوک کے ذریعے آپ ﷺ انقلاب نبوی کی توسیع کا آغاز کر کے گئے۔ خلفائے راشدین کے30 برس کے دور میں 22 لاکھ مربع میل تک بتمام و کمال دین کی شان و شوکت نظام کی سطح پر دکھائی دیتی ہے لیکن جن کے مفادات پر ضرب پڑی، انہوں نے سازشیں شروع کیں ، خاص طور پر یہود کا معاملہ اور عبداللہ بن سبا کی سازش سامنے آئی ۔ اس کے نتیجے میں یکم محرم الحرام کوحضرت عمر ؓ کی شہادت ہوئی ، 18 ذی الحجہ کو‘سیدنا عثمانؓ کی شہادت ہوئی، 21رمضان کو سیدنا علی ؓ کی شہادت ہوئی ۔ اس سے قبل سیدناصدیق اکبر ؓ کے دور میں منکرین زکوٰۃ کے خلاف قتال میں سینکڑوں صحابہؓ شہید ہوئے۔ پھر جب خلافت کی بجائے ملوکیت والا نظام آگیا تو اس کے خلاف نواسۂ رسول سیدنا حسین ؓ کھڑے ہوئے آپؓ سمیت کئی مسلمانوں کی شہادتیں ہوئیں ۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ شہادت کا فریضہ ہر مسلمان پر عائد ہوتا ہے ۔ اللہ کے دین کی دعوت ، اس کے غلبے کی جدوجہد ، اللہ کے نظام کی توسیع اوردفاع کے لیے ، فتنوں کے خاتمے کی جدوجہد کرنا فریضۂ شہادت ادا کرنا ہے، یہ ختم نبوت کا تقاضا اور اس کے بغیر نجات ممکن نہیں اور اس راستے میں جو جان کا نذرانہ پیش کریں وہ بتمام و کمال شہید ہوتے ہیں ۔آج ہم تنہائی میں بیٹھ کر ذرا سوچیں کہ کیا ہم یہ فریضہ ادا کر رہے ہیں ؟ کیا ہم ختمِ نبوت کے تقاضوں پر عمل کر رہے ہیں ؟ کیا ہم اپنی اُخروی نجات کے حوالے سے سنجیدہ ہیں ؟ کتنے فیصد لوگ اذان کی آواز سن کر مسجد میں آتے ہیں ، فجر کی باجماعت نماز کے لیے کتنے فیصد مسجد میں جاتے ہیں ؟ کونسی گواہی دے رہے ہیں؟سود کی صورت میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف جنگ ہم جاری رکھے ہوئے ہیں ، اللہ کے احکامات سر ِعام توڑے جارہے ہیں ، فحاشی و عریانی ،جوے ، سٹےاور شراب کی کھلی اجازت دے رکھی ہے ، یہ سب کرکے ہم کون سی گواہی دے رہے ہیں ۔ ہم محرم کی چھٹیاں مناتے ہیں ، سیرو تفریح کرتے ہیں ، ہلا گلا ہوتاہے ، مگر کیا ہم نے سوچا ہے کہ ان دنوں کا اصل تقاضا کیا ہے اور ہم کس طرف جارہے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !