فرائض دینی کا جامع تصور
ڈاکٹر اسرار احمدؒ
آپ ایک تین منزلہ عمارت کا تصور اپنے ذہن میں قائم کریں جس کی پہلی منزل پر صرف چار ستون کھڑے ہیں۔ستونوں کے علاوہ نہ کوئی دیواریں ہیں اور نہ کوئی کمرے وغیرہ ہیں۔ آج کل کے رواج کے مطابق گویا پارکنگ لاٹ کے طور پر وہ جگہ چھوڑ دی گئی۔البتہ اس پہلی منزل کے نیچے ایک بنیاد ہے اور ان بنیادوں پر یہ چاروںستون کھڑے ہیں۔پھر ان بنیادوں کے بھی دو حصے ہیں‘ایک حصہ وہ ہے جو نظر آرہا ہے اور وہ سطح زمین سے اوپر ہوتا ہے‘جسے آپ پلنتھ (plinth)اور کرسی بھی کہہ دیتے ہیں۔یہ بھی بنیادہے‘ لیکن اصل بنیاد وہ ہے جو زیر ِزمین ہے اور نظر نہیں آتی۔ ظاہر بات ہے کہ عمارت کی مضبوطی کا سارادار و مدار اِس پر ہے۔ جتنی اونچی عمارت آپ نے بنانی ہے اس کی بنیاد اتنی ہی گہری ہونی چاہیے۔
دین کی بنیاد :ایمان اور اسلام !
اس سہ منزلہ عمارت کے نقشہ کو ذہن میں رکھیے۔ دیکھئے اسلام تو گویا نقطہ ٔآغاز ہے۔اسلام کی عمارت پانچ ستونوں پر قائم ہے۔ ان میں سے پہلااِقْرَارٌ بِاللِّسَان ہے جوپلنتھ لیول ہے ۔ ظاہر ہے کہ جب آپ نے اقرار کیا اورکہا : اَشْھَدُ اَنْ لَا اِلٰــہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَـہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ تو لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ یہ شخص مسلمان ہے۔یہ تو گویا عمارت کی بنیاد کا وہ حصہ ہے جولوگوں کو نظرآتا ہے۔ لیکن ایک ہے ایمان یعنی تصدیق بالقلب ‘ اوریہ درحقیقت اصل بنیاد ہے جو نظر نہیں آتی۔ دل میں ایمان ہے یا نہیں‘ ہمیں نظر نہیں آتا‘لیکن اصل ایمان وہی ہے۔سورۃ الحجرات میں فرمایا: {قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّاطقُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْط} ’’یہ بدو کہہ رہے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں۔(اے نبیﷺ ان سے ) کہہ دیجیے : تم ہر گز ایمان نہیں لائے ہو‘ بلکہ تم یوں کہو کہ ہم مسلمان (اطاعت گزار) ہو گئے ہیںاور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔‘‘(آیت:16)
دین کے چار ستون:نماز ‘روزہ‘حج اور زکوٰۃ
یوں سمجھئے کہ ہم نیچے سے اوپر کی طرف چل رہے ہیں ۔ اصل بنیاد ہے ایمانِ قلبی‘ یعنی یقین و الا ایمان اور اس کے بعد پلنتھ کی حیثیت رکھتا ہے زبان سے گواہی دینا۔ اس کے اوپر چار ستون چار عبادات ہیں: نماز‘ روزہ‘ حج اور زکوٰۃ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے : گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں‘ نماز قائم کرنا‘ زکوٰۃ ادا کرنا‘ بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔‘‘(متفق علیہ)
دین کے ان چار ستون پر اوپر کی تینوں چھتوں کا وزن ہے ۔پہلی چھت کے بارے میں آپ اچھی طرح نوٹ کرلیں کہ اس کے لیے چار اصطلاحات ہیں۔
(1)اسلام: اسلام کے معنی ہیں:سرتسلیم خم کر دینا‘ ہتھیار ڈال دینا (to surrender)۔ گویا ایک لڑائی ہو رہی تھی‘ اس میں آپ نے ہارتسلیم کرتے ہوئے ہتھیار ڈال دیے ‘سرتسلیم خم کر دیا۔
(2)اطاعت:یہ دوسری اصطلاح ہے۔اطاعت یہ ہے کہ اپنی دلی مرضی اور خوشی کے ساتھ اللہ اور رسول ﷺ کا کہنا ماننا۔ ایک ہے مجبوری سے ماننا‘اسلام تو وہ بھی شمار ہو جائے گا اور اس سے بھی جان ومال کو تحفظ حاصل ہوجائے گا‘لیکن یہ اطاعت شمار نہیں ہوگی۔جیسے اپنی جان بچانے کے لیے کسی کا اسلام کا اعلان کر دینا۔ حضرت اسامہ ؓ کے ساتھ بالفعل ایسا واقعہ پیش آیاتھا۔ایک جنگ میں حضرت اُسامہؓ کا ایک مشرک سے دوبدومقابلہ ہوا۔ مشرک نے جب دیکھا کہ میری تو اب بس ہو گئی ہے اور اب میں کچھ نہیں کر سکتا تو اس نے فوراً سے کلمہ پڑھ دیا: لیکن حضرت اسامہؓ نے اسے قتل کردیا۔رسول اللہﷺ کو جب اس کا پتا چلا تو آپؐ نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا۔حضرت اسامہؓ نے وضاحت پیش کی کہ حضور! اُس نے تو جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھا تھا ۔اس پر آپﷺ نے فرمایا:کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا؟------ اگرچہ اُس نے جان بچانے کے لیے ہی کلمہ ٔ شہادت پڑھا ہو‘لیکن ہمیں حکم یہی ہے کہ کسی کے کلمہ پڑھ لینے کے بعد اس پر تمہاری تلوار نہیں چلنی چاہیے‘ اس لیے کہ کلمہ بہت بڑی ڈھال ہے ۔ لیکن اطاعت کا مفہوم یہ ہے کہ دلی آمادگی کے ساتھ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی فرمانبرداری کرنا۔اطاعت کے بارے میں قرآن مجید میں متعدد بار یہ حکم آیا ہے : {اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ} لیکن سورۃ النساء میں اللہ اور رسول کے ساتھ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
(3)تقویٰ:تیسری اصطلاح ہے۔یعنی پوری زندگی احتیاط کے ساتھ اور پھونک پھونک کرقدم رکھنا کہ کہیں حدود اللہ پامال نہ ہوجائیں‘کہیں غیر شعوری طور پر بھی اللہ اور رسولﷺ کی نافرمانی کا ارتکاب نہ ہوجائے۔اس کا نام تقویٰ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے::{یٰٓــاَیـُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ} (آل عمران:102) ’’اے اہل ایمان! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جتنا کہ اس کے تقویٰ کا حق ہے۔‘‘
(4)عبادت:دین کی پہلی چھت کے حوالے سے اب تک تین چیزیں بیان ہوئی ہیں: (1)اسلام یعنی سرنڈر کرنا‘ (2) اطاعت یعنی دلی آمادگی سے اللہ اور رسول کا حکم ماننا‘ اور (3) تقویٰ یعنی پوری احتیاط ملحوظ رکھنا کہ کہیں قدم حدود اللہ سے تجاوز نہ کر جائیں۔ بلکہ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ کچھ فاصلے پر رہیں اور اس کے قریب بھی نہ جائیں۔ اب ان سب کو جمع کریں تو ایک لفظ بنتا ہے: عبادت ! اللہ کی محبت کے جذبہ سے سرشار ہو کر ہمہ تن‘ ہمہ وقت‘ ہمہ وجوہ اللہ کی بندگی اور اطاعت کرنا عبادت ہے۔ درحقیقت یہ پہلی چھت کے لیے چار اصطلاحات ہیں اور یہ چاروں بہت قریب قریب ہیں ‘لیکن ان چاروں اصطلاحات کو الگ الگ ذہن میں رکھئے ‘اس لیے کہ قرآن مجید کے مضامین اور اس کی حکمتوں کو سمجھنے اور جاننے کے لیے ان سے واقفیت حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔
عبادت کے لیے یہ عبادات (یعنی نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ) فرض کر دی گئی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر و بیشتر لوگ صرف ان عبادات کو ہی عبادت سمجھ بیٹھے ہیں۔ حالانکہ عبادت تو یہ ہے کہ ہمہ تن‘ ہمہ وقت‘ ہمہ وجوہ اللہ کی اطاعت اس کی محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر کرنا۔ کیا آپ 24 گھنٹے نمازپڑھتے ہیں؟ کیا آپ روزانہ روزہ رکھتے ہیں؟ ظاہر بات ہے کہ یہ چاروں تو عبادات ہیں ‘ جو شامیانے کے چار بانسوں کی مانند ہیں ‘ جبکہ عبادت گویا اصل شامیانہ ہے۔
دین کی عمارت میں چار ستون ہیں اور ان ستونوں کے اوپر پہلی چھت بھی ہے اورپھر انہی کے اوپر دوسری چھت بھی پڑی ہوئی ہے۔جیسے پہلی چھت کے لیے چار اصطلاحات تھیں اسی طرح اس دوسری چھت کے لیے بھی چار الفاظ/اصطلاحات نوٹ کرلیجیے۔
(1)تبلیغ:یعنی اللہ کے دین اور اللہ کی کتاب کی تبلیغ۔ نبی اکرمﷺ کو حکم دیا گیا: {یٰٓــاَیـُّـہَا الرَّسُوْلُ بَـلِّـغْ مَـآ اُنْزِلَ اِلَـیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ط} (المائدۃ:67) ’’اے رسول(ﷺ) پہنچا دیجیے جو کچھ نازل کیا گیاہے آپؐ کی طرف آپؐ کے رب کی جانب سے‘‘۔اس میں کوئی کتمان نہیں کرنا ہے اور نہ اس ضمن میں خود سے کوئی فیصلہ کرنا ہے کہ اس بات کو پہنچا دوں اور یہ نہ پہنچائوں‘ بلکہ تمام کا تمام پہنچانا آپ پر فرض ہے۔ حضور اکرمﷺ نے وہ آیات بھی امت تک پہنچائی ہیں جن میں بظاہر احوال اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپﷺ پر عتاب ہوا ہے۔ مثلاً:{یٰٓـاَیـُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ ج}(التحریم:1)’’اے نبی (ﷺ) آپ کیوں حرام ٹھہرا رہے ہیں (اپنے اوپر) وہ شے جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے؟‘‘اسی طرح سورۂ عبس کی ابتدائی آیات کا معاملہ ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’ تیوری پر بل پڑ گئے اور انہوں نے رخ موڑ لیا ‘اس لیے کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا۔ اور (اے نبیﷺ) آپ کو کیا معلوم شاید کہ وہ تزکیہ حاصل کرتا‘یا وہ نصیحت حاصل کرتا اور وہ نصیحت اس کے لیے مفید ہوتی۔لیکن وہ جو بے نیازی دکھاتا ہے‘ آپ اس کی فکر میں رہتے ہیں۔ اور اگر وہ پاکی اختیار نہیں کرتا تو آپ پر کوئی الزام نہیں۔ اور وہ جوآپؐ کے پاس چل کر آیا ہے‘اور اس کے دل میں خشیت بھی ہے‘اس سے آپؐ استغناء برت رہے ہیں۔‘‘
حضوراکرمﷺ نے خود فرمایا کہ یہ آیات عبداللہ بن اُمّ مکتوم ؓ کے بارے میں اُتری ہیں ---- حضرت عبداللہ بن اُم مکتوم ؓ نابینا صحابی ؓتھے ۔ایک دن وہ حضوراکرمﷺ کے پاس اُس وقت آئے جب قریش کے بڑے بڑے سردار آپﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اورآپؐ انہیں تبلیغ کر رہے تھے۔ حضور اکرمﷺ اپنی ذاتی منفعت کے لیے تو کچھ نہیں کر رہے تھے ‘بلکہ آپؐ تو مسلمانوں ہی کی بھلائی کے لیے یہ سب کررہے تھے کہ اگر یہ بڑے سردار ایمان لے آئیں تو اس وقت جو غریب مسلمان بیچارے ستائے جا رہے ہیں‘ ان کو کچھ نہ کچھ ریلیف مل جائے گا۔ جیسے حضرت عمر اور حضرت حمزہi اسلام میں داخل ہوئے تو بہت سے مسلمانوں کو بہت کچھ ریلیف ملا تھا۔ لیکن عبد اللہ بن اُم مکتومؓ کو چونکہ پتا نہیں تھا تو وہ بار بار حضورﷺ کو اپنی طرف متوجہ کررہے تھے۔ اس پر حضور اکرمﷺ کو کچھ ناگواری کا احساس ہوا اور آپؐ کے ماتھے پر بل پڑ گئے ۔اس پر یہ آیات نازل ہو گئیں۔
ان آیات کے نزول کے بعد عالم یہ تھا کہ عبداللہ بن اُم مکتومؓ جب بھی آتے تھے تو آپﷺ فرمایا کرتے تھے : مَرْحَبَا بِالَّذِیْ اَعْتَبِیَ اللّٰہُ مِنْہُ ’’مرحبا اس شخص کے لیے جس کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر عتاب فرمایا‘‘۔ بہرحال یہ ہے تبلیغ اور اللہ کے رسولﷺ نے یہ فریضہ مکمل طور پر ادا کیا۔
(2)دعوت:دوسری چھت کے ضمن میں یہ دوسری اصطلاح ہے۔ دعوت اور تبلیغ تقریباً ہم معنی لفظ ہیںلیکن ان میں کچھ فرق بھی ہے ۔میں ان چیزوں کا ربط آپ کے سامنے ظاہر کر رہا ہوں۔ تبلیغ میں آپ خود پہنچ کر بات پہنچاتے ہیںجبکہ دعوت میں آپ اس بندہ کو اللہ کی طرف کھینچ کر لاتے ہیں۔ درحقیقت یہ ایک ہی عمل کے دو پہلو ہیں۔ تبلیغ یعنی بات کا پہنچانا اور دعوت یعنی کسی کو بلانا اور کھینچ کر لانا۔
(3)امربالمعروف ونہی عن المنکر:یہ انہی دوباتوں یعنی دعوت وتبلیغ کے ضمن میں دوسری چھت کی تیسری اصطلاح ہے۔ ’’واضح رہے کہ ’’امر بالمعروف ونہی عن المنکر‘‘ (بھلائی کا حکم دینا اور بدی سے روکنا) ایک ہی اصطلاح ہے۔ یہاں یہ یادرکھیے کہ امر بالمعروف تو ہر سطح پر ہوگا‘ البتہ نہی عن المنکر صرف وہیں ہو گا جہاں آپ کو اختیار حاصل ہے۔ آپ کو اپنے گھر میں اختیار حاصل ہے کیونکہ آپ سربراہِ خاندان ہیں۔ آپ کا بچہ نماز نہیں پڑھ رہا تو آپ اسے مار سکتے ہیں‘لیکن آپ پڑوسی کے بچے کو نماز نہ پڑھنے پر مار نہیں سکتے۔ ہاں نیکی کی تلقین ہر وقت کی جا سکتی ہے ۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا کہ کوئی آپ کو جھڑک دے گاکہ کہاں سے آئے تم مجھے ہدایت کرنے اور سمجھانے ؟ چنانچہ امر بالمعروف تو ہمیشہ کرنا ہے‘ لیکن نہی عن المنکر اپنے دائرہ اختیار میں۔خاص طور پر بڑے پیمانے پر یہ اُس وقت ہو گا جب اسلامی حکومت قائم ہو جائے گی اور یہ حکومت کا فرض ہو گا۔اس بارے میں فرمایا گیا: {اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِط }(الحج:41)’’وہ لوگ کہ اگر انہیں ہم زمین میں تمکن عطا کر دیں تووہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے۔‘‘
(4)شہادت علی الناس:اب ان تمام الفاظ یعنی(۱) تبلیغ ‘(۲) دعوت اور(۳) امر بالمعروف ونہی عن المنکر کو جمع کریں گے تو ایک لفظ بنے گا:شہادت علی الناس! اور یہ دین کی دوسری چھت کی دوسری اصطلاح ہے۔ دیکھئے دعوت وتبلیغ اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر انفرادی سطح پر بھی کرنا ہے اور اجتماعی سطح پر بھی‘اور اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں پر اللہ کی طرف سے حجت قائم ہو جائے اوروہ قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکیں کہ اے اللہ ہم تک تو تیرا پیغام کسی نے پہنچایا ہی نہیں تو ہم سے مواخذہ کیسا؟ ہم سے محاسبہ کس بات کا؟ لہٰذایہ انبیاء اور رسولوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ لوگوں تک اللہ کے پیغام کو پہنچائیں‘ اس لیے کہ وہ تو بھیجے ہی اس مقصد کے لیے جاتے ہیں تاکہ لوگوں پر حجت قائم کر دیں۔اس بارے میں سورۃ النساء میں فرمایا گیا: {رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا(165)} ’’یہ رسول ؑ( بھیجے گئے) بشارت دینے والے اور خبردار کرنے والے بنا کر تاکہ نہ رہ جائے لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت ( دلیل) رسولوں کے آنے کے بعد۔ اور اللہ زبردست ہے‘ حکمت والا ہے۔‘‘
ختم نبوت کے بعد اب یہ مقصد بحیثیت مجموعی اُمّت ِمسلمہ کی ذِمّہ داری ہے۔ اُمّت نے چونکہ اس میں کوتاہی کی ہے لہٰذا صدیوں سے اللہ کی سزا کی گرفت میں ہے۔ میری ایک کتاب ہے:’’ سابقہ اور موجودہ مسلمان اُمّتوں کا ماضی ‘حال اور مستقبل‘‘۔ سابقہ اُمّت ِمسلمہ یہود کے بارے میں ہمیں معلوم ہے کہ اللہ کی طرف سے ان پرکیسے کیسے عذاب آئے اور کیوں آئے ‘حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو تمام جہان والوں پر فضیلت دی تھی۔اس کا ذکر سورۃالبقرۃ میں دو دفعہ (آیت47 اور122)آیاہے : {یٰــبَنِیْٓ اِسْرَآئِ‘یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ0} ’’اے یعقوب کی اولاد! یاد کرو میرے اُس انعام کو جو میں نے تم پرکیا اور یہ کہ میں نے تمہیں فضیلت عطا کی تمام جہان والوں پر‘‘۔لیکن تمہارے کرتوت یہ تھے کہ تم نے میری کتاب کو پس پشت ڈال دیا :{وَلَمَّا جَآئَ‘ہُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمْ نَــبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ ق کِتٰبَ اللّٰہِ وَرَآئَ ظُہُوْرِہِمْ کَاَنـَّــہُمْ لَایَعْلَمُوْنَ(101) } (البقرۃ) ’’اور جب آیا اُن کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول (یعنی محمدﷺ) تصدیق کرنے والا اُس کتاب کی جو ان کے پاس موجودہے تو اہل ِکتاب میں سے ایک جماعت نے اللہ کی کتاب کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا ‘گویا وہ جانتے ہی نہیں۔‘‘
اب اس کی سزا مختلف مواقع پر ان کو ملی۔کبھی آشوریوںکے ہاتھوں ان کا قتل عام ہوا‘کبھی بخت نصر کے ہاتھوں‘کبھی یونانیوں کے ہاتھوں‘کبھی رومیوں کے ہاتھوں۔ اس کے بعد پچھلی صدی میں جرمنوں کے ہاتھوں ان کا قتل عام ہواہے۔ یہ سارے عذاب اسی لیے آئے کہ انہوں نے بحیثیت اُمت مسلمہ اپنا فرض صحیح طریقے سے سرانجام نہیں دیا۔ ان میں کچھ نہ کچھ یقیناً نیکوکار بھی ہوں گے۔ قرآن مجیدتو حضورﷺ کے زمانے کے یہودیوں کے بارے میں بھی فرماتا ہے :{لَـیْسُوْا سَوَآئً ط مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اُمَّـۃٌ قَــآئِمَۃٌ یَّـتْـلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَائَ الَّــیْلِ وَہُمْ یَسْجُدُوْنَ(113) }(آل عمران) ’’یہ سب کے سب برابر نہیں ہیں۔اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو (سیدھے راستے پر) قائم ہیں‘ رات کے اوقات میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں‘‘۔مزید فرمایا کہ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر ان کے پاس ڈھیروں سونا رکھوا دو تو وہ اس میں رتی برابر بھی خیانت نہیں کریں گے اور تمہیں جوں کا توں واپس کر دیں گے‘ لیکن ان میں سے ایسے بھی ہیں کہ ان کے پاس ایک دینار بھی رکھو ا دو تو وہ واپس نہیںکریں گے۔جب کسی قوم کی اکثریت اس طرح کی ہوجائے تو پھر ان پر اللہ کا عذاب آتا ہے اور اس عذاب کی گرفت میں وہ نیکوکار بھی آجاتے ہیں۔
نص قرآنی کے مطابق اس عذاب سے صرف وہ لوگ بچائے جاتے ہیں جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہے‘یعنی خود بھی گناہوں سے رکے رہے اور دوسروں کو بھی روکتے رہے۔البتہ جو خود تورکے رہے ‘ لیکن دوسروں کو نہیں روکا تو وہ بھی عذاب کے اندر گھن کی طرح پس جاتے ہیں۔ چنانچہ سورۃ الانفال میں ارشاد ہوا: {وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّۃًج} (آیت:25)’’اور ڈرو اُس فتنے سے جو تم میں سے صرف گنہگاروں ہی کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے گا‘‘۔یعنی یہ عذاب صرف اُن کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے گا کہ جنہوں نے جرائم یا گناہ کیے‘ بلکہ وہ بے گناہ بھی اس کی لپیٹ میں آجائیں گے جو خاموش رہے‘ جنہوں نے دعوت و تبلیغ نہیں کی اورجنہوں نے اپنی حد امکان تک لوگوں کو برائی سے نہیںروکا ۔ ظاہر بات ہے وہ بھی مجرم شمار ہوں گے اور وہ بھی اس عذاب کی زد میں آجائیں گے۔یہ ہے شہادت علی الناس !
دین کی تیسری چھت اور تیسری منزل کے لیے بھی چاراصطلاحات ہیں دو مکی قرآن میں بیان ہوئی ہیں اور دو کا تذکرہ مدنی قرآن میں ہے۔
(1) تکبیر رب:مکی قرآن میں بیان شدہ پہلی اصطلاح ہے : تکبیر رب! یعنی رب کو بڑا کرو۔ رب کو بڑا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جس جگہ پر اللہ کی بڑائی نہیں مانی جارہی‘وہاں اُس کی بڑائی منوائی جائے۔ جہاں اس کا قانون نافذ نہیں ‘ اور اس کے احکام کے مطابق فیصلے نہیں ہو رہے وہاں اس کا قانون نافذ کیا جائے۔ سورۃ المائدۃ میں دوٹوک انداز میں فرمایا گیا ہے :’’اور جو اللہ کی اُتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہی تو کافر ہیں … وہی تو ظالم ہیں …وہی تو فاسق ہیں‘‘۔(آیات:44،45،47)یہ تو نام نہاد مسلمان ہیں اور انہوںنے اسلام کو صرف مذہب سمجھا ہے ‘لیکن بطور دین اور نظام کے نہیں سمجھا۔ آج پوری زمین پر ایسا کوئی خطہ نہیں ہے جہاں پر اللہ کا پورا دین قائم ہے۔تو دنیا میں اللہ کے دین کو قائم کرنا اور اس کے قانون کو نافذ کرنا تکبیر رب ہے۔
رسول اللہﷺ پر نازل ہونے والی ابتدائی وحیوں میں سے سورۃ المدثر کی ابتدائی آیات بھی ہیں جن میں تکبیر رب کا حکم ہے۔فرمایا:{یٰٓـــاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ(1) قُمْ فَاَنْذِرْ (2) وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ (3)} ’’اے کمبل میں لپٹ کر لیٹنے والے (ﷺ)! اُٹھ کھڑے ہو اور (لوگوں کو) خبردار کرو! اور اپنے رب کو بڑا کرو!‘‘ہم نے سمجھ لیا ہے کہ تکبیر رب کے معنی ہیںاللہ کو بڑا کہنا‘ لیکن تکبیر کے معنی یہ نہیں ہیں۔ تکبیر کے معنی ہیںکسی شے کو بڑا کرنا اور تصغیر کے معنی ہیں کسی شے کو چھوٹا کرنا۔ تکبیر ربّ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی بڑائی مانی جائے اوراس کی حاکمیت دنیا میں بالفعل قائم کی جائے۔ پھر یہ اصطلاح سورئہ بنی اسرائیل کے اختتام پر بھی آئی ہے:{وَکَبِّرْہُ تَکْبِیْرًا} یعنی اسے اس طرح بڑا بنائو جیسے کہ اس کے بڑا ہونے کا حق ہے۔
(2)اقامتِ دین:دین کی تیسری چھت کے حوالے سے یہ دوسری اصطلاح ہے۔ سورۃ الشوریٰ میںاس کا حکم دیا گیا ہے:{اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ ط} (الشوریٰ:13)’’کہ دین کو قائم کرو اور اس میں جھگڑا مت ڈالو‘‘۔ہاں مذہب کی سطح پر اختلاف ہو جائے تو کوئی حرج نہیں۔ نماز میں ہاتھ سینے پر ہوں یا ناف پر یاکھول دیں‘ اس اختلاف پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اسی طرح رفع الیدین کا معاملہ ہے‘جوبھی روایات آپ کو مضبوط معلوم ہوں ان کو اختیار کرلیں‘ کوئی مضائقہ نہیں۔ مذہب کی سطح پر کوئی اختلاف ہو جائے تو وہ قابل قبول ہے ‘لیکن دین کے معاملے میں اختلاف کسی صورت قابل قبول نہیں۔ وہاں اختلاف کریں گے بھی کیسے؟کیا آپ اللہ اور رسولؐ کی اطاعت میں اختلاف کریں گے؟اقامت ِدین کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو لازم پکڑو ‘ اللہ کا قانون نافذ کرو ‘ حدود اللہ کوقائم کرو ‘اور اس میں کسی اختلاف میں نہ پڑو۔ {شَرَعَ لَـکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ ط} (الشوریٰ:13) ’’(اے مسلمانو!) اللہ نے تمہارے لیے دین میں وہی کچھ مقرر کیا ہے جس کی وصیت اس نے نوحؑ کو کی تھی اور جس کی وحی ہم نے (اے محمدﷺ) آپ کی طرف کی ہے‘اور جس کی وصیت ہم نے کی تھی ابراہیم کواور موسیٰ کو اور عیسیٰ (ؑ )کو کہ قائم کرو دین کواور اس میں تفرقہ نہ ڈالو‘‘۔یعنی نوح کا‘ابراہیم کا‘موسیٰ کا‘عیسیٰ (f)کا اور اے محمدﷺ آپ سب کادین ایک ہے‘البتہ شریعتیں مختلف ہیں:{لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْـکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًاط} (المائدۃ:48)’’تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک شریعت اور ایک راہِ عمل طے کر دی ہے‘‘۔دیکھئے شریعت ِموسوی اور شریعت ِمحمد یؐ میں فرق رہے گا‘منہجِ عمل بھی تمام انبیاء ورسل کا ایک سا نہیںہوسکتا‘ لیکن ہمارے لیے منہجِ نبوی کو اختیار کرنا لازم ہے۔
(3) اظھارُ دینِ الحقِّ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ: تیسری چھت یعنی دین کو قائم کرنے کی جدوجہد کے حوالے سے مکی قرآن میں دو اصطلاحات بیان ہوئی ہیں: تکبیر رب اوراقامت دین۔ پھر اس ضمن میں دو ہی اصطلاحات مدنی قرآن میں بھی بیان ہوئی ہیں۔ پہلی اصطلاح ہے: اِظْھَارُ دِینِ الْحَقِ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ!اور یہ قرآن مجید میں تین مرتبہ آئی ہے: {ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَـہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ}(التوبۃ:33‘الفتح:28‘ الصف:9)’’وہی تو ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول(محمدﷺ)کو الہدیٰ اور دین حق دے کر تا کہ غالب کردے اسے کل کے کل دین (نظامِ زندگی) پر‘‘۔یعنی صرف معاشرتی نظام پر نہیں‘ بلکہ سیاسی نظام پر بھی اور معاشی نظام پر بھی اللہ کا دین غالب ہو۔ سود حرام ہے لہٰذا اس کو ختم کرو‘فحاشی اور منشیات کو کمائی کا ذریعہ بنانا حرام ہے‘لہٰذا اس کا سدباب کرو۔یہ جو آج کل ہمارے معاشرے میں بے حیائی کو پھیلا کر اس کے ذریعے سے کمائی کے راستے اختیار کیے گئے ہیںاس سے ہمارا معاشرہ زوال کی جانب تیزی سے گامز ن ہے۔ ہر شے کے اشتہار کے ساتھ عورت کی تصویر ہوتی ہے اوراخبارات میں اشتہارات کی بھرمار ہوتی ہے ۔ پھر فیشن اورشوبز کے نام پر باتصویر رنگین صفحات الگ سے چھاپے جاتے ہیں‘کہ یہ موسم گرما کا انداز ہے‘ یہ موسم سرما کاانداز ہے اور یہ بہار کے رنگ ہیں۔یہ تمام چیزیں نہیں ہونی چاہئیں۔ لہٰذا سارے نظاموں پر اللہ کے دین کو غالب کرنے کی جدوجہد ضروری ہے‘ جس کے لیے قرآن کی جامع اصطلاح ہے : اظہارُ دِینِ الحقِّ علی الدِّین کلہ۔
(4)یَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ:یہ بھی ایک جامع ترین اصطلاح ہے اوریہ سورۃ الانفال میں آئی ہے۔ ارشاد ہوا : {وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَـکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ ج }(الانفال:39)’’اور (اے مسلمانو!)ان (کفار و مشرکین )سے جنگ کرتے رہویہاں تک کہ فتنہ (کفر) باقی نہ رہے اور دین کل کا کل اللہ ہی کا ہو جائے‘‘۔یعنی ان مشرکین اور کفار سے جنگ کرو اور جنگ کرتے رہو‘یہاں تک کہ فساد ‘ فتنہ اور بغاوت بالکل فرو ہوجائے اور نظام پورے کا پورا اللہ کے حکم کے تابع ہو جائے۔اس آیت میں چوٹی کی بات بیان فرمائی گئی ہے‘ اس لیے کہ جہاد کی چوٹی قتال ہے۔
یہ ہے آخری منزل اور اس بارے میں ایک بات نوٹ کرلیجیے کہ سب سے اہم پہلی منزل ہے اور سب سے بلند تیسری منزل ہے۔پہلی اس لیے اہم ہے کہ پہلی منزل ہوگی تو دوسری بنے گی اور دوسری ہو گی تو تیسری بنے گی۔ لیکن بلند ترین آخری منزل ہے‘ جس کے لیے یہ اصطلاحات بیان ہوئی ہیں:تکبیر رب ‘اقامت دین ‘ لِتَکُوْنَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا ‘ اِظھارُ دینِ الحق عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ‘ وَیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ!
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کا صحیح فہم اور اس کے مختلف اجزاء کے باہمی ربط و تعلق کو سمجھنے اور اس کے مطابق اپنے فرائض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے‘ آمین یارب العالمین!