دجال کی عالمی حکومت اور نیوورلڈ آرڈر کی حقیقت(قسط :6 )
رفیق چودھری
بنی اسرائیل نے عہد توڑدیا
موجودہ اُمّت ِ مسلمہ ہو یا سابقہ اُمتیں ہوں سب کے لیے اللہ تعالیٰ کا قانون ایک ہے۔تمام اُمتوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا وعدہ یہی تھا کہ اگر وہ اللہ کے دین پر قائم رہیں گی تو ان سے کیے گئے وعدے پورے ہوں گے ۔ لیکن اگر وہ اللہ کے دین کو چھوڑ دیں تو نہ صرف وعدہ شدہ انعامات سے محروم ہو جائیں گے بلکہ اُن پر عذاب بھی آئیں گے ۔ بنی اسرائیل کی تمام مذہبی کتابیں اس الٰہی قانون کو نہ صرف یہ کہ بار بار بیان کرتی ہیںبلکہ اس کے بار بار نفاذ کے تذکروں سے بھی بھری پڑی ہیں ۔ جب جب بنی اسرائیل، ابراہیم ؑکے دین پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے رہے تب اللہ نےانہیں سرزمین فلسطین میں پناہ بھی دی اور اُنہیں عزت کے ساتھ سلطنت اور حکومت بھی عطا کی لیکن جب جب انہوں نے اللہ کے دین سے سرکشی ، غداری اور بے وفائی کا ارتکاب کیا تب تب اللہ نے انہیں سزا بھی دی اور اس سرزمین سے نکال باہر بھی کیا ۔ مثال کے طور پرمصر سے واپسی کے بعد بنی اسرائیل کو باربار وارننگ دی گئی تھی کہ کنعان کی مشرک قوموں کے ساتھ معاہدے ، دوستیاں اور رشتہ داریاں نہ کرنا اور نہ ہی ان کے دین پر چلنا( 1) :
”جب خُداوند تیرا خُدا تجھ کو اُس ملک میں پہنچا دے گا جس پر قبضہ کرنے کو تُو جا رہا ہے اور تیرے آگے سے بہت سی قوموں کو نکال دے گا۔۔ تو تُو اُن سے عہد نہ باندھنا اور نہ اُن پر رحم کرنا۔ نہ تُو اُن کے ساتھ شادی بیاہ کرنا۔ نہ تُو اپنی بیٹی اُن کے بیٹے کو دینا اور نہ اُن کی بیٹی اپنے بیٹے کے لیے لینا۔ کیونکہ وہ تیرے بیٹے کو مجھ سے برگشتہ کر دیں گی تاکہ وہ اور معبودوں کی عبادت کریں، تب خُداوند کا قہر تم پر بھڑکے گا اور وہ تجھ کو جلد ہلاک کر دے گا۔‘‘(استثنا7، آیات 1 تا 4)
لیکن بنی اسرائیل نے عہد کی خلاف ورزی کی :
” اسرائیلی کنعانیوں ، حتیوں ، اموریوں ، فرزیوں، حویوں ،یبوسیوں کےد رمیان ہی آباد ہوگئے ۔ نہ صرف یہ بلکہ ان قوموں سے اپنے بیٹوں کا رشتہ باندھ کر ان کے دیوتاؤں کی پرستش بھی کرنے لگے ۔ اسرائیلیوں نے ایسی حرکتیں کیں جو رب کی نظر میں بُری تھیں ۔ رب کو بھول کر اُنہوں نے بعل دیوتا اور عشتارات کی پوجا کی ۔ تب رب کا غضب ان پر نازل ہوا ۔“ (قضاۃ 3، آیت 5 تا 8)
عہد یہ تھا کہ اگر بنی اسرائیل اللہ کے دین پر قائم رہیں گے تو انہیں کنعان کی سرزمین میں برکت ، سلطنت اور حکومت عطا کی جائے گی اور باقی قومیں وہاں سے نکل جائیں گی ،لیکن جب بنی اسرائیل نے خود اس عہد کو توڑدیا اور بابل کے انہی دیوتاؤں (بعل اور عشتارات کی پوجا کا آغاز بابل سے ہی ہوا تھا)کی پرستش شروع کر دی جن کی مخالفت حضرت ابراہیمؑ نے کی تھی تو الٰہی فیصلہ صادر ہو گیا کہ کنعان میں پہلے سے جو قومیں آباد ہیں وہ وہاں آباد رہیں گی اور ان کے ذریعے بنی اسرائیل کو آزمایا جائے گا۔ کتاب قضاۃ بیان کرتی ہے :
”جب ہمعصر اسرائیلی سب مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملے تو نئی نسل اُبھر آئی جو نہ اللہ تعالیٰ کو جانتی تھی اور نہ ہی ان کاموں سے واقف تھی جو اللہ نے اسرائیل کے لیے کیے تھے ۔ ان کے اعمال ایسے ہوگئے جو رب کو بہت ناپسندتھے ۔ انہوں نے بعل دیوتا کے بتوں کی پرستش کرکے اپنے اُس رب کو ناراض کر دیا جو اُنہیں مصر سے نکال لایا تھا ۔ اس سے رب کا غضب بھڑکا کیونکہ انہوں نے رب کو چھوڑ کر بعل اور عشتارات کی پوجا کی تھی ۔۔ وہ اپنی شریر حرکتوں اور ہٹ دھرمیوں سے باز آنے کے لیے تیار ہی نہ ہوتے ۔ اس لیے اللہ کو بنی اسرائیل پر بڑا غصہ آیا ۔ اُس نے کہا اس قوم نے وہ عہد توڑ دیا جو میں نے ان کے باپ دادا سے باندھا تھا ۔ یہ قوم میری نہیں سنتی اِس لیے میں ان قوموں کو نہیں نکالوں گا جو یشوع کی موت سے لے کر آج تک اس ملک (کنعان ) میں رہ گئی ہیں ۔ یہ قومیں اسی میں آباد رہیں گی اور میں ان کے ذریعے بنی اسرائیل کو آزماؤں گا کہ وہ اپنے باپ داد کے دین پر چلتے ہیں یا نہیں ۔“ (قضاۃ ، باب 2)
کتاب قضاۃ ، باب 3 میں مزید تفصیل موجود ہے:
”رب نے کئی قوموں کو کنعان میں رہنے دیا ۔ فلستی ان کےپانچ حکمرانوں سمیت ، تمام کنعانی ، صیدانی اور لبنان کے پہاڑی علاقوں میں رہنے والے حوی جو بعل حرمون پہاڑ سے لے کر حمات تک آباد تھے ۔ ان سے رب اسرائیلیوں کو آزمانہ چاہتا تھا کہ یہ میرے اُن احکامات پر عمل کرتے ہیں یا نہیں جو میں نے موسیٰ ؑ کے ذریعے ان کے باپ دادا کو دئیے تھے۔ “ (قضاۃ ، باب 3)
عہد نامہ قدیم میں پوری تفصیل بیان ہوئی ہے کہ بنی اسرائیل کی عہد شکنی کی وجہ سے کبھی مصری بادشاہوں نے اُن پر چڑھائی کی اور کبھی شام کی دوسری قوموں کے ذریعے ان کو سزا دی گئی لیکن یہ پھر بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے تو آخر کار اللہ تعالیٰ نے بابل کے بادشاہ بخت نصر کو ان پر مسلط کرکے سخت سزاد ی جس نے نہ صرف ان کا قتل عام کیا بلکہ ہیکل سلیمانی کو بھی تباہ کرکے سب کچھ لوٹ کر اور لاکھوں یہودیوں کو قیدی بنا کر بابل لے گیا ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس حوالے سے اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی وقت خبردار کر دیا تھا جب سلیمانؑ کے دور میں ہیکل سلیمانی کی تعمیرشروع ہوئی تھی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ پرجو وحی نازل فرمائی تھی اس میں بھی واضح کر دیا گیا تھا کہ اس سرزمین کا وعدہ مشروط ہے :
”لیکن خبردار ! اگر تو مجھ سے دور ہو کر میرے دئیے گئے احکام اور ہدایات کو ترک کرے بلکہ دیگر معبودوں کی طرف رجوع کرکے اُن کی خدمت اور پرستش کرے گاتو میں اسرائیل کو جڑ سے اُکھاڑ کر اُس ملک سے نکال دوں گا جو میں نے اُن کو دے دیا ہے ۔ نہ صرف یہ بلکہ میں اس گھر (ہیکل)کو بھی رد کر دوں گا جو میں نے اپنے نام کے لیے مخصوص و مقدس کرلیا ہے ۔ اُس وقت میں اسرائیل کو تمام اقوام میں مذاق اور لعن طعن کا نشانہ بنا دوں گا ۔ اس شاندار گھر کی بری حالت دیکھ کر یہاں سے گزرنے والے تمام لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے اور وہ پوچھیں گے کہ رب نے اس ملک اور اس ٹمپل کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا ؟ تب لوگ جواب دیں گے اس لیے کہ جورب ان کے باپ دادا کو مصر سے نکال کر یہاں لایا اُسی کو یہ لوگ ترک کرکے دیگر معبودوں سے چمٹ گئے ۔ چونکہ وہ اُن کی پرستش اور خدمت کرنے سے باز نہ آئے ۔ اس لیے اُس نے انہیں اس ساری مصیبت میں ڈال دیا ہے ۔‘‘
(تواریخ دوم ، باب 7 آیات 19 تا 22)
لیکن اس واضح وارننگ کو بھی فراموش کر دیا گیا اور سلیمان ؑ کی وفات کے بعد شرک اور بت پرستی شروع ہوگئی ۔ ملک دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ۔ شمالی ریاست اسرائیل میں بچھڑے، بعل اور عشتارات کی پرستش کے ساتھ دیگر دجالی فتنے بھی اپنے عروج پر پہنچ گئے ۔ نتیجتاً آشوری حکمرانوں کے ہاتھوں اسرائیل ملیا میٹ ہوگیا ۔ جنوبی ریاست یہودہ میں بھی اللہ کی نافرمانیاں عروج پر پہنچ گئیں۔ تب بخت نصر کے حملے اور بابل کی اسیری سے قبل ایک بار پھر اللہ تعالیٰ نے یرمیاہ نبیؑ کے ذریعے یہودیوں کوخبردار کیا :
”اگر تم اپنی راہیں درست کرو، اور سچ بولنے لگو تو میں تمہیں اس جگہ بسا رہنے دوں گا۔“(یرمیاہ 7،آیت 3)
اگر پردیسی اور یتیم اور بیوہ پر ظلم نہ کرو اور اس بیت المقدس میں بیگناہوں کا خون نہ بہاؤ اور غیر معبودوں کی پیروی جس میں تمہارا نقصان ہے نہ کرو تو میں تم کو بیت المقدس اور اس ملک میں بسا رہنے دوں گا جو میں نے تمہارے باپ دادا کو دیا۔(یرمیاہ7، آیات 6اور 7)
” کیا تُم چوری کرو گے، خُون بہاؤ گے، زِناکاری کرو گے ،جُھوٹی قَسم کھاؤ گے اور بعل کے لیے بخُور جلاؤ گے اورغیر معبودوں کی جِن کو تُم نہیں جانتے تھے پَیروی کرو گے اور میرے گھر ( بیت المقدس) میں جو میرے نام سے کہلاتا ہے آ کر کھڑے ہو گے اور کہو گے کہ ہم نے خلاصی پائی تاکہ یہ سب نفرتی کام کرو؟ کیا یہ گھر جو میرے نام سے کہلاتا ہے تُمہاری نظر میں ڈاکُوؤں کا غار بن گیا؟ دیکھ خُداوند فرماتا ہے مَیں نے خُود یہ دیکھا ہے۔“ (یرمیاہ 7، آیات 8تا 11)
لیکن بنی اسرائیل نے نہ تو یرمیاہ نبیؑ کی سنی اور نہ ہی موسیٰ وابراہیم ؑ کے عہد کی پاسداری کی بلکہ ہر وہ کام کیا جس سے یہ تمام عہد ٹوٹ گئے،تب اللہ نے یرمیاہ نبیؑ سے مخاطب ہو کر کہا :
”کیا تُو نہیں دیکھتا کہ وہ یہوداہ کے شہروں میں اور یروشلم کے کُوچوں میں کیا کرتے ہیں؟بچّے لکڑیاں جمع کرتے ہیں ، باپ آگ سُلگاتے ہیں اور عَورتیں آٹا گوندھتی ہیں تاکہ آسمان کی ملکہ (اشتر) کے لیے روٹیاں پکائیں اور غیر معبودوں کے لیے تپاون تپا کر مُجھے غضب ناک کریں۔“ (یرمیاہ7۔ 17، 18)
اللہ تعالیٰ نے یرمیاہ نبیؑ پر واضح کردیا کہ اب یہ قوم معافی کے قابل نہیں رہی :
”اپنے بال کاٹ کر پھینک دےاور پہاڑوں پر جا کر نَوحہ کرکیونکہ خُداوند نے اُن لوگوں کو جِن پر اُس کا قہر ہےرَدّ اور ترک کر دِیا ہے۔اِس لیے کہ بنی یہُوداہ نے میری نظر میں بُرائی کی۔ خُداوند فرماتا ہے اُنہوں نے اُس گھر ( ہیکل سلیمانی)میں جو میرے نام سے کہلاتا ہے اپنی مکرُوہات (بت) رکھّیں تاکہ اُسے ناپاک کریں اور اُنہوں نے تُوفت کے اُونچے مقام بِن ہنُّوم کی وادی میں بنائے تاکہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو(مولک دیوتا کے سامنے) آگ میں جلائیں جِس کا میں نے حکم نہیں دیا اور میرے دِل میں اِس کا خیال بھی نہ آیا تھا۔“(یرمیاہ 7، 29تا 31)
یرمیاہ باب7 میں بنی اسرائیل کے ان تمام گھناؤنے کاموں کی تفصیل کے بعد آخر میں وہ پیشین گوئی موجود ہے جوبخت نصر کے حملے، یروشلم کی بربادی کی صورت میں پوری ہوئی :
” خُداوند فرماتا ہے اب چونکہ تم نے یہ سب کام کیے ، میں نے بر وقت تم کو کہا اور تاکید کی ،پر تم نے نہ سنا اور میں نے تم کو بلایا اور تم نے جواب نہ دِیا۔اس لیے میں اس گھر (ہیکل سلیمانی )سے جو میرے نام سے کہلاتا ہے اور اِس مکان (یروشلم)سے جسے مَیں نے تم کو اور تمہارے باپ دادا کو دِیا وُہی کروں گا جو میں نے سَیلا سے کِیا ہے۔اورمیں تم کو اپنے حضور سے نکال دوں گا جس طرح تمہاری ساری برادری افراہیم کی کل نسل کو نکال دیا ہے ۔ “(یرمیاہ 7۔ 13تا15)
سیلا بنی اسرائیل کا پہلا مرکز عبادت تھا، جہاں خیمۂ اجتماع اور عہد کا صندوق (Ark of the Covenan) رکھا گیا تھا۔ یہ مقام یشوع (Joshua) کے زمانے سے لے کر سموئیل نبی کے دور تک مقدس ترین مقام تھا۔افراہیم کے زمانے میں اس کی برادری دین ِ ابراہیم ؑ کو چھوڑ کر نمرودی دین پر چل پڑی(بعل اور اشتر کی پوجاکی) اورنتیجہ میں بت پرستی اور بے حیائی میں مبتلا ہوئی لیکن اس کے باوجود وہ سمجھ رہی تھی محض ”عہد کے صندوق“کو جنگ میں ساتھ لے جا کر دشمن پر فتح پا لے گی ۔ اللہ نے انہیں سزادی ، عہد کا صندوق بھی چھین لیا گیا اور سیلا کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ۔ اسی طرح بخت نصر کے حملے سے قبل یرمیاہ نبیؑ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے خبردار کیا کہ تمام تر گھناؤنے کام کرنے کے بعد بھی تم لوگ سمجھتے ہو کہ ہیکل سلیمانی کی وجہ سے تم بخش دئیے جاؤ گے یا یروشلم میں آباد رہو گے تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے( 2)۔کتابِ یرمیاہ باب 22 میں اس کی پوری تفصیل ہے اور یہ پیشین گوئی بھی کہ :
”مختلف قوموں سے لوگ اس شہر سے گزریں گے۔ وہ ایک دوسرے سے پو چھیں گے:خداوند نے اس عظیم شہر کو کیوں تباہ کردیا۔اس سوال کا جواب یہ ہو گا، خدا نے یروشلم کو فنا کیا، کیوں کہ یہودا ہ کے لوگوں نے خداوند اپنے خدا کے ساتھ کئے گئے معاہدے کو توڑدیا تھا۔ ان لوگوں نے غیر خدا کی عبادت کی۔“ (یرمیاہ22،آیت 9،8)
586قبل مسیح میںیرمیاہ نبیؑ کی پیشین گوئی پوری ہوئی اور بخت نصر نے یروشلم پر حملہ کرکے ہیکل سلیمانی کو گرا دیا اور لاکھوں یہودیوں کو قتل کیا اور باقیوں کو اسیر بنا کر بابل لے گیا ۔ یروشلم مکمل طور پر تباہ ہوگیا ۔
جنوری 2025ء میں اسرائیلی سوشل میڈیا نے گریٹر اسرائیل کا جو نقشہ جاری کیا اس کے ساتھ بھی یہی تفصیل لکھی ہوئی تھی کہ931قبل مسیح میں سلیمانؑ کی وفات کے بعد مملکت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی: شمال میں مملکت اسرائیل اور جنوب میں مملکت یہودہ۔ شمالی مملکت اسرائیل 209 سال بعد آشوریوں کے ہاتھوں (722 قبل مسیح) اور جنوبی مملکت یہودہ 345 سال بعد بابل کے بادشاہ بخت نصر کے ہاتھوں ختم ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1): موجودہ اُمت کو بھی قرآن مجید میں بار بار وارننگ دی گئی ہے کہ یہود و نصاریٰ سے دوستی نہ کرنا ، نہ ان کے دین پر چلنا مگر مسلم اشرافیہ نے نہ صرف ان سے دوستیاں اور رشتہ داریاں کرلیں بلکہ ابراہم اکارڈز جیسے اسلام دشمن معاہدے بھی کرلیے ۔ لہٰذا اللہ کے اصول کا اطلاق موجود اُمت پر بھی ہورہا ہے ۔یعنی سرزمین موعود پر قبضہ نمرودکے دین پر چلنے والوں کا ہورہا ہے۔
(2):موجودہ اُمت مسلمہ بھی سیکولر ازم ، لبرل ازم ، ماڈرن ازم اور ابراہم اکارڈزوغیرہ کے نام پر دین ابراہیم سے دور ہوتی جارہی ہے ، اسی وجہ سے ہر سال حج اور عمرہ میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور دعائیں کام نہیں آرہیں بلکہ اُمّت کے حالات بدسے بدتر ہو تے جارہے ہیں اور مشرک اور کافر قوموں کا غلبہ بڑھتا چلا جارہا ہے ۔