فتنوں کے زمانہ میں ایمان کی اہمیت اوراُس کی حفاظت کے طریقے
مولانا حفظ الرحمٰن دہلوی
اللہ تعالیٰ کی اس کائنات میں اَن گنت نعمتیں ہیں، ان نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت ایمان کی نعمت ہے، اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ انسان اُس کی نعمتوں کا شکر ادا کرے، اُن کی حفاظت کرے اور اُن کی نعمتوں کے تقاضوں کوصحیح طریقوں سے پورا کرتے ہوئے اس کا اظہار کرے۔ ایمان کا شکر یہ ہے کہ ایک مسلمان اس کی حفاظت کرے اور اُسے اپنے ساتھ قبر تک لے جائے، گویا اپنے اور دوسروں کے ا یمان کی حفاظت کرنا یہ اہم ترین فریضہ ہے، اللہ تعالیٰ نے اس حوالے سے قرآن کریم میں ایمان والوں کو حکم دیا ہے:
{یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ (102)} (آل عمران) ’’اے اہل ایمان! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جتنا کہ اُس کے تقویٰ کا حق ہے‘اور تمہیں ہرگز موت نہ آنے پائے مگر فرمانبرداری کی حالت میں۔‘‘
اور ایمان کا اظہار یہ ہے کہ ایمانی تقاضوں کے مطابق زندگی بسر کی جائے، ایمانی صفات کے ساتھ زندگی گزارنے پر انسان کی دنیا و آخرت کی زندگی کی فلاح اور کامیابی کا دارومدار ہے اورجودنیا میں نافرمانی والی زندگی گزارتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی دنیاکی زندگی تنگ کردیتا ہے اور آخرت میںبھی سخت پکڑ کا سامنا ہوگا۔ کافروں کے بارے میں آتا ہے کہ کافر جب آخرت میں اللہ کے عذاب میں گھرے ہوں گے اور مسلمانوں کو جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا دیکھ کر بارباریہ آرزو اور تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی دنیا میں ایمان لے آتے، بلکہ یہ آرزو تو موت کےوقت سے ہی شروع ہوجائے گی، جب فرشتہ جان نکالنے کے لیے کھڑا ہوگا اور موت کے بعدکے حقائق آنکھوں کے سامنے آجائیں گے، اُس وقت یہ آرزو کریں گے کہ کاش! ہم بھی ایمان والوں میں ہوتے اورآج موت کے بعد جس عذاب میں ہم مبتلا ہیں، اس سے محفوظ رہتے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کافروں کی اِس آرزو کو اس طرح بیان کیا ہے:{رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَ(102)}(ا لحجر) ’’ایک وقت خواہش کریں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔‘‘
اِس آیت کے فوائد کے ضمن میں علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ نے کافروں کی اِس آرزو کے مواقع ذکر کیے ہیں :
1-دنیا و آخرت کا ہر وہ موقع جن میں کافروں کو نامرادی اور مسلمانوں کو کامیابی پیش آئے گی، کفار رو رو کر اپنے مسلمان ہونے کی تمنا اور نعمتِ اسلام سے محروم رہ جانے کی حسرت کریں گے۔
2-موت کے وقت جب عالم الغیب کا مشاہدہ ہوگا۔
3-جب بہت سے مسلمان اپنے گناہوں کے سبب دوزخ میں ہوں گے اور ایمان کی وجہ سے رحمتِ خداوندی کی بدولت جہنم سے چھٹکارہ حاصل کرکے جنت میں چلے جائیں گے۔
دنیا میں انسان اگر کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو کوشش کرتا ہے کہ کچھ مال دے کر اُس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرے، لیکن آخرت میں عذاب سے نجات کے لیے ایمان ضروری ہے، اس کے بغیر نہیں بچاجاسکتا، نہ کسی قسم کی رشوت چلے گی، بلکہ اگرفرض کریں وہاں کسی کے پاس مال ہواور وہ درخواست کرے کہ میرے سے مال لے کر مجھے چھوڑ دیا جائے، تب بھی جان نہیں چھوٹے گی۔ویسے تو ہر زمانے میں ایمان کی حفاظت ضروری رہی ہے، لیکن دورِ جدید میں جہاں ہر طرف مادیت کا ایک سیلاب ہے، ہر طرف سے فتنوں کی یلغار ہے، گویا ہر دن کوئی نہ کوئی فتنہ جنم لے رہا ہے، اِس دور میں نیکی کرنا مشکل ہےتو نیکی کی حفاظت اُس سے زیادہ مشکل ہے، گویا قربِ قیامت ہے کہ انسان کی دلی کیفیت رات دن کے تغیر کے ساتھ تبدیل ہو رہی ہے، مادی دنیا کی حصول کی خاطر اپنے ایمان کو ختم کررہا ہے، اِس کو حدیث شریف میں یوں تعبیر کیا ہے:
’’اعمالِ صالحہ میں جلدی کرو، قبل اس کے کہ وہ فتنے ظاہر ہوجائیں جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے (اور ان فتنوں کا اثر یہ ہوگاکہ )آدمی صبح کو ایمان کی حالت میں اُٹھے گا اور شام کو کافر بن جائے گا، اور شام کو مومن ہوگا تو صبح کو کفر کی حالت میں اُٹھے گا، نیز اپنے دین کو دنیا کی تھوڑی سی متاع کے عوض بیچ دےگا۔ ‘‘(جامع الترمذی)
گویا آج کے اِس پُرفتن دور میں انسان اپنی سب سے قیمتی متاع جس پر آخرت کی کامیابی و فلاح موقوف ہے، دنیا کے چند ٹکوں کی خاطر ضائع کر رہا ہے۔ وہ دنیا جس کی ہرراحت و آسائش اور ہر تکلیف و مشقت کو فنا ہے اور موت کے وقت دنیا کی ہر چیز انسان کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے، دنیا کی نعمتوں کی آخرت کی بیش بہا نعمتوں کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں ہے، اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے یوں بیان کیا ہے:
{بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا (16) وَالْاٰخِرَۃُ خَیْـرٌ وَّاَبْقٰی (17)}(الاعلیٰ) ’’بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔جبکہ آخرت بہتر بھی ہے اور باقی رہنے والی بھی۔‘‘
آج جن فتنوں کا سامنا ہے، ان میں بہت سے تو دین کے نام پر اور اسلامی عنوانات اور شرعی اصطلاحات استعمال کر کے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں، کوئی جدیدیت کے نام پرعقائد کو کھوکھلا اور اعمال کو بےوزن کر رہا ہے، کوئی اکابر و اسلاف سے بےزاری پیدا کر رہا ہے، کوئی قرآنی آیات کی من مانی تشریح کر کے لوگوں کے لیے گمراہی کے اسباب تیار کر رہا ہے، کوئی احادیث کے متفقہ مفاہیم کو بگاڑ کر یہ باور کرا رہا ہے کہ اکابرینِ اُمت نے قرآن و حدیث کی صحیح تفسیر و تشریح نہیں کی اور خود ساختہ مفہوم نکال کر قرآن و حدیث کی تصریحات کی مخالفت کر رہا ہے، کوئی نزولِ مسیح علیہ السلام کا انکارکررہا ہے، کوئی مہدویت کا دعوے دار بن کر اُمت کو گمراہ کررہا ہے، غرض ہر طرف سے فتنہ پرور لوگ مسلمانوں کا ایمان خراب کررہے ہیں اور ایمان کاسودا کرنے پرتلے ہوئے ہیں، یہ اُمّت جتنا دورِ نبوی سے دورہورہی ہے، اتنا ہی فتنوں کے قریب ہورہی ہے۔ فتنوں کا ایک سیلاب ہے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا، ہر ایک کسی نہ کسی شکل میں ان فتنوں کا شکار ہورہا ہے۔
ایک حدیث شریف میں نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:
’’میں دیکھ رہا ہوں کہ (عن قریب) تمہارے گھروں میں فتنے اس طرح برس رہے ہوں گے، جیسے بارش برستی ہے۔‘‘(رواہ البخاری)
فتنہ کسے کہتے ہیں؟
ہر طرح کی آزمائش کو فتنہ سے تعبیر کیا جاتا ہے، مال ودولت کو بھی فتنہ کہا گیا ہے:
{وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌلا} (الانفال:28)’’اور جان لو کہ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد فتنہ ہیں‘‘
گویا ہر وہ چیز جو انسان کو اپنے رب سے غافل کردے فتنہ ہے، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؓ نے فتنہ کی تعریف یہ کی ہے کہ :’’باطل کو حق کی شکل میں کیا جائے، یہاں تک کہ عام آدمی کو حق اور باطل کے درمیان امتیاز کرنا مشکل ہوجائے۔ ‘‘ (تحفۂ قادیانیت جلد: 6 ، ص:310)
فتنے مختلف ہیں، اِس میں سے ایک انسان کا اندرونی فتنہ ہے، جس کی وجہ سے دل میں خرابی کا ہونا اور عبادت میں حلاوت کا نہ ہونا، اِسی طرح کچھ خارجی فتنے ہیں، مثلاً گھر میں، اولاد میں، معاشرے میں فتنوں کا پیدا ہوجانا۔ فتنوں کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں، جن کا ذکر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری ؓ نے بصائر و عبر میں ایک جگہ کیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے:
1-عملی فتنے
عملی فتنےیعنی گناہوں کی مختلف قسموں کا اُمّت میں عام ہوجانا، جیسے :بے حیائی، شراب نوشی، سود خوری وغیرہ، جتنی اِن برائیوں میں کثرت ہوگی، اتنا ہی نیکیوں میں کمی واقع ہوگی اور اِن برائیوں کےاثرات سارے ہی اعمالِ صالحہ پر پڑیں گے۔
2- علمی فتنے
علمی فتنے جو علوم وفنون کے راستے سے آتے ہیں اور ان کا اثر براہِ راست عقائد پر پڑتا ہے، ان فتنوں کے ذریعہ الحاد و تحریف اور تشکیک کو عام کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ایک مسلمان اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ ‘‘
ہر چیز کی حفاظت کے لیے کچھ تدبیریں ہوتی ہیں، جس کےذریعہ اس چیز کی حفاظت کی جاتی ہے، اِسی طرح ایمان کی حفاظت کے لیے کچھ تدبیریں ہیں، جس کے ذریعے ہم اپنے ایمان کو بچاسکتے ہیں :
1-انبیاء کرام ؓ اور صحابہ کرام ؓ کی سیرت کا مطالعہ
انبیاء کرام ؓ کی دنیا میں بعثت کا مقصد ہی ایمان کی دعوت ہوتا ہے اور جس قدر آزمائش اس ایمان کی وجہ سے اُن پر آتی ہے، کسی اور پر نہیں آتی، اسی لیے انہیں ایمان کی سب سے زیادہ فکر ہوتی ہے، حالانکہ ان کا ایمان پر خاتمہ یقینی ہوتا ہے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ سے ایمان پر خاتمہ کی دعا کرتے ہیں، جیسے حضرت یوسفdنے دعا فرمائی:
{فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ قف اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِج}(یوسف:101) ’’اے وہ ہستی جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے‘ تُوہی میرا کارساز ہے‘ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔‘‘
جس چیز کی اہمیت جس قدر زیادہ ہوتی ہے، اس کی تاکید اُسی حساب سے کی جاتی ہے۔ انبیاء کرامf کو ایمان کی فکر ہر چیز سے زیادہ تھی، اس لیے اپنی اولاد کو بھی اِسی کی وصیت کرتے تھے کہ ایمان پر جمے رہنا اور اسی پر مرنا جیسے حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب e نے اپنی اولاد کو وصیت فرمائی تھی :
’’اور اسی کا حکم کر گئے ہیں ابراہیمؑ اپنے بیٹوں کو اور (اسی طرح) یعقوبؑبھی، میرے بیٹو! اللہ تعالیٰ نے اس دین کو تمہارے لیے منتخب فرمایا ہے، سو تم بجز اسلام کے اور کسی حالت پر جان مت دینا۔‘‘(البقرۃ:132)
2-اہلِ حق علماء اور صلحاء کی صحبت اور ان کی مجالس میں شرکت
ایمان کی حفاظت اور اعمالِ صالحہ کی پابندی اور اخلاق کی درستگی کے لیے اللہ والوں کی صحبت ضروری ہے، کیونکہ انسان کے اندر یہ خاصیت ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کے خیالات و حالات سے بہت جلد متاثر ہوتا ہے اور دوسروں کا اثر قبول کرتا ہے، اِسی وجہ سےنیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی دین ِاسلام میں بہت تاکید آئی ہے، اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن کریم میں ایمان والوں کواس بات کا حکم دیا کہ سچوں کی صحبت ا ختیار کرو:
{یٰٓــاَیـُّــہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَO} (التوبۃ)’’اے اہل ِایمان! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سچے لوگوں کی معیت اختیار کرو۔‘‘
نیک لوگوں کی صحبت کا اثر یہ ہوتا ہے کہ انسان اِن کے احترام اور حیاء کی وجہ سے بہت سے گناہوں سے بچا رہتا ہے، بلکہ اہل اللہ کی صحبت‘ حفاظتِ ایمان کا بھی ذریعہ ہے۔
3-اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری اور برائیوں سے بچنا
ایمان کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ شریعت کی کامل پیروی کی جائے اور خلاف شرع امور سے اپنےآپ کو بچایا جائے، کیوں کہ نیکی اور برائی کا اثر انسان کے دل پر پڑتا ہے اور دل کی خرابی کا اثر سارے جسم پر ہوتا ہے، جیسا کہ ایک حدیث آتا ہے:
’’خبردار ! بلاشبہ بدن میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ ٹکڑا صالح رہتا ہے تو تمام بدن میں صالحیت رہتی ہے اور جب اس میں فساد پیدا ہوتا ہے تو پورے جسم کا نظام بگڑجاتا ہے، خبردار! اور وہ ٹکڑا دل ہے۔ ‘‘(صحیح بخاری)
جتنی نیک اعمال کی کثرت ہوگی ایمان میں اُسی قدر مضبوطی ہوگی اور برائیاں جتنی زیادہ ہوں گی ایمان میں اُسی حساب سے کمزوری ہوگی۔ آج ہم لوگ اچھی باتیں پڑھتے ہیں، سنتے ہیں، لیکن ہمارے دلوں پر اُن کا اثر نہیں ہوتا، اِس کی اصل وجہ گناہوں کی کثرت ہے۔
4-تلاوتِ قرآن اور ذکر و اذکار اور دعاؤں کا اہتمام
ایمان کی بقا اور فتنوں سے حفاظت کے لیے روزانہ قرآن کریم کی اور خصوصیت کے ساتھ جمعہ کے روز سورۃالکہف کی تلاوت کا معمول اور صبح شام کےمسنون اذکار، موقع محل کی دعائیں اور ان دعاؤں کے مانگنے کا اہتمام کرنا چاہیے، جس میں ایمان و یقین کی حفاظت اور کفر و ارتداد اور فتنوں سے پناہ مانگی گئی ہے۔
5-فضائل و عقائد اور فتنوں کے متعلق کتابوں کا مطالعہ اور اُن کی تعلیم
دینِ اسلام میں عقائد کی بڑی اہمیت ہے اور آخرت کی نجات عقیدہ کی درستگی پر موقوف ہے، اِس اہمیت کی وجہ سے نومولود کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ ابتدا سے ہی بچہ کو عقیدۂ توحید و رسالت کی تلقین ہوجائےاور جب بچہ بولنا شروع کرے تو پہلی بات جو اُسے سکھائی جائے وہ عقیدۂ توحید پر مشتمل کلمہ ہو، جیسا کہ ایک حدیث میں آپ ﷺنے بچوں کے متعلق یہ تعلیمات دی ہیں کہ: ’’ جب تمہاری اولاد بولنے لگے تو ان کو ’’ لا الٰہ الا اللہ‘‘ سکھاؤ‘‘، جب اس کے اندر کچھ سمجھ بوجھ پیدا ہو تو اس کلمہ کا مطلب اور معنی سکھایا جائے، یہ کلمہ اسلام کے تمام عقائد کو شامل ہے، گویا جو شخص اِس کلمہ کا اقرار کرتا ہے، اس کے لیے ہر اُس بات پر دل وجان سے ایمان لانا فرض ہوجاتا ہے۔آج کل بہت سے مسلمان اپنے بچوں کودینی تعلیم اور اسلامی عقائد نہیں سکھاتے، بلکہ خود بھی اِن سے ناواقف ہوتے ہیں، اس ناواقفیت کی وجہ سے بسا اوقات اسلامی عقائد کاا نکار کر کے اسلام کے دائرہ سے نکل جاتے ہیں۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے اور ہر طرح کے فتنوں سے بچائے، آمین یا رب العالمین بجاہِ سید المرسلین !