(گوشۂ خواتین) غم نہ کر - بنتِ الیقین

9 /

غم نہ کر

بنت الیقین

جب ہم انسانی زندگی پر غور کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ آدمؑ کی اولاد میں کوئی غریب ہو یا امیر‘ تندرست ہو یا بیمار‘ چھوٹا ہو یا بڑا‘ حاکم ہو یا محکوم‘ بااختیار ہو یا بے اختیار اُسے غم سے لازمًا واسطہ پڑتا ہے۔ غم اورخوشی وہ تانا بانا ہیں جن سے انسانی زندگی بُنی گئی ہے۔ کسی کے پاس مسرت کے سامان کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں وہ کسی نہ کسی وقت غم کا شکار ہو کر ہی رہتا ہے۔ حدیث نبویؐ ہے:
’’آدم  ؑ کا بیٹا اس حالت میں بنایا گیا ہے کہ اس کے پہلو میں ننانوے مصیبتیں ہیں ۔‘‘ (رواہ الترمذی)
غم کے اسباب اتنے زیادہ ہیں کہ انسان ایک سے بچ جائے تو کوئی دوسرا اُسے آلیتا ہے۔ دوسرے سے بچا تو تیسرا آدبوچتا ہے۔ تیسرے سے محفوظ ہو تو کوئی چوتھا حملہ آور ہوجاتا ہے۔ کبھی کسی عزیز کی موت نیم جان کر جاتی ہے۔ کبھی بے روزگاری یا قرض کی زیادتی اور آمدنی کی کمی سوہانِ روح بنی رہتی ہے۔ کبھی اپنی یا کسی رشتہ دار کی بیماری‘ درد و الم اور فکر و غم کا شکار بنائے رکھتی ہے۔ کبھی کوئی ذہنی اضطراب ایسی بے کلی میں مبتلا کئے دیتا ہے کہ کسی پل چین نہیں آتا۔ کبھی کسی زبردست کا خوف تو کبھی کسی زیردست کے شکوے جینا حرام کر دیتے ہیں۔ کبھی احسان کرنے والوں کی نشتروں جیسی زبانیں دل کو چھلنی کر دیتی ہیں اور کبھی وہ کہ جن پر احسان کئے گئے تھے‘ ایسی بے مہری اور طوطا چشمی سے کام لیتے ہیں کہ دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کہیں بے اولاد ہونے کا غم تو کہیں کثیر اولاد کی ذمہ داریوں کا بوجھ راتوں کی نیند اڑا دیتا ہے۔ کہیں بچیوں کی شادی کا مسئلہ‘ کہیں رشتے داروں کی بدسلوکیاں‘ کہیں ہمسایوں سے اَن بَن‘ اپنے سے اوپر والوں کے مظالم‘ اپنے سے نیچے والوں کی گستاخیاں غرضیکہ غموں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو چلتا ہی چلا جاتا ہے۔
غم و الم کے اس سمندر میں بہت سے غم اس خاص فتنے سے تعلق رکھتے ہیں جسے ’’اولاد‘‘ کہا گیا ہے۔ جو والدین دنیا کی زندگی میں ہی کھوئے رہتے ہیں‘ انہیں یہ فکر کھائے جاتی ہے کہ کسی طرح بچوں کو دُنیا کا جاہ و مال اور شان و شوکت کے سامان زیادہ سے زیادہ حاصل ہو جائیں‘ اور اگر دینی میلان رکھنے والے والدین ہوں تو اُن کی فکر مندی اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے‘ کیونکہ اُنہیں یہی دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں بچے دین سے دور نہ ہو جائیں۔
اِن لا تعداد غموں میں بہت سے غم وہ ہیں جنہیں اگر ’’خودساختہ غم‘‘ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا‘ جو ہم انسانوں نے اپنے اوپر خواہ مخواہ چسپاںکر لیے ہوئے ہیں۔ کئی ایسے اسبابِ غم ہیں جن کی تہہ میں خود پسندی‘ فخر‘ غرور‘ تکبر‘ حسد‘ کینہ‘ بغض وغیرہ جیسے جذبات کارفرما ہوتے ہیں۔ غرضیکہ غم کے محرکات اَن گنت ہیں۔ لیکن انسان کی بہتری اِسی میں ہے کہ وہ غموں کے آگے سرجھکا دینے کی بجائے اپنے دل کو اِس طرح سمجھاتا رہے کہ ’’لَاتَحْزَنْ ‘‘ (غم نہ کر) ‘ اس لیے کہ: ’’اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا‘‘ (بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے) یا جیسے حضرت یعقوبؑ نے فرمایا تھا: 
{اِنَّمَآ اَشْکُوْا بَثِّیْ وَحُزْنِیْٓ اِلَی اللہِ}(یوسف:86)         
’’ مَیں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں۔‘‘
ایسے ہی جب اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط  ؑ کے پاس پہنچے تو حضرت لوط ؑکو خدشہ پیدا ہو گیا کہ کہیں اُن کی بدکردار قوم مہمانوں کے ساتھ بدتمیزی نہ کرے‘ لہٰذا آپ ؑ{سِیْٓ ئَ بِہِمْ وَضَاقَ بِہِمْ ذَرْعًا}(العنکبوت:33) ’’اُن کی وجہ سے بہت پریشان اور دل میںتنگ ہوا۔‘‘
مگر فرشتوں نے آپ ؑکو تسلی دی کہ { لَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْ قف }  (العنکبوت:33) ’’ آپؑ خوف نہ کھائیں اور نہ آپؑ رنجیدہ ہوں۔‘‘
ایسی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں۔ 
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان غموں سے کیسے دُور رہا جائے۔ جو لوگ دین کے بتائے ہوئے اعمال حسنہ کو اپنانے کی بجائے اللہ اوراُس کے رسولﷺ کی نافرمانی‘ آخرت کی جوابدہی سے لاپروائی‘ باہمی نااتفاقی‘ ظلم و ستم‘ بے حیائی‘ بے صبری‘ علمِ کی نا قدری‘ زندگی سے چمٹے رہنے کی حرص جسے دذائل صفات اپنا لیتے ہیں تو اس کا قدرتی نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ ان کے کردار کمزور ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انسانوں کو ان کے (تمام اعمال کا تو نہیں) بعض اعمال کا نتیجہ اس لیے دکھاتا ہے کہ وہ حقیقت کو سمجھیں اور اُس عقیدۂ صالح کی طرف رجوع کریں جو انبیاءؑ ہمیشہ  سے انسانوں کے سامنے پیش کرتے چلے آئے ہیں۔
جو لوگ دین کے خیر خواہ ہیں اور غم سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں وہ غم کھاتے رہنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ اپنی ساری قوتوں اور وسائل سے کام لے کر ان اسباب کو دُور کرنے کی کوشش کریں جو غم و اندوہ کا باعث بنتے ہیں۔ اس ضمن میں درج ذیل تین رویے نہایت موثر ثابت ہوں گے۔
تزکیۂ نفس اور دعوت دین
غموں سے دُور رہنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ خود دین پر عمل کیا جائے اور پھر اِسے دوسروں تک پہنچایا جائے ۔ اس کے لیے پہلے اپنے نفس کا تزکیۂ کرنا ہو گا‘ جیسا کہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ :’’افضل جہاد نفس کے ساتھ جہاد ہے۔‘‘ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا بھی ہو گا۔ اپنی خواہشات کو کنٹرول کرنا ہو گا۔ اپنے نفس کا محاسبہ ہر لمحہ کرتے رہنا ہو گا کہ مجھ سے ایسا کوئی گناہ یا غلطی نہ ہو جائے جس سے میرا اللہ مجھ سے ناراض ہو جائے۔ اس کے لیے بہت سی قربانیاں دینا ہوں گی اور پھر دوسروں تک حق بات پہنچانے کی حتی الامکان کوشش کرتے رہنا ہو گا۔ دعوت اِلی اللہ کا فریضہ انجام دینا مسلمان کی بنیادی ذِمّہ داری ہے۔ اور ہمیں یہ کام زندگی کے آخری سانس تک کرتے رہنا ہو گا۔ ہمیں اس چکر میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ ان کوششوں کے نتائج کب نکلیں گے‘ خلوصِ دل سے کی گئی کوششیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ جنگ بدر میں جو نیکو کار شہید ہوئے تھے‘ انہوں نے مسلمانوں کی سلطنت قائم ہوتے نہیں دیکھی تھی۔ لیکن وہ کامیاب ترین ٹھہرے۔ لہٰذا دل کو بار بار اللہ کا وہ فرمان یاد دلانے کی ضرورت ہے۔
’’ اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک اُمتِ وسط بنایا ہے‘ تاکہ تم دُنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسولﷺ تم پر گواہ ہوں۔‘‘(سورۃ البقرہ:143) 
اللہ کی رحمت پر بھروسہ
اللہ کی رحمت پر بھروسہ رکھا جائے اور اپنے غم کو اس انتہا پر جانے سے روکا جائے جہاں پر دل شکستگی انسان کو  بے عمل بنا دیتی ہے۔ قرآن میں انسان کا حوصلہ بڑھایا گیا ہے اور تسلی دی گئی ہے: 
{وَلَا تَہِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْاوَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(139)}(سورۂ آل عمران )  ’’اور نہ کمزور پڑو اور نہ غم کھائو‘اور تم ہی سربلند رہو گے اگر تم مؤمن ہوئے۔‘‘ 
 جو انسان سچے دل سے اِن آیات کو پڑھے گا اور عمل کرے گا‘ وہ اپنے مہربان خالق کو اپنے قریب پائے گا۔
ذکرِ الہی‘ دُعا اور توبہ
غموں کے مقابلے میں بہترین ڈھال دُعا اور ذکر ہے۔ دُعا عبادت کا جوہر ہے‘ مومن کا ہتھیار ہے ۔ حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ مایوسی کو دُور بھگانے کے لیے ہر وقت ذکر کرتے رہیں‘ تاکہ شیطان کے ہتھکنڈے ناکام ہو جائیں۔ اِس کے لیے ہم میں سے ہر اِک کو انفرادی طور پر اللہ سے سچی توبہ کرنا ہو گی‘ خلوص دل سے استغفار کرنا ہو گا‘ تاکہ وہ غلطیاں جو پہلے سرزد ہوئیں دوبارہ نہ ہوں۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ اس کے نتائج وہ سامنے آئیں گے جس سے آپ کا دل خوش ہو جائے گا۔ اللہ ہمیں قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔  (آمین)