دل اگر اس خاک میں زندہ و بیدار ہو
عامرہ احسان
ابھی امریکہ اسرائیل کی چھیڑی جنگ پر بلند بانگ اعلانات کے ساتھ ایران سے جنگ بندی معاہدے کی سیاہی پھیکی نہ پڑی تھی، گونج کی بازگشت باقی تھی کہ امریکہ نے دوبارہ ایرانی ساحل پر ڈرون حملہ کر دیا۔ ساتھ ہی ایرانی حملے سے کویت اور بحرین میں فوراً ہوائی سائرن بج اُٹھے! اس مرتبہ بحرین کی رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا۔ اگر چہ اموات نہ ہوئیں۔ کویت نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ گھناؤنی جارحیت ہماری خود مختاری کی مکمل خلاف ورزی ہے۔ تمام علاقائی اور بین الاقوامی امن کی کوششوں کو خاک میں ملانے کے مترادف ہے۔ یاد رہے کہ اسرائیلی اور صہیونی لابی جنگ بندی قبول کرنے پر رضا مند نہ تھی۔ ادھر رہائشی بلڈنگ پر حملہ حرمت والے ماہِ محرم کی بھی نفی ہے۔ گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل۔
یہ لا منتہا سلسلہ ہائے جنگ جو مستقل اُلجھاؤ بڑھانے پھیلا نے پر کمر بستہ طاقتیں بضد ہیں، علاقائی بحران کا آرمیگڈون کی طرف رخ ہے؟ ٹرمپ یورپ کو بھی ملوث کرنا چاہتا ہے…! اسی ضمن میں دھیان بٹانے کو دوسری طرف ورلڈ کپ میں گرم خون جوانیاں مصروف کر رکھی ہیں۔ پچھلے عالمی جنگوں کے تجربات نے انہیں یہ ضرور سکھا دیا ہے کہ اپنے بڑے ممالک درہم برہم کرنے کی بجائے انہیں مصروف رکھوتا کہ وہ مظاہروں کی بجائے خون کا ابال کہیں اور نکالیں۔ معاشی سرگرمی، ڈوبتی امریکی معیشت کا بھی مداوا کر سکے۔ باقی دنیا کالی سکرینوں پر بیٹھی نعرے لگائے۔ اہم ترین کام پسِ پشت چلے جائیں اور نعرہ رائج الوقت عنایت علی خان مرحوم کا استعمال ہو۔ ’ذرا یہ ورلڈ کپ ہولے پھر اس کے بعد دیکھیں گے!‘ سو تصاویر ایسی ہی شائع ہوئیں کہ مسلم ممالک میں غزہ، شام، لبنان یا خلیجی ممالک میں جنگی بربادی کی بجائے نگاہیں فٹ بال پر مرتکز رہیں۔ جبکہ غزہ کا قدیم ترین فٹ بال سٹیڈیم بے دخل فلسطینیوں کی خیمہ بستی ہے، جہاں چمپئن شپ میچ ہوتے تھے اب اسرائیلی ’’چمپینزیوں‘ کے ہاتھوں پناہ گزینوں کے کیمپ ہیں!تفو بر تو! کونوا قردۃ خسئین۔
غزہ پر اسرائیلی حملے تقریباً روزمرہ کی بنیاد پر جاری ہیں۔ ڈرون اور فائٹر جیٹ۔ ظاہری جنگ بندی کے باوجود نہ صرف ٹینٹوں کی کس مپرسی میں بیٹھے نشانہ بن رہے ہیں۔ بلکہ اسرائیل تقسیم کی پیلی لائن آہستہ آہستہ کھسکا کر غزہ کا علاقہ نگل رہا ہے۔ المصدر گاؤں میں 500 میٹر مزید لے چکا ہے ۔ نتین یا ہو کا اعلان ہے کہ دریائے اردن اور سمندر کے درمیان کہیں دو ریاستوں کی گنجائش نہیں ہے۔ساتھ ہی اسرائیل کا فخریہ دعویٰ ہے کہ اس کے فوجیوں نے جنوبی شام میں اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے میں کئی’ مسلح دہشت گرد‘ مار دیئے ہیں۔ نیز وہ یہ سلسلہ جاری رکھے گا، جہاں کہیں بھی خطرہ محسوس کرے گا۔ یہ یو این کا بنایا ہوا محفوظ بفر زون ہے جہاں اسرائیل گھس بیٹھا ہے۔ گولان پہاڑیوں کے ساتھ جس پر اس نے اضافی 90 مربع میل،شام کے اپنے غیر قانونی قبضے میں لے رکھے ہیں۔ بشار الاسد (صرف 7 فی صدمخصوص فرقے کی آبادی کا نمائندہ!) باقی ملک کی اکثریتی آبادی پر 50 سال پہلے باپ حافظ الاسد اور پھر بیٹا بشار الاسد ملک بھر پر قابض رہے۔
عالمی مہاجرین کا دن امریکی سپر پاوری کے بوٹ تلے جب 20 جون 2026 ء کو منایا گیا، تو دنیا بھر میں 117.8 ملین افراد (جنگوں کی بنا پر) مہاجر ہیں۔ جبری بے دخلی میں UNRWA کے تحت لاکھوں فلسطینی بھی مہاجر ہیں۔ افغانستان، شام، سوڈان سے بڑی تعداد بے گھر ہوئی جو رفتہ رفتہ گھر لوٹی۔ شام کی 14سالہ مسلط کی گئی جنگ (بشار الاسد و حمایتیوں کے ہاتھوں) سب سے بڑی مہاجرت کا عذاب ہمراہ لائی۔ ایک تہائی آبادی ملک سے بے دخل ہو گئی۔ ترکی، لبنان، اردن اور جہاں کہیں پناہ ملی جا اٹکی ۔ یہ ایک دن کا قصہ نہیں۔مسلم آبادیاں بالخصوص نشانہ بنائی گئی ہیں۔ یادر ہے کہ گریٹر اسرائیل کی کہانی کا اہم حصہ شام ہے۔ اسرائیل اِسی بنا پر ایران امریکہ مذاکرات اور دھیان بٹائے رکھنے کے پسِ پردہ غزہ تا شام اپنے قدم بڑھاتا چلا جا رہا ہے۔ یہ خوش فہمی نہ رہے کہ 60 روزہ جنگ بندی ہو گئی اور کہانی ختم۔
اب ٹرمپ نیٹو پر شدید ناراض کیوں بیٹھا ہے۔ نیٹو کی ہمرا ہی کیوں، کہاں ضروری ہے جو نیٹو سر براہ ٹرمپ کے شکوے دور کرنے امریکہ گیا ہے؟ گلوبل ’وار لارڈ‘ ایران پر حملے میں ساتھ نہ دینے پر یورپی طاقتوں سے بگڑا بیٹھا ہے۔ جس پر مارک رٹے(Rutte) نے مجبوراً راز ہائے درون خانہ کھول دیئے! کہا کہ 4 تا 5 ہزار امریکی جہاز یورپی اڈوں سے اس جنگ میں پرواز کرتے رہے۔ حتیٰ کہ اٹلی نے 500 جہاز اڑانے کی اجازت دی۔ رومانیہ کو اپنی کمرشل پروازیں کم کرنی پڑیں تا کہ امریکی ٹینکر ایئر پورٹ پر رکھے جاسکیں! ہرمز کے دفاع اور دھما کہ خیز (Mines) بارودی سرنگیں ہٹانے میں بھی یورپی اتحادیوں نے مدد دی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ یورپی قوموں نے کھلے عام اس جنگ میں بھر پور شمولیت سے انکار کیا کہ یہ یورپ کی جنگ نہیں ہے۔ (یوں بھی یورپی عوام غزہ جنگ اور ویسی ہی مزید جنگوں پر نہایت حساس رہے سو یہ یورپ کی مجبوری تھی!) مارک رٹے نے یہ بھی کہاکہ: ’’اس جنگ کی قانونی حیثیت نہ تھی۔ جنگی قوانین کی خلاف ورزی بھی اس جنگ میں ہوتی رہی۔ یورپ نے بات چیت پر زور دیا۔‘ ‘
ایران کو اس بیان پر موقع مل گیا اور فوراً نیٹو پر جنگ میں شراکت کا الزام دیا۔ کہ اس جنگ سے جانی نقصان، شہری تنصیبات اور وسیع تر تیل کا نقصان ہوا۔ ان تمام ممالک کو اپنے عوام اور دنیا کو اس کی وضاحت دینی ہوگی کہ وہ اس جنگ کا حصہ کیوں بنے؟ سو نیٹو میاں ، ٹرمپ کو راضی نہ کر سکے، الٹا جنگ ان کے گلے پڑ گئی! اس کے ساتھ ہی اٹلی میں بھی وزیر اعظم کی شامت آگئی! یورپ کے ایوانوں میں، اپوزیشن اور شہریوں نے بھی سوال اٹھا دیئے۔ اٹلی میں کہا گیا کہ یا تو حکومت ہمیں گمراہ کر رہی ہے یارٹے کو دل کا دورہ پڑ گیا ہے۔ (پہلے تو نہ پڑا تھا اب شاید پڑ جائے!)
سارہ ،نتین یا ہو کی بیوی نے لوگوں کی ہمدردی لینے کو کہا: میرے بچوں پر ذاتی حملے کیے جار ہے ہیں۔ ایک برطانوی نے پوچھا :’کیا تمہارے بچے فاقوں سے مر رہے ہیں؟ کیا ان پربمباری ہوئی؟ کیا تم نے انہیں پلاسٹک کے تھیلوں میں وصول کیا؟ کیا جب وہ پانی حاصل کرنے کی کوشش میں تھے تو ان پر گولیاں چلیں یا اُن کی پسلیاں توڑی گئیں؟ تمہارے مجرم شوہر نے یہ سب غزہ کے بچوں سے کیا!‘ یہ بات 2 ارب مسلمانوں میں سے کسی نے نہ کہی! یہ تو حساس برطانوی نے پوچھا! صرف 77 لاکھ اسرائیلی ہیں اور2 ارب مسلمان انہیں مقدس ترین سرزمین اور اس کی ہیرے موتیوں سے زیادہ قیمتی پرعزیمت قوم کو کچلنے دے رہے ہیں؟ 9 ارب انسان امریکہ کے ٹرمپ کو کھلے عام اور یورپی طاقتوں کو ڈھکے چھپے اسرائیل کی اس خونیں جنگ میں مدد دیتے تماش بین ہیں؟ یہ سارا کھیل دنیا کے حکمرانوں کا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جسے یہ گمان ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ نہ موت آئے گی۔ نہ آگے کوئی پوچھ گچھ احتساب ہوگا۔ ہند رجب، فلسطینی بچی کو 52 ویں بٹالین نے مارا تھا تو 335 گولیاں برسائی تھیں۔ اسلحے کی فراوانی! دو ارب مسلمان شادیوں کی خوشی میں، انتخاب جیت کر ہوائی فائرنگ تو کر سکتے ہیں مگر ان کے اسلحہ خانوں میں وہ گولی ایجاد نہ ہو سکی جو نتین یا ہو، بن گویر، بے ذلیل سمو ٹریچ (یہ اس کا نام ہے، گالی نہیں دی!) کے سینے میں اتر سکتی؟ 20 جون کو اسی 52 ویں بٹالین کا کمانڈر لبنان جنگ میں مارا گیا! کب تلک احتساب سے بچو گے…؟
یورپ بھر میں شدید گرمی، موسمیاتی تبدیلی کے ہاتھوں ریکار ڈشکن ہے! جرمنی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ جرمنی، بلجیم، نیدرلینڈ، سپین، فرانس میں گرمی سے اموات بڑھ گئیں۔ اس شدت سے صحت، ماحولیاتی، حیاتیاتی نظام پر، زراعت اور لیبر پر اثرات مرتب ہوں گے۔ سوئٹزرلینڈ میں نیوکلیئر پاور پلانٹ بند کر دیئے گئے۔ ریل سروس کولون تا پیرس بند ہو گئی۔ قومی کلچرل تماشے روکنے پڑے۔ اب سوائے سر پر پانی ڈالنے کے اور تفریح ممکن نہیں۔ گرم جسم کے ساتھ ٹھنڈے پانی میں کو دنا بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ پیرس میں پریڈ مارچ روک دی گئی۔ جاؤ اب اسرائیل کو بم بھیجو اور بم پھاڑو۔ مکافاتِ عمل تو ہوگا۔ اللہ ہوش عطا فرمائے۔ الحمد للہ یورپ میں باضمیر افراد کی بھی کمی نہیںجنہوں نے نظامِ دنیا درست کرنے کو ان جنگی سالوں میں بے پناہ قربانیاں دیں جب ہمارے بڑے بڑے دم سادھے بیٹھے تھے۔ اللہ نے بہتوں کو ایمان سے بھی نوازا۔ دل کی زندگی مطلوب ہے مشرق میں ہو یا مغرب میں!
دل اگر اس خاک میں زندہ و بیدار ہو
تیری نگہ توڑ دے آئینۂ مہر و ماہ