(دعوت غوروفکر) ...خداؤں کی زد میں ہوں! - شوکت اللہ شاکر

9 /

...خداؤں کی زد میں ہوں!

شوکت اللہ شاکر

فاروق روکھڑی کا یہ شعر :
ابلیس! تیری ایک خدا سے نہ بن سکی
مجھ کو بھی دیکھ کتنے خداؤں کی زد میں ہوں
محض ایک شعری تخیل نہیں بلکہ ایمان کی دنیا میں اترنے والا ایک گہرا، جھنجھوڑ دینے والا سوال ہے:
یہ شعر ابلیس کی ناکامی، اس کی مردودیت اور راندۂ درگاہ ہونے کو محض ایک تاریخی واقعہ بنا کر پیش نہیں کرتا، بلکہ اسے ہر اُس شخص کے سامنے ایک زندہ اور روشن آئینے کی صورت رکھ دیتا ہے جو ایمان کا داعی ہو، شعوری طور پر خود کو سچا مومن سمجھتا ہو، اور بالفعل اقامتِ دین کی جدوجہد میں اپنی آزاد مرضی سے ایک قافلے کا راہی اور شریک بن چکا ہو۔
ابلیس اللہ تعالیٰ کے ایک ہی حکم پر ٹھوکر کھا گیا۔ اس کی سرکشی واضح تھی، اس کا استکبار نمایاں، اور اس کی حکم عدولی اعلانیہ۔ اس نےآدم  ؑ کو سجدے سے انکار کیا اور ہمیشہ کے لیے مردود ٹھہرا۔ اس کے مقابلے میں ایمان کا دعویٰ رکھنے والا انسان خصوصاً وہ جو اقامتِ دین کے عظیم مقصد کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے،اس کی آزمائش کہیں زیادہ نازک، باریک اور طویل ہوتی ہے۔ وہ پورے شعور اور یقین کے ساتھ اعلان کرتا ہے:
{اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(162)}(الانعام)’’ بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔‘‘
گویا دل کی گہرائیوں سے یہ عہد دہراتا ہے:  ؎
میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
میں اسی لیے مسلماں،میں اسی لیے نمازی
وہ اللہ کی پکار پر لبیک کہہ دیتا ہے، بہت سے ظاہری دنیاوی کام، دھندے اور سہولتیں چھوڑ دیتا ہے، مگر اصل امتحان اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اقامتِ دین کی جدوجہد کے تقاضوں کو پورا کرنے کے سفر میں قدم قدم پر رکاوٹیں حائل ہو جاتی ہیں۔ یہی وہ نازک مرحلہ ہے جہاں دل ایک شدید اور دردناک کشمکش میں مبتلا ہو جاتا ہے، جیسا کہ شاعر نے کہا:  ؎
ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
یہ کشمکش دراصل ایک طرف دین کے مطالبات اور دوسری طرف دنیا کے تقاضوں کے درمیان فیصلہ کن معرکہ ہے۔ یہ وہ کڑا امتحان ہے جہاں بہت سے لوگ لغزش کھا جاتے ہیں۔ اگر اس مقام پر کوئی شخص دنیاوی تقاضوں کو دین پر مقدم کر لے تو گویا وہ عملاً اپنے دعوائے ایمان سے منحرف ہو جاتا ہے۔ زبان پر تو لا إلٰہ إلا الله باقی رہتا ہے، مگر عمل میں خواہشِ نفس، مفاد، آسائش اور مصلحت اس کے معبود بن جاتے ہیں۔
قرآنِ کریم اس خطرناک حقیقت کو پوری وضاحت کے ساتھ یوں بے نقاب کرتا ہے:
{اَفَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہٗ ہَوٰىہُ}(الجاثیہ: 23) ’’کیا تم نے اسے دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا؟‘‘
آج کا المیہ یہی ہے کہ ہم بیک وقت کئی خداؤں کی زد میں ہیں۔ مال و دولت، کاروبار، دکان، دفتر، ادارہ، ملازمت، بیوی بچے اور معاشی ذمہ داریاںیہ سب اگر اللہ  کی اطاعت کے تابع نہ رہیں تو آہستہ آہستہ ہمارے پاؤں کی بیڑیاں بن جاتی ہیں۔ ہم سجدہ تو اللہ کو کرتے ہیں، مگر فیصلے ان زمینی خداؤں کے اشاروں پر کرنے لگتے ہیں۔
حالانکہ سچا انقلابی وہی ہے جو اللہ کی پکار پر لبیک کہہ کر واقعی اسی کا ہو جائے۔ جو یہ حقیقت سمجھ لے کہ دین کا کام دنیاوی امور کو مقدم رکھ کر نہیں، بلکہ دین کو مقدم رکھ کر ہی انجام دیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے کام اگر دین کے تابع ہوں تو نعمت بن جاتے ہیں، اور اگر دین پر حاوی ہو جائیں تو یہی سب سے بڑی آزمائش بن جاتے ہیں۔
ان زمینی خداؤں کے شکنجے سے نکلنے کا راستہ ایک ہی ہے، جسے علامہ اقبال نے ہمیشہ کے لیے امر کر دیا:  ؎
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
یعنی وہ ایک سجدہ جو صرف اللہ کے لیے ہو، جو ہر خوف، ہر مفاد اور ہر خواہش سے آزاد ہووہی انسان کو ہزاروں جھوٹے سجدوں سے نجات دیتا ہے۔ 
اقامتِ دین کی جدوجہد دراصل اسی اخلاص، اسی توحید اور اسی یکسوئی کا نام ہے۔
اگر اقامتِ دین کا راہی دین کے کام کو دنیاوی کاموں پر ترجیح دے، دین کو مقدم رکھے، اور دنیا کے کاموں کو دین کے تابع کر دے،بلکہ اگر دین کے لیے دنیا کی کچھ قربانی بھی دینی پڑے تو خوش دلی سے دے۔تو پھر واقعی اُسے یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ پورے شعور اور یقین کے ساتھ ابلیس کو للکار کر کہہ سکے:
ابلیس! تیری تو ایک خدا سے نہ بن سکی ، اور میں زمینی خداؤں کی زد میں رہ کر بھی ایک اللہ کا ہی ہو کر رہا۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں اخلاصِ نیت، توحیدِ خالص اور دین کو ہر شے پر مقدم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا ربّ العالمین!