(نقطۂ نظر) بوجھ - ابو موسیٰ

9 /

بوجھ

ابو موسیٰ

چند ہفتے قبل مشہور و معروف صحافی سہیل وڑائچ کے ایک کالم سے جو ’’ایوانِ شریف‘‘ پر زلزلہ طاری ہو گیا تھا اُس کے زوردار جھٹکے اب بھی محسوس کیے جا رہے ہیں جس پر بعض وزراء نے چیخ و پکار کی تو صحافی نے ایک اور کالم لکھ مارا جس میں طنزیہ انداز میں اپنے خیالات کی کچھ یوں تردید کی ’’مجھ سے بھول ہوگئی‘‘ اِس تردید میں اپنی صحافتی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُنہوں نے اپنے سابقہ کالم کی مزید تصدیق کر دی۔ پھر نہلے پہ دہلا فیصل واوڈا نے مارا جنہیں میڈیا میں مقتدر حلقوں کا ترجمان سمجھا جاتا ہے۔ اُنہوں نے ایک ٹیلی ویژن چینل پر شریف خاندان کی مرکزی اور پنجاب کی صوبائی حکومت پر تابڑ توڑ حملے کیے۔ اُنہیں نااہل، نکما بدعنوان اور نجانے کیا کچھ کہہ ڈالا۔ توقع تھی کہ شریف فیملی واوڈا کو منہ توڑ جواب دے گی لیکن ایسا نہ ہوا۔ وجہ صاف ظاہر ہے کیونکہ سنگین اور بے تحاشا الزام لگانے والا طاقتوروں کا لاڈلا ہے۔ حالانکہ چند ماہ پہلے ایک صحافی محض ایک خبر دہرانے پر اُٹھا لیے گئے تھے بعدازاں صحافیوں کے شدید احتجاج پر اُن کی خلاصی ہوئی۔
خبریں کچھ اِس طرح کی ہیں کہ ’’ایک پیج‘‘ پرزے پرزے ہوگیا ہے۔ وجہ اُس کی یہ بتائی جا رہی ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے خلاف کامیاب عدم اعتماد کے بعد طے یہ ہوا تھا کہ مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پر مشتمل حکومت بنائی جائے گی جس کے ذِمّہ یہ لگایا تھا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی سیاست دفن کر دی جائے گی اور اُن کی جماعت تحریک انصاف کو پارہ پارہ کیا جائے گا۔ عوام کو مہنگائی سے نجات دلائی جائے گی اور ملکی معیشت کو مضبوط کیا جائے گا۔ حکومت کو مقتدرہ کی مکمل پشت پناہی اور سرپرستی حاصل رہے گی اور حصولِ ہدف میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دی جائے گی۔ پھر جو کچھ اِس بھان متی کے کنبہ کی حکومت کو چلانے کے لیے کیا گیا وہ حکومت کے لیے بھی غیر متوقع تھا۔ اُدھر ایک عجب معاملہ یہ ہوا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی حکومت جو اپنے آخری دنوں میں بُری طرح عدم مقبولیت کی شکار تھی اُس کے یوں نکالے جانے پر راتوں رات انقلاب آگیا۔ خیال یہ تھا کہ اِس غیر مقبول حکومت کے دیس نکالے پر لوگ شکرانے کے نفل ادا کریں گے لیکن اُسی رات پاکستان بھر میں اور خاص طور پر پنجاب میں لوگوں نے اپنی چھتوں پر چڑھ کر گن پوائنٹ پر کیے گئےعدم اعتماد کے خلاف بھرپور مظاہرہ کیا یہ ایک غلط قدم پر عوامی ردِعمل تھا۔ پھر یوں ہوا کہ اُس روز سے آج تک بانیٔ پی ٹی آئی کی مقبولیت کسی سپر سونک طیارے پر سوار آسمان کی طرف بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ خاص طور پر پنجاب میں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ پنجاب ایک میدانی علاقہ ہے لہٰذا پنجاب کی عوام کے لیے بہادری کا اظہار کوئی ایسا آسان نہیں لیکن پنجابی بہادر لیڈروں کو بہت پسند کرتا ہے۔ شنید یہ ہے کہ 4 اگست 2023ء کو حکمرانوں نے بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات کی اور اُسے ملک چھوڑنے کا کہا گیا۔ جس کے لیے اُسے بہت سی ترغیبات بھی دی گئیں لیکن اُس نے’’ہر گز نہیں‘‘ کہہ دیا، جس پر اگلے دن 5 اگست کو اُسے گرفتار کر لیا گیا اور اُس پر 300 مقدمات دائر کر دیئے گئے۔ خصوصی عدالتوں سے بعض الزامات کی بنیاد پر سزائیں بھی دلا دی گئیں لیکن حکومت عام عدالتوں میں یہ مقدمات چلانے سے بوجوہ گریزاں ہے۔
بہرحال عدالت کو فیصلے کے لیے کچھ شہادتیں، کچھ ثبوت چاہیے ہوتے ہیں جو اب تک فراہم نہیں کیے جاسکے۔ البتہ 1973ء کے آئین کو تہس نہس کرتے ہوئے عدلیہ جو پہلے ہی عالمی سطح پر کسی اچھی پوزیشن پر نہ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کالعدم ہوگئی، ضمیر کی آواز پر کان دھرنے والے جج دربدر ہو رہے ہیں اور خود عدل کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ تحریک انصاف کو تتر بتر کرنے میں بھی کافی حد تک کامیابی حاصل ہوگئی گویا شہباز شریف حکومت کے لیے ایسا میدان صاف تھا جیسا پہلے کسی سویلین حکومت کے لیے نہیں ہوا ہوگا۔ تحریک انصاف نے احتجاج کی کوششیں کیں تو طاقتور حلقوں کی مدد سے اُن کی ایسی ٹھکائی کی گئی کہ کئی کارکنوں کی نسلیں تائب ہوگئیں گویا گلیاں سنسان ہوگئیں اور شہباز حکومت کا ڈنکا بج رہا تھا۔ کسی کے سامنے آنے یا مقابلہ کے لیے اترنے کا کوئی تصور ہی نہ رہا۔ البتہ بانیٔ پی ٹی آئی کا تمام جزا و سزا کی ترغیبات کے باوجود جیل میں ڈٹا رہنا اور عوام کے قلوب و اذہان میں رچ بس جانا موجودہ حکومت کے لیے بڑا مسئلہ تھا۔ قیدی نمبر 804 کے نعرے بہت بڑا مسئلہ پیدا کر رہے تھے یہ ذہنی اور فکری معاملہ تھا جسے کسی صورت جبر اور تشدد سے ختم نہیں کیا جا سکتا تھا۔
قصۂ کوتاہ حالات بتا رہے ہیں کہ طاقتور حلقوں کومرکز اور پنجاب کی شریف حکومتوں سے سخت شکوہ پیدا ہوگیا کہ اِن کے لیے کیا کچھ نہیں کیا گیا لیکن اُنہوں نے کسی بھی میدان میں اپنی کارگزاری نہیں دکھائی اور عوام میں جو ردِعمل ہے اور بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ وہ صرف شریفوں کی حکومتوں کے خلاف نہیں بلکہ اُن کے لانے اور فارم 47 کے ذریعے عوام کے سروں پر مسلط کرنے والوں کے خلاف بھی ظاہر ہو رہا ہے۔ طاقتور حلقوں کے لیے ایک انتہائی اہم سوال کھڑا ہوگیا کہ اِن ’’شرفاء‘‘ کے لیے کیا کچھ نہیں کیا گیا لیکن وہ ڈلیوری کے حوالے سے مکمل طور پر ناکام رہے جس سے طاقتوروں کو بدنامی مل رہی ہے تو کیوں نہ ایسی نکمی اور نااہل حکومت سے چھٹکارا حاصل کرکے کوئی ایسا بندوبست کیا جائے جس سے عوام کو ریلیف ملے اور عوام کابانیٔ پی ٹی آئی سے دھیان ہٹے۔
راقم کے نزدیک ’’شرفاء‘‘ کی مرکزی اور پنجاب کی حکومت ختم کرنے کی اِس کے علاوہ کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ راقم کو طاقتور حلقوں سے جتنا بھی اختلاف ہو یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اُن کا یہ اعتراض صد فی صد درست ہے۔ قارئین سوچیں اور اپنے ذہن پر زور دیں کہ موجودہ حکومت اِن چار سالوں میں عوام کی فلاح و بہبود کا اور اُنہیں ریلیف دینے کے حوالے سے کوئی ایک کام بھی کر سکی ہے اِس کا جواب واضح نفی میں ہے۔ عوام کے لیے سب سے اہم اُن کا روزگار ہوتا ہے۔ اِس حوالے سے حکومتی کارکردگی پر تبصرہ کرنے کے لیے راقم، جب سے یہ حکومت آئی ہے، آج تک اِس کی معاشی پالیسیوں اور کارکردگی پر تبصرہ کرے گا جس میں موجودہ بجٹ بھی ہے۔
2022ء میں جب شہباز شریف صاحب وزیراعظم بنے تو پاکستان پر کُل قرضہ 34000 ارب تھا، 6.02 G.D.P تھا، ڈالر 176.74 روپے تھا۔ آج ڈالر کا ریٹ 280 روپے سے 290 روپے کے درمیان ہے۔ G.D.P کم ترین سطح پر آگیا تھا۔ اب کہیں اُس میں بہتری آئی ہے اور 3.5 کے لگ بھگ ہے۔ قرضہ 4 سال میں 85000 ارب تک پہنچ گیا ہے۔ قرض کی تاریخ اگر 1958ء سے شروع کی جائے تو 2022ء تک چونسٹھ (64) سال میں 34000 ارب یعنی 2000 ارب روپے سے کچھ زائد سالانہ اضافہ بنتا ہے اور گزشتہ 4 سال میں یعنی 2022ء سے 2026ء تک 4 سال میں 34000 ارب سے 85000 ارب تک پہنچ گیا یعنی 4 سالوں میں 51000 ارب بڑھ گیا۔ گویا سالانہ بڑھوتی ساڑھے بارہ ہزار (12500) ارب ہوگئی اتنا ناقابل یقین قرضہ بڑھنے کے باوجود اِن چار سالوں میں نہ صرف نئی انڈسٹریز نہ لگ سکیں بلکہ کئی انڈسٹریز بند ہوگئیں اور بہت سے سرمایہ کار دوسرے ممالک میں چلے گئے گویا ترقی معکوس واضح طور پر سامنے آئی۔ SIFC کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا جسے بیرون ملک سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ایک اخباری اطلاع کے مطابق وزیراعظم صاحب نے اِن 4 سالوں میں 300 غیر ملکی دورے کیے یہاں تک کہ اُن کے بارے میں مشہور ہوگیا کہ وہ کبھی کبھی پاکستان کا دورہ بھی کرتے ہیں اِن دوروں پر بے شمار زرمبادلہ خرچ ہوا۔ اِس رقم کی تفصیل حاصل نہیں کی جا سکی لیکن نہ SIFC اور نہ وزیراعظم کے اُن پُرتعیش دوروں سے ایک پھوٹی کوڑی بھی بیرونِ ملک سے بطور سرمایہ ملک میں آسکی۔ البتہ سعودی عرب سے دفاعی معاہدے کے نتیجہ میں سعودی عرب کے پہلے سے موجود 3 ارب ڈالر کے علاوہ 5 ارب ڈالر بطور امانت پاکستان کے خزانے میں آگئے۔ اِس سے IMF کا ایک مطالبہ پورا ہوگیا کہ پاکستان کے خزانے میں اتنی رقم ہونی چاہیے اِس امانت پر ہم سعودی عرب کو 6% سالانہ سود ادا کرتے ہیں۔ یہ تھی پاکستان کی تباہ شدہ معاشی صورتِ حال اِس پس منظر میںموجودہ حکومت نے اپنا پانچواں بجٹ پیش کیا جس میں اگرچہ چند ایک اچھی باتیں ہیں مثلاً تنخواہ داروں پر انکم ٹیکس کا بوجھ کم کیا گیا ہے۔ تاجروں اور صنعت کاروں کو کچھ ریلیف دیا گیاہے۔ چھوٹے تاجروں کو فکس انکم ٹیکس لگا دیا گیا ہے تاکہ وہ FBR کی چیرہ دستیوں سے بچ سکیں لیکن بحیثیت مجموعی یہ عام آدمی کے لیے ڈراؤنا اور خوفناک بجٹ ہے۔
حیرت کی بات ہے کہ وزیراعظم صاحب سے یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ 8367 روپے آمدن والا آدمی غریب نہیں ہوتا۔ حقیقت میں جس بین الاقوامی مہاجن نے ہمارے ہاتھ پاؤں باندھے ہوئے ہیں اور ہمیں زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے، وہ ہر وقت ہمارے سر پر سوار رہتا ہے۔ پرانے زمانے کے مہاجن کا معاملہ یہ تھا کہ اگرچہ اُس کی شرح سود زیادہ ہوتی تھی لیکن اُسے کوئی غرض نہیں ہوتی تھی کہ مقروض کیسے اور کہاں اِس قرض کی رقم خرچ کرے گا لیکن یہ ماڈرن مہاجن لاٹھی لیے ہر وقت ہمارے سر پر کھڑا رہتا ہے اور dictate کرتا ہے کہ کہاں تم یہ قرض کی رقم خرچ کر سکتے ہو اور کہاں نہیں کر سکتے۔ مثلاً پاکستان کاپٹرول کا ماہانہ بل 2.27 ملین ڈالر ہوتا ہے جس کی ادائیگی سے خزانے پر زلزلہ آجاتا ہے پٹرول سے فضائی آلودگی کا مسئلہ بھی کھڑا ہو جاتا ہے۔ چین نے اپنی پوری توجہ اِس طرف مبذول کی ہوئی ہے کہ الیکٹرک گاڑیاں اور ٹرک تیار کرے۔ ضرورت اِس امر کی تھی کہ اِن الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس کم کیا جائے تاکہ پاکستان میں پٹرول کے اتنے بڑے بل میں زیادہ سے زیادہ کمی کر سکے لیکن IMF نے الیکٹرک وہیکلز پر ٹیکس کم کرنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ اِس سے پاکستان کے ساتھ ساتھ امریکہ کے دشمن چین کو بھی فائدہ پہنچنا تھا۔ ہم نے یس سر کہہ کر یہ ٹیکس کم نہیں کیا۔ گویا ہم پٹر ول کا بھاری بل بھی ادا کرتے رہیں گے اور پاکستان کی فضاؤں کو آلودہ بھی کرتے رہیں گے۔
بجٹ میں تنخواہ اور پنشن میں 7% اضافہ کیا گیا جبکہ مہنگائی بے قابو ہوتی جا رہی ہے۔ دفاعی بجٹ بڑھایا گیا ہے جس کی مخالفت نہیں کی جا سکتی لیکن سیاسی عدم استحکام مسلسل سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ بیکری کی اشیاء اور گھریلو استعمال کے مصالحوں پر 18% جی ایس ٹی لگا دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں بجٹ میں 150 ارب کے نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں جن میں انسانی بنیادی ضروریات کی اشیاء بھی شامل ہیں مثلاً گھی، خوردنی تیل اور یہ فہرست اتنی طویل ہے کہ تحریر بہت پھیل جائے گی اِس سب کچھ کے باوجود حسبِ معمول حکومت کا دعویٰ ہے کہ غریب آدمی متاثر نہیں ہوگا۔ قصۂ کوتاہ معاشی طور پر ملک آگے بڑھنے کی بجائے پسپائی پر ہے حکومت کی کوئی واضح اور مثبت معاشی پالیسی سامنے نہیں آئی۔ البتہ زبانی دعوؤں میں ہر آن زمین و آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں۔ عوام گزشتہ چالیس سال سے ایک ہی قسم کے نعرے اور دعوے سن کر تنگ آچکے ہیں عوام اب اِن دعوؤں کو الفاظ کی شعبدہ بازی قرار دیتے ہیں اور سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ راقم کے نزدیک ’’شرفا‘‘ کی حکومت مرکز میں ہو یا پنجاب میں چونکہ بانیٔ پی ٹی آئی کے حوالے سے کوئی بیانیہ بنانے میں بُری طرح ناکام ہوئی ہے۔ لہٰذا مقتدرہ کے نزدیک اُن کی اصل ناکامی یہ ہے اور یہ ناقابلِ معافی جرم ہے۔ مقتدرہ سمجھتی ہے کہ خراب کارکردگی حکومت کی ہے اور نزلہ فوج پر گرتا ہے عوام سمجھتی ہے کہ ایسی حکومت فارم 47 کے ذریعے لائی گئی ہے۔ لہٰذا مقتدرہ سے بھی بُعد پیدا ہونا منطقی بات تھی۔ مقتدرہ کے مطابق حکومت کی ناکامیوں کا ملبہ اُس پر گِر رہا ہے لہٰذا اب وہ اِس سے نجات حاصل کرنا چاہتی ہے لیکن مقتدرہ کے معاملات چونکہ بانیٔ پی ٹی آئی سے بھی طے نہیں ہو رہے۔ لہٰذا معاملہ فی الحال ملتوی ہوتا جا رہا ہے۔ قارئین یہ بات بھی نوٹ کریں کہ امریکہ اسرائیل اور ایران کی جنگ بندی کے حوالے سے جو پاکستان نے نیک نامی کمائی اور دنیا بھر میں پاکستان کا نام سامنے آیا ہے۔ اُس میں بھی عالمی سطح پر خاص طور پر امریکہ براہِ راست معاملہ آرمی چیف عاصم منیر سے کر رہا ہے اور حکومت کو ignore کر رہا ہے۔ امریکہ کے نائب صدر J.D.Vance کا یہ کہنا کہ اُن کا بھارت سے تعلق اُن کی بیوی کی وجہ سے ہے اور پاکستان سے تعلق عاصم منیر کی وجہ سے معنی خیز ہے۔ اِس کی ایک وجہ یقیناً یہ بھی ہے کہ وزیراعظم صاحب نے ساری دنیا کے سامنے ٹرمپ کی تعریف و توصیف ہی نہیں بے جا چاپلوسی اور عجیب و غریب حرکات کیں۔ اُس سے وزیراعظم پاکستان کے عہدہ کی بے حرمتی ہوئی۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ وزیراعظم صاحب کے اِس طرز عمل پر ٹرمپ نے میڈیا کے سامنے کہا تھا کہ جو کچھ میرے سامنے کہتے ہو میری بیوی کے سامنے بھی کہو یہ پاکستان کے لیے بہت توہین آمیز جملہ تھا۔ بہرحال سیاسی عدم استحکام اور معاشی گراوٹ کی وجہ سے ’’شرفا‘‘ کی دونوں حکومتیں اسٹیبلشمنٹ پر بوجھ بن گئیں ہیں جسےاتارنا اب اُن کی مجبوری بن گئی ہے۔بہرحال دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام، کشمیر میں روزبروز بڑھتی ہوئی عوامی تحریک، گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات پر ردِعمل اور نہ جانے کتنے داخلی اور خارجی مسائل میں گھرے ہوئے پاکستان کے عوام کو اِس بجٹ سے مزید تکالیف اور پریشانی میں دھکیل دیا گیا ہے اللہ ہمارے گناہوں کو معاف کرے اور پاکستان پر رحم فرمائے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم اِس پر سنجیدگی سے غور کریں کہ ہماری زبوں حالی کے کیا اسباب ہیں۔