(منبرو محراب) واقعۂ کربلا سے حاصل ہونے والے 10 اسباق اور فریضۂ شہادت کا لائحہ عمل - ابو ابراہیم

9 /

واقعۂ کربلا سے حاصل ہونے والے

10 اسباق اور فریضۂ شہادت کا لائحہ عمل

(قرآن و حدیث کی روشنی میں)


مسجدجامع القرآن ، قرآن اکیڈمی ڈیفنس کراچی میں امیرِ تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے26جون 2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص

مرتب: ابو ابراہیم
 
خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
فریضۂ شہادت کو ادا کرنا اُمّت ِمسلمہ کی ذِمّہ داری ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ اور آپؐ کےصحابہؓ نے پوری زندگی اِس فریضہ کو ادا کیا اور اسی ذِمّہ داری کو ادا کرتے ہوئے سیدنا عمر بن الخطاب ، سیدنا عثمان غنی ، سیدنا علی اور دیگر ہزاروں صحابہ کرام ؓ شہید ہوئے اور اسی ذِمّہ داری کو ادا کرتے ہوئے 10 محرم کو سیدنا حسین؄ نے بھی شہادت پیش کی۔ آج کی نشست میں ہم شہادتِ سیدنا حسین؄ سے حاصل ہونے والے 10 اسباق اور فریضۂ شہادت کے لائحہ عمل پر بات کریں گے ۔ ان شاء اللہ
سبق1 : خلافت کے قیام اور دفاع کی فرضیت :
اللہ کے دین کو قائم کرنے کی جدوجہد کرنا اور جب یہ قائم ہو جائےتو پھر اس کا دفاع کرنا اُمَّت پر فرض ہے۔  رسول اللہﷺ کی23 برس کی جدوجہد کے دوران 259 صحابہ کرام ؓ نے اسی غلبۂ دین کی جدوجہد    کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ پھر اس نظامِ خلافت کے دفاع کے لیے ہزاروں صحابہ کرام ؓ نے جامِ شہادت  نوش کیا ۔ حضور اکرم ﷺ کے وصال کے بعد جب مختلف فتنے کھڑے ہوگئے تو ان فتنوں کی سرکوبی کے لیے باقاعدہ قتال کیا گیا، ختم ِ نبوت کے دفاع میں قتال کیا گیا ، مانعینِ زکوٰۃ کے خلاف قتال کیاگیا اور اس دوران ہزاروں صحابہ کرامj شہید ہوئے ۔ حتیٰ کہ چار خلفائے راشدین ؓ میں سے تین اِسی نظام ِ خلافت کے دفاع میںشہید ہو گئے۔ پھر جب نظام خلافت یعنی شورائی نظام کے خلاف جا کر یزید نے ملوکیت قائم کرنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف سیدنا حسین ؓ کھڑے ہوئے اور اپنے سینکڑوںرفقاء اور اہلِ خانہ سمیت جام شہادت نوش فرمائی۔ آپ ؓ کے خطبات تاریخ کا حصہ ہیںجن میں پوری وضاحت ہو جاتی ہے کہ کن وجوہات کی بناء پر سیدنا حسین ؓ نے یزید کی مخالفت کی۔ ان میں  بنیادی وجہ یہ تھی کہ شورائیت کا وہ نظام جو کتاب وسنت کی تعلیم سے ثابت تھا ، اب اس کے برعکس بات ہورہی تھی ، اسی کے ساتھ دیگر خرابیاں بھی تھیں جیسا کہ بیت المال کو ذاتی جاگیر سمجھا جا رہا تھا، اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام اور حرام چیزوں کو حلال کیا جارہا تھا ۔ اس موقع پر وہ کھڑے ہوئے اور ایک عظیم داستانِ شہادت، داستانِ عزیمت رقم کی ۔ 
معلوم ہوا کہ خلافت کے نظام کے قیام کے بعد اس کے دفاع کے لیے کھڑے ہونا بھی فریضۂ شہادت میں شامل ہے ۔ اُس وقت ایسا ہرگز نہیں تھا کہ دین بحیثیت مجموعی مغلوب ہوگیا ہو ، سارا نظام ہی زمین بوس ہو گیا ہو بلکہ باقی پورا دین قائم تھا ، اسلامی شریعت نافذ تھی ، لیکن صرف شورائیت کے نظام میں دراڑ پڑی تھی تو آپؓ اس کے خلاف کھڑے ہوگئے اور اپنے پیاروں سمیت اللہ کے دین پر قربان ہو گئے ۔ آج صورت حال یہ ہے کہ پورے کا پورا دین مغلوب ہے لیکن مسلمانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ۔ 
اے خاصۂ خاصانِ رسل وقتِ دعا ہے
اُمّت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے
جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
پردیس میں وہ آج غریب الغرباء ہے
 آج دین کی پوری عمارت زمین بوس ہو چکی ہے۔ اللہ کی شریعت نافذ نہیںہے ۔57 مسلم ممالک میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جہاں اسلام بحیثیت مجموعی نافذ ہو اور ہم دنیا کودکھاسکیں کہ یہ ہے اسلام کا روشن چہرا ۔ وہ مملکت جو ہم نےاسلام کے نام پر حاصل کی اور اسلامی جمہوریہ پاکستان جس کا سرکاری نام رکھا، کتاب و سنت کی بالادستی کا اعلان کیااور آئین میں طے کیا کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہوگی ۔ قرارداد مقاصد میں اللہ کی حاکمیت اعلیٰ کو آئینی طور پر تسلیم کیا ، آج اُسی مملکت ِ خداداد میں اللہ کے احکامات کی دھجیاں اُڑائی جارہی ہیں ، شریعت کے خلاف قانون سازیاں ہو رہی ہیں ،18 سال سے  کم عمر کی شادی کو جرم قراردے دیا گیا ، 18 سال سے کم عمر کوئی اسلام قبول کرے گا تو قانوناً اُسے مسلمان تسلیم نہیں کیا جائے گا ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ عدالتوں میں انصاف نہیں ہے ، کہاں ہے اللہ کا دین؟ اور کہاں ہے فریضۂ شہادت ؟ سیدنا حسین ؓ سے محبت کے دعوے تو بہت ہیں مگر کیا اُن کے نقش ِقدم پر بھی ہم چل رہے ہیں ؟ صرف شورائیت کے نظام میں معمولی دراڑ پڑی تھی تو آپؓ فریضۂ شہادت ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوگئے تھے ، آج پورا دین مغلوب ہے ، ہم میں سے کوئی فریضۂ شہادت کے لیے کھڑا ہو رہا ہے ؟
ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ سینٹ میںہندو سینیٹر کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ سود کو اللہ نے حرام قراردیا ہے ، اسے ختم کیا جائے ، وہ قرآن کی آیتیں پیش کر رہا ہے لیکن مسلمان سینیٹرز کہتے ہیں کہ ہم سود ختم نہیں کر سکتے۔ اسی طرح سندھ اسمبلی میں ایک ہندو ممبر اسمبلی کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ شراب اسلام میں حرام ہے ، اس پر پابندی لگائی جائے لیکن مسلم ممبران اسمبلی کہتے ہیں کہ ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ یہ  مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود۔
 سبق2:  فریضۂ امر بالمعروف و نہی عن المنکر
       سیدنا حسین ؓ نے کربلا میں اپنے خطبہ میں نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان بھی سنایاکہ : تم لازماً نیکی کا حکم دو گے اور بدی سے روکو گے۔ اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو اندیشہ ہے کہ تم پر اللہ کا عذاب آئے گا اور تم دعائیں مانگو گےمگر تمہاری دعائیں قبول نہیں ہوں گی۔سید ناحسین ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو شورائیت کا نظام عطا کیا تھا، آج اس نظام کے خلاف ملوکیت کا نظام مسلط کیا جارہا ہے۔ تم پر لازم ہے کہ تم اس برائی کے خلاف کھڑے ہو جاؤ اور اس کو اسی جگہ پر روک دو ۔ جس حرام کو حلال کر دیا گیا ہے اُس کو روکنے کی کوشش کرو۔ سیدنا حسینhنے امربالمعروف و نہی عن المنکر کے اس دینی فریضہ کی ادائیگی میں اپنی جان دے دی ۔ اس میں ہمارے لیے سبق یہ ہے کہ ہم بھی اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے کھڑے ہوں ۔ اسی مقصد کے لیے اس اُمت کو کھڑا کیا گیا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:{کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ ط}(آل عمران :110)’’تم وہ بہترین اُمّت ہو جسے لوگوں کے لیے برپا کیا گیا ہے‘تم حکم کرتے ہو نیکی کا‘اور تم روکتے ہو بدی سے‘اور تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر۔‘‘ 
زندگی کے اِس امتحان میں صرف وہی لوگ کامیاب ہوں گے جو اِس فریضہ کو ادا کریں گے ۔ جیسا کہ فرمایا : 
{وَلْـتَـکُنْ مِّنکُمْ اُمَّـۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَـاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِط وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(104)} (آل عمران)’’اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ضرور ہونی چاہیے جو خیر کی طرف دعوت دے‘ نیکی کا حکم دیتی رہے اور بدی سے روکتی رہے۔اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ 
  فریضۂ شہادت اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ اِس اُمّت نے ادا کرنا ہے۔ یہ کام کریں گے تو اُمّت واقعتاً خیر ِاُمّت ہوگی۔
ذرا سوچئے ! کیا واقعی آج ہم خیر ِاُمت ہیں ؟  صرف گزشتہ 100 برس کا حساب لگائیے !  کشمیر، فلسطین، عراق، افغانستان، چیچنیا، بوسنیا، لیبیا، برما، سنکیانگ میں مسلمانوں کا کتنا لہو بہہ چکا ہے ، کتنی لاشیں اُٹھائی جا چکی ہیں ، یہ ملک ، ان کے وسائل ، ان کے خزانے مسلمانوں کے لیکن قبضہ غیر مسلموں کا ، آج مسلمانوں  کے فیصلے غیر مسلم دنیا کرتی ہے ، IMF کے بغیر ہم اپنا بجٹ نہیں بنا سکتے، ٹرمپ کو راضی کیے بغیر ہم سمجھتے ہیں کہ ہم جی نہیں سکتے۔ یہ ذلت یہ رسوائی کیوں ہے ؟ کیا واقعی ہم  خیراُمّت ہیں اور کسی خیر اُمّت کےساتھ ایسا ہو سکتاہے ؟ یہ  سب ذلت اس لیے ہے کہ ہم نے فریضۂ شہادت اور فریضۂ امربالمعروف و نہی عن المنکر چھوڑ دیا ۔ 
 سبق3 :جان و مال پر دین کو ترجیح دینا 
سیدنا حسین ؓ للہ کے دین کی خاطر نہ صرف خود نکلے بلکہ اپنی اولاد اور اپنے عزیز و اقارب کو بھی ساتھ لے کر نکلے اور ثابت کیا اللہ کا دین بڑا ہے ، جان ، مال ، اولاد، گھر ، وطن سمیت باقی سب کچھ اس کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہے ۔ سب کچھ قربان ہو جائے تو ہو جائے مگر اللہ کے دین پر آنچ نہ آئے ۔ آپؓ نے حقیقی معنوں میں اللہ کے اس حکم پر عمل کر کے دکھایا : 
{قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(162)}(الانعام)’’ آپؐ کہیے میری نماز‘ میری قربانی‘ میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘
آپؓ کے بچے بھی شہید ہو گئے، نوجوان بھی شہید ہوئے، خیموں کو آگ لگائی گئی ہے اور پورا گھرانہ اللہ   کی راہ میں پیش کر دیا ۔ آج ہماری ترجیحات کیا ہیں ؟   سیدنا حسین ؄ نے تو اللہ کے دین کی خاطر اپنی جان ، مال ، اولاد ، گھر ، وطن سب کچھ قربان کر دیا ، آج ہم اللہ کے دین کی خاطر تھوڑا سا وقت بھی دیتے ہیں ؟ بچوں کو دنیوی تعلیم دلوانے کے لیے ہم لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں ، لیکن قرآن کی تعلیم دلوانے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہے ۔ حالانکہ قرآن کی تعلیم فری ہے۔ سیدنا حسین ؄ نے تو اپنے بچوں کو دین کے لیے قربان کر دیا ، آج ہم اپنی اولاد کو کہاں کھپا رہے ہیں ؟ بچوں پر لاکھوں روپے اس لیے خرچ کرتے ہیں تاکہ وہ بڑے ہو کر خوب دنیا کمائیں ، بڑے گھر ہوں ، بڑا بزنس ہو ، بڑے ٹھاٹھ باٹھ ہوں ۔ 
سبق 4: قول و عمل کی گواہی 
سیدنا حسین ؄ نےجس بات کی دعوت دی، اپنے عمل سے اس کی گواہی بھی پیش کی۔ یہ نہیں کہ کوفہ والوں نے خطوط لکھے تو انہوں نے بھی خط لکھ کر بہت بڑی بڑی باتیں کر دیں۔ نہیں! بلکہ آپ ؓوہاں گئے ، نہ صرف حق کا ساتھ دینے کی دعوت پیش کی بلکہ حق کی خاطر لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش بھی کیا اور حق پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ۔ یعنی آپؓ نے اپنے قول و عمل سے گواہی پیش کی ۔ قرآن ہم سے کیا تقاضا کرتاہے : 
{یٰٓــاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ (2) کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(3)}(الصف)’’اے مسلمانو! تم کیوں کہتے ہو وہ جو کرتے نہیں ہو؟ بڑی شدید بے زاری کی بات ہے اللہ کے نزدیک کہ تم وہ کہو جو تم کرتے نہیں۔‘‘
دین کی گواہی پیش کرنا ، دعوت دین اور اقامت ِدین کی جدوجہد میں حصہ لینا ہرمسلمان کا فریضہ ہے ۔ یہ  صرف امام مسجد ، خطیب ، دینی جماعت یا جماعت کے سربراہ کا کام نہیں ہے ، یہ پوری اُمّت کا کام ہے۔ لیکن جو دین کی نمائندگی کر رہے ہیں، دین کا کام کر رہے ہیں، کیا اُن کا عمل آج اُن کے قول کی گواہی پیش کرتا ہے؟ آج ہم دنیا کو کہیں کہ قرآن دنیا کا بہترین کلام ہے، دنیا کہے گی : عملی طور پر کوئی ثبوت دکھاؤ کہ یہ کدھر نافذ ہے ؟ ہم دنیا سے کہیں کہ اسلام کامل دین ہےاور مکمل ضابطۂ حیات ہے ۔  دنیا کہے گی : کوئی عملی ثبوت پیش کرو ۔کیا ہمارے پاس کوئی گواہی ہے ؟ 
سبق 5: صبر اور استقامت
سیدنا حسین ؓ نے شورائی نظام کے حق میں کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا اور پھر ڈٹ گئے ۔ پھر چاہے آپؓ کے قافلے کے گھیراؤ کا معاملہ ہو ، آپ ؓکو کربلا کی جانب جانے پر مجبور کرنے کا معاملہ ہو، کہیں پانی بند کرنے کا معاملہ ہو ، آپ ؓ کے خلاف بھاری لشکری کشی کا معاملہ ہو ، ان سب معاملات میں آپؓ نے صبر و استقامت کی  عظیم مثالیں قائم کیں ۔ آج ہم نارمل حالات میں ہیں۔ ہم پر کوئی جنگ مسلط نہیں۔ ہم پر سخت آزمائشیں نازل نہیں ہوئیں اس کے باوجود بھی ہم دین کی بات نہ کریں ، دین پر عمل نہ کریں ، اس کی دعوت نہ دیں اور اس کے قیام کی جدوجہد نہ کریں تو سوچئے ! ذرا مشکل حالات آئیں گے تو کیا ہوگا؟قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 
{وَلَـنَـبْلُوَنَّــکُمْ بِشَیْ ئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِط} (البقرئہ:155) ’’اورہم تمہیں لازماً آزمائیں گے   کسی قدر خوف اور بھوک سے‘اور مالوں اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے۔‘‘ 
سیدنا حسینh نے مشکل ترین حالات میں بھی باطل کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا ، آج ہم پر مشکل حالات نہیں ہیں ، اس کے باوجو دبھی امریکہ کے سامنے جھکے جارہے ہیں ، قانون سازیاں یورپ اور امریکہ کو خوش کرنے کے لیے کر رہے ہیں ۔ کیا ہم نے واقعہ ٔکربلا سے کوئی سبق سیکھا ہے ؟ 
سبق 6: تعلق باللہ اور عبادت کی اہمیت
کربلا میں میدانِ جنگ سجا ہوا تھا ، خوف و خطرات کا ماحول تھا ، اس کے باوجود وہاں باجماعت نمازبھی ادا ہور ہی تھی ، سیدنا حسین ؓ اور آپؓ کے گھرانے کے افراد کے سر سجدے میں تھے ،گھر کی خواتین پردے میں تھیں ، شہادت بھی سیدنا حسین ؓ کی ہوئی تو حالت ِسجدہ میں ہوئی ۔ آج ہماری عظیم اکثریت کے پاس نماز کے لیے ، اللہ کے سامنے جھکنے کے لیے وقت نہیں ہے۔9، 10 محرم کی چھٹیوں کے ساتھ ہفتہ اتوار کی چھٹیاں ملا کر ہم نے   سیر سپاٹے کر لیے ، پکنک منالی ، ہلا گلا کیا ، اس دوران نمازیں  کہاں گئیں ؟ اللہ کا ذکر کہاں گیا ؟ پردہ کہاں گیا ؟یا پھر عقیدت کے نام پر بدعات کا انبار لگا دیا۔ قرآن کہتا ہے : 
{وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّـقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اَمْوَاتٌط بَلْ اَحْیَـآئٌ وَّلٰـکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ(154)} (البقرۃ) ’’اور مت کہو اُن کو جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائیں کہ وہ مردہ ہیں۔(وہ مردہ نہیں ہیں) بلکہ زندہ ہیں‘ لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ہے۔‘‘ 
اس کے برعکس ہم نے سوگ منانا شروع کردیا اور سوگ مناتے ہوئے بھی اللہ کے ذکر اور نمازوں کو بھول گئے ۔ حالانکہ سنت ِرسول ﷺ سے ثابت ہے کہ 9 اور 10 محرم کو روزہ رکھا جائے ۔آج امن کے دور میں بھی مساجد خالی ہیں ۔یہاں موسمی اسلام ہے۔ رمضان ، عمرے یا حج کے دوران نماز ،پردہ اور ذکر کا کچھ اہتمام ہو جاتا ہے ، لیکن اِس کے بعد سب کچھ بھول جاتاہے ۔ شہادتِ حسین ؓ سے ہم نے کیا سبق سیکھا ہے ؟
سبق 7:  مخلص اور وفادار ساتھیوں کی اہمیت
غلبہ دین کی جدوجہد کے لیےیا انقلابی قدم کے لیے جماعت کا ہونا ضروری ہے۔ ہمارا دین اجتماعیت کا تقاضا کرتاہے ۔ سورہ فاتحہ میں ہم تلاوت کرتے ہیں:
{اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ0}’’ہم صرف تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور ہم صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں اور چاہتے رہیں گے۔‘‘
یہاں نعبد اجتماعیت کی طرف اشارہ ہے۔ اکیلے بھی ہم نماز ادا کریں گے تو نعبد ہی کے الفاظ ادا کریں گے۔ اسی طرح سورۃ العصر میں ہم پڑھتے ہیں :
 { وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ۵ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ(3)} (العصر)’’ اور انہوں نے ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور انہوں نے باہم ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی۔‘‘
یہ اجتماعیت کی طرف اشارہ ہے۔اجتماعیت کے بغیر دین قائم نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی انقلاب آسکتاہے ۔ حضرت موسیٰ ؈ نے بنی اسرائیل کے لیے اتنی جدوجہد کی لیکن جب اقدام کا وقت آیا تو وہ موسیٰ ؈ سے کہنے لگے : 
{فَاذْہَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا اِنَّا ہٰہُنَا قٰـعِدُوْنَ (24)} (المائدہ)’’بس تم اور تمہارا رب دونوں جائو اور جا کر قتال کرو‘ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔‘‘
جب جماعت نے ساتھ دینے سے انکار کر دیا تو حضرت موسیٰ ؑ جیسے اللہ کے پیغمبر بھی دین کو قائم نہ کر سکے ۔ جنگ بدر کے موقع پر صحابہ کرام ؓ نے عرض کی:  یا رسول اللہ ﷺ! ہمیں موسیٰ ؑ کے ساتھیوں پر قیاس نہ کیجئے گا۔ آپؐ حکم دیجئے! اللہ ہمارے ذریعے آپؐ کو آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرمائے گا۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ صحابہ کرام ؓدین کو قائم کرنے کے لیے دنیا کے کونے کونے میں گئے۔حتیٰ کہ اپنے گھوڑوں کو سمندر کے پانی میں کھڑا کر دیا اور عرض کی : یا اللہ! تیری زمین ختم ہو گئی، ہمارا جذبۂ جہاد اور شوقِ شہادت ختم نہیں ہوا ۔ایسی مبارک جماعت اللہ کے رسول ﷺ کو ملی تب جاکر دنیا میں دین قائم ہو ا۔ سیدنا حسین ؓ کے ہمراہ بھی ان کے مخلص ساتھی تھے ۔ عاشورہ کی رات آپؓ نے سارے چراغ بجھادئیے اور فرمایا : دیکھو ! مخالفین میری جان کے دشمن ہیں ، وہ ہر صورت ہم سے لڑنا چاہتے ہیں ۔ آپ میں سے کوئی جانا چاہتا ہے تو وہ اس اندھیرے میں نکل جائے ، اسے کچھ نہیں کہا جائے گا ۔ مگر آپؓ کے قافلے میں شامل چھوٹے چھوٹے بچوں نے بھی کہا ہم اِس مشکل گھڑی میں آپؓ کوتنہانہیں چھوڑیں گے ۔ سبق یہ ہے کہ دین کے قیام کے لیے کھڑے ہونے والوں کے ساتھ مخلص جماعت ہونی چاہیے جو سمع و طاعت کے بندھن میں جڑی ہوئی ہو اور ہر پکار پر لبیک کہنے والی ہو ۔ 
سبق 8: مادی وسائل پر نہیں اللہ تعالیٰ پر توکل
یزید کے پاس پورا لشکر تھا ، طاقت تھی ، اسلحہ تھا جبکہ دوسری طرف صرف 72 نفوس قدسیہ تھے لیکن اللہ تعالیٰ پر توکل تھا ۔ جنگ بدر میں ایک ہزارکے لشکر کے مقابلے میں صرف 313مومنین تھے لیکن ان کا توکل اللہ پر تھا جبکہ کفار کا بھروسا اسباب پر تھا۔ اللہ نے مومنین کو فتح عطا کی اور اس دن کو یوم الفرقان قراردیا ۔ معلوم ہوا کہ نگاہ اسباب پر نہیں مسبب الاسباب پر ہونی چاہیے ۔ 
{وَمَنْ یَّـتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ ط} (الطلاق:3)’’اور جو کوئی اللہ پر توکّل کرتا ہے تو اُس کے لیے وہ کافی ہے۔‘‘
آج اُمّت کا توکل کس پر ہے ؟ UAEکے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ آج کل اسرائیل نمبر 2 بن گیا ہے ۔ یہی حال دیگر مسلم حکمرانوں کا بھی ہے کہ ٹرمپ ناراض نہ ہوجائے ۔
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے!
ایسے میں کیا اللہ کی مدد ہمارے ساتھ شامل حال ہوگی؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ 
سبق 9:  عزیمت کا کردار بھی ضروری ہے
ایک ہوتا ہے رخصت کا معاملہ اور ایک ہوتا ہے عزیمت کا معاملہ۔ دونوں کی سند رسول اللہ ﷺنے عطا فرمائی۔ مکی دورمیں حضرت سمیہ ویاسر iپر بے انتہا ظلم ہوا ، یہاں تک کہ وہ شہید ہوگئے ۔ حضورﷺ اُن سے فرمایا کرتے تھے : 
((اصبروا یا آل یاسر فان موعدکم الجنۃ)) ’’اے یاسر کے گھر والو صبر کرنا بے شک تمہارے لیے جنت کا وعدہ ہے۔‘‘
اُن دونوں نے عزیمت کی راہ اختیار کی،  صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا اور شہید ہوکر جنت پائی ۔ ان کے صاحبزادے عمار بن یاسرiکفار کا تشدد برداشت نہ کرپائے اور کلمہ کفر زبان سے نکل گیا ۔ روتے ہوئے رسول اللہﷺ کے پاس آئےاور کہا کہ مجھ سے یہ ظلم ہو گیا ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تمہارے دل کی کیفیت کیا تھی؟ عرض کی حضور ﷺ! میرادل تو ایمان پر مطمئن تھا۔ فرمایا: اگر کفار آئندہ بھی ظلم کریں تو کہہ دینا ۔ اس طرح عزیمت اور رخصت دونوں کی اجازت آپ ﷺ نے دی ۔ اس لحاظ سے حضرت عبداللہ بن عمراور عبداللہ بن عباس ؓ جیسے جلیل القدر صحابہ کرام ؓ جو سیدنا حسین ؓ کو کوفہ جانے سے روک رہے تھے وہ بھی اپنی جگہ درست تھے جبکہ سیدنا حسین ؓ نے عزیمت کی راہ اختیار کی ، وہ بھی اپنی جگہ ٹھیک تھے کیونکہ خاندانِ نبوت سے کوئی تو عزیمت کی داستانیں ہونی چاہیے تھی تاکہ بعد میں اُمّت کو تحریک ملے۔ کسی میں تو جذبہ پیدا ہو ۔ باقی حضرات اگر رخصت پر تھے تو اُن کی نیت پر بھی شک نہیں کیا جاسکتا ۔وہ بھی اخلاص پر ہیں۔ ہم کسی پر انگلی نہیں اُٹھا سکتے۔ کوئی اگر صحابہ کرام ؓ پر انگلی اٹھائے تو اپنے ایمان کی خیر منائے کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : میرے صحابہؓ کے معاملے  میں اللہ سے ڈرو! ان کو میرے بعد ہدفِ ملامت مت بنانا۔ جس نے ان سے دشمنی رکھی، اس نے مجھ سے دشمنی رکھی اور جس نے مجھے اذیت دی، اس نے اللہ کو اذیت دی۔ 
سبق 10:  مظلومیت میں پوشیدہ فتح
سیدنا حسین ؓ کی شہادت مظلومانہ شہادت ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچے شہید کیے گئے، نوجوان لڑتے لڑتے شہید ہوئے،سیدنا حسین ؓ کو کئی زخم لگے اور پھر حالت سجدہ میں شہید ہوئے۔ بظاہر مغلوبیت نظر آ رہی ہے مگرحقیقت میں فتح سیدنا حسین ؓ کی ہوئی ہے کیونکہ آپؓ حق پر لڑتے ہوئے شہید ہوگئے ۔ لہٰذا حسینیت کا درس 1400 سال بعد آج بھی دیا جاتاہے جبکہ یزید کو کوئی بھی اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرتا ۔ سبق یہ ہے کہ بندہ حق پر ہو تو اس کی مظلومانہ شہادت بھی فتح ہوتی ہے اور اگر ظلم پر ہو تو اس کی فتح بھی بدترین شکست بن جاتی ہے۔ اسرائیل نے اہل غزہ پر مظالم کے پہاڑ توڑ ڈالے ، مگر جتنی گالیاں اور نفرتیں آج اسرائیل کو مل رہی ہیں آج سے پہلے کبھی نہیں ملی تھیں ۔   اہل غزہ نے عزیمت کی راہ اختیار کی اور ان کی مظلومیت بھی ان کی فتح میں بدل گئی ۔ 
سیدنا حسین ؓ کی شہادت اور عزیمت بھری داستان سے ان 10 اسباق کے علاوہ بھی کئی اسباق حاصل ہو سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان اسباق کوحاصل کرنے اور ان کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ! 
فریضۂ شہادت کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟
فریضۂ شہادت کیا ہے ؟ یہ سمجھنے کے لیے ہمیں سورۃ البقرہ کی آیت 143 پر غور کرنا ہوگا ۔ فرمایا:
{وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰـکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّـتَـکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًاط}(البقرہ :143) ’’اور (اے مسلمانو!) اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک اُمت ِوسط بنایا ہے‘تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسولؐ ‘تم پر گواہ ہو۔‘‘ 
یہاں رسول اللہ ﷺ کے لیے شہید کا لفظ آیا اور اُمت کے لیے شہداء کا لفظ آیا ۔ دونوں سے مراد اللہ کے دین کی گواہی دینا ہے ۔ یہ گواہی ہم نے اپنے قول سے بھی دینی ہے ، عمل سے بھی دینی ہے اور جدوجہد کے  ذریعے بھی دینی ہے ۔ اس حوالے سے اب10 نکات پر مشتمل لائحہ عمل آپ کے سامنے پیش کرنا مقصود ہے ۔ ان شاء اللہ ! 
(i)منصب اور ذِمّہ داری کا احساس
ہم دنیا میں ٹائم پاس کرنے کے لیے یا انجوائے کرنے کے لیے نہیں بھیجے گئے ۔ ہمارے ذِمّہ ایک بہت بڑا اور عظیم مشن ہے اور وہ مشن فریضۂ شہادت کو ادا کرنا ہے ۔ سورۃ الحج میں فرمایا :{ہُوَ اجْتَبٰـىکُمْ} (آیت:78) ’’اُس نے تمہیں چُن لیا ہے۔‘‘
آدم سے لے کر امام الانبیاء خاتم الانبیاء ﷺتک   اللہ تعالیٰ نے کم و بیش سوا لاکھ انبیاء و رُسلؑ کو چُنا ۔ ختم نبوت کے بعد اس اُمّت کو اس مقصد کے لیے چنا گیا ۔ لہٰذا ہماری زندگی کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ کھالیا ، پی لیا ، شادی کرلی ، گھر بنا لیا ، بچے پال لیے ، یہ سب کام تو جانور بھی کر لیتے ہیں ۔ صرف دنیوی ترقی ہمارا مقصد نہیں ہے ، اس لحاظ سے تو کفار ہم سے بہت آگے ہیں ۔ اِس اُمّت کی حیثیت اُس کام کی وجہ سے ہے جس کے لیے اس کو کھڑا کیا گیا ہے ۔ اس کا احساس ہونا چاہیے۔اس کے بارے میں کل اللہ تعالیٰ اُمّت سے بھی پوچھے گا اور رسولوںؑ سے بھی پوچھے گا ۔ فرمایا : 
{فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْہِمْ وَلَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ(6)}(الاعراف:) ’’پس ہم لازماً پوچھ کر رہیں گے اُن سے بھی جن کی طرف ہم نے رسولوں کو بھیجا اور لازماً پوچھ کر رہیں گے رسولوں سے بھی۔‘‘
اسی لیے حضورﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر گواہی لی۔ آج ہم پر گواہی دینے کی ذِمّہ داری ہے۔اگر ہم اس فریضہ کو ادا نہیں کریں گے تو کل جواب دینا پڑے گا ۔ 
(ii) دین کے جامع تصور کا فہم
فقط جمعہ کی دو رکعت یا پنج وقتہ نماز ادا کرلینا ، شادی کے موقع پر نکاح پڑھا دینا ، بچے کی پیدائش پر اذان کہہ دینا ، انتقال پر جنازہ پڑھا دینا اور حج و عمرہ ادا کرلینا مکمل دین نہیںہے۔ اسلام ہمیں ایمانیات اور عبادات کے ساتھ ساتھ سماجی اوراخلاقی اصول و روایات بھی سکھاتا ہے۔ نہ صرف فرد کی انفرادی زندگی ، بلکہ معاشرہ اور ریاست کی سطح تک رہنمائی دیتاہے ، پورا سیاسی ، معاشی اور معاشرتی نظام عطا کرتاہے ۔ اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ فریضۂ شہادت کی ادائیگی کے لیے دین کو خود سیکھنا ، اس پر عمل کرنا ، دوسروں کو اس کی دعوت دینا اور پھر  اقامت ِدین کی جدوجہد کے لیے اجتماعیت اختیار کرنا ضروری ہے اور یہ ہر مسلمان کی ذِمّہ داری ہے ۔ 
(iii)کردار کی گواہی
ہر انسان اپنے قول و عمل سے کوئی نہ کوئی گواہی دے رہا ہے ۔ اذان کی آواز سن کر ایک بندہ اُٹھ کرنماز کے لیے مسجد چلا جاتاہے ، وہ ایمان کی گواہی دے رہا ہے ، دوسرا بندہ بیٹھا رہتا ہےا ور دنیوی کاموں میں مصروف  رہتا ہے ، چاہے وہ زبان سے نہ بھی بولے مگر اپنے عمل سےاللہ کی نہ ماننے کی گواہی دے رہا ہے ۔ اِسی طرح ہم سب اپنے کردار و عمل سے کوئی نہ کوئی گواہی دے رہے ہوتے ہیں ۔ حدیث ِ رسول ﷺ ہے کہ مومن وہ ہے جس کو دیکھ کر اللہ یاد آئے ۔ ذرا سوچیں ! کہ آج ہمیں دیکھ کر اللہ یاد آتاہے ؟ ہم فجر میں سوتے رہے تو بچوں کو کیا گواہی دے رہے ہیں؟ اِس کے بعد بچہ بھی سوچے گا کہ نماز ضروری نہیں ہے ۔ اگر ہم خود قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو ہم گواہی دے رہے ہوتے ہیں کہ قرآن پڑھنا ضروری ہے ۔ پھر بچے بھی پڑھیں گے ۔ اگر ہم قرآن کو کھولیں ہی نہ تو بچوں کو کیا گواہی دے رہے ہیں ۔ اسی طرح آج ہم سوچیں کہ اُمّت ِمسلمہ مجموعی طور پر کیا گواہی دے رہی ہے ؟
(iv) گھر اور متعلقین کو دعوتِ دین
اگرہمیں واقعی اپنے گھروالوں سے محبت ہے تو اُن کو دین کی دعوت دینا کبھی نہ بھولیں گے ، کیونکہ کون نہیں چاہے گا کہ اپنے گھر والوں کو بھی اپنے ساتھ جنت میں دیکھے ۔ اللہ فرماتاہے : 
{قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا}(التحریم :6) ’’بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے۔‘‘
اسی طرح سورۃ الشعراء میں فرمایا :
{وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ(214)} ’’اور(اے نبیﷺ!) خبردار کیجیے اپنے قریبی رشتہ داروں کو۔‘‘
آج ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم اپنے گھر والوں کو کہاں لے کر جارہے ہیں ؟
(v) معاشرے کے مختلف طبقات کو دعوت
قرآن مجیددعوت کے لحاظ سے افراد کو تین قسم کے طبقات میں تقسیم کرتاہے ۔ جیسا کہ سورۃ النحل میں فرمایا :
{اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ ط} (النحل :125) ’’آپؐ دعوت دیجیے اپنے رب کے راستے کی طرف دانائی اور اچھی نصیحت کے ساتھ‘اور اُن سے بحث کیجیے بہت اچھے طریقے سے ۔‘‘
اس آیت کی روشنی میں مفسرین نتیجہ نکالتے ہیں کہ معاشرے کے دانشمند اور اہل علم طبقہ کے سامنے حکمت کے ساتھ دعوت پیش کی جائے ۔ دوسرا طبقہ عام عوام کا ہے جس کو موعظہ حسنہ (عمدہ وعظ ) کے ذریعے دعوت پیش کی جائے ، تیسرا طبقہ وہ ہے جو ہٹ دھرم ہے اور نہ ماننے والا ہے اُن کے لیے فرمایا : { وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ ط} یعنی اُن سے اچھے طریقے سے مکالمہ و مجادلہ کیا جائے ۔ 
(vi) قرآن کریم کو دعوت کا اولیں ذریعہ بنانا
نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ نے قرآن کے ذریعے لوگوں کو دعوت دی ،تذکیر و تبلیغ اور بشارت و انذار سب قرآن کے ذریعے ہوتا تھا ، خطابِ جمعہ بھی قرآن کی تعلیم پر مبنی ہوتا تھا ، خطبات عیدین میں بھی قرآن کے ذریعے دعوت دی جاتی تھی ، امراء اور بادشاہوں کو جو خطوط لکھے گئے اُن میں بھی قرآن کے ذریعے دعوت دی گئی مگر آج قرآن کو پس ِپشت ڈال دیا گیا ہے ، ہر مکتب فکر اپنی تیار کردہ کتب کو ترجیح دے رہا ہے ۔ فریضۂ شہادت کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن کے ذریعے لوگوں کو دعوت دیں ، احادیث بھی بیان ہوں گی مگر مرکزی اہمیت قرآن کو دی جائے گی ۔ 
(vii) نفاذِ دین کے لیے عملی جدوجہد
قرآن صرف پڑھنے پڑھانے کے لیے نہیں آیا۔ اللہ کا دین صرف بیان کرنے کے لیے، کتابوں میں چھاپ دینے کے لیے، کورسز کروا دینے کے لیے نہیں آیا۔ یہ سب بھی ضروری ہے مگر قرآن اپنا نفاذ بھی چاہتاہے ، دین اپنا غلبہ بھی چاہتاہے جس کے لیے حضورﷺ نے اپنا خون طائف کی گلیوں میں بہایا ، اُحد کے میدان میں پیش کیا اور اپنے صحابہ کرامj کی جانیں پیش کیں۔مقصد کیا تھا ؟
{لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ}(الصف:9) ’’تاکہ غالب کر دے اس کو پورے نظامِ زندگی پر۔‘‘
معلوم ہوا کہ اقامت دین کی جدوجہد بھی فریضۂ شہادت میں شامل ہے اور یہ ذِمّہ داری ہر مسلمان پر عائد ہوتی ہے۔ اِس کے بغیر شہادت ممکن نہیں ۔ 
(viii)اُسوۂ رسولﷺ سے رہنمائی
اللہ کے دین کے غلبے کی جدوجہد کیسے کی جائے اِس حوالے سے حقیقی رہنمائی ہمیں اُسوہ رسول ﷺ سے ملے گی اور اسی کا قرآن میں حکم دیاگیا : {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} (الاحزاب:21) ’’(اے مسلمانو!) تمہارے لیے اللہ کے رسول ؐمیں ایک بہترین نمونہ ہے۔ ‘‘
جہاں نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج کا طریقہ ہم اللہ کے رسول ﷺ سے سیکھتے ہیں تو اقامت ِدین کی جدوجہد کا طریقہ بھی وہیں سے ملے گا ۔بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسراراحمدؒ  کے اِس موضوع پر بہت جامع خطابات موجود ہیں جو ’’رسولِ انقلاب ﷺکا طریقِ انقلاب ‘‘  کے عنوان سے کتاب کی شکل میں بھی موجود ہیں ۔ 
(ix) دینی اجتماعیت اختیار کرنا
اللہ کے دین کی گواہی دینی ہے توپہلے خود بھی دین پر عمل کرنا ہے ، دعوت بھی دینی ہے ، دین کو قائم کرنے کی جدوجہد میں بھی حصہ لینا ہے اور یہ جدوجہد اکیلے نہیں ہو سکتی ۔ اس کے لیے جماعتی زندگی اختیار کرنا ضروری ہے۔ آج کے دور میں جو لوگ فریضۂ شہادت ادا کرنا چاہتے ہیں تو انہیں بھی کسی نہ کسی اجتماعیت میں شامل ہونا ہوگا ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے اسی مشن کے لیے تنظیم اسلامی قائم کی ہے ۔ جو لوگ ڈاکٹر صاحبؒ کو سنتے ہیں اور ان سے محبت رکھتے ہیں تو ان کے لیے یہی پیغام ہے کہ وہ ان کی جماعت میں شامل ہو جائیں کیونکہ جماعتی زندگی کے بغیر  فریضہ ٔشہادت ادا ہی نہیں ہو سکتا۔
(x)  جہد ِ مسلسل
لفظ جہاد جہد سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں مسلسل محنت اور جدوجہد کرنا ۔ سورہ عنکبوت کی آخری آیت میں اللہ فرماتا ہے:
{وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَاط} (آیت:69) ’’اور جو لوگ ہماری راہ میں جدّوجُہد کریں گے ہم لازماً ان کی راہنمائی کریں گے اپنے راستوں کی طرف۔‘‘
اسی طرح سورۃ الصف میں فرمایا :
{ ھَلْ اَدُلُّــکُمْ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنْجِیْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ(10)} ’’ کیا میں تمہیں ایسی تجارت کے بارے میں بتائوں جو تمہیں دردناک عذاب سے چھٹکارا دلا دے؟‘‘
جہنم کے دردناک عذاب سے بچنے کےلیے کیا ضروری ہے ۔ آگے فرمایا :
{تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ ط}’’(وہ یہ کہ) تم ایمان لائو اللہ اور اُس کے رسول ؐپر اور جہاد کرو اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ۔‘‘
{ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّــکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(11)}
’’یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔‘‘
اللہ کے دین کے قیام کے لیے یہ مستقل جدوجہد کرنا ، اپنی جان ، مال ، اسباب اور صلاحیتوں کو اس کے لیے کھپانا ، یہ سب فریضۂ شہادت میں شامل ہے ۔ یہی واقعۂ کربلا سے حاصل ہونے والا سب سے بڑا سبق اور شہید کربلا سے عقیدت کا تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آ مین یا رب العالمین!