اداریہ
رضاء الحق
ایران، امریکہ مذاکرات: جنگ کا وقفہ یا
مشرقِ وسطیٰ کے نئے نقشے کی تمہید؟
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں بظاہر سفارت کاری کی مسکراہٹیں دکھائی دیتی ہیں، لیکن ان کے پسِ پردہ طاقت، مفادات اور غلبے کی وہی پرانی کشمکش پوری شدت سے جاری ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کو عالمی ذرائع ابلاغ ’’امن کی طرف پیش رفت‘‘ قرار دے رہے ہیں، لیکن اگر اس پورے عمل کو گزشتہ نصف صدی کی تاریخ، امریکی خارجہ پالیسی، صہیونی ریاست کےاسٹریٹیجک اہداف اور اُمّتِ مُسلمہ کی مجموعی صورتِ حال کے تناظر میں دیکھا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی یہ مذاکرات خطے میں امن کی نوید ہیں، یا محض ایک ایسا وقفۂ جنگ جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ کا جغرافیہ مزید تبدیلیوں سے دوچار ہونے والا ہے؟
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ امریکی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد ہمیشہ اپنے عالمی غلبے کو برقرار رکھنا رہا ہے۔ اصول، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین اکثر اس کے لیے ذرائع رہے ہیں، مقاصد نہیں۔ جہاں اس کے مفادات نے تقاضا کیا، وہاں وہ انہی اصولوں اور ’جمہوریت‘ کی پاسداری کا علم بردار بنا، اور جہاں یہی اصول رکاوٹ بنے، وہاں انہیں نظر انداز کرنے میں کوئی تامل نہ کیا گیا۔ عراق پر حملہ، افغانستان کی دو دہائیوں پر محیط جنگ، لیبیا کی تباہی، شام میں مداخلت اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کی غیر مشروط حمایت اِسی حقیقت کی مظہر ہیں۔
ایران کے ساتھ امریکہ کے تعلقات بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔ 1979ء کے ’’اسلامی انقلاب‘‘ کے بعد سے دونوں ممالک مسلسل ایک دوسرے کے حریف رہے ہیں۔ معاشی پابندیاں، سفارتی دباؤ، خفیہ کارروائیاں، سائبر حملے، جوہری پروگرام پر تنازع اور پراکسی محاذ آرائیاں اس کشمکش کا حصہ رہی ہیں۔ لیکن اس تمام عرصے میں یہ حقیقت کبھی تبدیل نہیں ہوئی کہ امریکہ کی اولین ترجیح اسرائیل کی سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنی بالادستی رہی ہے۔اسی پس منظر میں موجودہ مذاکرات کو دیکھنا ناگزیر ہے۔
بعض مبصرین کے نزدیک حالیہ مذاکرات اس بات کی علامت ہیں کہ دونوں فریق ایک طویل اور مہنگی محاذ آرائی سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ ایران شدید معاشی دباؤ، پابندیوں اور علاقائی کشیدگی سے دوچار ہے، جبکہ امریکہ بھی چین کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار، یوکرین کے بحران اور اندرونی سیاسی دباؤ کے باعث ایک اور طویل جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوں نے تصادم کے بجائے سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ کی حکمتِ عملی واقعی تبدیل ہو گئی ہے؟
تاریخ اس سوال کا جواب نفی میں دیتی ہے۔ امریکہ نے ماضی میں بھی متعدد مخالف ریاستوں کے ساتھ مذاکرات کیے، مگر ان مذاکرات کا مقصد ہمیشہ مستقل مفاہمت نہیں بلکہ اپنےاسٹریٹیجک مفادات کا تحفظ رہا۔ چنانچہ صرف مذاکرات کا آغاز اس بات کی دلیل نہیں کہ کشیدگی ختم ہو گئی ہے، بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ مذاکرات آئندہ مرحلے کی تیاری کا حصہ ہوں۔
دوسری جانب ایران کی موجودہ حکمتِ عملی بھی غور طلب ہے۔ برسوں تک ’’مزاحمت‘‘ کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون قرار دینے والی ایرانی قیادت آج پھر امریکہ سے براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات پر آمادہ ہے۔ ایرانی حکومت اس فیصلے کو قومی مفاد، اقتصادی استحکام اور جنگ سے اجتناب کی حکمتِ عملی قرار دیتی ہے۔
تاہم امتِ مسلمہ کے ایک بڑے حلقے میں اس پیش رفت کو مختلف زاویے سے دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ وہ ایران نہیں رہا جو کبھی ’’امریکہ مردہ باد‘‘ کو اپنی خارجہ پالیسی کا مستقل عنوان سمجھتا تھا، بلکہ اب وہی ریاست انہی قوتوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھی ہے جنہیں وہ خطے کی تمام خرابیوں کا اصل ذمہ دار قرار دیتی رہی ہے۔ اس زاویۂ نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ مذاکرات ایک نظریاتی پسپائی یا کم از کم ایک بڑی سیاسی لچک کی علامت محسوس ہوتے ہیں۔
یہاں یہ نکتہ بھی ملحوظ رہے کہ ریاستیں اکثر نظریاتی نعروں کے بجائے زمینی حقائق، عسکری توازن، معاشی دباؤ اور سفارتی امکانات کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں۔ اسی لیے بعض تجزیہ نگار ایران کے اس اقدام کو ’’ہتھیار ڈالنا‘‘ نہیں بلکہ مجبوری پر مبنی اسٹریٹیجک فیصلہ قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسرے اسے امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کے سامنے جھکنے سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس اختلافِ رائے کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ یہی موجودہ بحث کا مرکزی نکتہ ہے۔
مذاکرات کا نتیجہ اگر صرف یہ نکلتا ہے کہ ایران اپنے جوہری اور عسکری پروگرام پر مزید پابندیاں قبول کر لے، علاقائی اثر و رسوخ محدود کر دے اور بدلے میں چند معاشی رعایتیں حاصل کر لے، جبکہ دوسری طرف اسرائیل غزہ، مغربی کنارے اور لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے، غزہ اور مغربی کنارے میں مسلمانوں کی نسل کُشی کرتا رہے، مسجدِ اقصیٰ کو شہید کرکے (معاذ اللہ) تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر اور گریٹر اسرائیل کے قیام کے ابلیسی منصوبوں پر عمل درآمد جاری رکھے تو پھر یہ کہنا مشکل ہو گا کہ یہ مذاکراتی عمل پورے خطے میں منصفانہ امن کی بنیاد رکھتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ اندیشہ برقرار رہے گا کہ طاقت کا توازن مزید اسرائیل کے حق میں جھک جائے۔
یہی وہ نکتہ ہے جسے امتِ مسلمہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی طاقتیں مذاکرات کو ہمیشہ اپنی حکمتِ عملی کے ایک مرحلے کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ اگر مذاکرات کے دوران فریقِ ثانی کی سیاسی، عسکری یا اقتصادی قوت کمزور ہو جائے، جبکہ طاقت کا اصل توازن تبدیل نہ ہو، تو مذاکرات پائیدار امن کے بجائے ایک نئے مرحلے کی تمہید بھی بن سکتے ہیں۔
اس لیے ایران،امریکہ مذاکرات کو صرف دو ممالک کے تعلقات کے تناظر میں دیکھنا ناکافی ہوگا۔ اس کے اثرات فلسطین، لبنان، شام، عراق، خلیجی ریاستوں، پاکستان بلکہ پوری امتِ مسلمہ تک پہنچتے ہیں۔ اس پورے عمل میں اگر اسرائیل کی علاقائی برتری مزید مضبوط ہوتی ہے اور فلسطینی عوام کی جدوجہد مزید تنہا ہو جاتی ہے تو یہ سوال مزید شدت سے سامنے آئے گا کہ آیا یہ مذاکرات واقعی امن کی طرف قدم تھے یا ایک ایسے نئے مرحلے کا آغاز، جس میں طاقت کا توازن پہلے سے زیادہ یک طرفہ ہو جائے۔
ایران،امریکہ مذاکرات کو اگر صرف دو ریاستوں کے درمیان سفارتی عمل سمجھا جائے تو اس کے اثرات کا صحیح اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان مذاکرات سے سب سے زیادہ فائدہ کس فریق کو پہنچے گا، اور مشرقِ وسطیٰ کی طاقت کی بساط کس سمت میں منتقل ہوگی۔
اس وقت اسرائیل بیک وقت غزہ، مغربی کنارے، جنوبی لبنان اور شام میں اپنی عسکری سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ غزہ کی تباہی، مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع، فلسطینی آبادی پر دباؤ، اور مسجد اقصیٰ کے احاطے میں یہودی انتہاپسند گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں نشاندہی کرتی ہیں کہ زمینی حقائق مسلسل تبدیل کیے جا رہے ہیں اور یہ خدشات مزید تقویت پاتے ہیں کہ مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات مزید محدود ہوسکتے ہیں۔
اگر مذاکرات جاری رہتے ہیں جس کے شواہد گزرتے دن کے ساتھ کم ہوتے جا رہے ہیں، اور اگر ایران مذاکرات کے نتیجے میں اپنی علاقائی پالیسی میں نمایاں لچک اختیار کرتا ہے جبکہ اسرائیل اپنی عسکری اور سیاسی برتری برقرار رکھتا ہے، تو خطے میں طاقت کا توازن مزید اسرائیل کے حق میں جائے گا۔ اس صورت حال کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عرب دنیا، بالخصوص خلیجی ریاستوں، اردن اور دیگر پڑوسی ممالک کی سلامتی اور سیاسی خودمختاری بھی نئی آزمائشوں سے دوچار ہو سکتی ہے۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ عرب دنیا گزشتہ دو دہائیوں سے داخلی اختلافات، باہمی رقابتوں اور بیرونی انحصار کے باعث مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ یہی انتشار بیرونی طاقتوں کو خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر یہ کیفیت برقرار رہی تو ہر ملک الگ الگ دباؤ کا سامنا کرے گا، جبکہ اجتماعی مسلم مفادات مزید کمزور ہوں گے۔
پاکستان کے لیے یہ تمام صورت حال غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت، عالمِ اسلام کا بڑا ملک اور چین، وسط ایشیا، خلیج اور جنوبی ایشیا کے درمیان اہم جغرافیائی محلِ وقوع رکھتا ہے۔ یہی حیثیت اسے بڑی طاقتوں کی اسٹریٹیجککشمکش کا بھی مرکز بناتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی ریاست کی خارجہ پالیسی مستقل دشمنی یا مستقل دوستی کے بجائے مستقل قومی مفادات پر استوار ہوتی ہے۔ ہمارے نزدیک ایک حقیقت مسلم ہے کہ اگر امتِ مسلمہ مجموعی طور پر سیاسی، عسکری، اقتصادی اور سائنسی اعتبار سے مضبوط نہ ہوئی تو صرف سفارتی مذاکرات اس کے بنیادی مسائل حل نہیں کر سکیں گے۔
جب تک مسلم ممالک اپنی اصل کی جانب نہیں لوٹتے اور باہمی اعتماد، اقتصادی تعاون، دفاعی ہم آہنگی اور علمی و تکنیکی ترقی کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کرتے، تب تک عالمی طاقتیں ان کے اختلافات سے فائدہ اٹھاتی رہیں گی۔
ایران،امریکہ مذاکرات کو تو غیر معمولی خوش فہمی کا باعث نہیں بننا چاہیے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ ان مذاکرات میں پیش رفت ہو پاتی ہے اور60 دن میں اِن MOUs پر عمل درآمد کا کوئی طریقہ کار طے ہو تا ہے اور اِس کے بعد خطے میں طاقت کا توازن، فلسطینی عوام کے حقوق، علاقائی استحکام اور مسلم دنیا کی اجتماعی حیثیت کس سمت جاتی ہے۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026