(الہدیٰ) دعوتِ حق کے راستے میں صبر و استقامت کی اہمیت - ادارہ

9 /
الہدیٰ 
 
دعوتِ حق کے راستے میں صبر و استقامت کی اہمیت
 
 
 
آیت 17 {یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ} ’’ اے میرے بچے! نماز قائم کرو‘‘
نماز اللہ کے ذکر کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ نمازکی اقامت یا پابندی سے مقصود بنیادی طور پر یہی ہے کہ اللہ پر ایمان کی کیفیت کو ہر وقت مستحضر رکھا جائے‘ورنہ انسان کانفس اُسے غلط راستے پر ڈال دے گااور شیطان اُسے ورغلانے میں کامیاب ہو جائے گا۔
{وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ} ’’اور نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو‘‘
یہ اُن کی چوتھی نصیحت ہے۔ انسانیت کی سب سے بڑی خدمت جو کوئی انسان سر انجام دے سکتا ہے، وہ یہی ہے کہ وہ معاشرے میں رہتے ہوئے بھلائی کا پرچار کرے اور برائیوں سے لوگوں کو روکے۔
{وَاصْبِرْ عَلٰی مَـآ اَصَابَکَ ط} ’’اور جو بھی تکلیف تمہیں پہنچے اُس پر صبر کرو!‘‘
یہ گویا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے عمل کا لازمی اور منطقی نتیجہ ہے۔ اس لیے کہ حق ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے‘ اپنے اعمال اور رویے ّپر تنقید کسی کو بھی پسند نہیں۔ چنانچہ جب آپ حق کی بات کریں گے‘تو لوگ آپ کو برا بھلا بھی کہیں گے اس لیے اگر آپ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا  علم بلند کر کے حق کا راستہ اپنانا ہے تو پھر آپ کو صبر کرنا بھی سیکھنا ہو گا اور مشکل سے مشکل حالات میں استقامت کا مظاہرہ بھی کرنا ہو گا۔
{اِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ(17)} ’’یقینا ًیہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔‘‘ 
غور کریں تو حضرت لقمانؒ کی ان چارنصیحتوں میں وہی چار باتیں ایک دوسرے انداز میں بیان ہوئی ہیں جن کا ذکر سورۃ العصر میں آیا ہے۔ سورۃ العصر میں یہ باتیں یوں بیان ہوئی ہیں: {اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ج وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِC} ’’سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے‘ انہوں نے نیک اعمال کیے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبرکی تلقین کی۔‘‘ گویا دونوں مقامات پر استعمال ہونے والی اصطلاحات اگرچہ مختلف ہیں لیکن مضمون ایک ہی ہے۔
 
درس حدیث
اپنے ایمان کی حفاظت کریں!
 
 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ  ؓ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِﷺ، قَالَ: (( بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا، وَيُمْسِي كَافِرًا، أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا، وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا ))(جامع الترمذی )
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’اعمالِ صالحہ میں جلدی کرو، قبل اِس کے کہ وہ فتنے ظاہر ہوجائیں جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے (اور ان فتنوں کا اثر یہ ہوگاکہ )آدمی صبح کو ایمان کی حالت میں اُٹھے گا اور شام کو کافر بن جائے گا، اور شام کو مومن ہوگا تو صبح کو کفر کی حالت میں اُٹھے گا، نیز اپنے دین کو دنیا کی تھوڑی سی متاع کے عوض بیچ دےگا۔ ‘‘