(کارِ ترقیاتی) مری تعمیر میں مضمر ہے … - عامرہ احسان

9 /

مری تعمیر میں مضمر ہے …

عامرہ احسان

امریکہ اسرائیل، ایران جنگ بندی کے بعد بات چیت آگے بڑھانے میں ایک وقفہ طے پایا۔ جس میں ایران نے جنگ کے نتیجے میں قیادت کی آخری رسومات کی ادائیگی کرنی تھی۔ امریکہ نے اپنی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کی دھوم دھام منانی تھی۔ اب آئندہ مذاکرات 11 جولائی کو ہونے ہیں۔ پاکستان کو امید ہے کہ یہ اسلام آباد میں منعقد ہوں گے۔
4 جولائی کو امریکی یوم آزادی کی زبر دست تیاری تھی۔ ہو تو گیا مگر ایک بن بلائے مہمان کی طرح موسم کی ہولناکی ، (موسمیاتی تبدیلی کا آسمانی تحفہ ؍ مکافات عمل!) مشرقی امریکہ پر مسلط ہو گئی۔ امریکہ ان یومِ آزادی منانے والوں یا قبل ازاں اس پر قبضہ کرنے والوں (برطانیہ، سپین) کا وطن تو تھا بھی نہیں۔ مقامی سرخ ہندیوں ( Red Indians) کی شامت ِ اعمال کہ، کولمبس نے یہ ملک دریافت کرلیا، دروازہ کھل گیا۔ 1776 - 1607 ء کے عرصے میں جرمنی ، سکاٹ لینڈ،  آئر لینڈ، سکینڈے نیویا ، نیدر لینڈ ، اور پھر 1920 - 1880 ء  کے دوران ، اٹلی، روس، یونان ، پولینڈ سے آمد ہوئی۔ امریکہ کی صنعتی ترقی نے سبھی کا رخ ادھر کر دیا۔ یہودیوں کی یلغار علیحدہ داستان ہے ۔ افریقہ سے سیاہ فام غلاموں کو لا کر جبری مشقت اور ظلم و تحقیر کا باب مزید ہے ، جن کی اکثریت مسلمان تھی !مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی! (جسے آج پوری دنیا بھگت رہی ہے) 
سب سے پہلے تو یورپی آبادی اپنے ساتھ چیچک، خسرہ ، انفلوئنزا لائی۔ مقامی آبادی ان غیر مرئی بلاؤں کا شکار ہو کر موت یا حد درجے کمزوری کا شکار ہوئی۔ اس پر مستزاد یورپی اسلحہ ، بندوق ، جو مقامی تیر کمان کو زیر کر گئی۔ اگلا طریقِ واردات وہی تھا جو آج ہے ۔ زمینوں پر قبضے کے لیے کسی ایک گروہ سے اتحاد کر کے ، تقسیم کرو اور لڑاؤ پر عمل کیا۔ خوراک کے ذخیرے ، فصلیں ، شکار گاہیں     تباہ کیں۔ بھینسیں ذبح کیں ۔ قبائل کے پاس ہتھیار ڈالنے کے سوا چارہ نہ تھا ۔ انیسویں صدی میں قبائل کی جبری   بے دخلی ہوئی۔ بتدریج مقامی آبادی کی خود مختاری، آزادی اور آبائی سرزمین پر قبضہ کر لیا ۔ سو آج یہ اسی کی 250 ویں برسی ؍ سالگرہ منا رہے ہیں ، جو ہم غزہ میں بھی بہ اندازِ دگر دیکھ ہی رہے ہیں ۔ کسی علاقے یا ملک پر قبضہ کر کے وہاں اپنے لوگوں کو بطورِ نو آباد کار(اصلاً بربادکار)بسانا جسے انگریزی میں کالونائزیشن ، (نو آبادیاتی نظام) کہا جاتا ہے ۔ مثلاً فلسطین پورا ہی اس کا شکار ہوکر اسرائیل بن گیا۔ جو حصہ آزاد فلسطینیوں کو دیا بھی گیا تھا ، مغربی کنارہ یا غزہ ، وہ بھی نسل کشی کے پونے تین سالوں میں غصب ہو گیا ؍ہو رہا ہے۔ غزہ کا 60 فی صد اسرائیل لے چکا۔ مغربی کنارے  میں بربادکاری روزمرہ کی کہانی ہے ۔ مثلاً چند دن پہلے کا منظر ،  فلسطینی باپ نے بڑے بیٹے کی شادی خانہ آبادی کے لیے  کل جمع پونجی لگا کر گھر تعمیر کیا۔ تکمیل ہوئی نہ تھی کہ یہودی  آباد کار آن اترے گھر پر قبضہ کرنے ۔ سفید ریش باپ کے سارے ارمان اور سرمایہ ان غاصبوں کے ہاتھ لٹ گیا!
غزہ پر بمباری، تباہ کاری روزمرہ کا معمول ہے۔ ایک بورڈ آف پیس (امن) بنا تھا۔ پاکستان و دیگر دو در جن ممالک ٹرمپ کی سربراہی میں، بشمول ترکی، قطر، امارات، سعودی عرب، انڈونیشیا ! اس Peace کے تو    فی الوقت pieces (ٹکڑے) بکھرے پڑے ہیں۔ بدستور حملے، بھوک، بیماریاں، طبی سہولیات سے محرومی، بچھوؤں، سانپوں میں گھری خیمہ بستیاں ، ننگے پیر ننھے بچے ، مائیں! ولید ھنیہ (اسماعیل ھنیہ جو ایران میں شہید ہوئے ، کا بھانجا ، جواں سال عظیم مجاہد) جیسی شہادتیں ۔اہم مسلم ممالک ثالثی دو جگہ کر رہے ہیں۔ بورڈ میں بھی اور اب ایران کے ساتھ معاملات، امریکہ کے طے کرنے میں بھی۔ عجب معاملہ ہے کہ لبنان پر تو مشرقِ وسطیٰ کا حصہ ہونے کی بنا پر بھر پور توجہ ہے تحفظ کے لیے۔ ہرمز کا ہتھیار ہماری قوت ہے ۔ مگر یہ قوت غزہ ، مغربی کنارے کے لیے استعمال کیوں نہیں ہوتی ؟ قدس کیا اس اُمّت کی مشترکہ ذمہ داری نہیں ؟
اب جو مذاکرات ہونے کو ہیں اس میں ایرانی نیوکلیئر پروگرام ، پابندیوں کا ہٹایا جانا اور ایرانی منجمد اثاثوں کی بازیابی شامل ہے۔ ساتھ ہی علاقائی سلامتی بھی ایجنڈے پر ہے۔ کیا غزہ علاقہ غیر ہے؟ اس کی سلامتی کا والی وارث کون ہوگا ؟ مسلم حکمران بے نیاز بیٹھے ہیں مگر  بحمد اللہ اُمّت اور دنیا بھر میں مظلوم غزہ کے غیر مسلم   بہی خواہوں کے دل انہی کے ساتھ دھڑکتے ہیں ! مونٹی نیگرو تا تھائی لینڈ، برطانیہ تا پیرس ، فیفا ورلڈ کپ میں مصری ٹیم کی جیت پر ٹیم کوچ کا لہرا تا فلسطینی جھنڈا اور ٹیم کی سجدہ ریزی اور فلسطین سے یک جہتی ۔ ادھر بھی ( بے رحم ناکہ بندی والے السیسی حکمران) مصری ٹیم سے غزہ والوں کی محبت ! جیت پر غریب فلسطینی تربوز کے ٹکڑے بانٹ کر خوشی منا رہا ہے۔ جھنڈے لہرا لہرا کر ’مبروک یا مصر‘ کی پکار ہے! سبحان اللہ کیا جگر حوصلہ پایا ہے اہل غزہ نے۔ ہمارے پاس تو خود غرضی، امریکہ پرستی اور منتقم مزاجی کے سوا کوئی اخلاقی اثاثہ نہیں ! گلاسکو (اسکاٹ لینڈ) میں برتن بجا بجا کر برطانوی حکومت کی اسرائیل نوازی کے خلاف مظاہرہ ہے۔ بینر لگا ہے۔ روزانہ شام 6 بجے آؤ، احتجاج کرنے ! 
گیری لنکر ایک عام گورا انٹرویو دے رہا ہے، کہتا ہے :’بدترین بات جو میں نے دیکھی ، یہ ہے کہ دن رات بچے مارے جارہے ہیں ، مر رہے ہیں ۔ جونہی آپ اس کے خلاف آواز اٹھائیں ، آپ پر حماس پرست ہونے کا لیبل لگ جاتا ہے۔‘ حق کے کچھ نام ہیں جو خوفناک بنا دئیے گئے ہیں ، ذہن سازی کردی ہے ۔ (حماس ، اخوان ، طالبان … اوربھی…!) گیری کہتا ہے میں نہ مسلمان ہوں ، نہ یہودی۔ غیر جانبداری سے یہ سب دیکھ رہا ہوں۔ یہ نہایت اذیت ناک ہے کہ ایسا شور مچا دیا گیا ہے کہ لوگ خاموش رہتے ہیں ! میں یہ سوشل میڈ یا پر دیکھتا اور مسلسل روتاہوں! ادھیڑ عمر گورا … ! ہم نہیں روتے ! آواز نہیں اُٹھاتے ۔ ہمارے ممالک کو تو دنیا پرستی ، لوٹ مار، مناصب کی دیوانگی، ہولناک حد تک کرپشن اور بڑے بڑوں کے جرائم کھا گئے ۔ ہمارے پاس فرصت کہاں!
ملکی سیاست ہولناک ہو چکی ہے۔ بلوچستان کافی نہ تھا اب ہم آزاد کشمیر میںبگاڑ پر اپنی چشم پوشی، پہلو تہی سے عوام الناس کو شدید مسائل میں دھکیل رہے ہیں۔ مشرقی اور مغربی سرحدات پر کشیدگی ہے اور ہم بیرونی دوروں میں ہی مصروف ہیں۔ اندرونِ خانہ لاقانونیت ، گرانی ، غربت کی انتہا ، کرپشن ، قرضوں کے بڑھتے انبار ہمیں کھائے جارہے ہیں ۔ ہم مسائل دبا ، چھپا کر گولی، زبان بندی سے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں ۔نظام تعلیم کی تباہی ملک کا مستقبل الگ بگاڑ رہی ہے۔ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔
دیکھیے مکافاتِ عمل امریکہ میں دھوم دھام سے منائے جانے والی سالگرہ پر( 250 سالہ جشن ہونے کو تھا) بے رحم ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر، قہر بن کر مشرقی حصے (بشمول واشنگٹن، نیویارک) پر ٹوٹ پڑی ۔ کئی پروگرام منسوخ کرنے پڑے ۔ بجلی کا نظام تہس نہس ہو گیا ۔   شدید گرمی میں 10 لاکھ بجلی کے بغیر رہے بڑے دمکتے شہروں میں ۔ لو کے تھپیڑے ۔ امریکہ نے جو 4 ایٹم بموں کے برابر بارود زمین میں اتا را۔ 3600 سینٹی گریڈ والے بموں سے غزہ کی زمین پگھلائی، وہ آج موسمیاتی تبدیلی  کا غیظ و غضب لیے طوفانی تھپیڑوں، گرج چمک ،   شدتِ حرارت کے بھبھکوں سے 250 ویں سالگرہ پگھلا گئی ۔ واشنگٹن میں پہلے دن 12 بجے ٹرمپ کا پروگرام ہونا تھا مگر شدید طوفان کی بنا پر شام کو گرائونڈ خالی کروا لیا گیا ۔ بمشکل رات سوا گیارہ بجے شروع ہو پایا ۔ آزادی پریڈ منسوخ ہوگئی۔ ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر لکھا :’ طوفان خوش بختی لے کر آتے ہیں تقریبات میں۔‘  (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے بگڑتے موسموں پر ، عذاب کے خوف سے مسجد لپکتے،   سجدہ ریز ہو کر پناہ مانگتے اللہ سے!) سبحان اللہ! ٹرمپ کے فرمان کے لیے انگریزی کا محاورہ ہے کہ ’جہالت بھی ایک نعمت ہے‘ !( Ignorance is a bliss! ) ایسی ہی طوفانی خوش بختیاں قومِ عاد کے لیے آئی تھیں۔ لا علمی بندے کو خوش رکھتی ہے! ٹرمپ نے کہا کہ طوفان سے تقریب سنسنی خیز ہو جاتی ہے ! پھر تو اللہ تمھیں سنسناتا رکھے - افغانستان میں 20 سال لگ گئے تھے سنسنی سے نکلتے۔ اب غزہ، ایران لیے بیٹھے ہیں ؟ ’ہیں سنسنیاں منتظر تمہاری ؟ ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ :’امریکہ نے انسانی تاریخ کی ڈھائی صدیوں میں عظیم ترین کامیابیاں حاصل کی ہیں !‘  کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کیے ہیں ؟ ہیروشیما ، ناگاساکی، ویت نام، افغانستان، عراق، شام، غزہ ، لبنان ، پورا  مشرقِ وسطیٰ آتش بداماں ؟ افغانستان میں نیٹو ، امریکہ ، دنیا بھر کی فوجوں کو ذلت آمیز شکست میں جھونکا ؟ کھربوں ڈالر جنگ کی نذر کیے ؟ امریکی عوام کو غربت میں دھکیلا ؟ ملکی معیشت اسرائیل پر نچھاور کردی ! سو 250واںیومِ آزادی خاصا تہلکہ خیز رہا۔ سفید فام برتری کا متکبر گروہ بھی مخصوص جھنڈے لیے اپنے عزائم کا اظہار بہ زبانِ حال کر رہا تھا۔