دجال کی عالمی حکومت اور نیوورلڈ آرڈر کی حقیقت(قسط :7 )
رفیق چودھری
تنسیخ ِ عہد وسابقہ اُمّت کی معزولی
تورات کے ذریعے ہی یہ ثابت ہوتاہے کہ بنی اسرائیل نے اللہ سے کیا ہوا عہد باربار توڑا اور بار بار اُنہیں سزا بھی ملی اوراُنہیں سرزمین موعود سے ملک بدر بھی کیا گیا ۔ جو اس بات کاناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ سرزمین موعود کا وعدہ اللہ کی اطاعت سے مشروط ہے ۔ اسی بات کو سمجھتے ہوئے بابل کی اسیری کے دوران ان کے بعض انبیاء ؑنے ان کی اصلاح کی کوشش کی اور مکابی تحریک چلائی جس کے نتیجہ میں اُن میں سے کچھ لوگ تائب ہو کر سیدھے راستے پر آگئے اور اللہ نے اُنہیں دوبارہ سرزمینِ کنعان میں نہ صرف آباد ہونے کا موقع دیا بلکہ وہاں اُن کی سلطنت بھی دوبارہ قائم ہوئی۔ ہیکل ِسلیمانی کو دوبارہ تعمیر کیا گیا ۔ کچھ عرصہ تک بنی اسرائیل سیدھے راستے پر رہے لیکن پھر سرکشی پر آمادہ ہوگئے۔333 قبل مسیح میں سکندراعظم نے بنی اسرائیل کو فلسطین سے نکال کر اسے یونانی سلطنت کا حصہ بنا لیا ۔ 165 قبل مسیح میں بنی اسرائیل نے یونانی سلطنت سے بغاوت کرکے ایک یہودی سلطنت کی بنیاد رکھی لیکن سوسال بعدہی (65ق م) فلسطین پر روم کا قبضہ ہوگیا ۔
حضرت عیسیٰ ؈کی پیدائش بھی بنی اسرائیل میں ہوئی لیکن اُن کی دعوت کو بنی اسرائیل نے قبول نہ کیا اوراپنے تئیں اُنہیں مصلوب کر دیا۔ اس طرح انہوں نے اللہ کے غضب کو مزید بھڑکایا۔70ء میں بنی اسرائیل نےروم سے بغاوت کی جس کے نتیجہ میں رومی جنرل ٹائٹس نے انہیں سخت سزا دی ، ان کا قتل عام کیا ، ہیکل سلیمانی کو بھی مسمار کر دیا اور جو یہودی بچ گئے تھے انہیں بھی وہاں سے نکال دیا۔ اس بارے میں بنی اسرائیل کو پہلے ہی خبردار کر دیا گیا تھا ۔ جیسا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
”اورہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں یہ بات بتلا دی تھی کہ تم ضرور ملک میں دو مرتبہ خرابی کرو گے اور بڑی سرکشی کرو گے۔پھر جب پہلا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے بندے سخت لڑائی والے بھیجے پھر وہ تمہارے گھروں میں گھس گئے، اور اللہ کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا۔پھر ہم نے تمہیں دشمنوں پر غلبہ دیا اور تمہیں مال اور اولاد میں ترقی دی اور تمہیں بڑی جماعت والا بنا دیا۔اگر تم نے بھلائی کی تو اپنے ہی لیے کی، اور اگر برائی کی تو وہ بھی اپنے ہی لیے کی، پھر جب دوسرا وعدہ آیا تاکہ تمہارے چہروں پر رسوائی پھیر دیں اور ہیکل میں گھس جائیں جس طرح پہلی بار گھس گئے تھے اور جس چیز پر قابو پائیں اس کا ستیاناس کر دیں۔تمہارا رب قریب ہے کہ تم پر رحم کرے، اور اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم بھی پھر وہی کریں گے، اور ہم نے دوزخ کو کافروں کے لیے قید خانہ بنایا ہے۔(الاسراء:2تا8)
118ء تا 138ء کے درمیان روم کے بادشاہ Hadrian نے انہیں بیت المقدس آنے کی اجازت دی لیکن بغاوت کرنے پر بیت المقدس کے شہر کو مکمل طور پر تباہ کرکے یہودیوں کو غلاموں کے طور بیچ کر شہر بدر کر دیا اور اُن کا واپس بیت المقدّس آنا ممنوع قرار دے دیا۔ 614ء سے 624 ءتک فلسطین پر مجوسیوں کی حکومت رہی جنہوں نے یہودیوں کو بیت المقدس میں آنے اور عبادت کرنے کی اجازت دی مگر اِس دوران بھی وہ سازشوں میں مصروف رہے اورعرب عیسائیوں پرظلم کرتے رہے۔ 624ء میں فلسطین پر بازنطینی سلطنت کا قبضہ ہوگیا اور انہیں پھر وہاں سے نکال دیا گیا ۔ 636 ء میں فلسطین پر اسلام کی فتح کا پرچم لہرایا اور عیسائی مذہبی پیشواؤں نے اپنے ہاتھوں سے بیت المقدس کی چابیاں خلیفۂ دوم حضرت عمر کے سپرد کرکے انہیں بیت المقدس کا محافظ قرار دیا کیونکہ ان کی کتابوں میں جو نشانیاں موجود تھیں وہ پوری ہوگئی تھیں ۔ یہ اس بات کا پختہ ثبوت تھا کہ پہلی اُمّت معزول ہو چکی ہےاور اب موجودہ اُمّت ِمُسلمہ یروشلم اور بیت المقدس کا نظام سنبھالے گی اور یہی اُمت اب دنیا کی قیادت و سیاست اور گواہی پیش کرنے کی ذِمّہ دارہوگی ۔ حیرت انگیز بات یہ ہےکہ یہ واقعہ خلیفۂ ثانی حضرت عمر کےدور میں پیش آیا لیکن اللہ تعالیٰ نے بہت پہلے ہی سابقہ اُمّت کی معزولی اور نئی اُمّت کے قیام کا اعلان کر دیا تھا :
{تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ ج}(البقرہ :141) ’’وہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی۔‘‘
یہ پہلی اُمّت کی منسوخی کا اعلان تھااور اس کے بعد موجودہ اُمّت کی امامت کا اعلان کیا گیا :
’’اور (اے مسلمانو!) اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک اُمّت ِوسط بنایا ہےتاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول ؐ ‘تم پر گواہ ہو۔‘‘(البقرہ :143)
’’تم وہ بہترین اُمّت ہو جسے لوگوں کے لیے برپا کیا گیا ہے‘تم حکم کرتے ہو نیکی کا‘اور تم روکتے ہو بدی سے‘اور تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر۔‘‘(آل عمران:110)
یہاں تک کہ بائبل میں بھی یہ پیشن گوئی موجود تھی :
’’پس خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی، اور ایک ایسی قوم کو دی جائے گی جو اس کے پھل لائے گی۔‘‘(متی 21:43)
یہاں پھل لانے سے مراد اللہ کے دین(نظام) کو بالفعل قائم و نافذ کرنا ، یعنی اللہ کی حکمرانی کو قائم کرنا ہے ۔ بنی اسرائیل کے تین قبائل مدینہ منورہ میں جا کر اسی لیے آباد ہوئے تھے کہ وہاں اللہ کے آخری رسول ﷺ ان کے لیے نجات دہندہ بن کر آئیں گے، دین ِابراہیم(اسلام) پر مبنی عالمی بادشاہت قائم کریں گےاور اللہ کے گھر (بیت المقدس ) کو دوبارہ تعمیرکریں گے ۔ تحویل قبلہ کا حکم آنے تک اللہ کے رسول ﷺ نے انہیں بھرپور دعوت پیش کی اور قرآن میں آیات بھی نازل ہوئیں۔ نشانیاں دیکھتے ہوئے یہود کے بعض علماء اور سلیم الفطرت لوگ ایمان لے آئے لیکن اکثریت جو گمراہی(قبالہ) اور تکبر(نمرودیت) میں مبتلا تھی وہ ہٹ دھرمی پر قائم رہی ۔ ان کی کتابوں میں نشانیاں موجود تھیں لیکن انہوں نے ضد میں آکر کتاب کو پس پشت ڈالا اور قبالہ کی پیشن گوئیوں کے پیچھے پڑ گئے جن میں مسایاح (دجال ) کا ذکر ہے جو نمرود کے بت پرستی اور دیوتا پرستی پر مبنی شرکیہ دین کو دوبارہ دنیا میں رائج کرے گا۔ اس طرح اُنہوں نے آخری موقع بھی کھودیا اور بطور اُمت معزول کیے گئے ۔ بیت القدس کی جگہ اب مسجد حرام کوپھر سے قبلہ مقرر کیا گیااور حکم آگیا :
’’اور (اے مسلمانو!) جہاں کہیں بھی تم ہو اَب اپنا چہرہ (نماز میں) اسی کی طرف پھیرو۔‘‘(البقرہ :144)
اگر دیکھا جائے تو یہ مشروط پیشین گوئی اُس خطاب میں بھی موجود تھی جو ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے وقت حضرت سلیمان ؈ سے براہ راست کیا گیا تھا :
’’لیکن خبردار ! اگر تو مجھ سے دور ہو کر میرے دئیے گئے احکام اور ہدایات کو ترک کرے بلکہ دیگر معبودوں کی طرف رجوع کرکے اُن کی خدمت اور پرستش کرے گاتو میں اسرائیل کو جڑ سے اُکھاڑ کر اُس ملک سے نکال دوں گا جو میں نے اُن کو دے دیا ہے ۔ نہ صرف یہ بلکہ میں اس گھر (ہیکل)کو بھی رد کر دوں گا جو میں نے اپنے نام کے لیے مخصوص و مقدس کرلیا ہے ۔ اُس وقت میں اسرائیل کو تمام اقوام میں مذاق اور لعن طعن کا نشانہ بنا دوں گا ۔ (تواریخ دوم ، باب 7 آیات 19 تا 20)
تحویل قبلہ کے وقت بنی اسرائیل کے علماء اس پیشین گوئی سے واقف تھے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب میں فرمایا :
’’اور یہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی تھی ‘ جانتے ہیں کہ یہ (تحویل قبلہ کا حکم) حق ہے ان کے پروردگار کی طرف سے ۔‘‘(البقرہ :144)
یہاں ایک بہت اہم تاریخی نکتہ آشکار ہوتا ہے کہ یہودیوں کے اصل انتشار (Diaspora) کا دور 70ء میں سیکنڈ ٹیمپل کے انہدام سے نہیںبلکہ تحویل قبلہ کے بعد شروع ہوتاہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تحویل قبلہ کا حکم آنے تک یہودیوں کو شاید کئی لحاظ سے مہلت دی گئی تھی ۔ قدرت کے اسی تقاضے کے تحت شاید یہودی قبائل مدینہ میں جاکر آباد ہوئے تھے اور قرآن کے مطابق انہیں معلوم تھا کہ آخری نبی ﷺ آئیں گے ۔میثاق ِ مدینہ میں بھی ان کو شامل کیا گیا اور تحویل قبلہ کا حکم آنے تک ان کے لیے قرآن میں انداز تخاطب بھی دعوت دینے والا رہا لیکن شعبان 2ھ میں جب تحویلِ قبلہ کا حکم آگیا تو اس کے بعد ان کے لیے شاید مہلت ختم ہوگئی ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ماہ بعد رمضان میں جب غزوۂ بدر ہوا تو یہود نے خود انتشار کا راستہ اختیار کیا اور اگلے ماہ شوال میں ہی میثاق توڑنے پر بنو قینقاع کے خلاف کارروائی ہوئی اور انہیں مدینہ سے نکال دیاگیا ، 4 ہجری میں بنو نضیر بھی قتل کی سازش کرنے پر نکالے گئے ، 5 ہجری میں جنگ خندق میں بنو قریضہ کے خلاف بھی غداری کرنے پر کارروائی کی گئی۔ اس طرح یہ تاریخی حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ تحویل قبلہ کے بعد ہی یہودیوں کے اصل انتشار (Final Diaspora) کا دور شروع ہوتاہے ۔ اس کے بعد ہی وہ پیشین گوئی حقیقی معنوں میں پوری ہوتی ہے جو ہیکل سلیمانی کی اولین تعمیر کے وقت اللہ نے یہودیوں کی سرکشی سے مشروط کی تھی :
”میں اس گھر (ہیکل)کو بھی رد کر دوں گا جو میں نے اپنے نام کے لیے مخصوص و مقدس کرلیا ہے ۔ اُس وقت میں اسرائیل کو تمام اقوام میں مذاق اور لعن طعن کا نشانہ بنا دوں گا ۔“ (تواریخ دوم ، باب 7 آیات 19 تا 20)
ان حقائق کے تناظر میں اہل ِکتاب کے علماء یہ جانتے تھے کہ بنی اسرائیل سے کیا گیا عہد منسوخ ہو چکا ہے اور اب نئی اُمّت ِمُسلمہ ہی عہد ِابراہیم کی وارث ہے لہٰذا یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نشانیاں دیکھتے ہوئے خودیروشلم کو حضرت عمر کے حوالے کیا۔ حضرت عمرنے 639ء میں مسجد الاقصیٰ کی تعمیر اس جگہ پر شروع کروائی جہاں پر حضرت سلیمان ؈نے پہلی مسجد تعمیر کروائی تھی۔ یعنی تیسری مرتبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کی تعمیر نئی اُمّت ِمُسلمہ کےہاتھوں کروائی۔اس طرح ایک اور پیشین گوئی بھی پوری ہوئی جو اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ سرزمین موعود کا وعدہ حضرت ابراہیم ؈کے سچے پیروکاروں کے لیے ہے جو اُن کی طرح ہی شرک و بت پرستی اور جادو کے خلاف کھڑے ہوں گے اور دھرتی پر طاغوت کی بجائے اللہ کا نظام قائم کریں گے ۔ جیسا کہ اللہ نے اپنی آخری کتاب میں بھی بتایا :
{اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرٰہِیْمَ لَـلَّذِیْنَ اتَّــبَعُوْہُ وَہٰذَا النَّبِیُّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاط}(آل عمران :68) ’’یقیناً ابراہیم ؑ سے سب سے زیادہ قربت رکھنے والے لوگ تو وہ ہیں جنہوں نے اُن کی پیروی کی‘اور اب یہ نبی (حضرت محمدﷺ) اور جو اُن پر ایمان لائے (اس نسبت کے زیادہ حقدارہیں)۔‘‘
بائبل کے بعض مقامات بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مسجد اقصیٰ ہی تھرڈ ٹمپل ہے۔ جیسا کہ یسعیاہ نبی (Isaiah)کی پیشین گوئی موجود ہے (باب 2، آیت 2):
“And it shall come to pass in the last days that the mountain of the Lord's house shall be established in the top of the mountains.”
اسی طرح تواریخ دوم باب 3 ، آیت 1 کے مطابق سلیمان ؈ نے ہیکل سلیمانی کو موریہ پہاڑ پر تعمیر کیا ۔یہ وہی جگہ ہے جہاں آج مسجد اقصیٰ موجود ہے ۔ جس نجات دہندہ کا وعدہ کیا گیا تھا وہ اللہ کے آخری رسول ﷺ تھے لیکن چونکہ بنی اسرائیل کے گمراہ لوگوں نے ضد میں آکر کتاب کے دلائل کو رد کیااور قبالہ (شیطانی علم ) پر یقین کیاجس میں آخری زمانے میں آنے والے دجال کی پیشن گوئی ہے جو آکر نمرود کا نظام قائم کرے گا۔اس لیے وہ ابھی تک انتظار میں ہیں کہ ان کا نجات دہندہ آئے گا، عالمی بادشاہت قائم کرے گااور تھرڈ ٹیمپل تعمیر کرے گا ۔ مگر وہ جس ٹیمپل کو تعمیر کرے گا وہ اسلام کا نہیں بلکہ نمرودی دین (شرک ،جادو، بت پرستی ، دیوتا پرستی، ستارہ پرستی)کا مرکز ہوگا ۔واللہ اعلم!