اخبارِ اسلام
غزہ، اصل صور تِ حال کیا ہے؟ (بشکریہ: فرینڈز آف فلسطین)
تحقیق: خالد نجیب خان (معاون مرکزی شعبہ نشرو اشاعت)
l غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں اور خلاف ورزیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے نتیجے میں مزید1041فلسطینی شہید اور 3372 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ جنگ کے ایک ہزار دن مکمل ہونے پر غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر نے بتایا ہے کہ اِس عرصے میں غزہ پر 223 ہزار ٹن سے زائد دھماکہ خیز مواد گرایا گیا، اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں تو ان کے پیچھے صرف تباہ شدہ عمارتیں نہیں، بلکہ بے گھر خاندان، متاثرہ اسپتال، ویران اسکول اور لاکھوں انسانوں کی اذیت ناک داستانیں بھی ہیں۔ الشفاء میڈیکل کمپلیکس اور انسانی حقوق کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ سوڈیم بائی کاربونیٹ کی شدید قلت کے باعث گردوں کے 650 مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں، ڈائلیسس کے دورانیے اور تعداد میں کمی کر دی گئی ہے اور طبی سامان کی مسلسل بندش صحت کے نظام کو مزید مفلوج بنا رہی ہے۔ ادھر حماس نے اسرائیل کے ان دعوؤں کو کہ مزاحمت اپنی عسکری صلاحیتیں بڑھا رہی ہے، غزہ پر جارحیت جاری رکھنے کا بہانہ قرار دیتے ہوئے ثالث ممالک سے جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ غزہ کا محاصرہ توڑنے کی عالمی کوششوں کے تحت 26 جولائی کو فرانس سے ایک بین الاقوامی زمینی امدادی قافلہ فلسطین روانہ کرنے کی تیاریاں بھی مکمل کر لی گئی ہیں۔
l مقبوضہ مغربی کنارے اور القدس میں اسرائیلی اقدامات مزید سخت ہو گئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم بتسیلیم نے فلسطینی بچوں کی ہلاکتوں میں تشویشناک اضافے اور زخمی بچوں تک طبی امداد میں رکاوٹوں کی نشاندہی کی ہے، جبکہ رام اللہ میں علاج کے لیے راستہ بند کیے جانے کے باعث چار ماہ کا بچہ جان کی بازی ہار گیا۔ دوسری جانب اسرائیلی پارلیمان میں اذان پر پابندی کے مجوزہ قانون، مسجد ابراہیمی میں اذان کی مسلسل بندش، مسجد اقصیٰ پر 125 یہودی آباد کاروں کے دھاوے، القدس کے تاریخی ہوائی اڈے پر نام نہاد ’’ہیریٹیج سینٹر‘‘ کے قیام اور دیگر آبادکاری منصوبوں پر فلسطینی حلقوں اور حماس نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں مذہبی آزادی، فلسطینی شناخت اور مقدسات کے خلاف منظم کارروائیاں قرار دیا ہے۔ اسی دوران اسرائیلی حراست سے 14 ماہ بعد رہا ہونے والے فلسطینی صحافی مجاہد بنی مفلح کا دوران حراست پیش آنے والے حالات کے باعث کھوپڑی کا ایک حصہ متاثر ہوا، وہ صحت یابی کے ایک طویل اور کٹھن سفر سے گزر رہے ہیں۔اُن کی خراب جسمانی حالت نے قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر نئے سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔
l اسرائیلی حملوں کا سلسلہ لبنان میں بھی جاری ہے۔ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق مارچ 2026ء سے دوبارہ شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت میں شہداء کی تعداد4304 اور زخمیوں کی تعداد12203 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ جنگ بندی کی متعدد کوششوں کے باوجود فضائی حملے اور فوجی کارروائیاں جاری ہیں، جس کے باعث جنوبی لبنان، بقاع اور بیروت کے نواحی علاقوں میں انسانی اور طبی بحران بڑھ رہا ہے۔
l اسرائیلی وزیر ایتمار بن گویر نے ممکنہ قانونی کارروائی اور گرفتاری کے خدشات کے باعث نیویارک کا دورہ منسوخ کر دیا، جبکہ مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کے خلاف جنگی جرائم اور فلسطینی قیدیوں سے متعلق پالیسیوں پر قانونی چارہ جوئی کے مطالبات کر رہی ہیں۔
مسلم دنیا سے متعلق دیگر ممالک کی اہم خبریں
l غزہ و فلسطین: حماس نے غزہ میں انتظامی کمیٹی تحلیل کردی : حماس نے غزہ میں تقریباً 20 برس بعد اپنی سول حکومت اور انتظامی کمیٹی تحلیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے قومی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے لیے سول انتظام سنبھالنے کی راہ ہموار کر دی ہے اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ غزہ میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ تکنیکی انتظامی کمیٹی کو اختیارات سنبھالنے سے روک کر علاقے میں انتظامی خلا پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہےجبکہ اقوام متحدہ نے حماس کے فیصلے کا نوٹس لیتے ہوئے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔دوسری جانب جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں میں مزید 6 فلسطینی شہید اور 22 زخمی ہوئے۔ غزہ بورڈ آف پیس نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کے عوام کی بنیادی ضروریات پوری کی جائیں اور قومی انتظامی کمیٹی کو مکمل اختیارات دئیے جائیں ۔
l ایران: آخری رسومات میں شرکت پر اظہارِ تشکر: شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ تہران کے گرینڈ مصلیٰ کمپلیکس میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ میں علی خامنہ ای کے تین بیٹے، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، سپیکر باقر قالیباف، پاسداران کے قائم مقام سربراہ بریگیڈیئر جنرل احمد واحدی سمیت اعلیٰ حکومتی عہدیدار شریک ہوئے۔ نماز جنازہ میں 100 ملکوں کے وفود سمیت لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ تاہم رہبرِ اعلی مجتبیٰ خامنہ ای نمازِ جنازہ میں موجود نہیں تھے۔ ایرانی حکام، فوج اور انٹیلی جنس نے شہید رہبر کے خون کا بدلہ لینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ مزید یہ کہ ایران اور امریکہ کے درمیان آئندہ تکنیکی مذاکرات اسلام آباد میں ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ جنگ کے بعد حالات پہلے جیسے نہیں رہے، امریکا حقائق کوتسلیم کرے۔ تہران اور دوحہ کے درمیان پانچ ماہ بعد بحری تجارت بحال ہو گئی جبکہ ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے نئی فیس متعارف کرانے اور دوست ممالک کو رعایت دینے کا اعلان کیا ہے۔
l خلیجی ممالک:سعودیہ کی قیادت میں نیا اتحاد: حالیہ ایران۔امریکہ جنگ کے بعد خلیجی ریاستیں امریکہ پر مکمل انحصار کم کر کے پاکستان، ترکیہ، مصر، چین، روس اور دیگر ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے پر غور کر رہی ہیں۔ اسی تناظر میں امریکی جریدے کے مطابق سعودی عرب، قطر، مصر، ترکیہ اور پاکستان پر مشتمل نیا علاقائی اتحاد بھی ابھر رہا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات اِس صف بندی سے الگ دکھائی دیتا ہے۔
l بھارت: 24 گھنٹوں میں5مساجد مسمار: اتر پردیش میں ہندو انتہا پسندوں نے ایک مسلمان نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنا کر گائے کی پوجا پر مجبور کیا، جس پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ اسی ریاست کے شہر وارانسی میں 24 گھنٹوں کے دوران پانچ مساجد مسمار کر دی گئیں، جس پر مسلم تنظیموں نے احتجاج کرتے ہوئے اِسے مذہبی آزادی پر حملہ قرار دیا۔
l لبنان: مذاکرات کا مقصد قومی مفادات کا تحفظ ہے:صدر جوزف عون: صدر جوزف عون نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا مقصد قومی مفادات اور سرحدی حقوق کا تحفظ ہے، نہ کہ کسی قسم کی پسپائی، اور لبنان اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی اسرائیل کے حوالے نہیں کرے گا۔
l شام:فرانسیسی صدر کے ہوٹل کے قریب دھماکے: دارالحکومت دمشق میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے دورے کے دوران ہونے والے دو بم دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد زخمی ہوئے۔فرانسیسی صدارتی دفتر کے مطابق دھماکوں کی آواز میکرون کے قافلے تک نہیں پہنچی اور ان کے ہمراہ موجود صحافیوں نے بھی کسی ہنگامی صورت حال کا مشاہدہ نہیں کیا۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026