(الہدیٰ) اللہ تعالیٰ متکبر اور شیخی خورے کو پسند نہیں کرتا - ادارہ

9 /
الہدیٰ
 
اللہ تعالیٰ متکبر اور شیخی خورے کو پسند نہیں کرتا
 
 
آیت 18 {وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّکَ لِلنَّاسِ}’’اور اپنے گالوں کو پھلا کر مت رکھو لوگوں کے سامنے‘‘
یعنی لوگوں سے بے رخی اور غرور و تکبر کی روش مت اختیار کرو ۔
{وَلَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاط}’’اور زمین میں اکڑ کر مت چلو۔‘‘
{اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ(18)}’’یقینا اللہ ہر شیخی خورے‘ تکبر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ 
لفظی اعتبار سے مُخْتَال کا تعلق خیل (گھوڑے) سے ہے۔ گھوڑے کی چال میں ایک خاص تمکنت اور غرور کا انداز پایا جاتاہے۔ چنانچہ جب انسان اپنی چال کے انداز میں گھوڑے کے سے غرور و تمکنت کا مظاہرہ کرتا ہے تو گویا وہ مُخْتَالبن جاتا ہے۔ یہی مضمون اس سے پہلے سورۂ بنی اسرائیل میں اس طرح بیان ہوا ہے:{ وَلَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاج  اِنَّکَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(37)}’’اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو‘ تم نہ تو زمین کو پھاڑ سکو گے اور نہ ہی پہنچ سکو گے ،پہاڑو ں تک اونچائی میں۔‘‘
 
 
درس حدیث
 
مسلمان بھائی کی آبرو کی حفاظت
 
 عَنْ  اَنَسٍ ؓ  عَنِ النَّبِیِ ﷺ قَالَ: (( مَنِ اغْتِیْبَ عِنْدَہٗ اَخُوْہُ الْمُسْلِمُ وَھُوَ یَقْدِرُ عَلٰی نَصْرِہٖ فَنَصَرَہٗ نَصَرَہٗ اللہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ فَاِنْ لَّمْ یَنْصُرْہُ وَھُوَ یَقْدِرُ عَلیٰ نَصْرِہٖ اَدْرَکَہٗ اللہُ بِہٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَہ))(رواہ البغوی فی شرح السنہ)
حضرت انس ؓ سےروایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جس شخص کے سامنے اُس کے کسی مسلم بھائی کی غیبت (اور بد گوئی) کی جائے اور وہ اُس کی نصرت و حمایت کر سکتا ہو تو کرے(یعنی غیبت و بدگوئی کرنے والے کو اُس سے روکے یا اس کا جواب دے اور مداخلت کرے) تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی مدد فرمائے گا۔ اور اگر قدرت حاصل ہونے کے باوجود اس کی نصرت و حمایت نہ کرے (نہ غیبت کرنے والے کو غیبت سے روکے نہ جوابدہی اور مدافعت کرے) تو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کو اس کی کوتاہی پر پکڑے گا(اور اس کو سزادے گا۔)